How to earn money online without investment

سترہ سالہ اکبر کے والد اچانک فوت ہوئے،تو گھر چلانے کی ذمے داری اس کے کاندھوں پر آپڑی۔ اکبر ابھی ایف ایس سی کر رہا تھا۔اس کی خواہش تھی کہ وہ ایسا کام کرے، جس سے نہ صرف آمدن ہو بلکہ وقت ملنے پر وہ تعلیم بھی جاری رکھے۔ بدقسمتی سے اسے کوئی راہنمائی دینے والا نہ مل سکا۔ لہٰذا اس نے تعلیم چھوڑی اور ایک کمپنی میں بحیثیت سیلز مین کام کرنے لگا۔اکبر ہی نہیں کئی پاکستانی نوجوانوں کے ساتھ یہ المناک ماجرا پیش آتا ہے کہ مناسب راہنمائی نہ ملنے پر وہ اپنی زندگی کی راہ متعین نہیں کر پاتے۔ ذیل میں ایسے کاروبار پیش ہیں، جنھیں جز وقتی یا کل وقتی طور پر اپنانا ممکن ہے۔ یوں تھوڑے بہت تجربے سے بھی آمدن کا نیا ذریعہ کھل جاتا ہے۔ ٭آن لائن اور کمپیوٹر کاروبار: 1۔ آن لائن ٹیوشن… اگر آپ کسی مضمون کے ماہر ہیں تو طلبہ و طالبات کو آن لائن تعلیم دیجیے اور مقررہ فیس وصول کیجیے۔ 2۔ای بے (bay – E) پہ خریدوفروخت کیجیے… نیٹ پر ای بے اشیا خرید و فروخت کرنے کی سب سے بڑی سائٹ ہے۔ وہاں آپ مختلف اشیا خریدنے بیچنے کا بزنس شروع کر سکتے ہیں۔ 3۔ای بکس لکھیے… اگر آپ اچھے لکھاری ہیں تو ای بکس لکھ کر انھیں آن لائن فروخت کریں۔ 4۔ڈومین تاجر بنیے… سوچ بچار کے بعد ایسے ناموں والے ڈومین خریدئیے ،جنھیں آپ بعدازاں اچھی قیمت میں بیچ سکیں۔ 5۔مارکیٹنگ کیجیے… آپ آن لائن افراد یا کمپنیوں کی مصنوعات فروخت کیجیے اور کمیشن پائیے۔ 6۔بلاگر بنیے… اگر آپ اچھا لکھ سکتے ہیں تو بلاگر بن جائیے۔ کئی ویب سائٹس آپ کی تخلیقات خرید سکتی ہیں۔ 7۔آ ن لائن مارکیٹنگ… اگر آپ یہ تجربہ رکھتے ہیں کہ آن لائن مارکیٹنگ کیونکر کی جاتی ہے، تو کمپنیوں کی اشیا کمیشن پر فروخت کیجیے۔ 8۔ورچوئل اسسٹنٹ بنیے… کئی آن لائن کمپنیوں کو ایسے افراد درکار ہوتے ہیں، جو گاہکوں کو ڈیل کر سکیں۔ لہٰذا انھیں بعوض تنخواہ اپنی خدمات پیش کریں۔ 9۔کاروباری ویب سائٹ بنائیے… اس ویب سائٹ پر افراد یا کمپنیوں کی اشیا فروخت کیجیے اور کمیشن پائیے۔ 10۔ڈیٹا انٹری کیجیے… کمپنیوں کا ڈیٹا انٹر کیجیے اور اپنی خدمات کا معاوضہ لیجیے۔ 11۔ای بک شاپ… اپنی ویب سائٹ کھولیے اور اس پر دنیا بھر کے ناشران کی کتابیں کمیشن پر فروخت کیجیے۔ 12۔ ویب ڈویلپر بنیے… کمپنیوں کو ویب سائٹ بنانے میں مدد دیجیے۔ ٭مشاورتی (Consulting) کاروبار: 13۔سیلز کسنلٹنٹ بنیے… اگر آپ کو سیلز کا تجربہ ہے تو کمپنیوں کو بعوض مشاہرہ اپنی تجاویز دیجیے تاکہ وہ اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھا سکیں۔ 14۔ایچ آر مشیر بنیے… اگر آپ ایچ آر کے ماہر ہیں تو انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) کے سلسلے میں کمپنیوں کو مشورے دیجیے۔ 15۔ٹیکنالوجی مشیر… ٹیکنالوجی کے ماہرین تو اس شعبے میں کمپنیوں کو اپنی خدمات بامعاوضہ فراہم کیجیے۔ 16۔سٹارپ اپ… آپ اس ہنر سے واقف ہیں کہ کوئی نیا کاروبار کیونکر شروع کیا جائے،تو اس ضمن میں لوگوں کو مشورے دیجیے۔ 17۔ماہر حکمت عملی… اگر آپ حکمت عملی (Strategies) بنانے کے ماہر ہیں،تو کمپنیوں کو مدد دیجیے تاکہ وہ اپنا کام بہترکر سکیں۔ 18۔پروجیکٹ مینجمنٹ… کسی بھی منصوبے کا انتظام و انصرام بھی (سپیشلائزیشن) کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا آپ اس ہنر میں ماہر ہیں، تو اسے کام میں لاتے ہوئے اپنی آمدن بڑھائیے۔ ٭کم لاگت والے کاروبار: 19۔ استعمال شدہ اشیا… متوسط اور نچلے طبقوں میں استعمال شدہ اشیا کی بہت کھپت ہے اور یہ کاروبار کم روپوں سے شروع کرنا ممکن ہے۔ 20۔پیشہ ور آرگنائزر… دوسروں کی تقریبات حتیٰ کہ کاروبار منظم یعنی آرگنائز کیجیے۔ 21۔فنڈ ریزر… بعض مرد و زن فنڈز جمع کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ مختلف منصوبوں اور فلاحی سرگرمیوں کے سلسلے میں فنڈز جمع کرنے کا کام کر سکتے ہیں۔ 22۔ باورچی بنیے… لیکن وہ والا نہیں جو ہوٹلوں میں کھانے پکاتا ہے بلکہ گھر میں کھانے پکا کر کمپنیوں یا افراد کو فراہم کیجیے۔ 23۔چلتا پھرتا مکینک بنیے… اگر آپ کاریں یا موٹر سائیکلیں ٹھیک کر سکتے ہیں تو موٹر سائیکل پکڑئیے اور گلیوں سڑکوں میں گھومے پھرئیے۔ اچھا خاصا کام مل جائے گا۔ 24۔موبائل دکان دار… آج کل وقت کی کمی کے باعث خریداری کرنا کٹھن مرحلہ بن چکا ہے چناںچہ آپ یہ کاروبار شروع کر سکتے ہیں کہ گھروں سے آرڈر لیجیے اور مقررہ فیس لے کر انھیں مطلوبہ سامان فراہم کر دیں۔ 25۔ایک ڈالر (100روپے) دکان… ایسی دکان کھولیے جس میں بیشتر اشیا 100روپے سے کم قیمت رکھیں۔ 26۔محقق بنیے… کئی کمپنیاں کوئی نیا منصوبہ شروع کرنے سے قبل تحقیق کرتی ہیں۔ اگر آپ تحقیق کا تجربہ رکھتے ہیں تو یہ ہنر آپ کے کام آئے گا۔ ٭…٭…٭

