ملازمت کے لیے انٹرویو کی تیاری کیسے کریں ؟

آپ کیا بننا چاہتے ہیں، یہ متعین کرنا بہت اہم ہے۔ آپ کی ملازمت وہ ہے جو آپ کے اپنے تصورات سے بہتر طور پر ملتی ہے۔ یہ شے صلے اور تسکین دونوں صورتوں میں آپ کو وہاں لے جائے گی جو آپ کی منزل ہے۔ بہتر معاش کے انتخاب کے لیے آپ کو اپنے متعلق جاننے کی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اپنا ذہن تیار کریں اور پھر یکسو ہو کر فیصلہ کریں کہ آپ کو کس قسم کی ملازمت کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔

مناسب رویہ: دوران انٹرویو امیدوار بہتر رویہ اپنائے کیونکہ نامناسب رویہ امیدوار کو بہت مہنگا پڑے گا اور وہ اس کا مستقبل تباہ کر سکتا ہے۔ جذباتی رویہ ناپختگی کی علامت ہے جو دوران انٹرویو قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ رویہ امیدوار کی شخصیت کے مشاہدہ کے لیے استعمال کرنے والے طریقوں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔

مزاج اور طبیعت: انٹرویو کے دوران میں جارح مزاج رکھنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے آپے سے باہر نہ ہوں اور ہر سوال کا جواب ٹھنڈے دماغ سے دیں۔ اگر آپ کو سوالوں کے درست جوابات نہ آتے ہوں تو تحمل سے جواب دے کر آگے بڑھے چلے جائیں۔

سماعت: بہت سے لوگوں کی قوت سماعت کمزور ہوتی ہے اگر امیدوار آواز نہیں سن سکتا تو اسے فوراً اپنی سمعی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تا کہ دوران انٹرویو اسے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

غصہ: غصہ ایسی خطرناک شے ہے جو دشمنی، جارحیت اورتباہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لیے پیچیدہ سوالات کے جوابات دیتے وقت امیدوار کو اپنا غصہ ظاہر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کے مستقبل پر اثر انداز ہو گا۔ اگر آپ غصہ کرنے میں حق بجانب ہیں تو پھر بھی غصے کا اظہار نہ کریں۔

آداب و عادات: اچھے آداب و عادات کا اظہار امیدوار کی شخصیت کو دلکش اور خوبصورت بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لہٰذا اچھے اخلاق کے لیے امیدوار کی شخصیت میں دونوں پہلوئوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر امیدوار دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ اپنانے اور بات کرنے کے سلیقے اور مجلس میں بیٹھنے جیسے آداب سے بخوبی آگاہ ہو تو وہ انٹرویو لینے والے کی نظر میں کامیاب امیدوار ہو گا۔

اعتماد: اعتماد انسانی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ہے جو ہر انسان کو ہر مشکل سے نمٹنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اعتماد ہی دماغ کی دلیری کا یقین دلاتا ہے لہٰذا انٹرویو کے دوران ہر سوال کا جواب اعتماد اور یقین کے ساتھ ہی دیجیے۔

احساسِ مقابلہ: احساسِ مقابلہ زیادہ محنت کرنے اور زندگی میں بہتری کے آثار پیدا کرنے کے علاوہ فرد کو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کرنے کی تحریک دیتا ہے جو بالآخر اور خوشی مہیا کرتا ہے لہٰذا یہ ہر امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ کبھی کبھار مقابلوں کے مواقع میں حصہ لیتا رہے تا کہ وہ خوشی اور کامیابی کے احساسات سے روشناس ہو کر اس لذت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

لاعلمی: لاعلمی کا مطلب اپنی مرضی سے کسی چیز کو نظر انداز کرنا ہے۔ ویسے بھی لاعلمی ہماری روز مرہ زندگی میں مشترکہ عمل بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ ہر روز لمحہ لمحہ چھوٹی چیزوں کو نظر انداز کرکے لاعلمی کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا ضرور ی ہے کہ امیدوار اپنے گرد و پیش میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو ذہن میں رکھے اور ایسا راستہ اختیار کرے کہ جو اسے لاعلمی سے باہر نکال دے تاکہ امیدوار لاعلمی کا شکار نہ ہو۔

