وینزویلا کے تنازع میں روس اور امریکہ آمنے سامنے

روس کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا کےنکولس مدورو کو ملک کا جائز حکمران تسلیم کرتی ہے اور اس کی حمایت میں جو ضروری ہوا وہ کرے گی۔ ساتھ ہی روس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے وین گواڈو کو ملک کا عبوری صدر تسلیم کر کے بغاوت کی پشت پناہی کی ہے۔ گو کہ صدر ولادی میرپو ٹن کی قوم پرست اور سماجی لحاظ سے قدامت پسند حکومت، وینزویلا کی سوشلسٹ حکومت سے نظریات میں تضاد رکھتی ہے۔ لیکن روس کی وینزویلا کے لئے حمایت نظریات میں یکسانیت کی وجہ سے نہیں، بلکہ بغضِ امریکہ میں ہے۔ آج بھی، روسی وزارت خارجہ کے صدر دفتر کی بالائی منزل پر، سوویت دور کے پرانے نشان آویزاں ہیں۔ آج بھی ماسکو کے اندرون شہر کارل مارکس کا مجسمہ آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہا ہے اور لینن کے مسجمے سڑکوں پر اور زیر زمین ہر جگہ موجود ہیں۔ لیکن یہ سوشلسٹ دور کی باقيات ہیں۔

ماہرین کے نزدیک پرانے نظریات، آج روس کی نکولس مدورو کے لئے حمایت کی وجہ نہیں ہیں۔ تو پھر اس حمایت کی وجہ کیا ہے۔ اس بارے میں روس کے ایک دفاعی تجزیہ کار، پیول فینجین ہور کہتے ہیں کہ روس کی وینزویلا کی کیے لئے حمایت، نظریات کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کی مخالفت ہے۔ پیول کہتے ہیں کہ پوٹن کا موقف دائیں بازو کے کرسچین قوم پرست جیسا ہے۔ ایک طرف تو پوٹن یورپ میں، دائیں بازو کے سخت گیر موقف رکھنے والے عوامیت پسندوں کی حمایت کرتے ہیں، مگر لاطینی امریکہ میں وہ بائیں باز کے نظریات رکھنے والی حکومتوں کی، یعنی کیوبا، نکارا گوا میں اورٹیگا کی اور پھر مدورو کی۔

مدورو کی حکومت کے خلاف، امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے نقصاندہ اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تیل کی بڑی کمپنی لُک آئل نے، وینزویلا میں تیل کی سرکاری تحويل میں چلنے والی کمپنی کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا اور روس کے درمیان تجارتی معاہدے زیادہ نہیں ہیں، تاہم عسکری نوعیت کے معاہدے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے، رشین انٹرنیشنل افیئرز کونسل کے ڈائریکٹر آندرے کور تونوو کہتے ہیں کہ روس اور وینزویلا کے درمیان اقتصادی روابط چند ہی ہیں۔

ایک تو اس لیے کیونکہ وہ بہت دور ہے، اور خاص طور پر وینزویلا کی معیشت کے کمزور ہونے کی وجہ سے، چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لئے وہاں سرمایہ کاری کرنا اس وقت سود مند نہیں ہے، کیونکہ حکومت مستحکم نہیں ہے، اس لئے نجی کمپنیاں وہاں جانے سے گریزاں ہیں۔ وینزویلا کے حالات نے لاکھوں افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ زیادہ تر افراد روس نہیں گئے۔ صرف چند لوگ ہی وہاں گئے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں وہاں اپنا مستقبل نظر نہیں آ رہا تھا اور وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں روس آئے۔ روس نے وینزویلا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت کا آغاز کرے تا کہ تعطل ختم ہو اور روس کے مفادات کو تحفظ مل سکے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

ینزویلا کو امریکی دھمکی

امریکہ نے وینزویلا کو متنبہ کیا ہے کہ امریکی سفیروں یا اپوزیشن رہنما خوان گوئیدو کے خلاف کسی بھی خطرے کا ’بھر پور جواب‘ دیا جائے گا۔ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کا کہنا ہے اس طرح کی ’دھمکی‘ قانون کی حکمرانی پر ’ایک بڑا حملہ‘ ہو گا۔ جان بولٹن کی یہ دھمکی امریکہ اور 20 سے زیادہ ممالک کی جانب سے گوائیدو کو وینزویلا کا نگران صدر تسلیم کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب گوئیدو نے حکومت مخالف مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ وینزویلا میں جاری سیاسی بحران اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اسی دوران جب حزبِ مخالف کے صدر مدورو کو اقتدار سے الگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ کے گوائیدو کو نگران صدر تسلیم کرنے کے بعد مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے امریکی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔ اس کے جواب میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی حکومت صدر مدورو کے ذرائع آمدن پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ صدر مدورو نے سنہ 2013 میں ہوگو شاویز کے مرنے کے بعد بحیثیت صدر ملک کا اقتدار سنبھالا تھا۔ مئی سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد صدر مدورو نے دوسری مرتبہ اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔

وینزویلا کی حزب مخالف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور صدر مدورو پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ وینزویلا کی فوج کے ایک اعلیٰ نمائندے جوز لیوس سلوا نے صدر مدورو کی حکومت سے الگ ہو کر کہا کہ وہ گوئیدو کو وینزویلا کا صدر تسلیم کرتے ہیں۔ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ٹوئٹر پر واشنگٹن کی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے ’کسی کے خلاف تشدد اور دھمکی‘ کے حوالے سے خبردار کیا۔

اب کیا ہو گا ؟
متعدد یورپی ممالک جن میں سپین، جرمنی، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں نے کہا کہ اگر آٹھ روز میں انتخابات کروانے کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ گوئیدو کو وینزویلا کا صدر تسلیم کر لیں گے۔ تاہم وینزویلا کے صدر مدورو نے یورپی ممالک کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الٹی میٹم ہر صورت واپس لیا جانا چاہیے انھوں نے سی این این ترک کو بتایا ’وینزویلا یورپ کے ساتھ منسلک نہیں ہے۔ یہ مکمل گستاخی ہے۔

مدورو کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ اپنی صدارت کے مخالفین کے ساتھ جامع مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘ اور انھوں نے صدر ٹرمپ کو ’متعدد پیغامات‘ بھیجے ہیں۔ صدر مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