نفرت اور نسل پرستی کیخلاف دنیا کی 90؍ بڑی کمپنیوں کی طرف سے فیس بک پر اشتہارات کا بائیکاٹ کر دیا گیا ہے، یورپ کی سب سے بڑی کمپنی یونی لیور کی طرف سے فیس بک پر اشتہارات کے بائیکاٹ کے اعلان سے صرف ایک دن میں زکر برگ 7؍ ارب ڈالر (تقریبا سوا 11؍ کھرب پاکستانی روپے) سے محروم ہو گئے۔
اشتہارات کے بائیکاٹ سے فیس بک کے حصص کی گراوٹ سے 938؍ ارب روپے کا نقصان ہوا اور زکر برگ کی دولت کم ہو کر 82 عشاریہ 3 ارب ڈالر تک رہ گئی اور یوں دنیا کا تیسرا امیر ترین آدمی اب چوتھے نمبر پر جا پہنچا۔ بلوم برگ بلینئرز انڈیکس کے مطابق اب دنیا کے تیسرے امیر ترین آدمی برنارڈ آرنالٹ کے باس لوئس ووٹن ہیں جو جیف بیزوس اور بل گیٹس کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ کمپنیوں نے انسانی اقدار اور زندہ معاشرے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے کارپوریٹ مفاد کو مدنظر نہیں رکھا اور نہ مسابقتی کمپنیوں کی دوڑ میں بے حسی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے رنگ و نسل، مذہبی و سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر نفرت انگیز پوسٹوں کے خلاف متحد ہونے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ فیس بک کی انتظامیہ نے پولیس کی طرف سے نسل پرستی پر مبنی نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کو آن لائن ہٹانے میں کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا۔ زکر برگ نے ٹرمپ کی پوسٹوں کے خلاف ایکشن لینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ میل کے ذریے ووٹنگ ووٹر کو فراڈ کی طرف لے جائے گی۔ عوام کا حق ہے کہ وہ سیاسی رہنماؤں کے بیانات بغیر فلٹر کے پڑھیں۔ اب بائیکاٹ اور مارکیٹ قدر کھو دینے کے بعد فیس بک کے بانی نے فلٹر پالیسی میں تبدیلیوں کی بات کی ہے۔ عالمی میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق دنیا کی متعدد کمپنیوں نے فیس بک اشتہارات کا بائیکاٹ کر کے زکربرگ کو ایک دن میں سات ارب ڈالر سے محروم کر دیا۔ نوے سے زائد دنیا کی بڑی کمپنیوں نے فیس بک سے اشتہارات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کی بڑی وجہ سائٹ پر نفرت انگیز مواد ہے۔
تین ماہ سے سوشل نیٹ ورک پر کئی فرموں کی طرف سے اشتہاروں کا بائیکاٹ کیا جا رہا تھا ۔ فیس بک کے آٹھ فی صد اور ٹوئٹر کے سات فی صد حصص گر گئے جب بن اینڈ جیری، لپٹن چائے اور ڈوو کے بعد یورپ کی بڑی کمپنی یونی لیور نے فیس بک اشتہارات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ یورپی کمپنی کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ قدم آن لائن نفرت انگیز مواد کے خلاف احتجاج کے طور پر اٹھایا ہے۔ کوکا کولہ نے بھی تیس دن کا بائیکاٹ کر دیا۔ انہوں نے کہا دنیا میں نسل پرستی کی کوئی جگہ نہیں اور سوشل میڈیا پر بھی اس کی کوئی جگہ نہیں۔ امریکن ہنڈا نے بھی کہا کہ وہ جولائی میں فیس بک پر اشتہارات روک دے گا اور اس نے ان لوگوں کا ساتھ دینے کا انتخاب کیا ہے جو نفرت اور نسل پرستی کے خلاف متحد ہیں۔ امریکی ٹیلی کام ویرزون ،کھیلوں کے ساز و سامان تیار کرنے والی کمپنیاں پیٹاگونیا، نارتھ فیس اور آر ای آئی بھی اس بائیکاٹ میں شامل ہیں۔ زکربرگ نے سائٹ پر غلط معلومات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی اعلان کرتی ہے کہ کمپنی ووٹنگ سے متعلق تمام پوسٹوں پر ایک لنک کے ساتھ لیبل لگائے گی جس سے صارفین اپنے نئے ووٹر انفارمیشن ہب کو دیکھنے کے لئے حوصلہ افزائی کریں گے۔ فیس بک نے ممنوعہ نفرت انگیز تقریر کی اپنی تعریف میں بھی توسیع کر دی ۔
امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں موت کے بعد جن احتجاجی مظاہروں نے جنم لیا، ان میں متعدد کنفڈریٹ یادگاری مجسموں کو بھی نقصان پہنچایا گیا یا مظاہرین نے انھیں ہٹا دیا۔ اب ایسے مطالبات میں تیزی پیدا ہورہی ہے کہ ان مجسموں کو ان کے موجودہ مقامات سے منتقل کر دیا جائے۔ ایسے ہی ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران رچمنڈ ورجنیا میں مظاہرین نے پر زور مطالبہ کیا کہ بعض مجسمےجو وہاں نصب ہیں انھیں فوری طور پر ہٹایا جائے یاد رہے کہ یہ مجسمے ان شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے نصب کئے گئے تھے جنھوں نے امریکی کنفڈریسی اور غلامی کے تحفظ کے لئے کام کیا تھا۔ واشنگٹن ڈی سی کی مشہور ہاورڈ یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر لوپیز میتھیو کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ غلامی کے خاتمے کو یوں تو تقریباً دو سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن ہمیں اب بھی نسل پرستی اور پولیس کے مظالم کا سامنا ہے اور ہم اب بھی عدم مساوات کی صورتحال کا مقابلہ کر رہے ہیں اور یہ کنفڈریٹ یادگاریں ماضی کی علامتیں ہیں۔
یاد رہے کہ اس نوعیت کے یادگاری مجسمے اٹھارہ سو اسی سے اٹھارہ سو نوے کی مدت میں امریکہ کے جنوب میں نصب کئے گئے۔ پنسلیونیا میں اکیڈمی آف فائن آرٹس کی پروفیسر سارا بیتھم نے اس جانب توجہ دلائی کہ ملک کے جنوب میں تقریباً ہر کاونٹی اور کورٹ ہاؤس کے احاطے میں کنفڈریٹ لیڈروں کو خراج عقیدت کے طور پر ان کے مجسمے نصب ہیں۔ ان کے مطابق، اس بات پر یقین نہ کرنا مشکل ہے کہ ریاست کی سرپرستی میں یہ یادگاریں بہرحال سفید فام برتری کا نشان ہیں۔ حال ہی میں واشنگٹن ڈی سی میں ایک مظاہرے کے دوران ہجوم نے تالیوں کی گونج میں کنفڈریٹ جنرل ایلبرٹ پائیک کے مجسمے کو گرا دیا۔ اسی طرح رالے نارتھ کیرولینا میں ایک ہجوم نے اس وقت نہایت خوشی کا اظہار کیا جب مقامی حکام نے ایسے ہی ایک مجسمے کو اس کی بنیاد سے جدا کر دیا۔
