میڈیا اینکرز یا نشریاتی راؤ انوار ؟

ایک راہگیر نے پوچھا بیٹے کیا تلاش کر رہے ہو۔ بچے نے کہا انکل میری اٹھنی پچھلی گلی میں کھو گئی ہے۔ تو بیٹے پھر وہیں تلاش کرو جہاں کھوئی ہے۔ مگر انکل وہاں اندھیرا ہے اس لیے یہاں روشنی میں تلاش کر رہا ہوں۔ اگرچہ ہم سب ناسمجھ میڈیا کو سمجھ دار اور ذمہ دار بنانا چاہتے ہیں مگر ہمارا حال اسی بچے کی طرح ہے جس کا سکّہ کھو گیا تھا۔ جب ہم بطور مالک یا ایڈیٹر کسی اخبار یا چینل میں سب ایڈیٹر، رپورٹر، فوٹو گرافر، کیمرہ پرسن، این ایل ای ( نان لینیئر ایڈیٹر )، نیوز کاسٹر، پروڈیوسر، نیوز ایڈیٹر بھرتی کرتے ہیں تو دنیا کے کسی بھی ادارے کی طرح اس کا بائیو ڈیٹا دیکھتے ہیں، ٹیسٹ لیتے ہیں، انٹرویو کرتے ہیں اور اس کے بعد تنخواہ سمیت دیگر شرائطِ ملازمت طے کرتے ہیں۔

اگر امیدوار اپنے شعبے میں ادارتی یا تکنیکی لحاظ سے کمزور ہے مگر باصلاحیت ہے تو اس کی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ادارے کی پیشہ ورانہ پالیسیوں کی تعارفی بریفنگ دیتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ وہ ان پالیسیوں کے دائرے میں پوری ایمانداری کے ساتھ کام کرے اور کوئی ایسی غیر پیشہ ورانہ حرکت نہ کرے جس سے ادارے کی بدنامی ہو یا غیر ضروری مشکلات پیدا ہوں۔ مگر ٹاک شو اینکر کے لیے ایسا کوئی لگا بندھا معیار نہیں۔ اس کا صحافیانہ پس منظر ہو تو اچھی بات ہے، نہ بھی ہو تو چلے گا۔ اس کا مطالعہ کتنا ہے، حالاتِ حاضرہ پر کیسی گرفت ہے، علاقائی و بین الاقوامی سیاست کی کس قدر شدہ بدھ ہے، جس ملک میں بیٹھ کر وہ ہفتے میں چار یا پانچ دن رائے عامہ پر اثر انداز ہو رہا ہے اس ملک کی مختلف قومیتوں کی سیاسی، سماجی و اخلاقی نفسیات کیا ہے، حساس رگیں کون سی ہیں؟ آبادی کی اکثریت جس عقیدے سے وابستہ ہے اس عقیدے کے موٹے موٹے اصول یا باریکیاں کیا ہیں؟

اینکر کو زبان و بیان پر کتنا کنٹرول ہے، کیا وہ صرف بول سکتا ہے یا لکھ پڑھ بھی سکتا ہے، اس کا اپنا نظریہِ زندگی کیا ہے؟ مذہبی، سیاسی و سماجی جھکاؤ کس جانب ہے؟ طبعاً انتہا پسند ہے، اعتدال پسند ہے یا غیر جانبدار؟ یہ سب ایسے ہی دیکھا جانا چاہئے جیسے بیٹے یا بیٹی کے لیے رشتہ دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اینکر کے چناؤ میں فی زمانہ جو ’خوبیاں‘ عملاً دیکھی جاتی ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ کس کے ریفرنس سے آیا ہے، سکرین پر کیسا نظر آئے گا یا آئے گی، کتنا بے تکان بول سکتا ہے، سوالات میں عقل جھلکے نہ جھلکے مگر نیزے کی انّی ضرور چھبنی چاہئے، مسئلہ کیسا ہی سادہ ہو اسے متنازع جلیبی بنانے کا گر آنا چاہیے اور اگر ہر شو میں خود کو عقلِ کل بھی ثابت کر سکے تو سبحان اللہ۔ آئیڈیل اینکر وہ ہے جو کچھ بھی بولے، کچھ بھی بلوائے۔ افواہ، خبر، تحقیق، آدھے یا پورے سچ کا سہارا لے یا نہ لے، اس کی گفتگو سے سماج کے کسی حصے، کسی ادارے یا کسی شخص کا بھلے دھڑن تختہ ہو جائے مگر ریٹنگ آنی چاہئے۔

