ورزش کیوں ضروری ہے ؟

دراصل ورزش ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔ اس سے صحت قائم رہتی ہے اور جسم اچھی حالت میں رہتا ہے۔ ورزش سے دوران خون تیز ہو جاتا ہے۔ جو لوگ محنت کا کام کرتے ہیں ان کے لیے ورزش بہت ضروری ہے۔ مختلف قسم کی ورزشیں ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ سب سے آسان چہل قدمی ہے۔ جو ہر آدمی کے لیے ممکن ہے لیکن سیر کے وقت لباس موزوں ہونا چاہیے۔ خصوصاً موسم سرما میں گرم لباس ہونا چاہیے۔ کھلی ہوا میں سیر کرنی چاہیے۔ فاصلہ اور تیزی آدمی کی ضرورت اور رفتار پر منحصر ہوتی ہے۔ عام طور پر 40 تا 50 منٹ کی چہل قدمی کافی ہوتی ہے۔ تیرنا اور گھڑسواری بہترین ورزش ہے۔ ورزش جتنی ہلکی ہو اچھا ہے۔

لیکن پابندی ضروری ہے۔ بیرونی کھیل بہتر ورزش ہیں۔ بڑھاپے میں ہلکی ورزش کرنی چاہیے۔ جسم کی مالش بھی ایک ورزش ہے۔ جہاں انسان کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ورزش ضروری ہے وہاں مقررہ وقت پر سونا بھی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ جو توانائی محنت کے دوران خرچ ہوتی ہے۔ وہ نیند کے دوران پوری ہو جاتی ہے۔ گہری نیند جسم کے قواء کو مکمل آرام پہنچاتی ہے۔ اس طرح وہ زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔ اچھی نیند کے لیے غذا کا ہضم ہو جانا ضروری ہے۔ ورنہ منہضم غذا کا معدہ میں ہونا نیند میں خلل پیدا کر دے گا اور برے خواب نظر آئیں گے۔ بعض لوگ کھانا کھاتے ہی سو جاتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے ایسا کرنے سے پیٹ بڑھ جاتا ہے اور انسان طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مثلاً موٹاپا، ذیابیطس، بدہضمی اور ضعف دماغ وغیرہ، چنانچہ نیند کا وقت مقرر کر لینا چاہیے۔

ویسے نیند کا بہترین وقت رات کا ہے۔ رات میں مکمل اور گہری نیند لی جا سکتی ہے۔ رات میں جلد سونے کی اور صبح جلد اٹھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم دو گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیے۔ شیرخوار بچے نیند کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں۔ جوان بچوں سے کم اور بوڑھے اور بھی کم نیند چاہتے ہیں طبعی طور پر شیر خوار بچوں کو 15 تا 20 گھنٹے سونا چاہیے، بچے 10 تا 12 گھنٹے، جوان 8 گھنٹے اور بوڑھے 6 گھنٹے یا کم۔ کچھ لوگ دیر تک سونے کے عادی ہوتے ہیں اور صبح بھی دیر سے اٹھتے ہیں جو صحت کے اعتبار سے مناسب نہیں۔ نیند میں زیادہ یا کم سونا دونوں ہی صحت کے لیے مضر ہیں۔

احساسِ تنہائی کیا ہے ؟

تنہائی کبھی نعمت ہے تو کبھی مصیبت۔ ادیبوں اور شاعروں نے تنہائی کو غنیمت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ہر وقت انہیں کوئی نہ کوئی خیال گھیرے رہتا ہے، لہٰذا تنہائی کہاں ہے؟ تنہائی کیا ہے ؟ اس بات کا دارومدار انسان کی سوچ پر ہے۔ بعض لوگ تنہائی کے لمحات ڈھونڈنے میں ساری زندگی صرف کرتے ہیں اور کچھ لوگ تنہائی کی ناگن کے ساتھ لڑتے لڑتے زندگی بتاتے ہیں۔ تنہائی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انسان دنیا میں تنہا آتا ہے اور تنہا ہی دنیا سے چلا جاتا ہے۔ مشہور و معروف شاعر حکیم مومن خان مومن نے اپنے ایک لافانی شعر سے خود کو ہی نہیں تنہائی کو بھی لازوال بنا دیا ہے۔ شعر یوں ہے۔

 تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

 جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

 انسان اکیلا ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ احساسِ تنہائی کا شکار ہو۔ احساسِ تنہائی اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک انسان اپنے آپ کو سماجی طور پر ٹھکرایا ہوا اور علیحدہ تصور کرنے لگے، وہ رشتہ داروں ، دوست و احباب کی کمی محسوس کرنے لگے۔ ایسے انسان کے لئے تنہائی کا مطلب ہوتا ہے، میرا کوئی نہیں ہے اور میں کسی کا نہیں ہوں۔ جیسے مرزا غالب فرما گئے ہیں

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

 ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

 بے در و دیوار سا اک گھر بنانا چاہئے

 کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

 پڑئیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار اور

 اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

 تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ تنہائی کا احساس انسان کی صحت کے لئے ضرر رساں ہو سکتا ہے۔

ایک یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو طلبا دوستوں سے ملنے جلنے کی بجائے تن تنہا زندگی گزارنے کے عادی تھے ان کا نظامِ قوتِ مدافعت ان طلبا کے مقابلے میں بے حد ضعیف تھا جو اپنا وقت دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق، کھیل کود اور تفریح میں گزارنے کے عادی تھے۔ اسی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کچھ طالب علم دوستوں کے درمیان رہ کر بھی احساسِ تنہائی کے شکار تھے، ایسے طلبا میں سے بیشتر نیند میں دائمی خلل کے بھی شکار تھے۔ احساسِ تنہائی کے شکار لوگ ہر وقت ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کا فشار خون بڑی تیزی سے بلند یوں کو چھو سکتا ہے اور بعض اوقات دوائیوں کے استعمال سے بھی کم نہیں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ان کے جسم میں کولیسٹرول اور سیٹرس ہارمون کورٹیزول کی مقدار زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ پریشانی، مایوسی اور افسردگی جیسے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مگر محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سماجی علیحدگی اور احساسِ تنہائی میں فرق واضح کرنا لازمی ہے۔ اپنی مرضی سے سماجی علیحدگی اختیار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ فرد احساسِ تنہائی کا شکار ہو۔ سماجی زندگی سے کنارہ کشی کا مطلب یہ نہیں کہ فرد کو احساسِ تنہائی بھی ہو۔ سماجی زندگی سے دوری اختیار کرنا فرد کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے جبکہ احساسِ تنہائی ایک مخصوص ذہنی کیفیت ہے۔ کچھ لوگ ’’لوگوں کے سیلاب‘‘ سے دور اپنی ایک الگ دنیا بسا کر اطمینان کا سانس لیتے ہیں۔

 احساسِ تنہائی میں مبتلا ہونے کا مطلب’’اکیلا‘‘ ہونا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کسی بھیڑ یا جشن میں بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے اور کوئی شخص اکیلا ہونے کے باوجود بھی تنہائی کے احساس کا شکار نہیں ہوتا۔ احساسِ تنہائی ایک ایسی درد بھری ذہنی کیفیت ہے جس میں مبتلا شخص اپنے آپ کو سماجی زنجیرسے ’’کٹا ہوا‘‘ حلقہ محسوس کر کے یہ سوچنے لگتا ہے کہ اس کی بنیادی اور ضروری خواہشات پورا کرنے میں کوئی بھی شخص دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔ اس لئے یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔

جب احساسِ تنہائی کسی بھی شخص کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو

٭وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے ’’محفل‘‘ سے نکالا گیا ہے۔

٭اس کا کوئی چاہنے والا نہیں ہے۔

٭وہ اپنے ماحول میں اپنے آپ کو بیگانہ محسوس کرتا ہے۔

٭ اسے یوں لگتا ہے کہ ایسا کوئی شخص نہیں جس کے ساتھ وہ اپنے تجربات، احساسات اور دکھ درد بانٹ سکے۔

