روس عالمی سطح پر اپنے آپ کو منوانے کے لیے توانائی اور اسلحے کی برآمد کا سہارا لیتا رہا ہے لیکن کورونا وائرس کی عالمی وبا نے روس کو اس حوالے سے ایک نیا ذریعہ ویکسین کی صورت میں فراہم کیا ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق تجزیہ کاروں کے خیال میں روس کے کورونا وائرس کی ویکسین متعارف کرنے کا مقصد عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ مضبوط کرنا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اگست میں دنیا کی پہلی کورونا ویکسین رجسٹر کروانے کا اعلان کیا تھا جس پر دیگر ممالک نے حیرت اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔ روس کی ’سپتنک فائیو‘ نامی ویکسین کی افادیت کے حوالے سے سائنسدانوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ویکسین کے ٹرائلز مکمل ہونے سے پہلے ہی روس کیسے اس کی کامیابی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
سپتنک ویکسین تیار کرنے والے روسی سائنسدانوں نے اس کے ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے ہی ویکسین کے مؤثر ہونے کا دعویٰ کر لیا تھا۔ روس نے ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائل سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویکسین 95 فیصد مؤثر ہے۔ تاہم ٹرائلز فی الحال جاری ہونے کی وجہ سے ان کا مکمل ڈیٹا ابھی تک فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کورونا کی ویکسین کے اعلان کا مقصد صحت عامہ کے علاوہ عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے روس فارماسیوٹیکل تحقیق میں دیگر ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ جب کہ اس سے قبل سویت یونین سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مغربی ممالک کے مقابلے میں کھڑا تھا۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے روس مغربی ممالک کی لیبارٹریوں کا سہارا لیتا رہا ہے۔
روس میں سابق فرانسیسی سفیر کا کہنا ہے کہ سویت یونین کے بعد سے سپتنک ویکسین روس میں بننے والی پہلی فارماسیوٹکل ایجاد ہے جو اس نے بلا اشتراک تیار کی ہے۔ فرانسیسی سفیر ژون گلنیاسٹی کے مطابق سپتنک فائیو کی کامیابی روس کی بڑی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے مقابلے میں کھڑے ہو جانے کی علامت ہے جو روس کے لیے بطور ایک قوم فخر کا مقام ہے۔ روس نے ویکسین کا نام بھی دنیا کی پہلی سیٹلائٹ سپتنک فائیو کے نام پر رکھا ہے جو سویت یونین نے 1957 میں لانچ کر کہ امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو چیلنج کیا تھا۔ روسی تجزیہ کار ٹٹیانہ سٹینووایا کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے ویکسین متعارف کروا کر دنیا کو پیغام دیا ہے کہ روس پیچیدہ ٹیکنالوجی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے ماہرین کا شمار دنیا کے بہترین سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔
ٹٹیانہ کا کہنا تھا صدر پوتن عالمی سطح پر دکھانا چاہتے تھے کہ روس کورونا کی وبا سے نمٹنے میں پیش پیش ہے اور ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اس بحران سے نمٹنے میں زیادہ کامیاب ہے۔ یاد رہے کہ روس نے دارالحکومت ماسکو میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر ویکسین سپتنک فائیو لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ویکسین ڈاکٹروں، طبی عملے، اساتذہ اور سماجی کارکنوں کو لگائی جائے گی۔ روس نے رواں ماہ کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ دنیا بھر سے سپٹنک ویکسین کی ایک ارب 20 کروڑ خوراکوں کے آرڈر موصول ہوئے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق رواں سال کے آخر تک ویکسین کی صرف 20 لاکھ خوراکیں تیار کی جائیں گی۔ جبکہ روس کی عوام کی ضرورت پوری کرنے کے لیے 10 لاکھ 45 ہزار ویکسین کی خوراکوں کی ضرورت ہے۔
صدر ولادیمیر پوٹن نے جی-20 سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضروت مند ممالک کو روس میں تیار کردہ کورونا ویکسین ‘اسپوٹنک وی’ کی فراہمی کی پیشکش کی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں جاری جی-20 سربراہ کے ورچوئل اجلاس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ ہر شخص کو مؤثر اور محفوظ کورونا ویکسین فراہم ہونی چاہیئے جس کے لیے روس ضرورت مند ممالک کو اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ روس کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ جی-20 کے اس اجلاس کے دنیا کو منصفانہ طور پر موثر اور محفوظ کورونا ویکیسن کی فراہمی کے مسودے کے حامی ہیں اور ضرورت مند ممالک کو اپنی کورونا ویکسین ‘اسپوٹنک وی’ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
صدر ولادیمیر پوٹن نے مزید بتایا کہ روس میں تیار ہونے والی ‘اسپوٹنک وی’ ویکسین دنیا کی پہلی رجسٹرڈ ویکسین ہے جبکہ نووسیبیرسک ریسرچ سینٹر کی دوسری ویکسین ‘ایپی ویک کورونا’ بھی تیار ہے اسی طرح روس میں تیسری ویکسین کی بھی تیاری آخری مرحلے میں ہے۔ روسی صدر کا کہنا تھا کہ انسانوں کو 2020 میں عالمی لاک ڈاؤن کا سامنا رہا اور معاشی سرگرمیاں معطل ہونے کے باعث معاشی بحران پیدا ہوا جس سے باہر نکلنے کا واحد حل ویکسین ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں جی-20 سربراہ ورچوئل اجلاس گزشتہ روز شروع ہوا تھا جس میں امریکی صدر نے بھی آن لائن شرکت کی تھی جب کہ آج اختتامی روز روس کے صدر نے خطاب کیا ہے۔