سندھ کے صحرائی ضلعے تھرپارکر کا پہلا سیاحتی ریزورٹ

سندھ کے صحرائی ضلعے تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر میں اپنی نوعیت کا پہلا سیاحتی ریزورٹ سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا۔ بائیس کمروں پر مشتمل اس سیاحتی ریزورٹ کو انگریزوں سے آزادی کی جدوجہد میں جان دینے والے حریت پسند روپلو کولہی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ ریزورٹ صوبائی حکومت کے محکمہ سیاحت کی جانب سے قائم کیا گیا ہے۔ بھارتی سرحد سے ملحقہ اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر ایسے ریزورٹ کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔

ننگرپارکر کا علاقہ ساون کی بارش کے بعد حسین منظر پیش کرتا ہے اور سندھ کے مخلتف علاقوں سے لوگ بڑی تعداد میں یہاں پھیل جانے والی ہریالی کو دیکھنے آتے ہیں۔ حالیہ بارش کے بعد ضلع تھرپارکر کے اس علاقے میں ہزاروں افراد سیاحت کے لیے آئے۔ ریزورٹ میں رہائش کی تمام جدید ترین سہولتوں کے علاوہ پانی, بجلی, گیس اور دیگر سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ سیاح ریزورٹ میں کمرے اب فون پر بُک کروا کر ننگر پارکر کی خوبصورتی کو اور بھی انجوائے کرسکتے ہیں۔

​صوبائی وزیر سیاحت سید سردار شاہ کا کہنا ہے کہ ننگرپارکر کی کارونجھر پہاڑیوں کے درمیان ایک پکنک پوائنٹ بھی تعمیر کیا جا رہا ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گا اور سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے گا۔ ضلع تھرپارکر, سندھ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے غریب ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے لیکن ضلعے میں کوئلے کی کان کنی اور سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں جو یہاں کے رہنے والوں کی زندگیاں بدل سکتے ہیں۔

تھر کا انسانی المیہ

سندھ کے ضلع تھر پارکر میں قحط اور ناکافی طبی سہولتوں کی بنا پر گزشتہ کئی سال سے بچوں سمیت انسانی اموات کا افسوسناک سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے سال 2016 کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ تھر پارکر میں قلت خوراک اور علاج معالجے کی ناکافی سہولتوں کے باعث 13 سو سے زائد بچے موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ محکمہ صحت کے ذرائع نےصرف سال رواں میں 172 سے زائد بچوں کی اموات کی تصدیق کی ہے۔ تھر کے انسانی المیہ کا عدلیہ کی جانب سے بھی سوموٹو نوٹس لیا گیا لیکن تاحال یہ مسئلہ حل طلب ہے۔

ایک خبر کے مطابق سول اسپتال مٹھی میں صحت کی سہولتیں اور معیاری ادویہ نہ ہونے کی وجہ سے مزید تین بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ کئی روز تک موسلا دھار بارشیں ہونے کے باوجود علاقے میں ہنوز غذائی قلت برقرار ہے اور انتظامیہ کی جانب سے مچھر مار اسپرے بھی نہیں کیا گیا جس سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔ تھر کے دور دراز دیہات سے مٹھی اسپتال آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد چکن گونیا، ملیریا، گیسٹرو میں مبتلا بتائی گئی ہے، غذائی قلت کے شکار مریضوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق ضلع بھر میں وبائی امراض پر قابو پانے کے لئے میڈیکل ٹیمیں بھیجی جا رہی ہیں۔

تھر میں غذائی بحران کے مستقل حل اور طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ حکومتی سطح پر تھر کے باسیوں کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے اس حوالے سے تھر پر یو این کی تازہ رپورٹ کی سفارشات سے بھی مدد مل سکتی ہے ۔ علاقے میں مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر پر غور کیا جانا چاہئے۔ ضلع میں اسپتالوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ وہاں پر بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی ممکن بنانے سے بچوں سمیت انسانی جانوں کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ مریضوں کی جانب سےمقامی اسپتالوں و طبی مراکز میں غیر معیاری ادویہ کی جو شکایات سامنے آرہی ہیں ان کا دور کیا جانا بھی ضروری ہے۔

اداریہ روزنامہ جنگ

تھر میں ہریالی کی بہار

تھر میں ہریالی کی بہار آئی اور صحرا نے سبزے کی چادر اوڑھ لی، یہ حسین مناظر دیکھنے سیاحوں کی بڑی تعداد نے تھر کا رخ کر لیا، مقامی لوگوں کا کاروبار بھی چمک اُٹھا ۔

تھرپارکر میں بارشیں اپنے ساتھ خوشی اور خوشحالی بھی لے آئیں، پہلے علاقے کو ہریالی نے آباد کیا پھر سیاحوں کے ہجوم لگ گئے قدرتی نظاروں کے دیکھنے کے لئے صوبے بھر کے سیاحوں کا تانتا بندھ گیا۔

مٹھی کی گڈی بھٹ پر آنے والوں کا استقبال ڈھول کی تھاپ پر کیا جاتا ہے، گھوڑے اورجھولے بھی موجود ہیں جن سے بچےلطف اندوز ہوتے ہیں۔ سیاحوں کی مسلسل آمد سے علاقے کی رونق میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ کاروبار بھی چمکا اٹھا ہے۔

Amazing Life in Thar Desert Pakistan

Life in Thar Desert Pakistan

Enhanced by Zemanta