٭اسے دوست بنانے میں دشواری پیش آتی ہے۔ وہ کسی اجنبی کے ساتھ سلام کرنے کی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ اور پھر اِن کے منفی اثرات یوں ظاہر ہوتے ہیں۔

٭احساسِ تنہائی کا شکار فرد احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

٭اسے ہر وقت یہ خیال ستاتا ہے کہ ’’یہاں کسی کو بھی میری ضرورت نہیں ہے‘‘۔

٭ وہ دعوتوں اور محفلوں میں جانے سے گھبراتا ہے۔

٭وہ خود پسندی اور ’’خود آگہی‘‘ کے وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

٭وہ کوشش کے باوجود اپنے جذبات اور احساسات بیان نہیں کر سکتا ہے۔

٭وہ دوسروں سے ہم کلام ہونے سے کتراتا ہے۔

٭وہ اپنے مسائل و مشکلات کسی دوسرے سے بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔

٭وہ ایک مخصوص اور تنگ دائرے میں مقید ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور پھر وہ ’’موجودہ جگہ‘‘ یا ماحول سے راہِ فرار اختیار کرتا ہے۔ مثلاً اگر وہ والدین کے ساتھ رہتا ہو تو اچانک کسی وقت بنا سوچے سمجھے گھر سے بھاگ کرکسی اور جگہ پناہ لیتا ہے، اس وقت وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اسے مستقبل میں کن مشکلات ومسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی لئے گھر سے دور رہ کر ایسے نوجوان ایسی غلطیوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں جن کا خمیازہ انہیں عمر بھر بھگتنا پڑتا ہے۔

نذیر مشتاق

نقطہ نظر پیش کرنے کا درست طریقہ : ڈیل کارنیگی

اگر آپ کو مکمل یقین ہے کہ دوسرا شخص غلط کہہ رہا ہے اور آپ بے دھڑک اسے کہہ دیتے ہیں کہ تم غلط کہہ رہے ہو۔ تو کیا ہوتا ہے میں اسے واضح کرتا ہوں۔ مسٹر سانتے نیو یارک کا ایک نوجوان وکیل ہے۔ ایک بار اس نے امریکی سپریم کورٹ کے سامنے ایک بڑے اہم مقدمے میں دلائل دیئے۔ اس مقدمے کا تعلق بہت زیادہ رقم سے تھا اور اس میں ایک بہت ہی اہم قانونی نکتہ تھا۔ دلائل کے دوران ایک جج نے وکیل سے پوچھا۔ ’’ اس قسم کے قانونی معاملے میں زیادہ سے زیادہ میعاد چھ برس ہوتی ہے نا۔‘‘ مسٹر سانتے ایک دم رک گئے اور انہوں نے ایک لمحے کے لیے جج کی طرف گھور کر دیکھا اور پھر جواب دیا ’’ عزت مآب اس قسم کے قانون میں کوئی میعاد نہیں ہوتی۔‘‘ ’’ عدالت میں ایک سناٹا طاری ہو گیا۔‘‘ سانتے نے بتایا ’’ میں بالکل صحیح کہہ رہا تھا مگر جج غلطی پر تھا اور ایسا میں نے اسے بتا دیا تھا۔

لیکن کیا اس سے جج مطمئن ہو گیا ؟ نہیں۔ میں یہی سمجھتا تھا کہ میری قانونی پوزیشن بہت مضبوط ہے اور میرا خیال تھا کہ میں نے پہلے سے زیادہ اچھے دلائل دیئے ہیں لیکن میں نے ایک مشہور اور قابل جج کو اس کی غلطی کا بتا کر بہت بڑی غلطی کی اور اس طرح میں نے اس کے جذبات اور عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی۔‘‘ ہم میں سے محض چند لوگ منطقی ہوتے ہیں۔ باقی سب میں صرف تعصب بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے اپنے ذہن میں حسد، شک خوف اور جلن کے جذبات لیے ہوئے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ اپنے مذہب اپنے بالوں کے سٹائل یا اپنے پسندیدہ ایکٹر کے بارے میں اپنا ذہن نہیں بدلنا چاہتے۔

