نچے قد کے " بونے" لوگ ! "

نچے قد کے ” بونے” لوگ ! “
“لب پر میٹھے میٹھے بول
دل میں کینہ ، بُغض ، ریا
نیت میں ازلوں سے کھوٹ
لفظوں کا بیوپار کریں
مطلب ھو تو پیار کریں
جھوٹے دعوے یاری کے
شُعبدے ھیں مکاری کے
وقت پڑے تو کُھلتے ھیں
اُونچے قد کے “بونے” لوگ !!

Enhanced by Zemanta

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خاموشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہمارے لئے وہاں
شام آگئی ھے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

Enhanced by Zemanta

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ ، جو نہیں ملا اسے بھول جا

“امجد اسلام امجد کی ایک بے مثال غزل”

کہاں آ کے رکنے تھے راستے، کہاں موڑ تھا، اسے بھول جا
وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ ، جو نہیں ملا اسے بھول جا

وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر مری بات سن اسے بھول جا ، اسے بھول جا

میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں ، ترِی آس، تیرے گمان میں
صبا کہ گئی مرے کان میں ، میرے ساتھ آ، اسے بھول جا

کسی آنکھ میں نہیں اشکِ غم ، ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بھلا دیا ، تو بھی مسکرا، اسے بھول جا

کہیں چاکِ جاں کا رفو نہیں ، کسی آستیں پہ لہو نہیں
کہ شہیدِ راہِ ملال کا نہیں خوں بہا، اسے بھول جا

کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں، غمِ زندگی کے فشار میں
وہ جو درد تھا ترے بخت میں، سو وہ ہو گیا ، اسے بھول جا

نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی، نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا
دلِ منتظر تو یہ کس لئے ترا جاگنا، اسے بھول جا

یہ جو رات دن کا ہے کھیل سا ، اسے دیکھ ، اس پہ یقیں نہ کر
نہیں عکس کوئی بھی مستقل سرِ آئنہ، اسے بھول جا

جو بساطِ جاں ہی الٹ گیا ، وہ جو راستے سے پلٹ گیا
اسے روکنے سے حصول کیا، اسے مت بلا ، اسے بھول جا

تو یہ کس لئے شبِ ہجر کے اسے ہر ستارے میں دیکھنا
وہ فلک کہ جس پہ ملے تھے ہم، کوئی اور تھا ، اسے بھول جا

تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ، ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو
وہ تھا اک دریا وصال کا، سو اتر گیا اسے بھول جا

Enhanced by Zemanta

میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی

میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کرکے ناز کرے
میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
میرا قلم نہیں اس دزدِ نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پے دھرا نقاب رکھتا ہے
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
اسی لئے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبیں پہ لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں ، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

Enhanced by Zemanta