سمجھوتہ ایکسپریس کے شعلے بجھے نہیں

میری بچی 16 سال کی تھی میں آپ کو کیا بتاؤں جب میں نے اس کی لاش دیکھی تو وہ کس حال میں تھی ؟ اس کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ شوکت علی دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ فیصل آباد کے علاقے نیو مراد کالونی کے رہائشی شوکت علی فروری 2007 میں دہلی میں ایک شادی میں شرکت کے بعد اپنی بیوی اور چھ بچوں کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس پر پاکستان واپس آ رہے تھا کہ پانی پت کے علاقے دیوانہ کے قریب ریل گاڑی میں دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کے بعد لگنے والی آگ میں رانا شوکت کے پانچ بچے درجنوں دوسرے افراد کے ساتھ زندہ جل گئے تھے۔ شوکت علی کے آنسو تھمے تو انہوں نے بات چیت دوبارہ شروع کی۔

اس روز مجھے نہ جانے کیوں خوف محسوس ہو رہا تھا۔ خاص طور پر جب سے گاڑی میں دو ایسے لوگوں کی موجودگی کا پتا چلا تھا جن کے پاس پاسپورٹ نہیں تھے۔ شوکت نے خلا میں گھورنا شروع کیا، جیسے وہ واقعات کو یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ بچوں کو لٹانے کے بعد میں بھی ایک برتھ پر آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔ سردی سخت تھی۔ سب نے کمبل اور لحاف اوڑھ رکھے تھے۔ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ پھر ایک دم سے دھماکے کی آواز آئی۔’میں تھوڑا چوکس ہوا لیکن پھر وہ آواز ٹرین کے شور میں دب گئی ۔ شوکت آہستہ آہستہ تفصیلات بیان کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد شوکت کا دم گھٹنے لگا۔ میں نے آواز دینا چاہی تو گلے سے آواز نہ نکل سکی۔ ٹرین کی بتی بھی گل ہو چکی تھی۔

شوکت کہتے ہیں کہ انہوں نے اُٹھ کر دروازے تک پہنچنے کی کوشش کی اور دھکا دے کر دروازہ کھول دیا تاکہ وہ سانس لے سکیں لیکن دروازہ کھلتے ہی آکسیجن اندر داخل ہوئی اور آگ نے پورے ڈبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شوکت اور ان کی بیوی رخسانہ نے اپنی ایک دودھ پیتی بچی اقصیٰ کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس سے کود کر جان بچائی لیکن ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے پانچ بچے جل کر مر گئے۔ ہم چلاتے رہے ہمارے بچے بچاؤ، ہمارے بچے بچاؤ‘ لیکن جب تک مدد آئی بچے جل کر راکھ ہو چکے تھے۔ شوکت اور رخسانہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ شوکت نے بتایا کہ ان کے ہاتھ اور ماتھا جل چکا تھا اور گھٹنوں پر چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے شدید چوٹ آئی تھی لیکن انہیں کسی درد کا احساس نہیں تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے آگ کے شعلوں میں لپٹی ٹرین تھی۔ اس ٹرین میں میرا ہنستا بستا گھر راکھ ہو رہا تھا۔

شوکت اور ان کی بیوی رخسانہ کو تھوڑی دیر بعد دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ایک ہفتے کے علاج کے بعد انہیں پاکستان بھیجنے کی تیاری کی جانے لگی۔ لیکن انہوں نے اپنے بچوں کی لاشوں کے بغیر پاکستان آنے سے انکار کر دیا۔ رخسانہ کو اب بھی وہ لمحہ یاد ہے جب وہ اپنے بچوں کی لاشیں دیکھنے مردہ خانے گئی تھی، وہ ایک قیامت کا سماں تھا، رخسانہ کی آواز بھرا گئی۔ ہم نے بہت مشکل سے ساتھ چپکے کپڑوں اور چیزوں سے اپنے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کو شناخت کیا۔ سوائے ہڈیوں کے کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ میری دنیا برباد ہو گئی تھی۔ رخسانہ کی سب سے بڑی بیٹی عائشہ 16 برس کی تھی۔ جب ہمیں زبردستی ہسپتال لے جایا جا رہا تھا تو میں نے آگ بجھانے والوں کو تاکید کی تھی کہ عائشہ پرکپڑا ڈال کر نکالیں۔ میری بچی بہت حیادار تھی ، اس نے تو کبھی سر سے دوپٹہ نہیں ہٹایا تھا۔ رخسانہ پھر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔

رخسانہ اور شوکت علی کچھ روز بعد پانچ تابوتوں کے ساتھ پاکستان واپس آئے لیکن حادثے میں ہلاک ہونے والے 43 پاکستانیوں میں کچھ ایسے بھی تھے جنھیں اپنے ملک آنا نصیب نہ ہو سکا۔ شوکت کہتے ہیں کہ انہیں انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کی طرف سے مالی امداد دی گئی لیکن انہیں انڈیا کی کسی عدالت نے چشم دید گواہ کے طور پر گواہی کیلئے نہیں بلایا۔ مجھے سب کچھ یاد ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے مجھے موقع ملے کہ میں دنیا کو بتا سکوں کہ 18 فروی 2007 کی رات کو سمجھوتہ ایکسپریس میں سفر کرنے والے درجنوں بدقسمت مسافروں کے ساتھ کیا ہوا۔

بشکریہ دنیا نیوز

پاکستان میں فوجی عدالتوں کو مزید توسیع ملنی چاہیے؟

ایسے میں جب پاکستان میں آرمی پبلک سکول پر ہیبت ناک حملے کو چار سال مکمل ہونے پر دہشتگردی کا نشانہ بننے والے بچوں اور اساتذہ کو یاد کیا جا رہا ہے، ملک میں ایک بار پھر فوجی عدالتوں کی افادیت، ان کی آئینی حیثیت اور انسانی حقوق موضوع گفتگو ہیں۔ پاکستان کی فوج نے جو اعدادوشمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق سال 2015 میں فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد دہشتگردی کے 717 مقدمات میں سے 546 کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ 310 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جبکہ جن 56 افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ان میں اے پی ایس سکول پر حملے کے ملزمان بھی شامل تھے۔

کیا پاکستان میں دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کو کام کرتے رہنا چاہیے یا یہ مقدمے واپس سویلین عدالتوں میں آنے چاہییں وہ بھی ایسے وقت میں جب سپریم کورٹ پر جیوڈشل ایکٹوازم کا اعتراض عائد کیا جا رہا ہے؟ ان عدالتوں کے دو ہزار پندرہ میں قیام پر انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں حتی کہ سیاسی راہنماوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا مگر نہ صرف دو سال کے لیے یہ عدالتیں قائم ہوئیں بلکہ جنوری 2017 میں ان عدالتوں کی آئین مدت مکمل ہونے کے بعد مارچ میں ان کے دورانیے میں مزید دو سال کی توسیع کی گئی۔

پاکستان میں انسانی حقوق کمشن کی سابق سربراہ زہرا یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے میں جب فوجی عدالتوں کی مدت مکمل ہونے والی ہے، اور سپریم کورٹ بذات خود بہت فعال ہے، عام شہریوں کے خلاف مقدمات واپس سول عدالتوں میں جانے چاہیں۔ آئی ایس پی آر کے سابق عہدیدار کرنل فاروق احمد کہتے ہیں کہ فوج کے اقدامات اور عدالتوں سے سریع فیصلوں کے سبب ملک میں دہشتگردی کا گراف بہت نیچے آ چکا ہے۔ ’’ میرے خیال میں ( فوجی عدالتوں کے قیام کے) اثرات بہت گہرے اور دور رس رہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ دہشتگردی کا گراف بہت نیچے آ چکا، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مکمل ختم ہو گئی مگر بہت کامیابی ملی ہے‘‘