کیونکہ ریٹنگ ہی میں چینل کی دونی چوگنی شہرت ہے، ریٹنگ میں ہی اشتہار ہیں اور اشتہار میں ہی پیسہ ہے۔ جتنا پیسہ آئے گا اتنا ہی موٹا اینکر کا مالیاتی پیکیج بھی ہوتا جائے گا۔ لہذا ریٹنگ کے لیے سب کچھ کرے گا۔ سب کچھ۔ . اب تو صورت یہ ہے کہ جس طرح کرکٹرز اور فٹ بالرز کی نیلامی ہوتی ہے اسی طرح زیادہ سے زیادہ ریٹنگز لانے والے اینکرز کی نیلامی ہوتی ہے۔ یہی اینکر طے کرتا ہے کہ کون سا چینل اسے افورڈ کر سکتا ہے، کونسی ادارتی و ٹیکنیکل ٹیم اس کے ساتھ رہے گی جو اس کی ہر ابروئے جنبش کو شہنشاہِ مقبولیت یا ملکہِ عالیہ کا ادارتی آدیش سمجھے۔

جب تک چینلز میں پیشہ ورانہ خود مختاری برتنے والے تجربہ کار ایڈیٹرز اور نیوز ایڈیٹرز نہیں لائے جائیں گے کہ جنہیں میرٹ پر بھرتی کا مکمل اختیار ہو۔ اس ایڈیٹر کی پیشہ ورانہ رائے کو چینل میں پیسہ لگانے والا سیٹھ بھی تسلیم کرے اور ہر فیصلے میں اپنی عقل لگانے یا نافذ کرنے سے باز رہے۔ جب تک پروڈیوسر فائیو سٹار اینکرز کا چپراسی بنا رہے گا، فرشتے بھی ضابطہِ اخلاق بنا لیں تو بھی کچھ نہ ہونے کا۔ بھلے کیسی ہی پابندیاں لگا لیں، کتنی سماعتیں کر لیں۔ مسئلے کی جڑ تک پہنچے بغیر پرنالہ سیدھا ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ تب تک اینکر نشریاتی راؤ انوار بنا رہے گا۔

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

آخر کار پیمرا جاگ اٹھا ۔ دیر آید، درست آید

چند روز قبل پیمرا نے ٹی وی چینلز کو تین اہم معاملات میں پالیسی گائیڈ لائنز جاری کیں۔ سب سے اہم معاملہ ٹی وی چینلز کی رمضان ٹرانسمیشنز کا ہے۔ پیمرا نوٹس کے مطابق گزشتہ چند سالوں سے ریٹنگ کی دوڑ میں شامل ٹی وی چینلز نے اچھوتے انداز اپنائے اور غیر مہذب حرکتیں اپناتے ہوئے نہ صرف رمضان المبارک کے تقدس کو پامال کیا بلکہ ہماری سماجی، اخلاقی اور مذہبی اقدار کی دھجیاں اڑائیں بلکہ بعض اوقعات فرقہ واریت کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی جاتی رہی جو معاشرہ میں انتشار اور فساد کو ہوا دینے کا سبب بنتا ہے۔ پیمرا نے ماردر پدر آزاد ٹی وی چینلز کو یاد دلایا کہ رمضان المبارک بنیادی طور پر پاکیزہ خیالات اور اجتماعی و انفرادی عبادات کا ماحول فراہم کرتا ہے۔

رمضان کی ہر شب کی بے پناہ فضیلت ہے اور عبادات کے اجر میں اضافہ کی ضمانت ہے اس لیے ایسے قیمتی لمحات کو کھیل تماشا، ذہنی عیاشی اور سجاوٹ میں ضائع نہ کیا جائے۔ مخصوص اوقات کار کے لیے معلوماتی، فہم و دین اور اخوت و بھائی چارہ کو فروغ دینے کی سعی کی جائے۔ پیمرا نے ٹی وی چینلز کو اپنے ہدایت نامہ میں یہ بھی لکھا کہ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ فحش، بیہودہ، غیر مہذب اور اخلاق سے گرے ہوئے پروگرام اللہ کی خوشنودی کی بجائے اُس کے قہر و غضب کا سبب بنتے ہیں۔ پیمرا نے چینلز کو یہ بھی یاد دلایا کہ رمضان میں نشر کیے جانے والے پروگرام بنا کسی اسکرپٹ کے یا ادارہ جاتی نگرانی کے محض زیادہ ریٹنگ یا مالی فوائد کے حصول کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں۔