اس لیے اگر آپ اس بات پر مائل ہوں کہ آپ لوگوں کو یوں بتائیں کہ وہ غلط ہیں تو ہر صبح ناشتے سے پہلے یہ پیراگراف ضرور پڑھیں۔ یہ جیمز ہاروے رابنسن کی مشہور کتاب The Mind in the Making سے لیا گیا ہے۔ ’’ ہم بعض اوقات کسی قسم کے دباؤ یا بھاری جذبات کے بغیر اپنا ذہن بدل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں بتا دیا جائے کہ آپ غلط ہیں تو یہ بات ہمیں سخت ناگوار گزرتی ہے۔ ایک چھوٹا سا لفظ ’’ میرا یا میری‘‘ انسانی معاملات میں سب سے اہم ہے اور یہیں سے عقل کا ارتقا ہوتا ہے۔ اس میں بھی اتنی ہی طاقت ہوتی ہے جتنی ان الفاظ میں ہوتی ہے۔ جیسے ’’ میرا گھر‘‘ میرا والد، میرا ملک، میری کار اور میرا خدا، ہم ہر وقت اس یقین میں رہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہیں گے اسے سچ مانا جائے گا اور ہم اس وقت سخت ناراض ہو جاتے ہیں جب ہمارے خیالات پر ذرا برابر بھی شک کیا جائے۔ اور ایسی صورتحال میں ہم اپنے خیالات سے ہی چمٹے رہتے ہیں خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نہ صرف دوسروں کو ناراض کرتے ہیں بلکہ اپنے لیے بھی ناخوشگوار حالات کا سامان پیدا کرتے ہیں۔‘‘

مشہور نفسیات دان کارل راجرز نے اپنی مشہور کتاب On Becoming a Person میں لکھا ہے۔ میں اس وقت کو اپنے لیے بہت قیمتی سمجھتا ہوں جب میں کسی دوسرے شخص کا نقطہ نظر سمجھنے کیلئے خود کو تیار کر لوں۔ جن الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے، ہو سکتا ہے وہ آپ کو عجیب سے لگیں۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ آپ دوسروں کا نقطہ نظر سمجھنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ بہت سی باتوں کے بارے میں ہمارا پہلا رد عمل ان کے خیالات کو جانچنا ہونا چاہیے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی خیالی رویے یا جذبات کا اظہار کرتا ہے تو ہم فوراً یہ سوچتے ہیں ’’ یہ غلط ہے‘‘ ’’ یہ صحیح ہے‘‘ یہ بالکل فضول ہے۔

بہت کم ہم اس کے جذبات اور خیالات کو سمجھنے کے لیے خود کو آمادہ کرتے ہیں۔ میں نے ایک بار ایک اندرونی سجاوٹ کے ماہر کو اپنے گھر کے لیے پردے تیار کرنے کا آرڈر دیا۔ جب اس نے مجھے بل بنا کر دیا تو مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ چند روز بعد میرا ایک دوست گھر آیا اور اس نے پردوں کو دیکھا۔ میں نے پردوں کی قیمت بتائی تو فوراً وہ چونک اٹھا ’’ کیا؟‘‘ اس نے کہا میں نے پردوں کی بہت زیادہ قیمت ادا کی ہے۔ ہاں یہ صحیح تھا اور اس نے مجھے صحیح بتایا تھا مگر بہت سے لوگ اپنے فیصلوں کے بارے میں سچائی سننا پسند نہیں کرتے۔ اس لیے ایک انسان کی طرح میں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ میں نے اسے بتایا کہ بہترین چیز خریدنے کے لیے زیادہ قیمت تو ادا کرنی پڑتی ہے۔