زہرا یوسف کے بقول اعدادو شمار ہی کامیابیوں کے عکاس نہیں ہوتے، مسئلے کا حل عدالتی نظام میں اصلاحات میں ہے۔ ’’ میری نظر میں اس سے کامیابی نہیں ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت بھی یہی ضرورت تھی کہ انصاف کے نظام میں اصلاحات لائی جائیں۔ آپ جلدی جلدی فیصلے کر کے نمبر بڑھائیں گے تو ضروری نہیں کہ وہاں انصاف بھی ہو رہا ہو‘‘۔ بیرسٹر داود غزنوی انسانی حقوق کے سرگرم کارکن بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خصوصی حالات میں قائم کی گئی فوجی عدالتوں کی افادیت سے انکار نہیں لیکن یہ بندوبست زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، دہشتگردی کے مقدمات میں نہ صرف گواہوں بلکہ بذات خود جج صاحبان کو تحفظ حاصل نہ ہونے کے سبب دہشتگرد گروپ با آسانی انصاف کے عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوائے جاتے ہیں۔ زہرا یوسف کہتی ہیں گواہوں اور ججوں کو درکار مسائل حقیقی ہیں مگر ان کو تحفظ دینے کے لیے اصلاحات لائی جائیں۔ اور اصلاحات کے لیے شروعات عدلیہ سے ہونی چاہیں پھر پارلیمنٹ اس میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ ’’ سپریم کورٹ کافی متحرک ہے اور حکومت کہتی بھی ہے کہ سب ادارے ایک صفحے پر ہیں تو پھر چاہیے یہی کہ عدالت قدم اٹھائے، پارلیمنٹ ساتھ دے، اصلاحات لائی جائیں۔‘‘

فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد دو سال کی دوسری مدت مارچ میں مکمل ہو رہی ہے، کیا فوجی عدالتوں ختم ہو جائیں گی یا انہیں مزید توسیع مل سکتی ہے۔؟ پاکستان کے انسانی حقوق کمشن کی سابق سربراہ زہرا یوسف کا اس بارے میں کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے کا احتمال رہتا ہے۔ اب جبکہ مدت مکمل ہونے جا رہی ہے وقت ہے کہ معاملات سویلین عدالتوں کی طرف آنے چاہیے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے سابق عہدیدار کرنل فاروق کہتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آیا توسیع ملے گی یا نہیں لیکن بظاہر تمام قومی ادارے ایک صفحے پر ہیں تو وہ اس بارے میں متفقہ طور پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔

بیرسٹر داود غزنوی کہتے ہیں کہ کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع ہو گی یا نہیں مگر یہ طے ہے کہ ان کے قیام کا فیصلہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان سے اس بارے میں معلومات کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کے فون سے جواب موصول نہیں ہوا۔

اسد حسن

بشکریہ وائس آف امریکہ

دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں 14 سال قید کا معاوضہ پانچ لاکھ روپے

یہ کہانی ہے دہلی کے محمد عامر خان کی، جنہیں 1998 میں دہلی پولیس نے سلسلے وار بم دھماکوں کا ملزم بنا کر پیش کیا۔ ان پر بم دھماکوں کے 17 مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ عدالت نے 2012 میں انہیں تمام مقدموں میں بری کر دیا۔ اس وقت ان کی عمر 32 سال تھی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں جیل جانے والا عامر جب 12 سال بعد قید کاٹ کر باہر آیا تو اس کی دنیا بدل چکی تھی۔ اس کے والد جدائی کا غم سہہ نہ سکے اور داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تھے۔ اس کی ماں بیٹے کے بچھڑنے کے دکھ میں فالج کا شکار ہو چکی تھی۔ جوانی سلاخوں کے پیچھے ختم ہو گئی تھی اور زندگی ایک عذاب کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ اس کی پیشانی پر دہشت گرد ہونے کا ٹھپہ لگ گیا تھا۔ دہلی پولیس نے اسے تلافی کے طور پر پانچ لاکھ روپے دیے گئے ہیں۔ لیکن وہ سوال کرتا ہے کہ کیا یہ حقیر رقم اس کی جوانی لوٹا سکتی ہے، اس کے والدین واپس دے سکتی ہے اور اس کی پیشانی پر لگنے والے داغ کو مٹا سکتی ہے؟

انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن نے ایک اخباری رپورٹ کی بنیاد پر ازخود کارروائی کی اور دہلی حکومت، وزارت داخلہ اور دہلی پولیس کو میرے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا حوالہ دیتے ہوئے پانچ لاکھ روپے کی مالی مدد کے لیے نوٹس دیا۔ یہ معاملہ چلتا رہا۔ دہلی پولیس اس کے لیے تیار نہیں تھی۔ کمشن نے پھر 2017 میں ہدایت کا اعادہ کیا۔
محمد عامر نے مزید بتایا کہ دہلی پولیس نے 2018 میں اپنے ایک دفتر میں ان کو بلایا جہاں کئی بڑے افسران موجود تھے۔ ایک افسر نے ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر اظہار افسوس کیا اور کمیشن کے حکم کی ہدایت کے مطابق پانچ لاکھ روپے دینے کی بات کہی۔ لیکن انہوں نے اس سلسلے میں کوئی دستاویزی ثبوت دینے سے انکار کر دیا۔ البتہ ان کے بینک اکاونٹ میں پانچ لاکھ روپے ڈال دیے گئے۔ تاہم پولیس نے انہیں دہشت گردی کے الزام میں جیل بھیجنے پر باضابطہ طور پر افسوس ظاہر نہیں کیا۔ ​

محمد عامر خان قومی انسانی حقوق کمشن کے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک آغاز قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دہشت گردی کے کسی جھوٹے معاملے میں قومی انسانی حقوق کمیشن نے کارروائی کی اور پہلی بار پولیس نے معاوضہ دیا یا مالی مدد کی۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پانچ لاکھ کیا پانچ کروڑ بھی ہوں تو وہ 14 سال واپس نہیں آ سکتے جو انہوں نے جیل میں گزارے ہیں۔ ہاں یہ رقم زخموں پر کسی حد تک مرہم ضرور لگاتی ہے۔
وہ اسے ایک نظیر بھی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے جیسے بہت سے بے گناہ ہیں جو جیلوں میں بند ہیں یا بہت سے بے قصور عدالتوں سے رہا ہو چکے ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد عامر خان بھارت کے حکمرانوں سے ایک سوال کرتے ہیں کہ جب ماؤ نواز یا دوسرے شورش پسند ہتھیار ڈالتے ہیں اور مین اسٹریم میں آنا چاہتے ہیں تو حکومت ان کو بہت سی سہولتیں دیتی ہے۔ ان کے لیے باز آباد کاری کی ایک پالیسی موجود ہے۔ لیکن دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں برسوں تک جیلوں میں بند رہنے کے بعد جب بے قصور نوجوان عدالتوں سے بری ہوتے ہیں تو ان کی باز آباد کاری کے لیے کوئی پالیسی کیوں نہیں بنائی گئی۔ انہیں سہولتیں کیوں نہیں دی جاتیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پولیس اپنے اختیارات کا بےجا استعمال کرتی ہے اور ایک خاص فرقے کے لوگوں کو دہشت گردی کے نام پر نشانہ بناتی ہے۔ لیکن ایسے پولیس والوں کے خلاف جو کہ بے قصوروں کو دہشت گرد بتا کر اٹھا لیتے ہیں، انہیں ٹارچر کرتے ہیں اور دسیوں بیسیوں برسوں تک جیل میں ڈال دیتے ہیں، کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوتی۔ ان سے کوئی جواب کیوں نہیں طلب کیا جاتا۔

اب ذرا سا فلیش بیک میں چلتے ہیں۔ جال میں پھنسنے کی ان کی کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ 1997 میں اپنی بہن سے ملنے کے لیے کراچی جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے پاکستانی ہائی کمیشن میں ویزا کی درخواست دی اور انہیں ویزا مل گیا۔ آگے کی کہانی انہی کی زبانی۔ ’ نومبر کا مہینہ تھا۔ مجھے میرے سفری دستاویزات مل گئے تھے۔ میں گھر لوٹنے کے لیے بس اسٹاپ کی طرف جا رہا تھا۔ جبھی ایک شخص سے ملاقات ہو ئی۔۔۔اس نے بتایا کہ اس کا نام گپتا جی ہے۔ اس نے مجھے تین مورتی پلینے ٹیریم کے نزدیک ایک کھوکھے پر لے جا کر کولڈ ڈرنک پلائی اور پوچھا کہ کیا میں اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہوں گا۔ میں نے بلا سوچے سمجھے ہاں کہہ دیا۔ اس نے میرا پتا نوٹ کیا اور چند روز کے بعد رابطہ کرنے کا وعدہ کیا‘۔

