تمباکو نوشی دنیا میں سب سے زیادہ اموات کا سبب

سالہا سال سے ذرائع ابلاغ سمیت تمام دستیاب وسائل تمباکو نوشی کے جان لیوا اثرات کی آگہی کے لئے استعمال کرنے کے باوجود اِس خطرناک نشے کی عادتِ بد جڑ سے اکھاڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں حالانکہ قوم اِس کے بھیانک نتائج قیمتی جانوں کے ضیاع کی صورت میں مسلسل بھگت رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سگریٹ سمیت مختلف شکلوں میں تمباکو کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور ایڈز، ملیریا، ٹی بی اور دہشت گردی سے زیادہ اموات تمباکو نوشی سے ہو رہی ہیں۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے ایک بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ ہر سال ایڈز کی وجہ سے 55، ملیریا سے 5 اور ٹی بی کے باعث 30 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے سالانہ ایک لاکھ 63 ہزار لوگ مر رہے ہیں۔

دہشت گردی کے عفریت نے بھی اب تک 70 ہزار جانیں لی ہیں جو تمباکو نوشی سے مرنے والوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی چھ اہم وجوہات میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام خصوصاً نئی نسل میں سگریٹ نوشی کے رجحان کو کم کرنے کے لئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تمباکو نوشی کی روک تھام کے متعلق عالمی معاہدے پر عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔ اس معاہدے کے تحت دکانوں پر تمباکو کی مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی، سگریٹوں پر ہیلتھ لیویز کا نفاذ اور سگریٹ پیک پر ہیلتھ وارننگ اور تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے آگاہی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ اس حوالے سے محکمہ صحت، اطبا، والدین اور اساتذہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ اس مہلک عادت سے لوگوں کی جان چھڑائی جا سکے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

دن بھر میں صرف ایک سیگریٹ پینا کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟

تمباکو نوشی کے متعدد نقصانات سامنے آتے رہتے ہیں مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ دن بھر میں صرف ایک سیگریٹ پینا جسم پر کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے؟ اگر نہیں تو جان لیں کہ صرف ایک سیگریٹ روزانہ استعمال کرنا جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ہے۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں صرف ایک سیگریٹ بھی صحت پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرنے کے لیے کافی ہے۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دن بھر میں ایک سیگریٹ کچھ برسوں بعد امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ بیس سیگریٹ استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں ایک سیگریٹ پینے والوں میں امراض قلب اور فالج کا خطرہ پچاس فیصد کم ضرور ہوتا ہے، مگر یہ بھی موت کا باعث بننے کے لیے کافی ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ خون کی شریانوں سے متعلقہ امراض کے حوالے سے تمباکو نوشی کی کوئی محفوظ حد نہیں، اور اس سے بچنے کے لیے سیگریٹ کی تعداد کم کرنے کی بجائے اسے چھوڑنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ اس تحقیق کے دوران 1946 سے 2015 تک کی 55 طبی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ جو لوگ دن بھر میں ایک سیگریٹ استعمال کرتے ہیں، ان میں امراض قلب کا خطرہ اس عادت سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں 48 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح 57 فیصد ہے۔ اسی طرح مردوں میں اس عادت کے نتیجے میں فالج کا امکان 25 فیصد جبکہ خواتین میں 31 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ سیگریٹ نوشی کی مقدار میں کمی کرنا کینسر وغیرہ کا خطرہ تو کم کرتا ہے مگر دو عام امراض یعنی امراض قلب اور فالج کا خطرہ کم نہیں ہوتا، اس سے بچنے کے لیے اس عادت کو ترک کرنا ضروری ہے۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی بی ایم جے میں شائع ہوئے۔