سری لنکا کی معاشی تباہی کی وجوہات کیا ہیں؟

سری لنکا کو ایک غیر معمولی معاشی بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے حکومت مسائل کے بھنور میں پھنس گئی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دو کروڑ 20 لاکھ کی آبادی والے ملک کو تیزی سے کم ہو رہے زرمبادلہ کے ذخائر اور قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے عوام کے لیے اشیائے ضروریہ درآمد کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان وجوہات کی وجہ کئی ہفتوں تک حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے جو حال ہی میں پرتشدد ہو گئے، جس کے بعد وزیراعظم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ عوام کے زیادہ تر غصے کا محور صدر گوتابایا راجاپکشے اور ان کے بھائی اور سابق وزیراعظم مہندا راجا پکشے ہیں، جن پر ناقدین ملک کو معاشی بحران میں مبتلا کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

مظاہروں کا آغاز کیسے ہوا؟
کئی مہینوں سے سری لنکن شہری اشیائے ضروریہ خریدنے کے لیے قطاروں میں لگ رہے تھے کیونکہ زرمبادلہ کے بحران کی وجہ سے درآمدی خوراک، ادویات اور فیول کی قلت ہو گئی تھی۔ تیل کی کمی کی وجہ سے عوام کو لوڈ شیڈنگ کا بھی سامنا تھا۔ کورونا وبا اور روس یوکرین تنازع نے بھی حالات کو بدتر بنا دیا لیکن ممکنہ معاشی بحران کے حوالے سے انتباہ بہت پہلے سے کیا جا رہا تھا۔ سنہ 2019 میں صدر گوتابایا راجاپکشے ایسٹر پر چرچ اور ہوٹلوں میں ہونے والے خود کش دھماکوں کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔ ان دھماکوں میں 290 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور سیاحت کی صنعت کو بہت نقصان پہنچا تھا، جو کہ زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔  گوتابایا راجاپکشے نے سری لنکا کو معاشی بحران سے نکالنے اور محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت کو اپنے محصولات میں اضافہ کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ بڑے انفراسٹکچر منصوبوں کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ کچھ قرضوں کے لیے چین نے مالی اعانت فراہم کی تھی، لیکن اپنی صدارت کے چند ہی دنوں میں راجاپکشے نے سری لنکا کی تاریخ میں ٹیکسوں میں سب سے بڑی چھوٹ دے دی۔

اس اقدام پر عالمی منڈی کی جانب سے فوراً سزا دی گئی۔ قرض دہندگان نے سری لنکا کی درجہ بندی کم کر دی اور اسے مزید رقم ادھار لینے سے روک دیا۔ اس کے فوراً بعد کورونا وبا نے ملک کی معیشت کو متاثر کیا اور قرضوں میں اضافے کے ساتھ ہی سیاحت کا شعبہ پھر بند ہو گیا۔ پھر گزشتہ اپریل میں راجاپکشے نے مناسب منصوبہ بندی کے بغیر نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینے کے لیے کیمیائی کھادوں کی درآمد پر اچانک پابندی کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان نے کسانوں کو حیران اور چاول کی فصلوں کو تباہ کر دیا۔ جس کے بعد اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ روس اور یوکرین کی جنگ نے بھی عالمی مارکیٹ میں اجناس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جس سے درآمد اور بہت مشکل ہو گئی۔ اس کے علاوہ غیرملکی زرمبادلہ کے دخائز میں تیزی سے کمی کی وجہ سے حکومت نے غیرملکی قرضوں کی ادائیگی بھی روک لی۔

راجاپکشے کون ہیں؟
ملک گیر مظاہروں میں راجاپکشے بھائیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو ایک نہایت طاقتور سیاسی گھرانہ ہے۔ گوتابایا اور مہندا ملک کی سنہالی اکثریت کی نظروں میں ہیرو کا درجہ رکھتے تھے کیونکہ انہوں نے 2009 میں 30 سال سے تاملوں کے ساتھ جاری خانہ جنگی کا خاتمہ کیا تھا۔  مہندا راجاپکشے 2015 تک ملک کے صدر رہے اور اپوزیشن سے شکست کے بعد اقتدار سے باہر ہوئے۔ 2019 کے ایسٹر بم دھماکوں کے بعد یہ خاندان گوٹابایا کے ماتحت اقتدار میں واپس آیا، جنہوں نے صدر بننے کے لیے ایک قوم پرست مہم چلائی اور کامیابی حاصل کی۔ مہندا راجاپکشے کا استعفیٰ مظاہرین کے لیے ایک جزوی فتح ہے۔ جبکہ صدر پر بھی مستعفی ہونے کے لیے دباو بڑھ رہا ہے۔

