میانمار میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد منظور

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے میانمارمیں روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت کرتے ہوئے قرارداد منظور کر لی ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت کرتے ہوئے قرارداد پیش کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ 193 رکن ممالک کی اسمبلی میں 134 ممالک نے قرارداد کی حمایت کی اور 9 ممالک نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالے جب کہ 28 ممالک نے قرارداد کی حق رائے دہی میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد میں گزشتہ 4 دہائیوں میں سیکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کی جانب سے ظلم و تشدد کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل اورلاکھوں کی تعداد میں بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میانمار حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیزی کو روکے۔ قرارداد میں آزاد بین الاقوامی مشن کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے انسانی حقوق کی صریح پامالی میانمار کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہوئی، جسے مشن نے ’بین الاقوامی قانون کے تحت شدید ترین جرم‘ قرار دیا ہے، قرارداد میں میانمار سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہونے والے تمام گروپس کے تحفظ اور ان کو انصاف دینے کا کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 2017ء میں میانمار میں بسنے والے ہزاروں روہنگیا مسلمان فوج کے کریک ڈاؤن میں ہلاک ہوئے تھے جب کہ 7 لاکھ سے زائد مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس کریک ڈاؤن کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا تاہم میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے اقوامِ متحدہ کی عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد اور مقدمے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے فوج نے کہیں طاقت کا غیر مناسب استعمال کیا ہو تاہم اگر فوجیوں نے جنگی جرائم کیے ہیں تو ان کو سزا دی جائے گی۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سوچی کا روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی تسلیم کرنے سے انکار

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت انصاف میں روہنگیا اقلیت کی مبینہ نسل کشی کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت جاری ہے۔ اس مقدمے میں میانمار کی نمائندگی امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی رہنما آنگ سان سوچی نے کی۔ آنگ سان سوچی نے ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت انصاف ہیگ کے ججز کےسامنے اپنے طویل بیان میں کہا کہ روہنگیا کا بحران میانمار کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس مناسبت سے گیمبیا نے نا مکمل اور گمراہ کن حقائق بیان کئے ہیں۔ عدالت میں بیان دیتے ہوئے سوچی نے کہا، ”اگر جرائم ہوئے ہیں تو قانون کے تحت ان کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج مسلح باغیوں کے خلاف ملک کا دفاع کر رہی تھی کیونکہ سن 2016 میں پولیس اسٹیشنوں پر حملے ہوئے تھے۔

سوچی عدالت کو یقین دلایا کہ جو جرائم کیے گئے ہیں، اُن میں ملوث سویلین افراد کے خلاف بھی مناسب کارروائی کی جائے گی۔ آنگ سان سوچی نے اپنے طویل بیان میں میانمار کی ریاست راکھین کی صورتحال کو پیچیدہ قرار دیا۔ انہوں اس کا بھی اعتراف کیا کہ وہ مسلمانوں کی تکالیف کو تسلیم کرتی ہیں اور اسی باعث وہ اپنی جان بچاتے ہوئے بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ سوچی کے مطابق گیمبیا نے اپنی درخواست میں راکھین ریاست کی پیچیدہ صورتحال کی نا مکمل اور گمراہ کن تصویر کشی کی ہے۔ سوچی نے بین الاقوامی عدالت کے ججوں کے سامنے اپنے طویل بیان میں لفظ روہنگیا یا مسلمان اقلیت استعمال کرنا بھی گوارا نہ کیا بلکہ لفظ غیر قانونی تارکین وطن، مہاجرین اور دہشتگرد کا لفظ استعمال کرتی رہیں۔ انھوں نے اس معاملے کو قطعی طور پر میانمار کا ایک داخلی مسسلہ قرار دیتے ہوئے اسے نسل کشی ماننے سے انکار کر دیا۔