اگلے دن ایک اور دوست میرے گھر آیا اس نے پردوں کی تعریف کی اور اس نے کہا کاش مجھے بھی اپنے گھر کے لیے ایسے پردے مل جائیں میرا رد عمل بہت مختلف تھا۔ میں نے کہا کہ میں اتنے مہنگے پردے خرید نہیں سکتا تھا لیکن میں نے ان کے لیے پیسے دیئے ہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔ ’’ جب ہماری غلطی ہو تو ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی غلطی کو اندر ہی اندر تسلیم کر رہے ہوتے ہیں اور اگر ہمیں بڑی ملائمت کے ساتھ ہماری غلطی کا احساس دلایا جائے تو ہم اپنی غلطی کو اعلانیہ طور پر تسلیم بھی کر سکتے ہیں مگر اگر کوئی بحث کے ذریعے دلائل کے زور سے ہمیں غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے تو ہم تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔‘‘

امریکی سول وار کے دوران گریلے امریکہ کا سب سے مشہور ایڈیٹر تھا وہ ابراہام لنکن کی پالیسیوں کی بڑی شد و مد کے ساتھ مخالفت کرتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ اس قسم کے طور طریقوں سے لنکن کو اپنا ہمنوا بنا سکتا ہے۔ وہ ہر مہینے اورہر سال بعد لنکن پر سخت ترین الفاظ کے ساتھ تنقید کرتا دراصل اس نے لنکن کی موت سے ایک دن پہلے اس پر سخت ترین الفاظ میں طنز اور ذاتی حملے کئے تھے۔ لیکن کیا ان تمام حرکتوں سے اس نے ابراہام لنکن کو اپنا ہمنوا بنا لیا؟ ہرگز نہیں۔

ڈیل کارنیگی

خوش رہنا ہے؟ تو انداز فکر تبدیل کر لیجیے

کام یاب زندگی کو ہم خوشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ زندگی میں خوشی کااحساس سکون اور طمانیت عطا کرتا ہے اور یہی کام یاب زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں لیکن فی زمانہ ہر شخص خوشی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ خصوصاً خواتین بیشتر وقت پریشان رہتی ہیں۔ مختلف باتوں کی وجہ سے ہمہ وقت تفکرات میں گھری رہتی ہیں حالاںکہ خدا نے بے شمار نعمتیں اور رشتے عطا کیے ہوتے ہیں۔ مثلاً پیارکرنے والا شوہر، ہمدرد بہنیں اور سہیلیاں مگر پریشانیوں میں گھر کر وہ ایسے تمام پیارے رشتے اور بہت کچھ نظر انداز کر دیتی ہیں جب کہ زندگی میں یہ سمجھنا از حد ضروری ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں کا محور ایک ہی شخص یا ایک ہی چیز کو نہیں بنا لینا چاہیے۔ خوشیوں کے رنگ تو ہر سو بکھرے ہوتے ہیں۔ کبھی بھی اپنی خوشیوں کو کسی بھی ایک معاملے، ایک رشتے، اور فرد واحد تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

مثال کے طور پر ایک خاتون جس کا شوہر بہت اچھا ہے ان کے تعلقات نہایت اچھے ہیں، گھریلو زندگی بہت خوش گوار ہے، بہت اچھی سہیلیاں ہیں، پیارے پیارے سے بچے ہیں لیکن اگر وہ دفتر میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں یا ان کی ترقی نہیں ہو رہی تو وہ خوش نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مثبت انداز فکر سے سوچا جائے تو زندگی میں بے شمار رشتے اور دیگر معاملات بھی خوشیوں کا باعث ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر والدین، پیار کرنے والے اہل خانہ، ہنس مُکھ سا بھائی، اورپیار کرنے والی بھابھی، لیکن اگر ساس کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہوں تو وہ خاتون خوش نہیں رہتیں کیوں کہ ہم اپنے پاس موجود بے شمار نعمتوں اور پیارے پیارے رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی اپنی خوشیوں کا محور اس ایک شخص یا ایک معاملے کو بنا لیتے ہیں، حالاںکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

