اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کے لیے ناممکن ہے

عالمِ اسلام اور اُمتِ مسلمہ کا اجتماعی ضمیر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہے۔ ارضِ فلسطین اور فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی مظالم اور استحصالی ہتھکنڈے اس قدر شدید اور اتنے زیادہ ہیں کہ ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی اکثریت اسرائیل کو بطورِ ایک جائز مملکت ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کے باوجود کسی کو چاہے کتنا ہی بُرا کیوں نہ لگے، عالمِ عرب کے ایک معروف مسلم ملک، متحدہ عرب امارات، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ کوئی دن جاتا ہے جب یو اے ای اور اسرائیل ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات کے بندھن میں بندھ جائیں گے ۔ کورونا (کووِڈ19) پر مشترکہ تحقیقی کاوشیں کرنے کے لیے تو یہ دونوں ملک اکٹھے بیٹھ چکے ہیں۔ مبینہ طور پراسرائیل کی مشہور خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ کا سربراہ متحدہ عرب امارات کا پہلا دَورہ بھی کر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے عالمِ عرب کے ایک اور مسلم ملک ، عمان، سے بھی رابطہ کیا ہے اور بحرین ایسے چھوٹے مگر دولتمند عرب مسلمان ملک سے بھی نامہ و پیام جاری ہے۔

مصدقہ خبریں ہیں کہ اسرائیلی وزیر خارجہ (گابی اشکنیزی) نے عمان کے وزیر خارجہ ( یوسف بن علاوی بن عبداللہ) سے مفصل ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے سفارتی مصافحے کے بعد پورے عالمِ اسلام میں ایک ہیجان کی سی کیفیت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ہر مسلمان مضطرب ہے، حالانکہ اس سے قبل مصر، اردن اور ترکی بھی اسرائیل سے سفارتی ، سیاحتی ، دفاعی اور تجارتی تعلقات استوار کر چکے ہیں۔ پھر ابوظہبی اور تل ابیب کے سفارتی مصافحے اور معانقے پر یہ اضطراب و ہیجان کیوں؟۔ ہمارے امیرِ جماعتِ اسلامی ، محترم سراج الحق، اور امیرِ جے یو آئی ایف، حضرت مولانا فضل الرحمن، تو شبہات کا اظہار کر چکے ہیں کہ نئے حالات میں شائد ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ اسرائیل بارے نرم گوشہ رکھ رہے ہیں۔ ایسے پُر شور اور پُر شبہ ماحول میں وزیر اعظم عمران خان نے غیر مبہم الفاظ میں کہا ہے: ’’پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔

ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے، جب تک فلسطینیوں کو اُن کا حق نہیں ملتا۔‘‘ وزیر اعظم مزید مستحکم لہجے میں کہتے ہیں: ’’ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو حق ملے گا تو اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔ اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو مقبوضہ کشمیر کو بھی چھوڑ دینا ہو گا کیونکہ دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔ فلسطین کے بارے میں ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے ۔ میرا ضمیر کبھی بھی فلسطین کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہو گا۔‘‘ فلسطین نے اس پر خان صاحب کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب کے اس بیان سے یہ تو واضح ہو جاتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں اُن کا ذہن صاف اور ابہام سے پاک ہے۔ پاکستان سمیت عالمِ اسلام کی اکثریت اسرائیل کو اُسی طرح ایک غاصب ملک سمجھتی ہے جس طرح مقبوضہ کشمیر بارے بھارت کو ایک غاصب مملکت سمجھا جاتا ہے۔

یہ دونوں حل طلب تنازعات اسلامیانِ عالم کے لیے نہایت حساس موضوعات ہیں۔اپنی کئی کمزوریوں کے باوجود یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہمارے حکمران کشمیر و فلسطین سے دستکش ہو جائیں ۔ یہ تنازعات حل ہوں گے تو ہی جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی فضاؤں کا راج ہو گا۔ اسرائیل مگر بضد اور مُصر ہے کہ وہ امریکی آشیرواد اور پشت پناہی سے عالمِ عرب کو مجبور کر دے گا کہ وہ اُسے ایک جائز مملکت تسلیم کر لیں ۔ امریکی صدر اپنے داماد و مشیر جیرڈ کشنر، جو ایک معروف امریکی یہودی خاندان کا فرد ہے ، کی وساطت سے اسرائیلی لابنگ کر رہے ہیں کہ جانتے ہیں کہ یوں اگر امریکی و اسرائیلی یہودی خوش ہو جائیں تو دوسری بار کی امریکی صدارت اُن کی جھولی میں آگرے گی۔