آگے کیا ہو گا؟
صدر گوتابایا راجاپکشے اس وقت وزیراعظم اور کابینہ کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ انہیں نئے وزیراعظم کے لیے پارلیمنٹ سے ایک نیا ممبر منتخب کرنا ہے اور کابینہ تشکیل دینی ہے۔ تاہم ان کے انتخاب کو 225 ارکان اسمبلی پر مشتمل پارلیمان کی اکثریت درکار ہو گی۔ ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ کیا ان کے پاس ابھی بھی پارلیمنٹ میں اکثریت ہے یا نہیں۔ صدر متحدہ حکومت بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن اپوزیشن کے ارکان کو اس میں شامل ہونے پر قائل کرنا مشکل ہو گا۔ اگر وزیراعظم نہ ہونے کے باوجود صدر استعفیٰ دے دیتا ہے تو پارلیمنٹ کے سپیکر ایک ماہ کے لیے عبوری صدر بن جائیں گے، اس دوران پارلیمنٹ کو صدر کے لیے کسی رکن کا انتخاب کرنا ہے جب تک کہ انتخابات نہ ہو جائیں۔

بشکریہ اردو نیوز

ICC Champions Trophy 2013 Shedule

ICC Champions Trophy 2013 Shedule

Enhanced by Zemanta

Jinnah Stadium Sialkot

Entrance to the Sialkot Railway Station
 
Jinnah Stadium, one of the oldest Cricket stadiums in Pakistan, is located in Sialkot, Pakistan. It is one of the oldest cricket grounds in Pakistan. Before independence, it was called Connelley Park. After independence, it was renamed as Jinnah Park. The construction of Jinnah Stadium was started in 1979, and was completed in 1984. It is currently used mostly for cricket matches. The stadium holds 30,000 and hosted its first Test match in 1985.[1] It is home ground of Sialkot Stallions.
 
Records

  Test

  One Day International

Enhanced by Zemanta

Iqbal Stadium Faisalabad

A test match taking place at Faisalabad's Iqba...
A test match taking place at Faisalabad’s Iqbal Stadium 
Iqbal Stadium (Urdu: اقبال سٹیڈیم‎) is a Test cricket ground in Faisalabad, Pakistan. Previous names for the ground include Lyallpur Stadium, National Stadium, and City Stadium. The current name honours Pakistani poet Sir Allama Muhammad Iqbal. Capacity is 25,000. It has hosted 25 Test matches and 14 One Day Internationals. 14 of the tests have been draws, thanks to the bone-dry, lifeless wickets, perfect for batting.
 
Ground records

  Tests

  • Highest innings total: 6–674 by Pakistan vs. India, October 1984.
  • Lowest innings total: 53 all out by West Indies vs. Pakistan, October 1986.
  • Highest individual score: 253 by Sanath Jayasuriya for Sri Lanka vs. Pakistan, October 2004.
  • Best bowling figures (match): 12–130 (7–76 & 5–54) by Waqar Younis for Pakistan vs. New Zealand, October 1990.

  One-day internationals

  • Highest innings total: 7–314 (50 overs) by Pakistan vs. New Zealand, December 2003.
  • Highest individual score: 106 by Mohammad Yousuf for Pakistan vs. Bangladesh, September 2003.
  • Best bowling figures: 4–27 (4 overs) by Mudassar Nazar for Pakistan vs. New Zealand, November 1984.

  Profile

The Iqbal Stadium in Faisalabad is situated in the northern province of Punjab and is a modern and well-equipped stadium. But no matter how impressive a venue is, not much can be done about the weather and Faisalabad has suffered at the hands of the elements. In 1998–99 fog caused the third Test against Zimbabwe was abandoned without a ball being bowled, while bad light is often an issue especially for matches played during the winter. However, when play has been possible, some memorable performances have taken place. An exciting Test was played out in 1997–98 when South Africa skittles Pakistan for 92, successfully defending a target of 142 on the final day. Then, in 2004–05, Sanath Jayasuriya smashed 253 as Sri Lanka powered to a 201-run victory. But the ground is most famous for the confrontation between Mike Gatting and Shakoor Rana during England’s 1987–88 tour, which led to a day being lost during the match and some long-lasting bad feeling between the teams. The stadium itself is only 2km out of the city centre, which can be reached by a walk through the tree-lined suburbs
Enhanced by Zemanta