اسی طرح جارجیا میں بھی مظاہرین نے اس وقت اپنی مسرت کا اظہار کیا جب ایک جج نے پتھر کی بنی ہوئی ایک تختی کو ہٹانے کا حکم دیا جس کے بارے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ سفید فام برتری کا احساس دلاتی ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے اس رویے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس اختتام ہفتہ اوکلاہوما کی ایک ریلی میں کہا، کہ، بقول ان کے، بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بلوائی ہماری تاریخ کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنارہے ہیں اور ہماری خوبصورت یادگاروں کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ ریپبلکن سینیٹر رائی بلنٹ نے سینیٹ میں ایک ایسے بل کی منظوری میں رکاوٹ ڈال دی جس میں کانگریس کی عمارت سے کنفڈریٹ مجسموں کو ہٹانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بوکر کا کہنا ہے کہ کانگریس کی راہداریوں میں ایسے مجسموں کی موجودگی افریقی امریکیوں کی دل آزاری کا سبب ہے اور ہماری قوم کےنصب العین کی نفی ہے۔ وائس آف امریکہ کے لئے نامہ نگار مریامہ دیالو نے اپنی رپورٹ میں یاد دلایا ہے کہ امریکی کانگریس کی عمارت میں اس طرح کے کم سے کم بارہ مجسمے ان لوگوں کی یاد میں نصب ہیں، جنھوں نے اٹھارہ سو ساٹھ کےعشرے میں امریکہ کی خانہ جنگی کے دوران کنفڈریٹ اسٹیٹس آف امریکہ کے لئے اپنی وفاداریوں کا اعلان کر رکھا تھا، جبکہ خانہ جنگی کا محور امریکہ میں غلامی کا خاتمہ کرنا تھا۔ مبصرین کی نگاہ میں جارج فلائیڈ کی موت نے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں نسل پرستی اور اس کی علامتوں کے خاتمے اور تمام انسانوں کی برابری کے لئے کی جانے والی جدوجہد کو یقیناً ایک نئی جہت دی ہے۔
ایک آٹسٹک فلسطینی کی اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر فلسطینی اوراسرائیلی دونوں باشندے سراپا احتجاج بن گئے۔ مظاہرین اس واقعے کا امریکا میں افریقی امریکی باشندے جارج فلائڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت سے موازنہ کر رہے ہیں۔ 32 سالہ ایاد الحلاق 30 مئی کو یروشلم کے پرانے شہر میں قائم ‘اسپیشل چلڈرن‘ کے ایک اسکول میں رضاکارانہ طور پر خصوصی خدمات انجام دینے جا رہا تھا کہ اسرائیلی پولیس نے اس کا تعاقب کیا اور اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق اسے شبہ تھا کہ ایادالحلاق کی تحویل میں کوئی ہتھیار تھا جس کے ساتھ وہ اسکول کی طرف جا رہا تھا۔ خیری الحلاق نے اپنے بیٹے ایاد الحلاق کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں بتایا، ”میرا بیٹا سرنڈر کرتے ہوئے زمین پر ایسے لیٹ گیا تھا جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کے رحم میں ہوتا ہے۔
بعد ازاں پولیس نے کہا کہ ایاد کے پاس سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔ رانا الحلاق ایاد کی ماں ہے۔ اپنے آٹسٹک بیٹے کے قتل پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اس نے کہا، ”انہوں نے ایک معصوم نوجوان کا خون بہایا جس نے ابھی اپنی زندگی میں بہت جی تھی۔ وہ خدا کی سب سے کمزور مخلوق تھا۔‘‘ ایاد الحلاق کی ماں نے یہ بیان اپنے بیٹے کے کمرے میں کھڑے ہو کر دیے۔ اس کمرے میں ہر طرف ایاد کی چھوٹی چھوٹی معصوم ملکیت بکھری ہوئی تھی اور اس کا ایک پوسٹر بھی نصب تھا۔ اسرائیلی پولیس فائرنگ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ دو پولیس افسران گواہی بھی دے چکے ہیں۔ 46 سالہ فلائڈ اور ایاد الحلاق کے کیسز میں مماثلت نظر آتی ہے۔ دونوں کا تعلق معاشرے کی ایسی برادریوں سے تھا جو اکثر و بیشتر پولیس کی بربریت اور نسل پرستی کا شکار ہونے کی شکایت کرتی ہیں۔
