تیار ہو جاؤ روس، امریکی میزائل آ رہے ہیں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کیمیائی حملوں کے بعد روس کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’روس تیار ہو جاؤ، امریکی میزائل آرہے ہیں‘۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ شام میں کیمیائی حملے کے بعد روس بھی امریکا کے ردِ عمل کے لیے تیار رہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ روس نے شام کی جانب داغے گئے میزائلوں کو گرانے کا عزم کیا ہوا ہے، تو وہ تیار ہوجائے کیونکہ امریکا کے میزائل آرہے ہیں، جو نئے اور مزید بہتر اور چالاک ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس کو ایسے لوگوں کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا جو جانوروں کی طرح اپنے ہی لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اپنے ایک اور پیغام میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کبھی نہ ختم ہونے والی روسی تحقیقات کے باوجود وہ ایسی چیزیں کر رہے ہیں جو لوگوں کے نزدیک ممکن ہی نہیں ہیں۔

عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی جہاز گرانے والے پاکستانی ہواباز کے لئے ایوارڈ

پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے کہا ہے کہ ملک کے تمام دشمن یکجا ہو کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں مگر وہ ہمیشہ اپنی کوششوں میں نا کام رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس پر کوئی بری نظر ڈالنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لئے بغیر کہا کہ پاک فضائیہ اور مسلح افواج، عوام کے ساتھ مل کر دشمن ممالک کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیں گی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ان کا اشارہ پاکستان کے روائتی حریف بھارت اور اسرائیل کی جانب تھا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نے حال ہی میں بھارت کا دورہ بھی کیا اور دفاع سمیت کئی شعبوں تعاون بڑھانے کے معاہدے کیے۔

ائیر چیف کا مزید کہنا تھا کہ پاک فضائیہ اپنے پیشروؤں کی بے مثال قربانیوں اور پیشہ وارانہ مہارت کی بدولت مادر وطن کی فضائی سرحدوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار 1974 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے میں شریک کموڈور ریٹائرڈ ستارعلوی کو خراج پیش کرنے کے لیے ہونے والی تقریب میں کیا۔ کموڈور ستار علوی نے شامی فضائیہ کی طرف سے جنگ میں حصہ لیتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے میراج طیارے کو دوران جنگ مار گرایا تھا۔ تقریب میں ستار علوی نے مار ے جانے والے اسرئیلی پائلٹ کیپٹن لٹز کے فلائنگ کوور آل (سوٹ) کو پی اے ایف میوزیم میں رکھنے کے لئے بھی پیش کیا۔

ائیر چیف نے ائیر کموڈور ستار علوی (ریٹائرڈ) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عظیم لڑاکا ہواباز ہیں جنہوں نے 1974ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران شامی فضائیہ کے مگ۔21 میں پرواز کرتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے میراج ائیر کرافٹ کو تباہ کیا تھا اور وہ یہ تاریخی کارنامہ سرانجام دینے والے دنیا کے واحد پائلٹ ہیں۔ اس بہادری پر انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ جرأت اور شامی حکومت کی جانب سے انہیں تمغہ فارس اور تمغہ شجاعت کے اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ تقریب میں پاک فضائیہ کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران ، شہداء کے لواحقین اور کراچی سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے شرکت کی۔

مہاجرت : جب کوئی راستہ ہی نہ بچے، پھر؟

چار ماہ کا فارس علی ترکی کے ایک خیمے میں ٹھٹھر کر مرا، چار سالہ ساجدہ علی سمندر میں ڈوب کر جبکہ سیموئل اور اس کی ماں اسپین پہنچنے کی کوشش میں۔ یہ بچے ان ہزارہا مہاجرین میں شامل تھے، جو مہاجرت کے خوفناک سفر کی نذر ہو گئے۔ جرمن اخبار ’ٹاگس اشپیگل‘ نے 33 ہزار دو سو ترانوے ایسے مہاجرین کی ایک فہرست جاری کی ہے، جو یورپ پہنچنے کی کوشش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس جرمن اخبار نے لکھا ہے کہ اس فہرست کے اجراء کا مقصد مہاجرین کی ابتر صورتحال کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ اس صورتحال کی وجہ یورپی ممالک کی سخت پالیساں ہی بنی ہیں۔

حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد غربت، جنگ و جدل، مسلح تنازعات اور شورش سے جان بچا کر یورپ پہنچ چکے ہیں یا اس کوشش میں ہیں۔ کچھ یورپی ممالک نے مہاجرین کے اس سیلاب کو روکنے کی خاطر اپنی قومی سرحدوں پر رکاوٹیں بھی نصب کر دی ہیں۔ اس صورتحال میں ایسے مہاجرین بھی مارے گئے، جو یورپ پہنچنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ چار ماہ کے شیر خوار فارس علی کا تعلق شام سے تھا۔ وہ ترکی کے ایک کیمپ میں سردی کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ اسی طرح پانچ سالہ افغان بچی ساجدہ علی سمندر کی لہروں کی نذر ہو گئی۔ کانگو سے تعلق رکھنے والا سیموئل اور اس کی ماں اپنے ملک میں جاری شورش سے جان بچانا چاہتے تھے۔ اس کوشش میں اس خاتون نے ایک خستہ حال کشتی کے ذریعے اسپین پہنچنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی جان بچا سکی اور نہ ہی اپنے چھوٹے سے بچے کی۔

گزشتہ برس جنوری میں انتیس سالہ ہردی غفور اور چھتیس سالہ طلعت عبدالحمید یورپ پہنچ کر بھی اس وقت مارے گئے تھے، جب وہ شدید سردی اور برف باری میں دو دن کا پیدل سفر کر کے ترکی سے بلغاریہ پہنچے تھے۔ یہ دونوں عراقی شہری تھے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کی مدد سے مرتب کی گئی اس فہرست میں روزنامہ ’ٹاگس اشپیگل‘ نے لکھا ہے کہ کچھ مہاجرین یورپ میں واقع کیمپوں میں آتشزدگی سے ہلاک ہوئے یا پھر سڑکوں پر حادثات کے نتیجے میں بھی۔ اس فہرست میں خود کشی کے متعدد واقعات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ زندگی سے تنگ اور ناامیدی کے شکار کچھ مہاجرین نے خود کو آگ لگا دی جبکہ کچھ نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی جان دے دی۔ اسی طرح کچھ مایوس مہاجرین نے اونچی عمارتوں سے کود کر خود کشی بھی کی۔ اس فہرست کے مطابق متعدد مہاجرین نسل پرستانہ یا دیگر حملوں کی نذر بھی ہو گئے۔

خطرناک سمندری راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں بھی ہزاروں مہاجرین لقمہ اجل بنے، جنہیں اس فہرست میں ’نامعلوم افراد‘ قرار دیا گیا ہے۔ سمندر میں سب سے بڑا خونریز واقعہ جولائی سن دو ہزار سولہ میں رونما ہوا تھا، جب ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی دو کشتیوں کو پیش آنے والے ایک حادثے کے نتیجے میں ساڑھے پانچ سو افراد مارے گئے تھے۔ یہ کشتیاں لیبیا سے یورپ کی طرف سفر پر تھیں۔

بشکریہ DW اردو

بھوک بطور ہتھیار

عبدالستار ہاشمی

شام میں جاری خانہ جنگی میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور 3 ملین سے زائد اپنی جانیں بچانے کے لیے داخلی یا بیرون ملک ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔ شامی اپوزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس خانہ جنگی میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ایک اندازے کے مطابق اب تک شام میں ہر ماہ اوسطً کم از کم 5 ہزار افراد ہلاک ہو رہے ہیںجن میں80 فیصد مرد اور10 سال سے کم عمر کے 1700 بچے شامل ہیں۔خانہ جنگی کے دوران فوجی دستے باغیوں کو گرفتار کرنے کے لیے علاقوں کی ناکہ بندی کا طریقہ اپنا رہے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل روک لیتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کا فقدان تھا تاہم اب صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے۔ شام میں سلامتی کے ادارے کے ایک اہلکار کے بقول شامی افواج کی جانب سے ناکہ بندی کی وجہ سے محصور علاقوں میں بھوک بڑھ رہی ہے اور افواج نے جن علاقوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے وہاں اشیائے خوراک اور ادویات کی رسائی تقریباً ملفوج ہو کر رہ گئی ہے۔حالیہ دنوں کے دوران دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں کی ناکہ بندی کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بھوک بڑھتی جا رہی ہے۔ صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ بھوک کی وجہ سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔دارالحکومت دمشق کے مرکزی اور مشرقی حصے کے درمیان فوج کی ایک چوکی قائم ہے۔