اسرائیل کا یہ دعویٰ محض کھوکھلی بَڑ نہیں ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین اور عمان بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔‘‘ حیرت خیز بات یہ ہے کہ اس بیان پر بحرین اور عمان کی طرف سے تردید یا تصدیق میں کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ اس خاموشی کا دراصل مطلب کیا ہے ؟ نوبت ایں جا رسید کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وہائٹ ہاؤس کے ترجمان ، جیرڈ کشنر، نے 19 اگست 2020 کو امریکی صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں تحکم سے کہا: ’’ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہو گا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے کیا ہے۔ یہ اقدام سعودی عرب کے دفاع اور کاروبار کے لیے بہت اچھا ہو گا۔‘‘ یہ تو نہایت اچھا ہُوا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ ( شہزادہ فیصل بن فرحان) نے ترنت جواب دیا ہے: ’’جب تک یہودی ریاست ، اسرائیل، فلسطینیوں سے امن معاہدے پر دستخط نہیں کرتی، اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے باہمی معاہدے پر عربوں کی ایک بڑی تنظیم (جی سی سی) میں سے بحرین اور عمان نے تو اس کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کویت اور قطر ابھی تک خاموشی کی چادر اوڑھے ہُوئے ہیں ۔ عالمِ عرب کے کنٹرولڈ میڈیا میں یو اے ای اور اسرائیل کے ’’ امن معاہدے‘‘ بارے کم کم اختلافی آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ اس کے برعکس ایرانی اور ترک میڈیا اس معاہدے بارے خاصا مشتعل محسوس ہو رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اسرائیل کی عسکری طاقت کے سامنے عالمِ عرب پورے قد کے ساتھ کھڑا ہونے کی سکت ہی نہیں رکھتا ۔ ترپن سال قبل عالمِ عرب کے تین ممالک ( مصر، اردن ، شام) نے ہمت اور اتحاد سے اسرائیل پر بیک وقت حملہ کیا تھا لیکن اسرائیل نے پلٹ کو ان تینوں کو نہ صرف عبرتناک شکست دی بلکہ تینوں اسلامی ممالک کے کئی علاقوں پر فوجی قبضہ بھی کر لیا۔ مصر اور اُردن کے کئی زیر قبضہ علاقے تو اسرائیل نے ’’مہربانی‘‘ سے چھوڑ دیے لیکن شام کے پہاڑی علاقے (گولان ہائٹس) ابھی تک اُس کی گرفت میں ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ اگر شام، اردن اور مصر میں آمریتیں نہ ہوتیں تو شائد جمہوریت اور عوامی طاقت سے تینوں ممالک کے عوام غاصب اسرائیل کے سامنے ڈٹے رہتے۔ بد قسمتی سے یہ تینوں ملک اب بھی جمہوریت کی نعمت سے محروم ہیں؛ چنانچہ ان کی طاقت اور مزاحمتی قوت بھی ہمارے سامنے ہے۔ پھر جمہوری اور جوہری اسرائیل کے سامنے عالمِ عرب کے حکمران کس طرح ہمت و قوت سے ڈٹ سکتے ہیں ؟ سچ یہ ہے کہ عراق و شام کے ڈکٹیٹروں نے اسرائیل کے مقابل اپنے عوام کو مایوس کیا ہے ۔ جمال عبدالناصر، صدام حسین اور حافظ الاسد اسرائیل کے سامنے ریت کے ٹیلے ثابت ہُوئے۔ بس ڈینگیں اور بڑھکیں مارتے رہے ۔ جب وقتِ قیام آیا تو عشروں تک عوام کی گردنوں پر سوار یہ آمر مسلمان حکمران اسرائیل کے سامنے ’’سجدے ‘‘میں چلے گئے۔

اسرائیل کے خلاف نہ جمال ناصر کی ’’طاقتور ایئر فورس‘‘ بروئے کار آئی، نہ صدام حسین کے سکڈ میزائل کام آ سکے ، نہ حافظ الاسد کی ’’ بعث پارٹی ‘‘ نے وطن پر قربان ہونے کی ہمت کی اور نہ اردن کے شاہ حسین کی ہاشمی بادشاہت اسرائیل کے سامنے دَ م مار سکی ۔ سب بھوسہ ثابت ہُوئے۔ اسرائیل نے عراقی ایٹمی پلانٹ تباہ کر ڈالا لیکن صدام کچھ بھی نہ کر سکا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسرائیل سے شکست کے بعد بھی یہ چاروں آمر حکمران مدتوں اقتدار سے چپکے رہے۔ تو کیا اس پس منظر میں متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ اپنائی ہے؟ اگرچہ متحدہ عرب امارات میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی مزدوری کر رہے ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان فلسطینیوں کی طرف پشت کر کے فی الحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔

تنویر قیصر شاہد

بشکریہ ایکسپریس نیوز

یو اے ای اسرائیل معاہدہ اور اثرات

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی گونج نے خطے میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاہدے پر پاکستان کا موقف بھی سامنے آچکا ہے۔ ترکی نے معاہدے کی نہ صرف شدید الفاظ میں مذمت کی بلکہ متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات معطل کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ ایران نے اس معاہدے کو شرمناک قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے علاقے میں خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر مصر کے علاوہ ابھی تک کسی عرب یا مسلم ملک کا کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مصر نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ مسلم ممالک کے علاوہ دنیا کے دیگر اہم ممالک نے بھی تا حال اس معاہدے پر اپنا رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔ صرف برطانیہ نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان نے اگرچہ اپنے رد عمل میں کوئی واضح موقف ظاہر نہیں کیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے اپنے رد عمل کے اظہار میں جلدی کی ہے۔ کیونکہ ابھی نہ تو اس معاہدے کے اہم نکات واضح ہیں نہ یہ معلوم ہوا ہے کہ اس معاہدے کا مستقبل کیا ہے۔ پاکستان کے بعض عوامی حلقوں نے معاہدے کی مذمت کی ہے۔ لیکن اس معاملے پر جذبات کے اظہار کے ساتھ ساتھ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا ضروری ہے۔

اس معاہدے کے فلسطینیوں، خطہ اور خصوصاً پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنیوالے چند دنوں میں اس معاہدے پر وائٹ ہائوس میں فریقین کے دستخط کی تقریب منعقد ہونیوالی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ جلد دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کر لیں گے۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ امریکہ ہمیشہ کی طرح اب بھی اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ صدر ٹرمپ تو اس معاملہ میں دیگر کئی امریکی صدور کے مقابلہ میں اسرائیل کا بہت زیادہ ساتھ دے رہے ہیں۔ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معاہدے سے دونوں ممالک کو تو بہت مالی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن بلاشبہ فلسطینی کاز کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔ فلسطینی مسلمانوں کی جو تھوڑی بہت امیدیں عرب ممالک سے وابستہ تھیں وہ دم توڑ دیں گی۔ بھارت کے لئے یہ معاہدہ وقتی طور پر خوش کن لیکن مستقبل قریب میں نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لئے بھارت کو اس معاہدے سے خوش نہیں ہونا چاہئے کیونکہ بھارت کے دونوں ممالک کے ساتھ پہلے سے تعلقات قائم ہیں۔

اسرائیل سے تو کسی اچھائی کی امید نہیں کی جا سکتی لیکن یہ بات یقینی ہے کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کبھی بھی مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بھارت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کا اسلامی برادر ملک ہے اور مسلمانوں خصوصاً پاکستانیوں کے دل میں سعودی عرب کے لئے بہت عقیدت اور احترام کے جذبات ہیں اور یہ جذبات تاقیامت قائم رہیں گے۔ وقتی گلہ شکوہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کسی بڑی خلیج کا باعث نہیں بن سکتا۔مصدقہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حال ہی میں پیدا ہونے والی بعض غلط فہمیاں کافی حد تک دور ہو چکی ہیں۔ پاکستانی عسکری قیادت کے حالیہ دورے کے بعد تعلقات میں مزید استحکام آجائے گا۔ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات صدر ٹرمپ اور ان کے داماد کی طرف سے کی گئی ہے لیکن شاید یہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ اگرچہ دونوں ممالک کا اندرونی معاملہ ہے لیکن اس معاہدے کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی سے دیگر کئی عرب ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی اسرائیلی نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن فلسطین اور کشمیر میں بڑا فرق ہے۔ اب دنیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اب مودی کو بھی اپنی سوچ تبدیل کرنا پڑے گی۔ خود بھارت تیزی سے تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان معاملات انتہائی کشیدہ ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کیخلاف اسرائیل میں ہی متعدد احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ با الفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایسے اقدامات محض اپنی سیاسی بقا کے لئے اٹھا رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کوئی بھی حادثہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اور احادیث مبارکہ کے مطابق یہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ خدانخواستہ اگر ایسی صورتحال بن گئی تو اس کے صرف ایران اور اسرائیل ہی فریق نہیں رہیں گے۔