ہر شخص کی زندگی میں ایسے بہت سے معاملات اور بہت سی باتیں اور بہت سے رشتے ہوتے ہیں جن کے متعلق سوچیں تو یاسیت، افسردگی اور بے چینی کا شکار ہو جائیں۔ شاید اپنی زندگی کے متعلق منفی انداز سے سوچنے لگیں لیکن زندگی میں کام یاب اور خوش وہی لوگ رہتے ہیں جو یہ سیکھ لیتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ان چیزوں کو اپنا محور بنائیں ان کے متعلق سوچیں جو ہمیں بے حد پیاری ہوں، جو رشتے دل کے قریب ہوں۔ مثلاً بچے، اپنی پیاری اولاد، وہ بہترین سہیلی جو ہر سکھ دکھ میں ساتھ ہے۔ چاہے کیسے ہی حالات کیوں نا ہوں لیکن وہ ہمیشہ ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ شوہر جو ہر معاملے میں ساتھ دیتے ہیں۔ زندگی میں آنے والے سرد و گرم میں ہمہ وقت ساتھ ہیں۔

اکثر گھروں میں چھوٹے موٹے جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر کوئی فریق انتہائی قدم اٹھانے کے متعلق سوچنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر ساسوں کو بہووں سے بے انتہا شکایات ہوتی ہیں۔ دوسروں سے گفت گو کے دوران بھی ان کا یہ انداز ہوتا ہے کہ میں بہت پریشان ہوں، میری اور میری بہو کی بالکل نہیں بنتی اور شاید میں کسی دن خودکشی کرلوںگی۔ کتنی عجیب بات ہے کیوںکہ بہو تو صرف آپ کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ آپ کی زندگی صرف اس حصے تک محدود نہیں ہے۔ اس خول سے باہر نکل کر دیکھیں کتنا کچھ ہے صرف انداز فکر تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہم عموماً روزانہ گھر کے آنگن میں، بالکونی میں یا لان میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، کبھی محسوس کیا کہ خوب صورت پرندے اڑ رہے ہوتے ہیں، سامنے پارک میں لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں، واک کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کتنا خوب صورت منظر ہوتا ہے۔ باہر قدرت کے حسین نظارے ہمارے لیے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہی نہیں، ہم محسوس ہی نہیں کرتے کیوںکہ ہم اپنی سوچ کا محور صرف منفی چیزوں یا منفی باتوں کو بنا لیتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنی سوچ کا انداز تبدیل کر لیں تو زندگی خود بخود خوب صورت ہوتی چلی جائے گی۔ اپنی زندگی میں مثبت سوچ کے ساتھ ایک نیا قدم اٹھائیں۔ مثبت سوچ کے ساتھ جینے کا عزم کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونا یا ناخوش ہونا چھوڑ دیں۔ اگر شادی نہیں ہوئی، ہمسفر نہیں ملا تو یہ سوچیں کہ کنوارا رہنے کے کیا فائدے ہیں۔ ہر ذمے داری سے آزادی، اماں ابا سے لاڈ اٹھوانے کا بھی ایک اپنا ہی مزہ ہے۔

اگر ذاتی گھر نہیں ہے تو کرائے کے مکان میں کیا کیا فائدے ہیں۔ اگر شوہر سے ناخوش ہیں تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں، خوش رہیں اور دیگر بہت سارے پیارے رشتے جو ارد گرد موجود ہیں ان کے متعلق سوچیں۔ صرف آنکھیں کھولنے، سوچ کے در وا کرنے، پریشان کُن صورت حال سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم کسی مسئلے سے اپنی توجہ ہٹا لیتے ہیں وہ مسئلہ خود بخود صحیح ہو جاتا ہے۔ رشتے خود بخود اپنی جگہ بنانے لگتے ہیں۔ معاملات ٹھیک ہونے لگتے ہیں۔ بہت زیادہ سوچنا اور متفکر ہونا چھوڑ دیں تو معاملات از خود بہتر ہونے لگیں گے۔ اس طرح اپنی زندگی کو ہر قدم پر تبدیل کریں۔ مثبت طرز فکر کے ساتھ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے دامن کو بھرنے کی کوشش کریں۔ زندگی میں خوشیوں کے رنگ بکھر جائیں گے۔

منیرہ عادل