کامیابی کے راستے

وقت کو ترتیب دینے کے بارے میں پہلا جھوٹ یا غیر مثبت یقین یہ ہے کہ آپ بہت زیادہ منظم، سرد مزاج، رکھ رکھاؤ رکھنے والے اور غیر جذباتی ہیں۔ ترقی کے راستے کی یہ پہلی رکاوٹ ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وقت کو ترتیب دینے سے وہ اپنی آزادی اور بے ساختگی کو کھو دیں گے اور زمانے کے ساتھ نہیں چل پائیں گے۔ اورکچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اس طرح بہت سخت اور غیر لچک دار ہو جائیں گے۔ یہ اعتراضات کسی لحاظ سے سچ ثابت نہیں ہوتے۔ کئی لوگوں محض اپنے اس جھوٹ کو چھپانے کے لیے یہ سب کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو ان اصولوں کا پابند نہیں کر پاتے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسے غیر منظم لوگ آزاد نہیں ہیں۔ کیونکہ جو لوگ اپنے خیالات اور افعال پر اختیار نہیں رکھ سکتے وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتے۔ بے عمل اور خود پر اختیار نہ ہونے کے باعث وہ ایسی جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت کو ترتیب دینے والا شخص زیادہ منظم ہوتا ہے اور اسے زندگی میں زیادہ مواقع، آزادی، آرام و سکون اور سچی خوشی ملتی ہے اور وہ خود پر زیادہ اختیار رکھتا ہے۔ خود کو منظم کرنے کی ابتداء آپ آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر، حالات و واقعات کے نتائج کے بارے میں منصوبہ بندی کر کے اور خود کو مکمل طور پر تیار کر کے کر سکتے ہیں۔ جب آپ اپنے حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیں تو آپ مکمل طور پر آزاد ہو جاتے ہیں۔

دوسری رکاوٹ : وقت کو ترتیب دینے کے بارے میں دوسری رکاوٹ ذہن کی منفی پروگرامنگ ہے جو آپ کو اپنے والدین اور بااثر لوگوں کی صحبت میں ملتی ہے۔ اگر آپ کے والدین یا دوسرے لوگ آپ کو کہیں کہ آپ بہت زیادہ سست، دیر کرنے والے یا جو کام شروع کیا اُسے دیر سے ختم کرنے والے ہیں تو ممکن ہے کہ آپ بڑے ہو کر بھی ایسے ہی ہوں کیونکہ آپ کا لاشعور ان ابتدائی احکامات کی اتباع کرے گا۔ ایسے رویے کے حامل بہت سے لوگ معذرت خواہانہ انداز میں کہتے ہیں ’ میں ایسا ہی ہوں ‘، ’ میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے‘۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی سست اور غیر منظم یا بااختیار اور قابل پیدا نہیں ہوتا۔ وقت کو ترتیب دینے اور ذاتی قابلیت حاصل کرنے کا ہنر کچھ اصولوں پر بار بار عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر ہم میں بُرا سیکھنے کی عادات موجود ہیں تو ہم انہیں اچھا سیکھنے کی عادات میں بدل سکتے ہیں۔

تیسری رکاوٹ ، اپنی ذات پر اعتماد کا فقدان: وقت کو ترتیب دینے کے بارے میں تیسری بڑی ذہنی رکاوٹ اپنی ذات پر اعتماد کا فقدان ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ ان میں وقت کو ترتیب دینے کی صلاحیت کا فقدان ہے اور اکثر لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ یہ ایسی کمی ہے جو ان کو وراثت میں ملی ہے۔ لیکن وقت کو ناقص ترتیب دینے یا بہتر انداز میں ترتیب دینے کے کوئی بھی جین اور کروموسوم نہیں ہیں۔ کسی بھی شخص میں خود کو منظم کرنے کی وراثتی کمی نہیں ہوتی۔ یہاں ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ آپ کا ارادہ، آپ کی تحریک کا پیمانہ اور خواہش وہ عنصر ہیں جو آپ سے دنیا کا کوئی بھی کام کروا سکتے ہیں۔

تصور کریں کوئی شخص آپ کو اگلے تیس دن میں انتہائی بہتر ترتیب دینے پر آپ کو دس لاکھ روپے دے گا۔ تصور کریں آپ کی نگرانی کے لیے ہر جگہ کیمرے لگا دیئے گئے ہیں۔ یقینا ان تیس دنوں میں آپ اپنے وقت اور صلاحیتوں کو بھر پور انداز میں استعمال کریں گے اور آپ کی دن بھر کی ترجیحات اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر بہتر نتائج دینا ہے۔ ہر روز آپ کو احساس ہو گا کہ آپ کی بہتر اندازمیں استعمال کی گئی صلاحیتیں آپ کو دس لاکھ روپے کا حقدار ٹھہرا  دیں گی۔ آپ ان تیس دنوں میں کتنے متحرک ہوں گے اور کس بہتر انداز سے اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ دس لاکھ روپے حاصل کر نے کی خاطر دنیا کے متحرک ترین انسان بن جائیں اور اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر انعام جیت جائیں گے۔ آپ کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ ایک مہینے کی جہد مسلسل، آپ کی وقت کو ترتیب دینے کی صلاحیتیں اور دوسری کئی صلاحیتیں آپ کی ذات کا حصہ بن جائیں گی اور آپ ساری زندگی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اس میں بہتری لاتے جائیں گے۔