ایس اے زاہد

بشکریہ روزنامہ جنگ

سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا

سعودی عرب نے کہا کہ وہ اس وقت تک متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کر سکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کر دے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے برلن کے دورے کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کے دو ریاستی حل کے فارمولے اور عرب امن منصوبے کے پابند تھے اور رہیں گے. اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے ساتھ امن ضروری ہے، فلسطینیوں کو حقوق ملنے کے سب کچھ ممکن ہے۔ اپنے جرمن ہم منصب ہائیکو ماس کے ساتھ نیوز کانفرنس میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل کی مقبوضہ مغربی کنارے میں وابستگی اور بستیوں کی تعمیر کی یکطرفہ پالیسیوں پر تنقید کی جو دو ریاستوں کے حل کے لیے ناجائزاور نقصان دہ ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کے جانب دارانہ اقدامات فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر اپنے پہلے رد عمل میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے 2002 میں عرب امن منصوبے کی سرپرستی کی تھی لیکن اب فلسطینی امن معاہدے کے بغیر اسرائیل کے سفارتی تعلقات کی گنجائش نہیں ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان کے مطابق ان کے جرمن ہم منصب ہائیکو ماس کے ساتھ بات چیت میں ایران پر عائد ہتھیاروں کی پابندی میں توسیع کی ضرورت کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔ لیبیا کے حوالے سے فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ ہم لیبیا کا بحران حل کرنے کے لیے قاہرہ منصوبے اور برلن کانفرنس کے اعلان کو سپورٹ کرتے ہیں، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے نتیجے میں اسرائیل مغربی کنارے کے حصوں کے الحاق کو مؤخر کرنے پر راضی ہوا ہے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔ یو اے ای اور اسرائیل کے معاہدے پر خلیج تعاون ممالک (جی سی سی) میں سے بحرین اور عمان نے اس کا خیر مقدم کیا تھا، اب تک عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب، یو اے ای اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر خاموش تھی لیکن مقامی عہدیداروں کے مطابق امریکی دباؤ کے باوجود ریاض نے اپنے اہم علاقائی اتحادی (یو اے ای) کے نقش قدم پر چلنے کا امکان ظاہر نہیں کیا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اسرائیل کی پانچوں انگلیاں گھی میں

جب دو روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے پر راضی ہو گئے ہیں تو اس کے فوراً بعد اماراتی وزیرِ خارجہ انور گرگیش نے خوشخبری دی کہ ہمارے اس فیصلے سے فلسطینی مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا عمل رک گیا ہے مگر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے وضاحت کی کہ غربِ اردن کو ضم کرنے کا فیصلہ کالعدم نہیں ہوا صرف ملتوی ہوا ہے۔ البتہ جن فلسطینیوں کی بھلائی کے لیے امارات نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بحالی کا ’’ کڑوا گھونٹ ‘‘ پیا۔ وہی مورکھ فلسطینی اس تاریخی فیصلے کے فوائد سمجھنے سے قاصر ہیں۔ چنانچہ غزہ پر حکمران حماس ہو کہ غربِ اردن پر حکمران الفتح کی فلسطین اتھارٹی۔ دونوں نے اس فیصلے کو مسترد کر کے اسے فلسطینی کاز کی پیٹھ میں ایک اور چھرے سے تعبیر کیا ہے۔

سینئر فلسطینی رہنما محترمہ حنان اشراوی نے ٹویٹ کیا  ’’ کاش کوئی بھی اپنی دھرتی چرائے جانے کے کرب سے دوچار نہ ہو ، کاش کسی کو بھی نظربندی جیسے حالات میں زندہ رہنے کی اذیت نہ سہنا پڑے ، کاش کوئی بھی اپنی نگاہوں کے سامنے اپنا ہی گھر منہدم ہوتے یا اپنا ہی کوئی پیارا ہلاک ہوتے نہ دیکھے ، کاش کوئی بھی اپنے ہی دوستوں کے ہاتھوں فروخت ہو جانے کے عذاب سے نہ گذرے ‘‘۔ متحدہ عرب امارات کا اسرائیل سے باضابطہ تعلقات کے قیام کا فیصلہ اہم ضرور ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ حیرت سے آنکھیں پھٹی رہ جائیں۔ یہ آنکھیں تو تب ہی پھٹ چکی تھیں جب اردن نے اکتوبر انیس سو تہتر میں اسرائیل کو مشترکہ عرب حملے کی پیشگی اطلاع دے دی تھی۔ یہ آنکھیں تب ہی باہر نکل آئی تھیں جب انور سادات نے اکتالیس برس پہلے یروشلم میں اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے تحت اپنے مقبوضہ علاقے تو واگذار کروا لیے مگر فلسطینیوں کو اپنے حال پر چھوڑتے ہوئے کہا جہاں رہو خوش رہو۔