How to earn money online without investment

 

Enhanced by Zemanta

اب عمر کی نقدی ختم ہوئی

اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساھو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال مہینے دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاں اپنی جان کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساھو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب نام ادھار کا آیا ہے
کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں بھی نپٹانے ہیں
جنھیں جاننے والے جانیں ہیں
کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے دھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں سود بیاج بھی دے لیں گے
ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون تمہارا نام ہے کیا
کچھ ہم سے تم کو کام ہے کیا
کیوں اس مجمعے میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو کچھ لائی ہو
یا کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لئے
سب عمر کی نقدی ختم کئے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیا سنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں کچھ رات گریں
یہ اپنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانیں ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب نے ہم کو بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں ہم
تم سے نہ ملاقات کریں
کیا بانجھ برس کیا اپنی عمر کے پانچ برس
تم جان کی تھیلی لائی ہو کیا پاگل ہو
جب عمر کا آخر آتا ہے ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی نرالی ہے ، ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا ہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا
کیا سود بیاج کا لالچ ہے کسی اور اخراج کا لالچ ہے
تم سوہنی ہو من موہنی ہو تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس یہ چار برس چِھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے تھے جتنے ساھو کار گئے
بس یہ اک ناری بیٹھی ہے یہ کون ہے کیا ہے کیسی ہے
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں گستاخ انکھیاں کتھے جا لڑیاں
ہم قرض تمہارا لوٹا دیں گے کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعتِ ماہ و سال نہیں وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
جو اپنے جی میں اتار لیا لو ہم نے تم سے ادھار لیا 