 گزشتہ دنوں اس چوکی پر تعینات ایک فوجی سے ایک بچہ منتیں کرتا رہا کہ وہ روٹی خریدنے کے لیے اسے دوسری جانب جانے کی اجازت دے لیکن اس فوجی نے اس کی درخواست مسترد کر دی۔اقوام متحدہ کے مطابق شام میں10 لاکھ سے زائد شہری ایسے علاقوں میں محصور ہیںجہاں امدادی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔ دمشق کے نواحی علاقوں اور تقریباً 3 لاکھ افراد حلب میں محصور ہیں۔شامی حکومت کی جانب بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات پر ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سرکاری فوج یہ کہتی ہے کہ علاقے کے رہائشی دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں،جبکہ امدادی کارکنوں کو محصور علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ دمشق کے جنوبی، مشرقی اور مغربی نواحی علاقے باغیوں کے زیر اثر ہیں اور اسی وجہ سے ان علاقوں کی ناکہ بندی بھی انتہائی سخت ہے۔ ان علاقوں میں پھل اور سبزیاں تو مشکل سے دستیاب ہیں لیکن روٹی کہیں بھی خریدی نہیں جا سکتی۔ مسلسل بمباری کی وجہ سے بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے خاص طور پر پیٹ کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 مارچ 2011ء کو شروع ہونے والے شام کے خونریز تنازع کو ٹھیک ایک ہزار دن ہو گئے ہیں لیکن یہ ہلاکت خیز خانہ جنگ ابھی بھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی طرف سے اس تنازع کے حل کے لیے فریقین کے مابین ثالثی کی اب تک کی تمام تر کوششیں اس حد تک بے نتیجہ رہی ہیں کہ شام کی داخلی تباہی کا سفر ابھی تک جاری ہے اور ملک کے بہت سے شہر اور علاقے بھی تاحال محاذ جنگ بنے ہوئے ہیں۔دمشق حکومت اور شامی باغیوں کے مابین امن مذاکرات کے آغاز کے لیے بین الاقوامی برادری کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں شام سے متعلق’ ’جنیوا ٹو‘‘ کہلانے والی امن کانفرنس کا انعقاد 22 جنوری کو ہو گا۔ اس کانفرنس میں ٹھوس نتائج پر پہنچنے کی کوشش کی جائے گی لیکن بہت سے ماہرین کے بقول حقیقت پسندانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو ایسے نتائج کا امکان کم ہے۔ ایک اور تکلیف دہ پہلو بھی ہے جس پر لکھتے ہوئے انسانیت کانپ اُٹھے گی۔ شام میں جاری خانہ جنگی میں مسلح فریقین بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس خونریز لڑائی سے20 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔’’سیو دی چلڈرن‘‘کی رپورٹ کے مطابق شامی بچوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے اور ساتھ ہی ان کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔

جنسی تشدد سے تحفظ کے لیے لڑکیوں کو جلد شادیاں کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بچوں کو بار برداری، محافظوں کے طور پر، معلومات جمع کرنے اور لڑائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کئی بچے اور ان کے خاندان اس بات کو باعث فخر سمجھتے ہیں لیکن بعض بچوں کو زبردستی عسکری سرگرمیوں کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ شام میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں بے گھر بچے پارکس اور دیگر جگہوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔ وہ مخدوش حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ان کے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جانے کے خطرات بھی قدرے زیادہ ہیں۔اس تنازع کی وجہ سے وہاں بچوں کی ایک پوری نسل انسانی خطرے میں ہے۔ ٭…٭…٭

Enhanced by Zemanta