یورپی کونسل کی کمشنر برائے انسانی حقوق نے یونان میں مختلف مہاجر کیمپوں کا دورہ کر کے وہاں مقیم مہاجرین کی صورت حال کو انتہائی خوفناک قرار دیا ہے۔ دوسری جانب یونان سیاسی پناہ کے ملکی قوانین مزید سخت بنانے کا سوچ رہا ہے یورپی کونسل کی کمشنر برائے انسانی حقوق دنیا میاتووچ کا یونان کے لیسبوس، ساموس اور شہر کورنتھ میں واقع مہاجر کیمپوں کا دورہ کرنے کے بعد کہنا تھا کہ یہ ایک ‘تباہ کن صورت حال‘ ہے۔ ان کیمپوں میں نہ صرف ادویات اور مناسب طبی دیکھ بھال کی کمی ہے بلکہ ٹوائلٹس بھی بہت ہی کم ہیں۔ اس خاتون کمشنر کے مطابق ساموس مہاجر کیمپ میں تو بہت سے خاندانوں نے خود لکڑیاں اکھٹی کر کے ہنگامی رہائش گاہیں تعمیر کر رکھی ہیں۔
دوسری جانب بیت الخلا میں جانے اور کھانا حاصل کرنے کے لیے بھی انہیں کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خاتون کمشنر کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”یہ سیاسی پناہ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ تو زندہ رہنے کی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔‘‘ میاتووچ کا یورپی یونین کی طرف سے ملنے والی مالی امداد کی تعریف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف مالی امداد سے حل نہیں ہو گا بلکہ یونانی حکام کو تمام نوکر شاہی رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی تاکہ امداد کا صحیح استعمال ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی ممالک کو یونان میں موجود مہاجرین کو اپنے ہاں سیاسی پناہ دینے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
حالیہ کچھ عرصے سے یونانی جزیروں پر تارکین وطن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یونان کے صرف پانچ جزیروں پر موجود مہاجرین کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ وہاں کے مہاجر کیمپوں میں گنجائش کم اور افراد کی تعداد زیادہ ہو چکی ہے۔ یونان کے موریا مہاجر کیمپ میں چودہ ہزار سے زائد مہاجرین موجود ہیں اور یہ تعداد وہاں گنجائش سے پانچ گنا زیادہ بنتی ہے۔ ترکی اور یورپی یونین کے مابین ہونے والے معاہدے کے مطابق یورپی یونین ترکی کے راستے یونان پہنچنے والے تمام مہاجرین کو واپس ترکی بھیجنے کا اختیار حاصل ہے۔ لیکن یونانی اداروں میں ملازمین کی کمی کی وجہ سے سیاسی درخواستوں پر کام ہی انتہائی سست رفتاری کا شکار ہے۔
سمندر کی تہہ میں ماں کے اپنے شیر خوار بچے کو سینے سے چمٹائے 10 دن پرانی لاش برآمد ہونے پر غوطہ خور رو پڑے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی میں تیونس سے آنے والی تارکین وطن کی کشتی 10 روز قبل بحیرہ روم میں ڈوب گئی تھی۔ غوطہ خوروں کی ایک ٹیم کو سمندر میں 60 میٹر گہرائی میں کشتی کے ملبے سے ایک خاتون کی لاش ملی۔ غوطہ خوروں کا کہنا ہے کہ ماں نے اپنے بچے کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے اپنے سینے سے چمٹائے رکھا ہوا تھا اور دس دن بعد بھی ماں بچہ اسی حالت میں مردہ پائے گئے۔ اس منظر نے انہیں رلا دیا۔ غوطہ خور ماں اور بچے کی لاش کو بہ مشکل ایک دوسرے سے علیحدہ کیا۔ یہ واقعہ ماں کی اپنی اولاد سے لازوال محبت کی ایک مثال ہے۔
غربت سے پریشان اپنے اور بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے تارکین وطن غیر قانونی طور پر خوشحال ممالک کا رخ کرتے ہیں اور اس دوران کشتی الٹنے کے واقعات میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ ساحل پر مردہ پائے گئے شام کے ایلان، میکسیکو کے باپ بیٹی جو ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے اور اب بحیرہ روم کے اس واقعے نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ واضح رہے کہ 10 روز قبل تیونس سے اٹلی جانے کی کوشش میں کشتی بحیرہ روم میں ڈوب گئی تھی جس میں 50 افراد سوار تھے جن میں سے 22 کو بچالیا گیا تھا جب کہ 28 مسافر ڈوب گئے تھے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین شامل ہیں۔
