Category Archives: Syria
عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی جہاز گرانے والے پاکستانی ہواباز کے لئے ایوارڈ
پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے کہا ہے کہ ملک کے تمام دشمن یکجا ہو کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں مگر وہ ہمیشہ اپنی کوششوں میں نا کام رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس پر کوئی بری نظر ڈالنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لئے بغیر کہا کہ پاک فضائیہ اور مسلح افواج، عوام کے ساتھ مل کر دشمن ممالک کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیں گی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ان کا اشارہ پاکستان کے روائتی حریف بھارت اور اسرائیل کی جانب تھا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نے حال ہی میں بھارت کا دورہ بھی کیا اور دفاع سمیت کئی شعبوں تعاون بڑھانے کے معاہدے کیے۔
ائیر چیف کا مزید کہنا تھا کہ پاک فضائیہ اپنے پیشروؤں کی بے مثال قربانیوں اور پیشہ وارانہ مہارت کی بدولت مادر وطن کی فضائی سرحدوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار 1974 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے میں شریک کموڈور ریٹائرڈ ستارعلوی کو خراج پیش کرنے کے لیے ہونے والی تقریب میں کیا۔ کموڈور ستار علوی نے شامی فضائیہ کی طرف سے جنگ میں حصہ لیتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے میراج طیارے کو دوران جنگ مار گرایا تھا۔ تقریب میں ستار علوی نے مار ے جانے والے اسرئیلی پائلٹ کیپٹن لٹز کے فلائنگ کوور آل (سوٹ) کو پی اے ایف میوزیم میں رکھنے کے لئے بھی پیش کیا۔
ائیر چیف نے ائیر کموڈور ستار علوی (ریٹائرڈ) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عظیم لڑاکا ہواباز ہیں جنہوں نے 1974ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران شامی فضائیہ کے مگ۔21 میں پرواز کرتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے میراج ائیر کرافٹ کو تباہ کیا تھا اور وہ یہ تاریخی کارنامہ سرانجام دینے والے دنیا کے واحد پائلٹ ہیں۔ اس بہادری پر انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ جرأت اور شامی حکومت کی جانب سے انہیں تمغہ فارس اور تمغہ شجاعت کے اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ تقریب میں پاک فضائیہ کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران ، شہداء کے لواحقین اور کراچی سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے شرکت کی۔
مہاجرت : جب کوئی راستہ ہی نہ بچے، پھر؟
چار ماہ کا فارس علی ترکی کے ایک خیمے میں ٹھٹھر کر مرا، چار سالہ ساجدہ علی سمندر میں ڈوب کر جبکہ سیموئل اور اس کی ماں اسپین پہنچنے کی کوشش میں۔ یہ بچے ان ہزارہا مہاجرین میں شامل تھے، جو مہاجرت کے خوفناک سفر کی نذر ہو گئے۔ جرمن اخبار ’ٹاگس اشپیگل‘ نے 33 ہزار دو سو ترانوے ایسے مہاجرین کی ایک فہرست جاری کی ہے، جو یورپ پہنچنے کی کوشش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس جرمن اخبار نے لکھا ہے کہ اس فہرست کے اجراء کا مقصد مہاجرین کی ابتر صورتحال کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ اس صورتحال کی وجہ یورپی ممالک کی سخت پالیساں ہی بنی ہیں۔
حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد غربت، جنگ و جدل، مسلح تنازعات اور شورش سے جان بچا کر یورپ پہنچ چکے ہیں یا اس کوشش میں ہیں۔ کچھ یورپی ممالک نے مہاجرین کے اس سیلاب کو روکنے کی خاطر اپنی قومی سرحدوں پر رکاوٹیں بھی نصب کر دی ہیں۔ اس صورتحال میں ایسے مہاجرین بھی مارے گئے، جو یورپ پہنچنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ چار ماہ کے شیر خوار فارس علی کا تعلق شام سے تھا۔ وہ ترکی کے ایک کیمپ میں سردی کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ اسی طرح پانچ سالہ افغان بچی ساجدہ علی سمندر کی لہروں کی نذر ہو گئی۔ کانگو سے تعلق رکھنے والا سیموئل اور اس کی ماں اپنے ملک میں جاری شورش سے جان بچانا چاہتے تھے۔ اس کوشش میں اس خاتون نے ایک خستہ حال کشتی کے ذریعے اسپین پہنچنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی جان بچا سکی اور نہ ہی اپنے چھوٹے سے بچے کی۔
گزشتہ برس جنوری میں انتیس سالہ ہردی غفور اور چھتیس سالہ طلعت عبدالحمید یورپ پہنچ کر بھی اس وقت مارے گئے تھے، جب وہ شدید سردی اور برف باری میں دو دن کا پیدل سفر کر کے ترکی سے بلغاریہ پہنچے تھے۔ یہ دونوں عراقی شہری تھے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کی مدد سے مرتب کی گئی اس فہرست میں روزنامہ ’ٹاگس اشپیگل‘ نے لکھا ہے کہ کچھ مہاجرین یورپ میں واقع کیمپوں میں آتشزدگی سے ہلاک ہوئے یا پھر سڑکوں پر حادثات کے نتیجے میں بھی۔ اس فہرست میں خود کشی کے متعدد واقعات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ زندگی سے تنگ اور ناامیدی کے شکار کچھ مہاجرین نے خود کو آگ لگا دی جبکہ کچھ نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی جان دے دی۔ اسی طرح کچھ مایوس مہاجرین نے اونچی عمارتوں سے کود کر خود کشی بھی کی۔ اس فہرست کے مطابق متعدد مہاجرین نسل پرستانہ یا دیگر حملوں کی نذر بھی ہو گئے۔
خطرناک سمندری راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں بھی ہزاروں مہاجرین لقمہ اجل بنے، جنہیں اس فہرست میں ’نامعلوم افراد‘ قرار دیا گیا ہے۔ سمندر میں سب سے بڑا خونریز واقعہ جولائی سن دو ہزار سولہ میں رونما ہوا تھا، جب ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی دو کشتیوں کو پیش آنے والے ایک حادثے کے نتیجے میں ساڑھے پانچ سو افراد مارے گئے تھے۔ یہ کشتیاں لیبیا سے یورپ کی طرف سفر پر تھیں۔
بشکریہ DW اردو
بھوک بطور ہتھیار
عبدالستار ہاشمی
شام میں جاری خانہ جنگی میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور 3 ملین سے زائد اپنی جانیں بچانے کے لیے داخلی یا بیرون ملک ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔ شامی اپوزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس خانہ جنگی میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ایک اندازے کے مطابق اب تک شام میں ہر ماہ اوسطً کم از کم 5 ہزار افراد ہلاک ہو رہے ہیںجن میں80 فیصد مرد اور10 سال سے کم عمر کے 1700 بچے شامل ہیں۔خانہ جنگی کے دوران فوجی دستے باغیوں کو گرفتار کرنے کے لیے علاقوں کی ناکہ بندی کا طریقہ اپنا رہے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل روک لیتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کا فقدان تھا تاہم اب صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے۔ شام میں سلامتی کے ادارے کے ایک اہلکار کے بقول شامی افواج کی جانب سے ناکہ بندی کی وجہ سے محصور علاقوں میں بھوک بڑھ رہی ہے اور افواج نے جن علاقوں کا محاصرہ کیا ہوا ہے وہاں اشیائے خوراک اور ادویات کی رسائی تقریباً ملفوج ہو کر رہ گئی ہے۔حالیہ دنوں کے دوران دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں کی ناکہ بندی کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بھوک بڑھتی جا رہی ہے۔ صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ بھوک کی وجہ سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔دارالحکومت دمشق کے مرکزی اور مشرقی حصے کے درمیان فوج کی ایک چوکی قائم ہے۔