Enhanced by Zemanta

پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں

“پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں”

میں نے اب تک تمھارے قصیدے لکھے
اورآج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
اپنے شعروں کی حرمت سے ہوں منفعل
اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں
اپنےدل گیر پیاروں سےشرمندہ ہوں
جب کبھی مری دل ذرہ خاک پر
سایہ غیر یا دست دشمن پڑا
جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے
سرحدوں پر میری جب کبھی رن پڑا
میراخون جگر تھا کہ حرف ہنر
نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا
آنسوؤں سے تمھیں الوداعیں کہیں
رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمھیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار نے بھی نہ جی سے اتارا تمھیں
تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی
ہم نے پھر بھی کیا ہےگوارا تمھیں
سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے
اس کا انجام جو کچھ ہوا سو ہوا
شب گئی خواب تم سے پریشاں گئے
کس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے
طوق در گردن و پابجولاں گئے
جیسے برطانوی راج میں گورکھے
وحشتوں کے چلن عام ان کے بھی تھے
جیسے سفاک گورے تھے ویت نام میں
حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے
تم بھی آج ان سے کچھ مختلف تو نہیں
رائفلیں وردیاں نام ان کے بھی تھے
پھر بھی میں نے تمھیں بے خطا ہی کہا
خلقت شہر کی دل دہی کےلیئے
گو میرے شعر زخموں کے مرہم نہ تھے
پھر بھی ایک سعی چارہ گری کیلئے
اپنے بے آس لوگوں کے جی کیلئے
یاد ہوں گے تمھیں پھر وہ ایام بھی
تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے
ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے
اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے
اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر
تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے
جنکے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا
ظلم کی سب حدیں پاٹنے آگئے
مرگ بنگال کے بعد بولان میں
شہریوں کے گلے کاٹنے آگئے
ٓاج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے
کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو
کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں
تم ملامت بنو گے شب تار کی
کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے
آج بھی پاسداری ہے دربار کی
ایک آمر کی دستار کے واسطے
سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی
تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں
کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں
آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
خون اترا تمھاراتو ثابت ہوا
پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں
اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہیئے
اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں

Enhanced by Zemanta

ہر چھٹا امریکی غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزاررہا ہے

 
  ہر چھٹا امریکی غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزاررہا ہے، ایک سروے کے مطابق ملک کی 16 فی صدآبادی غریب اورامریکی غرباکی تعداد 4 کروڑ97 لاکھ ہے جبکہ سرکاری طور پر 4 کروڑ 65 لاکھ امریکیوں کو غریب قرار دیا گیا ہے۔
غربت کا شکار امریکی میڈیکل اخراجات اور دیگر ضروریات کی رقوم کی ادائیگی سے قاصر ہیں، نیویارک کے اخبار ’’ڈیلی نیوز‘‘ کے مطابق نظرثانی سروے میں بتایا گیا ہے کہ 65 برس اور اس سے زائدعمر والے افراد میں غربت کا تناسب 9.1 سے بڑھ کر14.8 فی صد ہوگیا ہے جس کا اہم سبب طبی اخراجات کا بڑھ جانا ہے، امریکا میں بسنے والے27.8 فیصد ہسپانوی اور 16.7 فیصد ایشیائی بھی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، سرکاری سروے کے برخلاف نظرثانی سروے کے مطابق حکومتی فوائد کے حصول کی بدولت افریقی امریکیوں اور ان کے بچوں کی غربت کا تناسب کم ہوا ہے۔

Enhanced by Zemanta