لیبیا سے زیادہ تر پاکستانی ہی کیوں یورپ کا رخ کر رہے ہیں؟

رواں برس کے آغاز میں لیبیا کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے خطرناک سمندری راستے عبور کر کے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جن میں پاکستانیوں کی تعداد نمایاں ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق رواں برس کے آغاز کے ساتھ ہی لیبیا کے ساحلوں سے یورپ جانے کے رجحان میں اضافے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران چھ ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں نے بحیرہ روم کے سمندری راستے عبور کر کے اٹلی کا رخ کیا ہے۔

ترکی اور یورپی یونین کے مابین مہاجرین سے متعلق طے پانے والے معاہدے کے بعد ہی سے لیبیا کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا تھا۔ گزشتہ برس یورپی یونین نے لیبیا کی یونٹی گورنمنٹ کے تعاون سے لیبیائی ساحلی محافظوں کو تربیت فراہم کرنا شروع کی تھی۔ علاوہ ازیں لیبیائی حکومت کے حامی ملیشیا کے اہلکار بھی مہاجرین کو یورپ کا رخ کرنے سے روکتے دکھائی دیے تھے، جس پر انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے یورپی یونین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم ایسے اقدامات کے بعد سن 2017 کے اواخر تک لیبائی ساحلوں سے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں واضح کمی بھی واقع ہوئی تھی۔ لیکن رواں برس شروع ہوتے ہی اس رجحان میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے۔ جرمن پبلک براڈ کاسٹر اے آر ڈی نے اپنی ایک رپورٹ میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس اضافے کے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی ملک پر عملداری نہیں ہے اور ایسی صورت حال میں لیبیا کے ساحلی محافظوں اور انسانوں کے اسمگلروں کے گٹھ جوڑ سے ان راستوں کے ذریعے یورپ کی جانب کشتیاں روانہ کی جا رہی ہیں۔

زیادہ تعداد پاکستانی شہریوں ہی کی کیوں؟
لیبیائی ساحلوں پر تارکین وطن سے لدی ایک کشتی ڈوبنے کے واقعے میں نوے سے زائد تارکین وطن ڈوب گئے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق ان میں زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق پاکستان سے تھا۔ اے آر ڈی نے اپنی رپورٹ میں آئی او ایم کے ترجمان جول ملمان کے حوالے بتایا ہے کہ انسانوں کے اسمگلر پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے تارکین وطن کو پہلے ترکی اور متحدہ عرب امارات لاتے ہیں جس کے بعد انہیں لیبیا پہنچا دیا جاتا ہے۔ ملمان نے لیبیا کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے والوں میں پاکستانیوں کی نمایاں تعداد کی وجوہات بیان کرتے ہوے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے لیبیا پاکستانی شہریوں کے لیے روزگار کے حصول کی ایک اہم منزل رہا ہے اور اس ملک میں کئی پاکستانی شہری طویل عرصے سے آباد ہیں۔

انسانوں کے اسمگلر مزید تارکین وطن کو بھی ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے لیبیا منتقل کر رہے ہیں تاہم ملمان کے مطابق لیبیا میں سکیورٹی کی مایوس کن صورت حال کے باعث وہاں پہلے سے مقیم پاکستانی شہری بھی بحیرہ روم کے راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ طویل سمندری راستے انتہائی خطرناک بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ آئی او ایم کے مطابق رواں برس کے ابتدائی چند روز کے دوران ہی ڈھائی سو سے زائد تارکین وطن سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے جب کہ اب تک بحیرہ روم میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد پندرہ ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

بشکریہ DW اردو

یورپ جانے والی ایک اور کشتی ڈوب گئی : زیادہ تر پاکستانی تارکین وطن سوار تھے

لیبیا کے ساحل کے قریب یورپ جانے کی کوشش میں ایک کشتی سمندر میں ڈوب گئی ہے۔ اس کشتی کے ڈوبنے کے باعث قریب 90 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کشتی پر زیادہ تر پاکستانی تارکین وطن سوار تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے ’انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن‘ (IOM) کے حوالے سے بتایا ہے کہ تارکین وطن سے بھری یہ کشتی جمعہ کی صبح ڈوبی۔ ڈوبنے والی اس کشتی پر سوار تین افراد کے بچ جانے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 10 لاشیں کنارے تک پہنچی ہیں۔ حادثے میں بچ جانے والے افراد کے مطابق 90 تارکین وطن ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان سے ہے۔

