روہنگیا مسلمانوں کا دنیا کی مظلوم ترین اقلیت ہونا عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اقوامِ متحدہ اس مسئلے کے حل میں بھی مسلمانوں کے دیگر مسائل کی طرح اب تک کوئی نتیجہ خیز کردار ادا نہیں کر سکی۔ تاہم مغربی افریقہ کا ملک اسلامی جمہوریہ گیمبیا قابلِ داد ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ اقوامِ متحدہ میں اٹھانے کا محرک اول بنا جس کے بعد یہ مقدمہ 57 ملکی اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے عالمی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ میانمار نے اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن 1948 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست رخائن میں مسلم اقلیت کے خلاف فوجی کارروائی کی لہٰذا عدالت روہنگیا مسلمانوں کو مزید نقصان سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دسمبر میں درخواست کی پہلی سماعت ہو گی۔ خونِ مسلم کی ارزانی کے مناظر دنیا بھر میں عام ہیں، مشرقِ وسطیٰ کی خانہ جنگی اورفلسطین، کشمیر اور میانمار میں نسل کشی کی شکل میں مسلمان لہولہان ہیں۔
تاہم میانمار کے مسلمانوں کو ان کی انتہائی کسمپرسی کے سبب دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیا جاتا ہے۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں مسلمان تاجروں کے ذریعے اسلام اس علاقے میں پہنچا اور اتنا مقبول ہوا کہ ہندوستان میں مسلم حاکمیت سے بھی پہلے سلیمان شاہ نے رخائن میں اسلامی حکومت قائم کی جو 350 برس قائم رہی لیکن اس کے زوال کے بعد سے اب تک صوبہ رخائن کے مسلمان زیر عتاب ہیں، ان پر ہونیوالے مظالم پر پاکستان ، ترکی اور بنگلہ دیش کے سوا عالمی برادری ہی نہیں مسلم دنیا نے بھی کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہ کیا حالانکہ 57 مسلمان ملکوں میں دنیا کے انتہائی متمول ممالک شامل ہیں۔ اس معاملہ کا منصفانہ فیصلہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں اسلامی جمہوریہ گیمبیا کی کاوش انتہائی لائقِ ستائش ہے اور اس اقدام کی کامیابی کے لیے اس کا مکمل ساتھ دینا پوری امت مسلمہ کا فرض ہے۔
امریکہ نے میانمار کی فوج کے سربراہ من اونگ لائنگ اور دیگر تین افسران پر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے الزامات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ میانمار کی فوج کے سربراہ اور دیگر کے خلاف کارروائی قابلِ اعتماد شواہد کی بنا پر کی گئی ہے جس کے بعد اُن کے امریکہ میں داخلے پر پابندی ہو گی۔ بیان کے مطابق میانمار کی فوج کے یہ اعلیٰ افسران دو سال قبل روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث تھے جس کی وجہ سے سات لاکھ 40 ہزار لوگوں کو بنگلہ دیش کی سرحد کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ امریکہ نے میانمار کی فوج کے سربراہ کے علاوہ جن افسران پر پابندی عائد کی ہے ان میں نائب کمانڈر ان چیف سوئے ون، بریگیڈیئر جنرل تھین او اور بریگیڈیئر جنرل اونگ اونگ شامل ہیں۔
امریکی پابندی کا اطلاق میانمار کی فوج کے چاروں افسران کے اہلِ خانہ پر بھی ہو گا۔ یاد رہے کہ میانمار کی حکومت اقلیتی مسلم روہنگیا کمیونٹی کو شہریت دینے سے انکار کرتے ہوئے انہیں بنگالی قرار دیتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ میں کہہ چکی ہے کہ روہنگیا نسل کشی میں میانمار کی فوج کی مرکزی قیادت ملوث ہے۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ پہلا ملک ہے جس نے میانمار کی فوج کی سینیئر قیادت کے خلاف اعلانیہ ایکشن لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تشویش ہے کہ میانمار کی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اختیارات کے غلط استعمال کے باوجود ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی۔