تھر کا ریگستان دنیا کا کا اٹھارواں بڑا صحرا ہے جس کا کل رقبہ 2لاکھ مربع کلو میٹر یا 77000 مربعہ میل ہے جو ہندوستان میں ریاست راجستان کے علاوہ ہریانہ صوبہ سندھ اور جنوبی پنجاب کے چولستان کے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔یہ شمال میں دریائے ستلج مغرب میں دریائے سندھ اور جنوب میں رن آف کچھ کے کچھ علاقوں تک پہنچتا ہے اس صحرا کی تاریخ 4000 سے 10000 سال پرانی بتائی جاتی ہے۔اس کے اندر پرانے ریت کے ٹیلے 500 فٹ تک بھی اونچے ہیں۔ تھرپارکرکے علاقے میں 20کلو میٹر لمبی اور 300 میٹر اونچی پہاڑی بھی ہے اس ریگستان کی ریت تیز ہوائوں کے جھروکوں پر سوار ہوکر پرندوں کی طرح اڑتی اور اپنی جگہ تبدیل کرتی رہتی ہے اس لئے اللہ کی عطا کی ہوئی اس سرزمین کی شکل و صورت دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں بدلتی رہتی ہے۔ دور دور پھیلی ہوئی چھوٹی چھوٹی بستیوں کے مٹی کے بنے ہوئے کچے گھروندے اور محدود زرعی زمینیں بھی فوراً ریگستان میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ پینے کے پانی کی قلت ہے زیر زمین پانی قابل استعمال نہیں ذرائع رسل و رسائل محدود ہیں۔ یہاں کوئلے کا دنیا کا چھٹا بڑا ذخیرہ موجود ہے اور زرعی زمین نایاب ہے۔یہاں قریباً 23اقسام کے Lizard،25 اقسام کے سانپ، بسٹرڈز، بلیک بکس، چنکاراز، Gazelle اور ریگستانی لومڑ پائے جاتے ہیں۔ سردیوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد اور گرمیوں میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاتا ہے۔1980 کی خانہ شماری کے مطابق تھرپارکر میں 241326 گھر تھے 2011 کے نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق پاکستان کے تھر کے ریگستان میں خوراک کی کمی کے شدید بحران کی نشاندہی کردی گئی تھی لیکن حکومتی ایوانوں میں بیٹھے نا اہل اور کرپٹ وڈیروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور کوئی دوررس منصوبہ بندی نہ کی گئی۔ دانشور لوگ یہ کہتے ہیں کہ قحط یا خشک سالی یا وبائی امراض کی شدت کا تعلق خوراک کی کمی سے بہت کم ہے۔ اسکی زیادہ بڑی وجوہات غلط منصوبہ بندی، کمزور حکمرانی، کرپشن، خوراک کو شہروں اور دیہات تک پہچانے کے ناقص نظام ہیں۔ سندھ کے اس بد قسمت علاقے میں ایک دو سال پہلے مور مرنے شروع ہوئے اسکا حکومت پر کوئی اثر نہ ہوا۔ پھردوسرے جانوروں کی ہلاکتیں شروع ہوگئیں۔ پھر بھی کسی نے کوئی پروا نہ کی اسکے بعد کمزور بچوں پر بیماریوں نے یلغار کردی اور سینکڑوں معصوم بچوں کے چراغ اپنی مائوں کی گودوں میں گل ہوئے ، پھر بھی میڈیا نے سندھ کی حکومت کو جگانے کی کوشش کی جو کروڑوں روپے خرچ کرکے سندھ کے ثقافتی میلے کے انتظامات میں مصروف تھی۔