آنگ سان سوچی کے دفتر نے گزشتہ روز اُن کی دی ہیگ آمد کے حوالے سے دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ وہ قومی مفاد کا دفاع کرنے گئی ہیں۔ سوچی کی حمایت میں ینگون میں ہزاروں افراد نے ریلی بھی نکالی تھی۔ یاد رہے کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں استغاثہ کی جانب سے روہنگیا مسلمان خاندانوں کو مبینہ طور پر ان کے گھروں میں زندہ جلائے جانے، بڑے پیمانے پر عصمت دری اور درجنوں بچوں کو ذبح کرنے کا شواہد پیش کیے۔ یہ مقدمہ افریقی ملک گیمبیا کی جانب سے بدھ مت کے پیروکار ملک میانمار کے خلاف نومبر میں دائر کیا تھا۔ گیمبیا کے وزیر انصاف نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ اُن کا ملک صرف یہ چاہتا ہے کہ میانمار یہ قتل و غارت گری بند کرے۔ یاد رہے کہ روہنگیا میں فوجی کریک ڈاون کے بعد سات لاکھ تیس ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش کی سرحد پرکیمپوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ میانمار کی جانب سے اس سے قبل بھی روہنگیا اقلیت کی اجتماعی عصمت دری اور ہلاکتوں کے تمام الزامات کی تردید کی جاتی رہی۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث فوجی اہلکاروں کا کورٹ مارشل شروع

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث میانمار فوج کے افسران اور اہلکاروں کیخلاف تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کورٹ مارشل کا آغاز ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی، اور قتل عام میں ملوث فوجی افسران اور اہلکاروں کیخلاف کورٹ مارشل کا آغاز کر دیا ہے، ان اہلکاروں کیخلاف تحقیقات پہلے ہی مکمل اور جرم ثابت ہو چکا ہے 

ان افسران اور اہلکاروں پر الزام تھا کہ 2017 میں ایک گاؤں گو ڈا پائین میں فوجی آپریشن کے دوران ریجمنٹ کے افسران اور اہلکاروں نے روہنگیا مسلمان نوجوانوں کو قتل اور خواتین کے ساتھ  زیادتی کی تھی جب کہ کئی گھروں کو نذر آتش کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اس عمل کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے بھی میانمار فوج کو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث قرار دیا تھا جس کے بعد حکومت نے متعدد جرنیلوں اور اہلکاروں کو سزائیں بھی دی تھیں تاہم ان افسران اور اہلکاروں کو رہا کر دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

روہنگیا نسل کشی کا معاملہ عالمی عدالت میں

روہنگیا مسلمانوں کا دنیا کی مظلوم ترین اقلیت ہونا عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اقوامِ متحدہ اس مسئلے کے حل میں بھی مسلمانوں کے دیگر مسائل کی طرح اب تک کوئی نتیجہ خیز کردار ادا نہیں کر سکی۔ تاہم مغربی افریقہ کا ملک اسلامی جمہوریہ گیمبیا قابلِ داد ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ اقوامِ متحدہ میں اٹھانے کا محرک اول بنا جس کے بعد یہ مقدمہ 57 ملکی اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے عالمی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ میانمار نے اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن 1948 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست رخائن میں مسلم اقلیت کے خلاف فوجی کارروائی کی لہٰذا عدالت روہنگیا مسلمانوں کو مزید نقصان سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دسمبر میں درخواست کی پہلی سماعت ہو گی۔ خونِ مسلم کی ارزانی کے مناظر دنیا بھر میں عام ہیں، مشرقِ وسطیٰ کی خانہ جنگی اورفلسطین، کشمیر اور میانمار میں نسل کشی کی شکل میں مسلمان لہولہان ہیں۔

تاہم میانمار کے مسلمانوں کو ان کی انتہائی کسمپرسی کے سبب دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیا جاتا ہے۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں مسلمان تاجروں کے ذریعے اسلام اس علاقے میں پہنچا اور اتنا مقبول ہوا کہ ہندوستان میں مسلم حاکمیت سے بھی پہلے سلیمان شاہ نے رخائن میں اسلامی حکومت قائم کی جو 350 برس قائم رہی لیکن اس کے زوال کے بعد سے اب تک صوبہ رخائن کے مسلمان زیر عتاب ہیں، ان پر ہونیوالے مظالم پر پاکستان ، ترکی اور بنگلہ دیش کے سوا عالمی برادری ہی نہیں مسلم دنیا نے بھی کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہ کیا حالانکہ 57 مسلمان ملکوں میں دنیا کے انتہائی متمول ممالک شامل ہیں۔ اس معاملہ کا منصفانہ فیصلہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں اسلامی جمہوریہ گیمبیا کی کاوش انتہائی لائقِ ستائش ہے اور اس اقدام کی کامیابی کے لیے اس کا مکمل ساتھ دینا پوری امت مسلمہ کا فرض ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