گزشتہ ماہ 26 جون کو امریکا اور میکسیکو کے بارڈر پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران دریائے ریو گرینڈے میں پانی کی لہروں میں چل بسنے والے ایل سلواڈور کے مہاجر باپ اور بیٹی کی موت کی تصاویر نے دنیا کو جھنجوڑ دیا تھا۔ پانی کی لہروں میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے ایل سلواڈور کے 25 سالہ آسکر البرٹو اور ان کی 2 سالہ بیٹی کی پانی میں تیرتی لاش کی تصاویر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں غم کی لہر چھا گئی تھی اور لوگوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنا شروع کر دی تھی۔ امریکا اور میکسیکو کے بارڈر بند ہونے کی وجہ سے وسطی اور شمالی امریکی ممالک کے سیکڑوں مہاجرین مشکلات کا شکار ہیں اور کئی لوگ غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران یا تو گرفتار ہو جاتے ہیں یا پھر وہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
ان ہی مشکلات کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ایل سلواڈور کے مہاجر والد اور ان کی بیٹی کی موت کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد کینیڈا کے ایک کارٹونسٹ نے باپ اور بیٹی کے موت کی تصویر کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ڈرائنگ تیار کی تھی۔ کینیڈین کارٹونسٹ مائیکل ڈی آدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ ڈرائنگ 26 جون کو ہی بنائی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی تھی۔ مائیکل ڈی آدر نے اپنی ڈرائنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مہاجر باپ اور بیٹی کی موت کی تصویر پر گولف کھیلنے کے لیے تیار دکھایا تھا۔ ڈرائنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں گولف کلب دکھائی گئی تھی اور انہیں گولف گاڑی کے ساتھ مہاجر باپ اور بیٹی کی لاش کے قریب پہنچ کر پریشان دکھایا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے مطابق یورپی ملک ہنگری میں اُن مہاجرین کو پانچ دن تک بھوکا رکھا جاتا ہے، جن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ اقوم متحدہ کے مطابق یہ بین الاقوامی قانون کی صریحاﹰ خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہنگری کی حکومت دانستہ طور پر اُن پناہ گزینوں کو خوراک فراہم کرنے سے انکار کر رہی ہے، جن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ اقوام متحدہ میں ادارہ برائے انسانی حقوق کی ایک ترجمان راوینا شمداسنی کا کہنا تھا، ’’موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق ہنگری حکام کی جانب سے اگست دو ہزار اٹھارہ کے بعد سے ایسے اکیس مہاجرین کو خوراک فراہم کرنے سے انکار کیا گیا، جو ملک سے بے دخلی کا انتظار کر رہے تھے۔‘‘ گزشتہ ستمبر میں بھی ہیومن رائٹس کے ہائی کمیشن نے ہنگری حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان مہاجرین تک غذا کی فراہمی روک رہا ہے، جو سربیا کی سرحد کے ساتھ ٹرانزٹ زون میں پھنسے ہوئے ہیں۔
انتباہی پیغامات نظرانداز
اقوام کے انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے ایک عارضی فیصلے کے بعد ہنگری حکام نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس پریکٹس کو ختم کر دیں گے۔ تاہم راوینا شمداسنی کا کہنا ہے، ’’ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ لیگل فریم فرک میں کوئی واضح تبدیلی نہیں لائی گئی۔ رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ یہ مشق ابھی تک جاری ہے۔‘‘ اقوام متحدہ کی اس ہلکار کے مطابق اگر ایک مرتبہ سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے، تو حاملہ خواتین کے علاوہ تمام بالغ مہاجرین کو دانستہ طور پر خوراک فراہم نہیں کی جاتی۔
ہم ’ذمہ دار نہیں‘ ہیں، ہنگری
رواں ہفتے کے آغاز میں ہنگری کی حکومت کا ایک بلاگ پوسٹ میں کہنا تھا، ’’ہمارا موقف یہ ہے کہ ہنگری ان کا ذمہ دار نہیں ہے، جنہوں نے پناہ کی درخواستیں نہیں دیں اور نہ ہی ان کا ذمہ دار ہے، جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔‘‘ ہنگری کے دائیں بازو کے وزیراعظم وکٹور اوربان کا شمار یورپ کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے، جو یورپی یونین میں مہاجرین کی آمد کے خلاف ہیں۔ یہ مہاجرین کی آمد کو ایک ’حملہ‘ اور ’زہر‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔ ہنگری حکومت یہ بھی متعدد مرتبہ کہہ چکی ہے کہ جن مہاجرین کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، انہیں گرفتار نہیں کیا گیا اور وہ سرحد عبور کرتے ہوئے سربیا جانے کے لیے آزاد ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ کے حکام اس کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ غیرقانونی ہے کہ مہاجرین کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کہا جائے کہ وہ سربیا چلے جائیں۔