فلائڈ کی موت اس وقت ہوئی جب منیا پولیس کے ایک سفید فام پولیس افسر نے اپنا گھٹنا اس کی گردن پر رکھ کر قریب نو منٹ تک اُسے دبائے رکھا۔ دم گھٹنے کی شکایت کرتے کرتے سیاہ فام فلائڈ نے آخر کار دم توڑ دیا تھا۔ 25 مئی کو مبینہ قاتل پولیس آفسر کو حراست میں لیا گیا۔ جارج فلائڈ غیر مسلح تھا اور اس کی بہیمانہ موت سے پوری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور امریکا سمیت پوری دنیا میں نسل پرستانہ ظلم و جبر کے خلاف احتجاج کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ایاد الحلاق کی موت پر احتجاج یروشلم، تل ابیب، بیت الحم اور غرب اردن میں مقامی باشندوں، جن میں فلسطینی اور اسرائیلی دونوں شامل تھے، نے سڑکوں پر نکل کر کیا۔
مشعل بردار مظاہروں میں ‘پیلسٹینین لائیوز میٹر‘ کے نعرے لگا رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ جارج فلائڈ کے بہیمانہ قتل کے خلاف اور افریقی امریکی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔ ایک فلسطینی فنکار تقی اسپوتین نے غرب اردن کے ایک علاقے میں اسرائیل کی جانب سے تعمیر شدہ کنکریٹ کی ایک دیوار پر فلائڈ اور ایاد کی رنگین تصویر بنائی۔ ایاد الحلاق کی تصویر پر اس نے انگریزی میں لکھا، ”صرف فلائڈ نہیں ایاد الحلاق بھی‘‘۔ تقی اسپوتین کے بقول، ”دونوں افراد نسل پرستی کے تکبر کی بھینٹ چڑھے۔
فلسطینی باشندے ایک طویل عرصے سے مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں اسرائیلی پولیس اور فوجی دستوں کے ہاتھوں خود کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کی شکایت کرتے آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم خود اسرائیلی حقوق کے گروپ ‘بی ٹی سلم‘ کا کہنا ہے کہ سن 2019 میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 133 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں سے 56 کا کسی قسم کی دشمنی یا دہشت گردی میں کوئی حصہ نہیں تھا اور ان میں سے 28 نابالغ تھے۔ مغری بینک کے شہر رملہ میں فلسطینی حقوق کے لیے سرگرم ایک وکیل سلیم برہمہ نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ایاد کی موت کے جرم کے مرتکب اسرائیلی پولیس افسران کو ہلکی سزا دی جائے گی۔ اس وکیل کا کہنا تھا، ”لیکن ایک مناسب سزا؟ مجھے زیادہ امید نہیں ہے۔ یہ وہ انصاف نہیں ہو گا جس کا ایاد الحلاق مستحق ہے۔
