خسارے کے شکار ادارے 5 ماہ میں ایک سو 15 ارب روپے قرض لے چکے

پاکستان کے پہلے سے خسارے میں چلنے والے قومی اداروں نے رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران بینکوں سے ایک سو 15 ارب 46 کروڑ روپے قرض لے لیا۔ پاکستان تحریک انصاف  کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کا خسارہ کم کرنے کی کوشش کریں گے تاہم حکومت نے ان کی نجکاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان اداروں نے گزشتہ مالی سال کے دوران اسی عرصے میں صرف 2 ارب 58 کروڑ روپے قرض لیا تھا۔ جن قومی اداروں نے قرض لیا ان میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم)، پاکستان ریلوے (پی آر) اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) شامل ہیں۔

صرف پی آئی اے، اسٹیل ملز اور ریلوے کی وجہ سے گزشتہ 3 سال کے دوران مجموعی طور پر 7 سو 5 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق قومی ادارے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ تیزی سے مقروض ہو رہے ہیں۔ گزشتہ برس ان اداروں نے مجموعی طور پر بینکوں سے 2 سو 45 ارب 40 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا لیکن گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں یہ قرض بہت کم تھا جبکہ صرف 5 ماہ میں 2 ارب 58 کروڑ کے قرض لیے گئے۔ تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک قومی ادارے قرض لینے میں ریکارڈ لگا سکتے ہیں کیونکہ 18-2017 کے اختتام پر 10 کھرب 68 ارب 20 کروڑ روپے کا قرض لیا گیا جبکہ مالی سال 17-2016 کے دوران 8 سو 22 ارب 50 کروڑ روپے قرض لیا گیا۔

حکومت کی جانب سے خواہش کا اظہار کیا گیا کہ وہ ان اداروں کے نقصان کو کم کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ اس حوالے سے واضح پلان نہیں دیا گیا۔ حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں پی آئی اے اور اسٹیل ملز کو بہتر کرنے کا ہدف بنایا گیا جبکہ دوسرے مرحلے پر وزیرِ ریلوے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے ابتدائی 100 روز کے دوران اس محکمے میں بہتری لائی گئی ہے۔ گزشتہ دورِ حکومت کے دوران اس وقت کے وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ریلوے کو خسارے سے نکال لیا گیا ہے جبکہ ان کے اقتدار کے 5 سال بعد بھی یہ محکمہ خسارے میں ہی رہا۔ حکومت نے ان اداروں کے ملازمین کی ملازمت کو جاری رکھنے کے لیے اربوں روپے مختص کیے۔

حال ہی میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بتایا کہ گیا کہ 13-2012 کے دوران ان اداروں کا خسارہ جی ڈی پی کا 1.7 فیصد تھا، جو بڑھ کر 2016 میں 2.3 فیصد ہو گیا تھا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز پیش کی گئی تھی کہ پاکستان ان اداروں کی نجکاری کرنے کے اقدام کو پورا کرے۔ خیال رہے کہ پاکستانی حکام کی آئندہ برس کے آغاز میں ہی آئی ایم ایف حکام سے ملاقات متوقع ہے جہاں خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری سے متعلق بات چیت کی جائے گی۔

بشکریہ ڈان نیوز اردو

Safe Pakistan Railways by Sikandar Hameed Lodhi

 Safe Pakistan Railways by Sikandar Hameed Lodhi

Enhanced by Zemanta

History of Pakistan Railways

English: Karakoram Express departing to Lahore...
English: Karakoram Express departing to Lahore from Karachi Cantt. Station. (Photo credit: Wikipedia)

PR History
Pakistan Railways provides an important mode of Transportation in the farthest corners of the country and brings them closer for Business, sight seeing, pilgrimage and education. It has been a great integrating force and forms the life line of the country by catering to its needs for large scale movement of people and freight.

The possibility of Karachi as a sea port was first noticed in the mid of 19th century and Sir Henry Edward Frere who was appointed Commissioner of Sind after its annexation with Bombay in 1847 sought permission from Lord Dalhousie to begin survey of sea port. He also initiated the survey for Railway line in 1858 . It was proposed that a railway line from Karachi City to Kotri, steam navigation up the Indus /Chenab upto Multan and from there an other railway to Lahore and beyond be constructed.

It was on 13th May,1861 that first railway line was opened for public traffic between Karachi City and Kotri, the distance of 105 miles. The line between Karachi City and Keamari was opened on 16.6.1889.By 1897 the line from Keamari to Kotri was doubled.

The railway line from Peshawar to Karachi closely follows Alexander’s line of march through the Hindu Kush to the sea. Different sections on existing main line from Peshawar to Lahore and Multan and branch lines were constructed in the last quarter of 19th century and early years of 20th century.

The 4 sections i.e.Scinde railways, Indian Flotilla company Punjab railway and Delhi railways working in a single company were later on amalgamated into Scinde, Punjab & Delhi railways company and was purchased by the Secretary of State for India in 1885 and in January, 1886 it was named North Western State Railways which was later on renamed as North Western Railways.

At the time of partition, North Western Railway’s 1847 route mile was transferred to India leaving route miles 5048 to Pakistan. In 1954 The railway line was extended to Mardan and Charsada section and in 1956 Jacababad-Kashmore 2’-6’’ line was converted into broad gauge. Kot Adu-Kashmore line was constructed between 1969 to 1973 providing an alternate route from Karachi to up country.
Enhanced by Zemanta