آئی او ایم کی ترجمان اولیویا ہیڈون کے مطابق بچ جانے والوں نے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ اس کشتی پر سوار زیادہ تر تارکین وطن کی اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی جو ایک گروپ کی صورت میں نکلے اور اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تھے۔ تیونس میں موجود اولیویا ہیڈون نے بذریعہ فون یہ بات جنیوا میں دی جانے والی ایک نیوز بریفنگ میں بتائی۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق بہتر زندگی کی خواہش رکھنے والے 43،000 تارکین وطن کو رواں برس سمندر میں ڈوبنے سے بچایا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقی ممالک سے تھا۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی ترجمان اولیویا ہیڈون کے مطابق، ’’اس حادثے میں بچ جانے والے تارکین وطن کے مطابق کشتی ڈوبنے کے باعث سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جانے والوں کی تعداد 90 ہے، لیکن ابھی ہمیں ان افراد کی تعداد کی تصدیق کرنا ہے جو اس سانحے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔‘‘ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قبل ازیں لیبیا کے مغربی شہر ’زوراوا‘ میں حکام نے کہا تھا کہ ڈوبنے والی کشتی سے تین افراد کو بچایا گیا ہے جن میں سے دو لیبیا کے جب کہ ایک پاکستانی شہری ہے۔

حکام کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ 10 لاشوں کو سمندر سے نکالا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر پاکستانی شہری تھے۔ تاہم اس بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔ سمندری راستے کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے لیبیا حالیہ عرصے کے دوران مرکز کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ چار برس کے دوران چھ لاکھ سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن لیبیا سے بذریعہ سمندر اٹلی پہنچے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ یورپ کا رُخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن مختلف راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

یورپ کا سفر کسے کیسے کھا گیا ؟ دلدوز داستانیں شائع

آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب سجائے غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے
والا مزید ایک پاکستانی راستے میں ہی ہلاک ہو گیا ہے۔ حالیہ کچھ عرصے کے دوران نوشہرہ ورکاں کے ایک ہی دیہات کا ہلاک ہونے والا یہ چھٹا نوجوان ہے۔
غیر قانونی طریقے سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہونے والا پچیس سالہ مشتاق احمد ڈیڑھ ماہ پہلے اپنے گھر سے نکلا تھا۔ مشتاق کے والدین کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان کا بیٹا اس وقت ہلاک ہوا، جب وہ ایک گاڑی پر سوار ایران کی سرحد عبور کرنے کی کوشش میں تھا۔ بتایا گیا ہے کہ سرحد پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا اور وہ حادثے کا شکار ہو گئی۔
مشتاق احمد کی میت گزشتہ روز ان کے گاؤں متہ ورکاں لائی گئی۔ متہ ورکاں میں حالیہ چند ماہ کے دوران یورپ جانے کی خواہش میں ہلاک ہونے والا یہ چھٹا نوجوان ہے۔ چند ماہ پہلے اسی گاؤں کے پانچ نوجوان ترکی سے غیرقانونی طور پر یونان جاتے ہلاک ہو گئے تھے۔

ہلاک ہونے والے مشتاق احمد کے سات بہن بھائی ہیں جبکہ ان کے والد پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔ آخر اس گاؤں کے نوجوان کیوں غیر قانونی طریقے سے یورپ جانا چاہتے ہیں؟ اس حوالے سے نوشہرہ ورکاں کے مقامی صحافی میاں عمران بشیر کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ آج سے پچیس تیس سال پہلے جو لوگ یورپ گئے، ان میں سے زیادہ تر یورپ کے اچھے معاشی حالات کی وجہ سے وہاں سیٹل ہو گئے تھے۔ اب ان لوگوں کی اور مقامی لوگوں کی مالی یا معاشی ترقی کی رفتار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج کے نوجوان اپنے اردگرد کے ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں اور ان جیسی پرآسائش زندگی کی تلاش میں یورپ جانا چاہتے ہیں۔

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے
غیر قانونی طریقے سے یورپ جانا انتہائی پرخطر ہے لیکن دیہاتوں کے نوجوان اس کے باوجود ایسا کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ آخر نوجوان اس طرح غیر قانونی طریقے سے ہی یورپ کیوں جا رہے ہیں؟ اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے عمران بشیر نے بتایا، ’’ہمارے ہاں خاندان بڑے اور ذرائع آمدن کم ہیں۔ یورپ جانے کا سب سے سستا طریقہ ’ڈنکی‘ ہی ہے، جس میں تین لاکھ روپے میں بندہ یونان تک پہنچ جاتا ہے۔ غربت، تعلیم میں کمی اور معاشی مسائل کی وجہ سے نوجوان قانونی طریقے سے یورپ جانا افورڈ نہیں کر سکتے اور وہ ’ڈنکی‘ کا طریقہ ہی اپناتے ہیں۔ بیس سے تیس سال کی عمر تک کے نوجوان فطری طور پر ناسمجھدار، ایڈونچر پسند اور ڈر یا خوف سے عاری مزاج کے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایجنٹوں کے دکھائے گئے مستقبل کے سہانے سپنے، ڈنکی کے دوران ایجنٹوں کی طرف سے آرام دہ اور مشکلات سے پاک سفر کی جھوٹی منظر نگاری، اس کے اہم اسباب ہیں۔‘‘