ایک سیاہ فام پادری مارٹن لوتھرکنگ جونیئر 1968 میں کسی نامعلوم سفید فام کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ مارٹن لوتھر کوئی عام سیاہ فام نہ تھے بلکہ یہ چرچ کے منسٹر ہونے کے علاوہ امریکی افریقی قوم کے رہنما بھی تھے جنھوں نے اپنی تحریک سے سیاہ فام امریکیوں کے حقوق دلوانے میں بڑی جدوجہد کی ہے۔ اس جدوجہد کا عکس سن اڑسٹھ میں تو نمایاں نہ ہوا لیکن موٹر مکینک کی موت کے بعد عالم میں کوچہ بہ کوچہ، شہر بہ شہر، ملک بہ ملک نمایاں ہوا، ہیجانی اجتماعات منعقد ہوئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ امریکا کی چالیس ریاستوں میں انقلاب کے منظر نمایاں ہو رہے تھے۔ عوامی دباؤ کے تحت پولیس کے بڑے بڑے افسران عوام کے روبرو جارج کلائیڈ کا نام لے کر نیل ڈاؤن ہوئے۔ افسران بالا کے یہ گھٹنے اگر زمین بوس نہ ہوتے تو امریکی عوام یہ کہتے ہیں کہ دوسرا خونیں انقلاب دروازے پر کھڑا تھا۔ ریاست وسکونسن میں اور اس کے علاوہ دوسری ریاستوں میں ہتھوڑے اور درانتی کے مناظر دیکھے گئے۔
ایسے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کو فوجی کارروائی یاد آئی۔ جس پر وہاں کے اکثر فوجی ریٹائرڈ افسران بالا نے یہ کہا کہ یہ کوئی تھرڈ ورلڈ کنٹری نہیں کہ یہاں عوام کے خلاف فوج استعمال کی جائے۔ بہرصورت حزب مخالف کے لیڈران جن میں جوبائیڈن اور دیگر لیڈر شامل تھے انھوں نے گرم معاملات کو سرد کرنے میں حکومت وقت کا ہاتھ بٹایا کہ کہیں جمہوریت کے ڈبے پٹڑی سے نہ اتر جائیں۔ پندرہ دن گزر جانے کے بعد بھی فرانس کے شہر پیرس میں مظاہرین اس واقعے کی مذمت در مذمت کر رہے ہیں۔ تو اس میں کیا بعید تھا کہ اگر انقلاب بردار لوگوں کو ذرا بھی شئے مل جاتی تو امریکی ریاستیں ماضی کی سوویت یونین کا منظر نہ پیش کرتیں، لیکن امریکی دانشوروں نے سہل پسندی سے اور نرم مزاجی سے اس کڑے وقت کو گزر جانے دیا، کیونکہ امریکی عوام کو ماضی کی سوویت ریاستوں کے طرز پر بہت سے فوائد تو مل ہی رہے ہیں، تو پھر وہ ایسے انقلاب کو کیسے گلے لگائیں جس میں یہ نہیں معلوم کہ انجام کار کیا ہو گا۔
اگر فوجی بیانات کے علاوہ عملی طور پر مداخلت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، تو جو کچھ انھیں حاصل ہے دانشوروں نے یہ سوچا کہ کہیں اس سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ لہٰذا انقلاب بس ایک جھٹکے کی کسر تھی کہ شروع ہوتے ہوتے رہ گیا۔ اس میں امریکی انقلابیوں کی کمزوری کو مورد الزام ٹھرایا جائے یا ان کی دور اندیشی کی داد دی جائے۔ بہرصورت قوموں کی زندگی میں ایسے لمحے شاذ ونادر ہی آتے ہیں، پر وہاں انقلاب اس لیے بھی نہ آیا۔ کیونکہ وہاں کوئی مضبوط انقلابی پارٹی نہ تھی جس کی جڑیں ہر شہر اور ہر ریاست میں ہوتیں، کیونکہ انقلاب اچانک نہیں آتے۔ اس کی تربیت دی جاتی ہے۔ پارٹی بنائی جاتی ہے اور ذہن تیار کیے جاتے ہیں، مگر جو واقعات امریکا میں گزر گئے وہ کسی آنے والی تباہی سے کم نہ تھے۔ یہ اچھا ہی ہوا کہ بے ترتیب انقلاب آنے سے رہ گیا ورنہ اس کا انجام خود امریکا اور دیگر ممالک پر کیسے اثر انداز ہوتا۔ یہاں اس بات کے بھی امکانات تھے کہ انقلاب کے بدلے ہولناکی جنم لیتی اور انسانی زندگی برباد ہوتی۔