چند روز کے بعد گپتا جی عامر کے گھر گئے او انہیں ان کا کام سمجھایا۔ 12 دسمبر 1997 کو عامر سمجھوتہ ایکسپریس سے کراچی گئے اور 11 فروری 1998 کو دہلی واپس آ گئے۔ لیکن انہیں جو کام سونپا گیا تھا وہ ان سے نہیں ہو سکا۔ کام اسی نوعیت کا تھا جیسا کہ جاسوسوں سے کرایا جاتا ہے۔ دہلی آکر انہوں نے سوچا کہ گپتا جی کو بتا دینا چاہیے کہ ان کا کام نہیں ہو سکا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ تھوڑا بہت ناراض ہوں گے۔ لیکن جب انہوں نے بتایا کہ وہ اپنا کام کرنے میں ناکام رہے تو وہ بری طرح برہم ہو گئے اور کہا کہ تم نے ملک کا زبردست نقصان کیا ہے۔ آئندہ کئی دنوں تک وہ اپنے غصے کا اظہار کرتے رہے۔

بہرحال 20 فروری 1997 کی شام کو ایک سنسان سڑک سے عامر کو اٹھا لیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر 18 سال تھی۔ پھر ان کے ساتھ وہی سب کچھ ہوا جو ایسے معاملات میں ہوتا ہے۔ غیر قانونی حراست میں رکھ کر مسلسل کئی روز تک ٹارچر کیا جاتا رہا۔ انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہ بارہ سال کی طویل قانونی لڑائی کے بعد تمام الزامات سے بری کیے گئے۔ وہ انسانی حقوق کے کارکنوں، سول سوسائٹی اور بعض صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ جب کسی کو دہشت گردی کے خود ساختہ الزام میں اٹھایا جاتا ہے تو میڈیا خوب رپورٹنگ کرتا ہے لیکن جب وہی شخص عدالت سے بری ہوتا ہے تو اس کی اس طرح رپورٹنگ نہیں کی جاتی۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ رویہ کب تک رہے گا؟

انہوں نے ایک کتاب FRAMED AS A TERRORIST لکھی ہے جو ان کی آپ بیتی ہے اور جس میں ٹارچر کے روح فرسا واقعات سمیت حکومت اور انتظامیہ کی قلعی کھولنے والی بہت کچھ تفصیلات موجود ہیں۔

سہیل انجم
بشکریہ وائس آف امریکہ

امریکا پاکستان کو دہشتگردوں کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرانے کے لیے متحرک

امریکا پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی عالمی واچ لسٹ میں شامل کرانے کے لیے متحرک ہو گیا اور اس حوالے سے فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کے سامنے ایک تحریک پیش کی جائے گی، تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے اس اقدام کو ناکام بنانے کے لیے بھی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ڈان اخبار کی رپورٹ میں غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی رکن ریاست کا اجلاس آئندہ ہفتے پیرس میں ہو گا، جہاں تنظیم کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے تحریک پیش کی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ امریکا اور برطانیہ کی جانب سے کئی ہفتوں قبل ہی تحریک تیار کر لی گئی تھی اور بعد میں فرانس اور جرمنی نے بھی اس میں تعاون کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکا، برطانیہ، جرمنی اور فرانس سے رابطے میں ہیں تاکہ عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کی نامزدگی کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ اگر امریکا نامزدگی واپس لینے پر راضی نہیں بھی ہوا تو ہم واچ لسٹ میں نام ڈالنے کے عمل کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے بھارت کے کہنے پر یہ تحریک پیش کی جا رہی ہے اور اس کی اصل توجہ حافظ سعید پر مرکوز ہے کیونکہ بھارت کی جانب سے ان پر 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ایف ٹی اے ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جو لڑائی کرنے والوں کی معاونت کا عالمی معیار کا تعین کرتا ہے جبکہ 2012 سے 2015 تک پاکستان اس کی واچ لسٹ میں شامل رہ چکا ہے۔