پیمرا نے واضح کیا کہ اب ایسی کسی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹر نے چینلز کو ہدایت کی کہ آنے والی رمضان ٹرانسمیشن میں گزشتہ سالوں کے برعکس مکمل طور پر کوڈ آف کنڈکٹ پر عمل کیا جائے اور ایسے پروگرام مرتب کیے جائیں جو ریٹنگ کی بجائے مذہبی ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے بنیادی معلومات فراہم کریں، رمضان المبارک کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھیں، دوران پروگرام شرکاء کو مختلف قسم کے کام مثلاً ڈانس، گانے سنانے اور اُلٹے سیدھے کام کرنے پر نہ اُکسائیں، غیر اخلاقی، غیر معیاری گفتگو سے پرہیز کیا جائے، ایسے افراد کو دین سے متعلق گفتگو کے لیے مدعو کیا جائے جو دین سے واقف ہوں اور مستند علم رکھتے ہوں، اشتہارات کی ترتیب دیتے اور نشر کرتے وقت رمضان المبارک کے تقدس کا خیال رکھا جائے۔

کچھ دوسری ہدایات کے علاوہ، پیمرا نے چینلز پر یہ بھی لازم کیا کہ رمضان کے دوران تفریحی اور کوئز پروگرام نشریات کی اجازت رات نو بجے کے بعد ہو گی جبکہ رمضان کے آخری عشرہ میں ایسے پروگراموں کو نشر کرنے پر مکمل طور پر پابندی ہو گی۔ ایک اور پالیسی نوٹس میں پیمرا نے مارننگ شوز کے نام پر بے ہودگی پھیلانے کی روک تھام کے لیے چینلز کو ہدایات جاری کیں۔ چینلز کو پابند کیا گیا کہ مارننگ شور ترتیب دیتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان پروگرام کے ذریعے فحاشی و عریانیت کو نہ پھیلایا جائے، دوران پروگرام شرکاء کو ڈانس، گانے اور تضحیک آمیز حرکات پر نہ اکسایا جائے، غیر اخلاقی، غیر معیاری، ذومعنی جملہ بازی اور پھکڑپن سے پرہیز کیا جائے، پروگراموں میں ملبوسات کا خاص خیال رکھا جائے اور ایسے ملبوسات پہنے جائیں جو ہماری روایات کے عین مطابق ہوں، پروگرامز کے دوران مہذب اور شائستہ زبان استعمال کی جائے، اسراف و نمود سے اجتناب کیا جائے، ناشائستہ اور نازیبا مناظر نشر کرنے سے پرہیز کیا جائے۔

دوسری کئی ہدایات کے ساتھ، ٹی وی چینلز کو کہا گیا کہ مارننگ شوز میں ہر شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے افراد کو مہمان کے طور پر بلوایا جائے تا کہ نئی نسل اُن سے علم و ترغیب حاصل کر سکے، محض شوبز سے مہمان بلانا، ایک خاص سوچ کی غمازی اور ان شوز میں غیر مرد و خواتین کو گلے ملوانا، بوس و کنار اور بانہوں میں بانہیں ڈال کر ڈانس کرانا ہماری تہذیب اور اقدار کے منافی ہے۔ اس لئے تمام چینلز اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کے سوادِ اعظم (اکثریت) کی پسند اور ناپسند پر چند مخصوص افراد کی سوچ و فکر کو نافذ نہ کیا جائے۔ اپنے تیسرے پالیسی نوٹس میں پیمرا نے ٹی وی چینلز میں دکھائے جانے والے ڈراموں کو قابل اعتراض مواد سے پاک کرنے کے لیے ہدایات جاری کیں۔

پیمرا کے مطابق ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں ٹی وی چینلز ایسے ڈرامے بنا رہے ہیں جو نہ صرف سماجی و اخلاقی اقدار کے منافی ہیں بلکہ بعض اوقات معاشرتی بگاڑ کو بھی فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔ پیمرا نوٹس کے مطابق ایسے ڈرامے پیش کیے جا رہے ہیں جن سے ہمسایہ ملک (بھارت) کی ثقافت کی عکاسی ہوتی ہے۔ مزید براں اسلامی اور سماجی روایات سے منافی موضوعات پر ڈرامہ نگاری ایک معمول بن گیا ہے جس کا بادی النظر میں مقصد معاشرے میں بے یقینی اور انتشار کو فروغ دینا ہے اور مذہبی اقدار کو کمزور کرنا ہے۔