تو پھر مجبوراً امریکی فوج کو اپنا روایتی کردار ادا کرنا پڑتا۔ بات تو بظاہر بہت چھوٹی سی تھی کہ ایک کانسٹیبل نے ایک مزدورکی گردن پہ گھٹنا رکھ کے مار ڈالا، لیکن سماجی اعتبار سے دنیا جس قدر آگے بڑھ گئی ہے اور امریکی عوام کا شعور جتنا بلند ہو گیا ہے۔ اس کا انجام خونریز تصادم ہی ہوتا اور امریکی ریاست جو معاشی اور سماجی طور پر دنیا میں جو بلند رتبہ رکھتی ہے اس سے محروم ہونے کے امکانات بہت وسیع نظر آتے تھے۔ اس واقعے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ تعلیم تربیت اور معاشی خوشحالی انسان میں صبر، ضبط اور غور و فکر کے معاملات کو جنم دیتی ہے۔ ورنہ پولیس کانسٹیبلوں کی غلطیوں، کوتاہیوں کے نتائج تیسری دنیا کے ملکوں میں ایسے ہو جاتے ہیں جس سے بڑا ہیجان برپا ہو جاتا ہے۔
امریکا کا حالیہ ہیجان بھی پولیس کے ایک معمولی ملازم کی بے ضابطگی نے 1968 کے ان نعروں کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ جو مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کام کر رہے تھے کہ گورے اور کالوں کی چپقلش کا خاتمہ ہو جائے ورنہ کسی بھی وقت امریکی ریاست کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ باوجود اس کے کہ دنیا میں ڈالر مستحکم ہے پھر باہمی چپقلش کی وجہ سے کمزوری کا نشانہ بن سکتا ہے۔ ایک اور بات جو زیر غور ہے اور امریکی قیادت کے بلند و بالا ایوانوں سے یہ آوازیں آ رہی ہیں کہ انھیں امریکا کی اعلیٰ ترین قیادت پر مکمل اعتماد نہیں جس کا اظہار امریکی میرین جنرل جیمز مٹس نے حالیہ دنوں کے واقعات سے تنگ آکر صدر ٹرمپ پر یہ واضح کر دیا کہ وہ متضاد سیاسی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر امریکی قوم کی خدمت نہیں کر سکتے۔ حالیہ مکینک کی موت جو ایک پولیس افسرکے گھٹنے کے دباؤ سے ہوئی اور اس مستری نے موت سے چند لمحے پہلے کانسٹیبل سے کہا کہ ’’مجھے سانس نہیں آرہی ہے‘‘ مگر پولیس مین نے ایک نہ سنی، اور قانون کی دھجی اپنے جوتوں سے اڑا ڈالی۔
جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاست ہائے متحدہ کے صدر مملکت کو بھی دباؤ میں آنا پڑا۔ اور پورا امریکا کارکنوں سمیت دانشور اور سفید و سیاہ یکجا ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جو ایک نئے انقلاب آفرین راہوں سے گزرنے لگا۔ بعض لوگوں کو یہ ڈر تھا کہ کہیں کوئی ایسا انقلاب سامنے نہ آجائے کہ جس کا کوئی تدارک نہ ہو سکے۔ بہرحال دانشوروں اور افسران بالا سمیت چھوٹی قیادت سب نے مل کر اس انقلاب کا راستہ روکا اور نئی راہوں کو مشعل راہ بنایا جس سے عوام کے جذبات بھی ٹھنڈے ہوں اور بظاہر انقلاب کا راستہ بھی مسدود ہوا۔ پورے امریکا میں توڑپھوڑ تو شروع ہو گئی مگر وہ توڑ پھوڑ ان بتوں کی تھی جو پورے امریکا میں نامی گرامی بندوں کے نصب تھے۔ تمام وہ بت گرائے جانے لگے جو کبھی بلندی کا نشان تھے۔
