صارفین کو اکثر یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کے فون کی بیٹری جلد ختم ہو جاتی ہے تاہم ان چند تدابیر پر عمل کر کے اس مشکل سے بچا جا سکتا ہے ۔ عام طور پر صارف کے اسمارٹ فون میں انتہائی ضروری ایپلی کیشنز کے ساتھ بعض غیر ضروری یا غیراہم ایسی ایپلی کیشنز بھی موجود ہوتی ہیں جو بہت کم استعمال میں آتی ہیں۔
ایپلی کیشنز کی فوری بندش
صارفین کو چاہئے کہ سب سے پہلے موبائل فون کی سیٹنگ میں جا کر یہ دیکھ لیں کہ کون سی ایپلی کیشن زیادہ بیٹری صرف کرتی ہیں۔ جو ایپلی کیشن زیادہ بیٹری استعمال کرتی ہو اسے کام کے بعد فوراً بند کر دیا جائے جس سے بیٹری ضائع ہونے سے بچ سکتی ہے۔
لو پاور موڈ آپشن
صارفین کو سیٹنگ میں موجود ‘لو پاور موڈ آپشن آن رکھنا چاہئے، یہ 20 فیصد چارجنگ بچنے کی صورت میں فوراً آگاہی فراہم کرتا ہے۔ یہ ان تمام ایپلی کیشنز کو روک دیتا ہے جو بیگ گراؤنڈ میں چلتی رہتی ہیں یا آٹو ڈاؤن لوڈ ہوتی ہیں۔
موبائل آٹو لاک
جتنی دیر تک فون کی اسکرین لائٹ جلتی رہتی ہے فون کی بیٹری کم ہوتی رہتی ہے تاہم ہمیشہ ‘آٹو لاک کو آن رکھنا چاہئے تاکہ فون استعمال کرنے کے بعد خود ہی لاک ہو جائے جس سے بیٹری محفوظ رہ سکے۔ صارف اپنی سہولت کے حساب سے 30 سیکنڈ، ایک منٹ، 2 منٹ یا اس سے زائد اسکرین لاک کا دورانیہ رکھ سکتا ہے۔
لوکیشن سروس کو بند رکھا جائے
‘لوکیشن سروس صارفین کے لئے مددگار ہے لیکن اس سے فون کی بیٹری بھی تیزی سے خرچ ہوتی ہے اور لوکیشن سروس ‘ان ایبل رہنے سے اگر صارف اسے استعمال نہ بھی کر رہا ہو تو بیٹری خرچ ہوتی رہتی ہے۔ اس لئے بیٹری کا دوانیہ زیادہ دیر تک بڑھانے کے لئے آپ اطمینان کر لیں کے آپ نے لوکیشن سروس بند کردیا ہے۔
آٹو برائٹنیس آن رکھیں
اگر صارف نے موبائل اسکرین کی برائٹنیس بڑھا رکھی ہے تو یقیناً بیڑی تیزی سے ختم ہو گی اس لئے تاکید کی جاتی ہے کہ صارف اپنا موبائل ‘آٹو برائٹنیس آپشن پر کر دیں، اس کی مدد سے موبائل اسکرین کی روشنی موجودہ جگہ کے لحاظ سے فراہم ہو گی۔
وائی فائی اور ڈیٹا کنکشن ساتھ استعمال نا کیا جائے:
وائی فائی استعمال کرتے ہوئے یہ ضرور خیال کیا جائے کہ ڈیٹا انٹرنیٹ استعمال نا کیا جائے کیوں کہ دونوں کا ایک ساتھ استعمال بیڑی کو متاثر کرتا ہے۔
نیٹ ورک کنکشن نا ہونے کی صورت میں موبائل ایئر پلین موڈ پر رکھا جائے: جب نیٹ ورک سروس موصول نہ ہورہی ہو تو اس صورت میں موبائل کو ‘ایئر پلین موڈ پر لگا دیا جائے، کیوں کہ اس سے آپ موبائل کی بیٹری زیادہ وقت تک استعمال کرسکیں گے۔
دنیا کے جدید شہروں کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ وہ موبائل فون کی ٹون سے ’جاگتے‘ اور اسی کی ٹون سے’سوتے‘ ہیں۔ اپنی اہمیت کے سبب وہ خود کبھی ’خاموش‘ نہیں ہوتے۔ پاکستانی معیشت کو پر کشش بنانے اور ترقی کی راہوں پر بہت تیزی سے گامزن کرنے میں موبائل فون سروس نے انتہائی اہم اور باقی سب صنعتوں سے زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ حتیٰ کہ یہ معیشت کا سب سے اہم ’چارہ‘ ہے مگر خود بہت ’بے چارہ‘ ہے۔ محرم آئے، عید منائی جائے، عید قربان ہو یا کوئی اور بڑا تہوار اس ’بے چارے‘ کو گھنٹوں کے لئے خاموش کر دیا جاتا ہے اور ملک بھر میں موجود 14 کروڑ موبائل فون صارفین کا رابطہ ایک دوسرے سے ’کٹ‘ جاتا ہے۔