اس تناظر میں چینلز کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ڈرامے کے موضوع کا انتخاب کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں، حساس موضوعات جو مذہب، فرقہ وارانہ امور، صوبائیت، ذاتی معاملات، ازدواجی زندگی اور منفی رجحانات کو نشر کرنے سے اجتناب کیا جائے، موضوعات کے چُناو اور کہانی کی تشکیل میں تمام معاشرتی طبقات اور اُن پر ڈراموں کے اثرات کو مدنظر رکھا جائے، کسی مذہب، فرقہ یا برادری کے خلاف توہین آمیز کلمات یا ایسے الفاظ جو مذہبی فرقوں اور لسانی گروپوں میں عدم ہم آہنگی کا باعث بنیں، نشر کرنے سے اجتناب کیا جائے، کوئی ایسی چیز جو نازیبا، اخلاق باختہ یا فحش ہو اسکو نشر نہ کیا جائے، ڈراموں میں اپنی روایات کے مطابق ملبوسات کا خیال رکھا جائے.

 ڈراموں میں مرد وزن کا آپس میں گلے ملنا، بوس و کنار کرنا اور بیڈ روم مناظر کی عکس بندی سے اجتناب کیا جائے، منشیات اور شراب کے استعمال کے مناظر نشر نہ کیے جائیں، ڈراموں میں ایسی کہانیاں نہ پیش کی جائیں جن سے بچوں خصوصاً بچیوں کے ناپختہ ذہن اور دماغ پر غلط اثر ہو اور والدین سے بدتمیزی یا نافرمانی کے رویے کی طرف راغب ہوں یا بے راہ روی کی طرف اکساتی ہوں، حساس موضوعات پر ڈرامہ نگاری کرتے ہوئے تمام مذہبی، سماجی اور معاشرتی امور کا خاص خیال رکھا جائے اور اُن کی عکس بندی اسی انداز سے کی جائے جس سے ناظرین کو آگاہی بھی کی جائے اور اُن کی اصلاح بھی ہو۔

پیمرا کی طرف سے درج بالا اقدامات اگر بہت پہلے اٹھا لیے جاتے تو حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔ لیکن چلیں شکر ہے کہ اب بھی پیمرا کو ٹی وی چینلز کی طرف سے معاشرہ میں انڈین کلچر اور بے راہ روی پھیلانے اور ہمارے مذہبی اور معاشرتی اقدار کو تباہ کرنے سے روکنے کا خیال آ گیا۔ دیر آید درست آید۔ ان اقدامات پر پیمرا خراج تحسین کا مستحق ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ جاری کی گئی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کروائے گا اور ٹی وی چینلز کو کسی بھی طور پر یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اپنی ریٹنگ اور پیسہ کے لیے ہماری دینی اور معاشرتی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہماری نسلوں کو تباہی کے راستے پر دھکیل دے۔

پیمرا نے خوب کہا کہ چند مخصوص افراد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پاکستان کی اکثریت پر اپنی سوچ و فکر مسلط کریں۔ ٹی وی چینلز کو سدھارنے کے لیے پیمرا نے ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے، اب یہ حکومت، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، عدلیہ اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملہ میں پیمرا کا ساتھ دیں۔ اس معاملہ میں عوام سے میری درخواست ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں وہ پیمرا کو فوری شکایت کریں۔ عوامی شکایات خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ٹی وی چینل کے خلاف کارروائی کا اہم ذریعہ بنتے ہیں اس لیے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہو گی۔ یہاں عدلیہ سے میری درخواست ہے کہ وہ ٹی وی چینلز کی خلاف ورزیوں سے متعلق معاملات میں اسٹے آرڈر کی موجودہ پالیسی پر غور کرے کیوں کہ کئی ٹی وی چینلز اسٹے آرڈر کے پیچھے چھپ کر وہ خلاف ورزیاں کرتے جاتے ہیں جو معاشرہ میں بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔

 انصار عباسی

Meher Bokhari

Meher Bokhari (born in 1984) is a controversial female journalist and a television host from Pakistan working at Dawn News She has worked for Samaa TV and Dunia News.


Career

She started her career as a journalist and a host on TV programs in SAMAA TV [1] Then she joined Dunya News and is now working on it.

 As a host

She is working as a host on Dawn News Program,[2] In this program, she interviews Pakistani politicians, and talks about the current affairs in Pakistan.And resources tells that soon she would be seen on Dawn News.
Enhanced by Zemanta