جن لوگوں نے سیاہ فاموں کی تجارت کی تھی یا ان کے ناموں کو کم ظرف کے طور پر پیش کیا تھا ان تمام بلند مراتب لوگوں کے مراتب گرائے جانے لگے۔ صرف یہی نہیں ہوا کہ جارج کلائیڈ کا نام امریکی سرزمین پر جگہ جگہ بلند ہوا بلکہ ان کا نام ریاست ہائے متحدہ کے علاوہ یورپی سرزمین فرانس، برطانیہ میں بھی اتنا بلند ہوا کہ وہاں کے باشندے بھی یہ سمجھے کہ یوکے میں بھی کوئی انقلاب آنے کو ہے۔ یہاں بھی اہل دانش نے ہوش مندی سے کام لیا اور تصادم سے گریز کیا۔ اس میں سب سے قیمتی آرا اور راستہ لندن کے میئر صادق نے اختیار کیا کہ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی ہیجان میں مبتلا ہو کر قدیم مشہور لوگوں کے مجسموں کو پاش پاش نہ کریں بلکہ یہ کام حکومت خود اپنے ہاتھوں سے کرے گی، تاکہ ملک میں کوئی خلفشار نہ پیدا ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی آرا تیزی سے بدل چکی ہے۔ انھیں یہ معلوم ہے کہ دور جدید میں اقوام کی آزادی کا کیا مفہوم ہے۔
مسٹر صادق نے مزید کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ سیاہ فام اقوام اور دیگر قوموں کے ساتھ فتح مند لوگوں نے کیا سلوک کیا۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ فتح مندوں کے چہرے جابجا نمایاں نہ کیے جائیں۔ مسٹر صادق نے مزید کہا کہ امریکا میں اس وقت جو مہم چل رہی ہے رفتہ رفتہ اس کی حدت میں کمی آگئی ہے۔ مگر اس کمی کو لانے میں امریکی سیاہ فام اور سفید فام دانشوروں کا بڑا ہاتھ ہے۔ مگر ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ صورتحال بالکل قابو میں ہے۔ سیلاب تو گزر گیا مگر اس کے چھوڑے ہوئے تباہ کاریوں کے آثار جگہ جگہ موجود ہیں۔ امریکا میں تباہ کاریوں کے درمیان ایک اور نعرہ لگایا جا رہا تھا کہ پولیس کا نظام ختم کرو۔ یہ ایک بے راہ رو آزادی کا نشان تھا جو اب رفتہ رفتہ سکون کی سانس میں ڈوب گیا۔ اگر اہل دانش نے امریکا میں ہوش مندی سے کام نہ لیا ہوتا تو پھر ریاست ہائے متحدہ میں ہر طرف ہائے، ہائے کے نعرے بلند ہو رہے ہوتے اور دانشوروں کی رکاوٹ کے باوجود امریکا سکون کی دنیا میں اپنا وقار بچا نہ سکتا۔
اس قسم کے واقعات تھرڈ ورلڈ میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں مگر لوگوں کو انسانی جان کی اس قدر پروا نہیں ہے اور نہ لوگ ہتک عزت سے طیش میں آتے ہیں۔ دسمبر کے شروع میں کراچی پولیس نے بیچ شہر میں بیسیوں لوگوں کو ایک ساتھ مرغا بنا کر چلایا، مگر دوسرے روز شہر پرسکون تھا۔ انسانی حقوق کے علم بردار ایسا لگتا ہے کہ وہ اس محاورے سے بڑے متاثر تھے کہ رات گئی بات گئی۔ ابھی تھرڈ ورلڈ میں انسانی حقوق اور عزت نفس کا وہ تصور بیدار نہیں ہوا جوکہ مغربی دنیا میں ہو چکا ہے اور یہاں کی انجمنیں انسانی حقوق کا صرف پرچار کر رہی ہیں۔ اگر امریکا میں سفید فام دانشوروں نے وقت کی نزاکت کو نہ سمجھا ہوتا تو آج امریکا سفید فام اور سیاہ فام کی کشمکش سے گزر رہا ہوتا کیونکہ امریکی حکمرانوں کو نسلی امتیاز کی گہرائیوں سے واسطہ نہیں پڑا۔