کہنے کو امارات پہلا خلیجی اور اردن و مصر کے بعد تیسرا عرب ملک ہے جس نے اسرائیل سے باضابطہ سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ مگر غیر رسمی طور پر دیکھا جائے تو سوائے کویت کے اومان ، امارات ، بحرین وغیرہ کے کئی برس سے اسرائیل سے کئی حساس و معمول کے شعبوں میں غیررسمی تعاون اور تعلقات ہیں اور ان تعلقات کو سعودی عرب کی خاموش تائید حاصل ہے ۔  اومان پہلا خلیجی ملک ہے جس کا اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے دو برس پہلے دورہ کیا۔ قطر کے اگرچہ اسرائیل سے باضابطہ تعلقات نہیں لیکن اس حد تک ورکنگ ریلیشن شپ ضرور ہے جس کے سبب قطر غزہ کے فلسطینیوں کی کئی برس سے مالی مدد کر رہا ہے۔ خلیج کے ہی ایک اور ملک ایران کے رضا شاہ پہلوی کے دور میں انیس سو پچاس سے اسرائیل سے مکمل سفارتی و عسکری تعلقات تھے۔ مگر انیس سو اناسی میں شاہی دور کے خاتمے کے بعد ایرانی پالیسی نے یوٹرن لیا۔

البتہ عراق کے ساتھ دس سالہ جنگِ خلیج میں سی آئی اے نے نہ صرف صدام حسین کی مواصلاتی مدد کی بلکہ اسرائیلی کمپنیوں کے ذریعے ایران کو بھی میزائل ، فاضل پرزے اور دیگر رسد فراہم کی۔ اس قصے کو امریکی سفارتی تاریخ میں ایران گیٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے کبھی بھی اسرائیل سے براہِ راست تعلقات نہیں رہے۔ البتہ سوویت افغان خانہ جنگی کے دور میں سی آئی اے کی امدادی پائپ لائن قائم ہونے سے پہلے اسرائیل نے اپنے مال خِانے میں موجود وہ روسی اسلحہ سی آئی اے کے توسط سے مجاہدین تک پہنچایا جو اس نے سڑسٹھ اور تہتر کی جنگوں میں شامی اور مصری افواج سے چھینا تھا۔ اس آپریشن کا مقصد یہ تھا کہ سوویت قیادت کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ مجاہدین نے یہ اسلحہ افغان کیمونسٹ فوجیوں سے چھینا ہے۔

دو ستمبر دو ہزار پانچ کو پاکستانی وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری نے انقرہ میں اسرائیلی وزیرِ خارجہ سلوان شلوم سے باضابطہ ملاقات کی۔ لگ بھگ ہفتے بھر بعد نیویارک میں صدر پرویز مشرف کے اعزاز میں اسرائیل کی سب سے طاقتور پشتی بان ورلڈ جیوش کانگریس نے عشائیہ دیا۔ اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کو اپنے لیے براہِ راست عسکری خطرہ نہیں سمجھتا البتہ پاکستانی عوام کو فلسطینیوں اور ان کی مجوزہ ریاست کے تصور سے جذباتی لگاؤ ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں ریاستی سطح پر غیررسمی انداز میں کئی بار یہ مباحثہ چھیڑنے کی کوشش کی گئی کہ بدلی ہوئی دنیا میں اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے میں کیا قباحت ہے۔ آخری بار یہ سوال گزشتہ برس وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اٹھایا تھا۔غالباً مذہبی سیاسی لابی فی الحال اس مہم جوئی میں خاموش مددگار بننے کے موڈ میں نہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے فیصلے کو دوغلا پن قرار دیا ہے۔ حالانکہ ترکی پہلا مسلمان ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اس کے اسرائیل کے سفارتی تعلقات مارچ انیس سو انچاس سے ہیں (ایران اسرائیل کو تسلیم کرنے والا دوسرا مسلمان ملک تھا )۔ اگر شمالی افریقہ کی بات کی جائے تو مصر اور ماریطانیہ اگرچہ دو ممالک ہیں ، جن کے اسرائیل سے بظاہر باضابطہ سفارتی تعلقات ہیں، مگر شمالی افریقہ میں اسرائیل کے سب سے پرانے مراسم مراکش سے ہیں۔ مراکش میں یہودی پندرھویں صدی میں اسپین سے مسلم سلطنت کے خاتمے کے بعد سے آن کر بسے۔ انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں مراکش کے موجود شاہ محمد ششم کے والد شاہ حسن ثانی نے لگ بھگ پچاس ہزار مراکشی یہودیوں کی اسرائیل نقلِ مکانی میں سہولت دی اور تہتر کی جنگ سے پہلے تک دونوں ممالک میں سفارتی و تاریخی تعلقات قائم تھے۔