رواں ہفتے بھی جمعہ سے اتوار کی رات تک تینوں دنوں یہاں موبائل فونز 12،12 گھنٹے ’بے جان‘ پڑے رہے۔ یقیناً ماہرین معاشیات کی نظر میں ’یہ ملکی ترقی کو بریک لگ جانا’ ہے۔ ماہرین کے نزدیک ،’’محرم میں جلسے، جلوس کی سیکورٹی مقدم ہے۔ لیکن، موبائل فون کی بندش کا متبادل ہو سکتا تھا مگر کبھی اس جانب شاید زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔’‘ متبادل نہ ہونے کے سبب ہی پچھلے تین دنوں تک کراچی، لاہور، حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور ، ڈیرہ اسماعیل خان، جڑانوالہ، ملتان، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، رحیم یار خان، لاڑکانہ، خیرپور۔غرض کہ کون سا شہر اور صوبہ نہیں تھا جہاں موبائل فون سروس معطل نہ رہی ہو۔
بجلی کے بعد فون کی بھی غیر اعلانیہ بندش
گزشتہ سالوں تک صرف نو اور دس محرم کو موبائل فون سروس بند ہوا کرتی تھی مگر اس بار پہلے سے غیر اعلانیہ 8 محرم کو بھی سروس معطل رکھی گئی۔ بندش کے سبب ایک جانب عوام پریشانی و اذیت میں مبتلا رہی تو دوسری جانب یقیناً معیشت کو بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا۔
فون سروس کی معطلی ، مسئلے کا واحد حل؟
ملک بھر کی عوام کو جب بھی اپنے خیالات حکام بالا تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے یا وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے دل کی بات کہتی ہے تو یہ شکوہ ضرور کرتی ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کا کیا صرف یہی ایک حل ہے؟ اتنے سالوں سے بار بار بندش آڑے جاتی ہے اور اس کا اب تک کوئی متبادل نظام تلاش نہیں کیا گیا، حالانکہ جدید دنیا اس مسئلے کے حل سے خالی نہیں۔
موبائل فون ۔۔ ترقی میں پیش پیش
اعداد و شمار گواہ ہیں کہ جس صنعت نے حالیہ سالوں میں سب سے زیادہ معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے ان میں ٹیلی کمیونی کیشن یا موبائل فون کی صنعت سرفہرست ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں موبائل فون صارفین کی تعداد 14 کروڑ سے زائد ہو گئی ہے۔ پی ٹی اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت 5 سب میرین کیبلز کام کر رہی ہیں اور سالانہ 74 ہزار ٹیرا بائٹ ڈیٹا استعمال ہو رہا ہے اور ملک کے 72 فیصد سے زائد حصے میں ٹیلی کام سروسز دستیاب ہیں۔
ادارہ شماریات اسلام آباد کے مطابق یہاں موبائل فون کی درآمدات میں صرف 2 ماہ یعنی جولائی اور اگست 2017ء میں 30 اعشاریہ 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دو ماہ کا حال یہ ہے تو باقی سال کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ حکومت کو سیکورٹی کے سبب موبائل فون سروس بند کرنے کے بجائے فوری طور پر اس کا متبادل تلاش کرنا ہو گا ورنہ معیشت کو اسی طرح بار بار بریک لگتے رہیں گے جس کا پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک قطعی متحمل نہیں ہو سکتا۔ معاشی ماہرین کی رائے ہے کہ معیشت کو اس قدر پرکشش ترقی دلانے کے باوجود اگر فون کی ’بے چارگی‘ ختم نہ ہوئی تو معیشت کو پہنچنے والا اس سے بڑا دھچکا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔
برطانوی دماغی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون اور دیگر دستی آلات پر بڑھتا ہوا انحصار ہماری یادداشت، معلومات جمع کرنے اور مسائل حل کرنے کے لیے سوچ بچار کی صلاحیت شدید متاثر کر رہا ہے۔ اسی لیے ممتاز دماغی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون کا بے تحاشا استعمال اور اس پر انحصار ہمیں غبی اور کند ذہن بنا رہا ہے۔ دماغی ماہر ڈاکٹر سوسن گرین فیلڈ نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال آج کی نسل کو شدید متاثر کر رہا ہے اور ان میں معلومات جمع کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور محنت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں واقع لنکن کالج سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ اب نام یاد رکھنا اور سالگرہیں ازبر کرنا صرف ایک کلک کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ دماغ مسلسل مشق سے سیکھتا ہے اور اس میں حقائق جمع کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو یہ دماغی صلاحیت بتدریج کمزور ہوتی جاتی ہے۔ دوسری جانب سوسن گرین فیلڈ نے خبردار کیا ہے کہ نوجوان نسل اصل دنیا میں سیکھنے، کھیلنے اور معاشرے کا حصہ بننے کی بجائے اسکرین میں قید ہو کر رہ گئی ہے۔ گویا ہم نے سوچنے سمجھنے کا کام مشینوں اور اسمارٹ فونز کے سپرد کر دیا ہے۔ اس طرح دھیرےدھیرے زندگی کے پیچیدہ مسائل پر ہماری گرفت کمزور ہوتی جائے گی اور ہماری نسل تیزی سےاس جانب بڑھ رہی ہے۔
ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ آخری بار آپ نے اپنے فون کو کب صاف کیا تھا؟
اکثر افراد کا جواب یہی ہوگا کہ یاد نہیں۔ اگر آپ کا جواب بھی یہی ہے تو بہت زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ آپ کے اسمارٹ فون کی اسکرین پر کسی ٹوائلٹ سے بھی زیادہ جراثیم ہو سکتے ہیں۔ جی ہاں ہو سکتا ہے کہ آپ کو یقین نہ آئے مگر موبائل فون ایسی ڈیوائس ہے جو گھر میں سب سے زیادہ جراثیم سے آلودہ ہوتی ہے اور یہ آپ کو فوڈ پوائزننگ یا ہاضمے کی خرابی کے ساتھ ساتھ دمے اور دیگر بیماریوں کا شکار کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
امریکا کی کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوگ خاص طور پر خواتین برتن صاف کرنے والے کپڑوں کو سب سے زیادہ چھوتی ہیں اور مضر صحت جراثیم کو یہاں وہاں پھیلا دیتی ہیں۔ عام طور پر ایک فرد دن بھر میں اپنے اسمارٹ فون کی اسکرین کو سیکڑوں بار چھوتا ہے اور ہر جگہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچن اسفنج جیسی جراثیموں سے بھرپور شے کو چھونے کے بعد بھی فون کو استعمال کرتا ہے۔ ہر بار ایسا کرنے پر ہاتھوں سے ایسے وائرس اور بیکٹریا فون پر منتقل ہو رہے ہوتے ہیں جو کہ سانس کی نالی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بہتر ہوگا کہ فون کو روزانہ دن کے اختتام پر صاف کر لیا جائے۔ ویسے تو ٹچ اسکرین پر کلینرز کے استعمال کی اجازت اکثر فون کمپنیاں نہیں دیتیں مگر ایسے مائیکرو فائبر کپڑے دستیاب ہیں جو بیکٹریا کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ ماہرین کے مطابق کبھی کبھار اینٹی بیکٹریل سے اس کی صفائی بھی فائدہ مند ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر آپ اپنا فون صاف نہیں کرتے تو ایسا ضرور کریں۔