ایک ہی گاؤں میں چھ نوجوانوں کی ہلاکتوں کے باوجود اس گاؤں کے درجنوں نوجوان مستقبل میں بھی غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مقامی افراد ان تلخ تجربات سے کیوں کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے اور سادہ لوح انسان کس طرح ایجنٹوں کی نرغے میں آ جاتے ہیں؟ عمران بشیر اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں، ’’نئے ایجنٹ ماضی میں نوجوانوں کی ہلاکتوں کو نا تجربہ کار ایجنٹوں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بڑا ایجنٹ ظاہر کرتے ہیں، نوجوانوں کو ہر قسم کی گارنٹی دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور سادہ لوح دیہاتی ان پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔‘‘

گوجرانوالہ ڈویژن کے تقریبا ہر شہر اور تحصیل میں ایجنٹ اور ان کے سب ایجنٹ نوجوانوں کو غیر قانونی طریقے سے یورپ تک پہنچانے ( ڈنکی لگوانے) کا کاروبار کر رہے ہیں۔ نوشہر ورکاں کے مقامی صحافی الزام عائد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کاروبار میں ایف آئی اے کے اہلکار بھی ملوث ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اتنی زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہونے کے باوجود بھی اس پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
عمران بشیر کا انکشاف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نوشہرہ ورکاں ہی کے کئی دیہاتوں کے لوگوں نے ایران اور ترکی میں اپنے سیف ہاؤسز بنا رکھے ہیں اور اسی کام کے ذریعے وہ لاکھوں، کروڑوں روپے کما رہے ہیں، ’’سب ایجنٹ یہاں سے بندے تیار کر کے انہیں ایران تک پہنچاتے ہیں، اس کے بعد ایران میں بیٹھے انسانی اسمگلر ان نوجوانوں کو ترکی میں بیٹھے ایجنٹوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ سلسلہ یونان تک چلتا ہے۔ ہر انسانی اسمگلر اپنے حصے کی رقم وصول کرکے نوجوانوں کو اگلے ایجنٹ کے ہاتھوں فروخت کر دیتا ہے۔‘‘

بشکریہ DW اردو

پاکستان بے گھروں کو پناہ دینے والا دوسرا بڑا ملک ہے، اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں ساڑھے چھ کروڑ افراد مہاجر ہیں، پناہ کے متلاشی ہیں یا پھر اپنے ہی ملک میں بے گھر ہیں جب کہ پاکستان 14 لاکھ پناہ گزینوں کا میزبان ہے۔ اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2015 کے مقابلے پر 2016 میں اس تعداد میں تین لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 2014 تا 2015 کے مقابلے پر خاصی کم ہے جب تقریباً 50 لاکھ افراد بےگھر ہوئے تھے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزینان فلیپو گرانڈی کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود یہ بین الاقوامی سفارت کاری کی مایوس کن ناکامی ہے۔ انھوں نے کہا: ‘ایسا لگتا ہے کہ دنیا امن قائم کرنے کے قابل نہیں رہی۔

‘آپ دیکھتے ہیں کہ پرانے تنازعات اب بھی جوں کے توں چلے آ رہے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ نت نئے تنازعات بھی بیدار ہو رہے ہیں، اور ان دونوں کے نتیجے میں لوگ در بدر ہو رہے ہیں۔ جبری دربدری کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں کی علامت ہے۔’ گرانڈی نے خبردار کیا کہ اس کا بوجھ دنیا کے غریب ترین ملکوں پر پڑ رہا ہے، کیوں کہ دنیا کے 84 فیصد سے زیادہ پناہ گزینوں کا تعلق غریب اور متوسط آمدنی والے ملکوں سے ہے۔ انھوں نے کہا: ‘میں افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کم وسائل کے حامل ملکوں سے یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ وہ پناہ گزینوں کو قبول کریں جب کہ امیر ملک ایسا کرنے سے انکاری ہیں؟’ اقوامِ متحدہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس رپورٹ کی اشاعت سے امیر ملکوں کو دوبارہ سوچنے کا موقع ملے گا کہ وہ نہ صرف زیادہ پناہ گزینوں کو قبول کریں، بلکہ امن کی ترویج اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بھی حصہ ڈالیں۔

دنیا کے بےگھر افراد : اعداد و شمار
اس وقت دنیا میں ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ افراد بے گھر ہیں جن میں سے سوا دو کروڑ مہاجر ہیں
چار کروڑ اپنے ہی وطن میں بےگھر ہیں
28 لاکھ دوسرے ملکوں میں پناہ کے متلاشی ہیں

پناہ گزینوں کا تعلق کہاں کہاں سے ہے؟
شام: 55 لاکھ
افغانستان: 25 لاکھ
جنوبی سوڈان: 14 لاکھ
انھیں کون پناہ دے رہا ہے؟
ترکی: 29 لاکھ
پاکستان: 14 لاکھ
لبنان: دس لاکھ
ایران: 979,4000
یوگینڈا: 940,800
ایتھیوپیا: 791,600