اسلامی سربراہ کانفرنس کے رکن کئی افریقی ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کبھی بحال ہو جاتے ہیں تو کبھی خراب جاتے ہیں۔ اسرائیل ان ممالک کی نہ صرف زرعی و آبی و عسکری شعبوں میں مدد کرتا ہے بلکہ متعدد افریقی ممالک کے تارکینِ وطن اسرائیل میں محنت مزدوری بھی کرتے ہیں۔ ویسے اسرائیل کے اردگرد کے موجودہ حالات اس کے نقطہِ نظر سے قدر مثالی ہیں کہ اسرائیل کو اپنے مفاداتی تحفظ کے لیے اضافی پتہ تک توڑنے کی ضرورت نہیں۔ اسرائیل کا مسلسل دشمن شام اپنی ہی خانہ جنگی کے ہاتھوں برباد ہو چکا ہے۔ لبنانی ریاست پر سے جنتا کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ اردن میں نہ پہلے سیاسی سکت تھی نہ اب ہے۔ مصر کہنے کو عرب دنیا کا سب سے گنجان اور طاقتور عسکری ملک ہے لیکن یہ ریاستی قد کسی بیرونی دشمن کے بجائے خود مصری شہریوں کو ڈرانے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

خلیج میں ایران ایک طرف اور دیگر خلیجی ریاستیں ، امریکا اور اسرائیل دوسری طرف۔ قطر ایک طرف اور دیگر برادر خلیجی ریاستیں دوسری طرف۔ یمن ایک طرف اور سعودی و عرب و امارات دوسری طرف۔ لیبیا عملاً مغربی و مشرقی حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ تریپولی میں قائم حکومت کو اقوامِ متحدہ اور ترکی کی حمایت میسر ہے۔ جب کہ بن غازی میں باغی جنرل خلیفہ ہفتر کی سپاہ کو کرائے کے روسی فوجیوں ، فرانسیسی ، اماراتی و مصری حکومتوں کی امداد حاصل ہے۔ یہ جنگ دراصل لیبیا کے تیل کی جنگ ہے۔ قذافی کے بعد سے لیبیا کے پنجر پر ہر طرح کے لگڑ بگے اور مردار پسند گدھ بیٹھے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں مصر ، یونان ، اسرائیل اور فرانس کے مابین تیل و گیس کی تلاش کے لیے سمجھوتہ ہوا ہے مگر اس علاقے پر ترکی کا بھی معاشی دعویٰ ہے۔

یوں اب خلیج ، شام اور لیبیا کے بعد مشرقی بحیرہ روم میں بھی ایک نیا محاذ کھل گیا ہے اور ترکی بمقابلہ عرب مع اسرائیل و یورپ و امریکا ایک نئی رسہ کشی شروع ہو چکی ہے۔ رہی بات فلسطینیوں کی تو اسرائیل بھلے غربِ اردن کے باقی ماندہ علاقے ضم کرے یا نہ کرے۔ بوٹ تلے دبے سانس کی قلت کا شکار فلسطینیوں کو کیا فرق پڑتا ہے۔ رہا ٹرمپ تو نومبر کے صدارتی انتخابات جیتنے کے لیے اگر اسے امید کا ایک اضافی تنکہ بھی مل جائے تو کیا برا ہے۔ اور تازہ تنکہ یہی اماراتی اسرائیلی سفارت کاری کی شعبدہ کاری ہے۔ نیتن یاہو ویسے ہی کرپشن کے مقدمات اور ممکنہ گرفتاری کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں کہیں سے بھی ذرا سی خوشخبری بھی اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔ مورل آف دی اسٹوری : حالات کو جیسے بھی الٹ پلٹ کر دیکھیں۔ اس وقت اسرائیل خطے کا واحد ملک ہے جس کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔

وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز