اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش میں تیس دسمبر کو ہوئے قومی انتخابات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس الیکشن کے نتیجے میں عوامی لیگ کی شیخ حسینہ کو مسلسل تیسری بار وزیر اعظم بننے کا موقع مل گیا تھا۔ بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ نے جنوبی ایشیا کی اس ریاست میں گزشتہ ماہ کے اواخر میں مکمل کیے گئے انتخابی عمل کی غیر جانبدارانہ چھان بین کا مطالبہ ملکی اپوزیشن اتحاد کے ان الزامات کی روشنی میں کیا ہے کہ اس الیکشن میں دانستہ تشدد کیا گیا تھا اور کئی انتخابی حلقوں میں وسیع تر دھاندلی بھی کی گئی تھی۔
ان انتخابات کے نتیجے میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ اور اس کی حامی سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے پارلیمان کی 90 فیصد سے زائد سیٹیں جیت لی تھیں۔ ملکی اپوزیشن اتحاد کا الزام ہے کہ یہ کامیابی انتخابی دھاندلی، بے قاعدگیوں اور اس تشدد کے نتیجے میں حاصل کی گئی تھی، جس نے کم از کم بھی 19 افراد کی جان لے لی تھی۔ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یا بی این پی ان انتخابی نتائج کو سرے سے مسترد کر چکی ہے جبکہ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کا دعویٰ ہے کہ اس الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں کی گئی تھی اور انتخابی عمل ’شفاف اور پرامن‘ تھا۔
اس تناظر میں اقوام متحدہ کی طرف سے اب کہا گیا ہے، ’’ہم حکام سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل کے دوران دھاندلی، تشدد کے واقعات اور انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی مکمل طور پر فوری، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، جن کے باعث کئی انسانوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور جن کے ذمے دار افراد کو ان کی سیاسی وابستگیوں سے بالکل قطع نظر قانونی طور پر جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔‘‘ حالیہ ملکی انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی نئی بنگلہ دیشی پارلیمان کا اولین اجلاس ڈھاکا میں ہوا تھا، جس میں شیخ حسینہ سمیت ان کی پارٹی کی قیادت میں قائم سیاسی اتحاد کے تمام نو منتخب ارکان نے حصہ لیا تھا۔ اپوزیشن کے سبھی نو منتخب ارکان، جن کی تعداد صرف سات ہے، اس اولین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے.
بنگلہ دیشی اپوزیشن کا تیس دسمبر کی رائے دہی کے بعد سے اب تک یہی الزام ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی، اور یہی وجہ ہے کہ حکمران سیاسی اتحاد پارلیمان کی 90 فیصد سے زائد نشستیں جیتنے میں کامیاب رہا تھا۔ اپوزیشن مسلسل یہ مطالبہ بھی کر رہی ہے کہ ملک میں نئے سرے سے قطعی آزادانہ انتخابات کرائے جانا چاہییں۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سے بھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ انتخابی عمل کی آزادانہ چھان بین میں بڑھ چڑھ کر اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔ قبل ازیں نیو یارک میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی یہ الزام لگایا تھا کہ بنگلہ دیش میں ’حالیہ عام انتخابات سے پہلے کا ماحول تشدد، اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مخالفین کا سیاسی پیچھا کرنے اور آزادی رائے کے بنیادی حق کو انتہائی محدود کر دینے سے عبارت تھا‘۔
بنگلہ دیش کی پولیس نے شیخ حسینہ واجد کی کامیابی کے بعد ایک صحافی کو انتخابات میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی رپورٹ پر ‘جھوٹی خبر’ دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا اور دوسرے صحافی کی تلاش جاری ہے۔ خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صحافی ہدایت حسین ملاح اخبار ڈھاکا ٹریبیون کے لیے کام کرتا ہے اور انہیں گزشتہ روز ایک رپورٹ پر غلط بیانی کے الزام میں متنازع ڈیجیٹل سیکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقامی پولیس چیف محبوب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہدایت حسین ملاح کو ایک حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کے کاسٹ کیے گئے ووٹوں سے 22 ہزار 419 زائد ووٹ پڑنے کی رپورٹ دینے کے بعد جنوبی کھلنا سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مجموعی ووٹ میں سے 80 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے تھے جبکہ صحافی پر الزام تھا کہ انہوں نے انتخابات کو متنازع بنانے کے لیے غلط خبر دی ہے۔
بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کی جانب سے گزشتہ برس متعارف کیے گئے پریس دشمن قانون کے تحت اگر ہدایت حسین ملاح کو مجرم قرار دیا گیا تو 14 سالہ قید ہوسکتی ہے۔ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ مقامی حکومت نے متنازع قانون کے تحت دو صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا تاہم دوسرے صحافی کو تلاش کیا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم پر حزب اختلاف اور میڈیا پر قدغنیں لگانے کا الزام ہے جہاں انہوں نے اپوزیشن کی بڑی رہنما خالدہ ضیا کو جیل بھیج دیا ہے اور اس کے علاوہ مشہور صحافی ایوارڈ یافتہ فوٹوگرافر شاہد الاسلام کو بھی جیل بھیج دیا تھا۔ واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے 30 دسمبر کو منعقدہ انتخابات میں 98 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جس کو اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کردیا تھا۔ حکومت نے اپوزیشن کے ہزاروں کارکنون کو انتخابی مہم کے دوران ہی گرفتار کیا تھا جبکہ الیکشن کے روز پولنگ اسٹیشنز میں ووٹرز کو خوفزدہ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں ۔ بنگلہ دیش میں الیکشن کے روز جھڑپوں میں 17 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
یورپی یونین اور امریکا کا تحقیقات کا مطالبہ
بنگلہ دیش میں انتخابات میں تنقید اور متنازع رپورٹس پر امریکا اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کو وضاحت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ یورپی یونین نے اپنے بیان میں انتخابات کو داغ دار قرار دیتے ہوئے بنگلہ دیشی حکام پر زور دیا کہ الیکشن کے روز ہونے والے جرائم اور رکاوٹوں کی تفتیش کی جائے۔ امریکا کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا کہ ‘ہراسان کرنے، دھمکانے اور جرائم کی مصدقہ اطلاعات تشویش ناک ہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش کا الیکشن کمیشن‘ تمام جاعتوں کی جانب سے بے قاعدگیوں کے دعووں پر تعمیری کام کرے اور انہیں مطمئن کرے۔ خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے صرف 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ بے قاعدگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے غیر جانب دار قائم مقام حکومت کے ماتحت نئے انتخابات کروائے جائیں ۔ شیخ حسینہ واجد نے انتخابات میں بے قاعدگیوں کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کے امکان کو بھی رد کر دیا۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی جس ابتلا و آزمایش سے گزر رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ عوامی لیگ خود دہشت گردانہ کارروائیاں کر کے، ان جرائم کا الزام جماعت اسلامی پر دھر رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں فی الواقع جماعت اسلامی ہی وہ منظم قوت ہے، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی دھونس اور مداخلت کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت نے بنگالی صحافیوں، سیاست دانوں، قلم کاروں کو خرید رکھا ہے، لیکن وہ جماعت اسلامی کو خریدنے میں ناکام رہا ہے۔ چند روز قبل بنگلا دیش کی عدالت نے امیر جماعت اسلامی سمیت 9 اعلیٰ رہنماوں کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں پولیس نے ایک مکان پر چھاپا مار کر تخریب کاری کی منصوبہ بندی کے الزام میں امیر جماعت اسلامی مقبول احمد سمیت 9 اعلیٰ رہنماؤں کو گرفتار کیا جن میں جماعت کے سیکرٹری جنرل شفیق الرحمان، نائب امیر اور سابق رکن پارلیمنٹ میاں غلام پرور، چٹاگانگ جماعت کے سربراہ شاہ جہاں، مقامی سیکرٹری جنرل نذر الاسلام اور ظفر صدیق شامل ہیں۔
جماعت اسلامی کی قیادت کے خلاف ہندو تہوار درگا پوجا اور عاشورہ کے موقع پر انتشار پھیلانے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے کے الزامات میں دو مقدمات درج کیے گئے۔ پولیس کی درخواست پر عدالت نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو 10 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ جماعت اسلامی نے الزامات کی تردید کر تے ہوئے کہا کہ اس کی قیادت غیر رسمی ملاقات کر رہی تھی کہ پولیس نے اچانک چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کر لیا۔ جماعت کے رہنما مجیب الرحمن نے گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنگی جرائم کے مقدمات میں اعلیٰ رہنماؤں کو پھانسیاں دینے کے بعد اب جماعت کو قیادت سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ حکومت محض اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ہمارے بے گناہ رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے۔
حقیقت میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ رویے پر اندرونی و بیرونی دباؤ کا شکار بنگلہ دیشی حکومت نے ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کے رہنماؤں کو گرفتار کیا ۔ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتیں روہنگیا مسلمانوں کی مدد میں بھی پیش پیش ہیں اور حکومتی رویے پر ڈھاکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ یہ گرفتاریاں ایک ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ بنگلہ دیشی حکومت کے رویے پر اسے شدید تنقید کا سامنا ہے اور بظاہر ڈھاکا حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ ایک مقامی عدالت نے حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کی سربراہ خالدہ ضیاء کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے۔
یہ وارنٹ بم دھماکے سے متعلق ایک کیس میں پیش نہ ہونے پر جاری کئے گئے۔خالدہ ضیاء گزشتہ دو ماہ سے اپنے جلا وطن بیٹے سے ملنے کے لئے لندن میں ہیں اور رواں ماہ کے آخر میں ان کی واپسی متوقع ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ مقبول احمد گزشتہ برس اکتوبر میں امارت پر فائز ہونے کے بعد سے کسی عوامی یا سیاسی تقریب میں منظر عام پر نہیں آئے تھے۔ انہیں سابق امیر مطیع الرحمٰن نظامی کو پھانسی دیے جانے کے بعد امیر منتخب کیا گیا تھا۔ مطیع الرحمٰن نظامی کو 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے کی پاداش میں شہید کر دیا گیا تھا۔ غدار مجیب الرحمن کی بیٹی اسلام و پاکستان سے محبت رکھنے والوں کو چن چن کر سزائیں دلوا رہی ہے۔
بنگلہ دیش میں نظریہ پاکستان ایک بار پھر بیدار ہو رہا ہے اور مضبوط تحریک کھڑی ہو رہی ہے۔ اسی سے خوفزدہ ہو کر بھارتی اشاروں پر پھانسیوں کی سزائیں سنا ئی جا رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں جن قائدین کو پھانسیوں کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں ان کا جرم صرف یہ تھا کہ جب بھارت نے اگر تلہ سازش کے تحت مجیب الرحمن جیسے غداروں کو کھڑا کیا اور مشرقی پاکستان پر باقاعدہ فوج کشی کی تو ان بزرگوں نے دفاع پاکستان کے لئے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کا مقابلہ کیا تھا۔ آج بنگلہ دیش پر اسی مجیب الرحمن کی بیٹی کی حکومت ہے جو اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کا نام لینے والوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے اوربھارت کی ہمنوا بن کر انہیں پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔
پہلے عبدالقادرملا کو پھانسی دی گئی، پھر مولانا غلام اعظم کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جو جیل میں وفات پا گئے۔ پھر مولانا مطیع الرحمن کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔ یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے، حکومت پاکستان کو اس مسئلہ پر ہر فورم پر آواز بلند کرنے کا فریضہ سرانجام دینا چاہیے، وگرنہ اس سے مایوسیاں پھیلیں گی۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی درحقیقت اْس نام نہاد ’امن کی آشا‘ کے سامنے ایک آہنی چٹان ہے، جسے ڈھانے کے لئے برہمنوں ، سیکولرسٹوں اور علاقائی قوم پرستوں کے اتحادِ شرانگیز نے ہمہ پہلو کام کیا ہے۔ بھارتی کانگریس کے لیڈر سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو بے دست وپا کرنے، مولانا مودودی کی کتابوں پر پابندی عائد کرنے اور دو قومی نظریے کی حامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو دیوارسے لگانے کے لئے حسینہ واجد حکومت کی بھرپور سرپرستی کی۔ دوسری جانب خود بھارت میں مسلم نوجوانوں کو جیل خانوں اور عقوبت کدوں میں سالہا سال تک بغیر کسی جواز اور عدالتی کارروائی کے ڈال دینے کا ایک مکروہ دھندا جاری رکھا ہے۔
افسوس کہ پاکستانی اخبارات و ذرائع ابلاغ اس باب میں خاموش ہیں۔ عوامی لیگ، حسینہ واجد اور ان کے ساتھیوں کی حیثیت محض ایک بھارتی گماشتہ ٹولے کی سی ہے، جسے بنگلہ دیش کے مفادات سے زیادہ بھارتی حکومت کی فکرمندی کا احساس دامن گیر ہے، گزشتہ تین برسوں پر پھیلے ہوئے عوامی لیگی انتقام کو پاکستانی سیکولر طبقے 1971ء کے واقعات سے منسوب کرتے ہیں۔ حالانکہ بدنیتی پر مبنی اس یلغار کا تعلق حالیہ بھارتی پالیسی سے ہے۔ وہ پالیسی جس کے تحت بھارت اپنے ہمسایہ ممالک میں نو آبادیاتی فکر اور معاشی و سیاسی بالادستی کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت یہ کام کھل ، کر رہی ہے۔