اسرائیلی حکومت ۔ توازن ایک مسلمان کے پاس

اسرائیل میں حکومت تبدیل ہو گئی مگر مظلوم فلسطینیوں کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آسکے گی بلکہ ان کے لئے خطرات پہلے سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں کیونکہ 71 سالہ نیتن یاہو کی جگہ آنے والے 49 سالہ تفتالی بینٹ یاہو سے کہیں زیادہ شدت پسند، بنیاد پرست یہودی ہیں۔ وہ 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والے ویسٹ بینک، مشرقی یروشلم، شام کی گولان ہائٹس پر یہودیوں کا حق ہی فائز سمجھتے ہیں۔ جبکہ فلسطینیوں کا اوّلیں مطالبہ یہی ہے کہ اسرائیل یہ مقبوضہ علاقے خالی کرے۔ نیتن یاہو کے 12 سالہ اقتدار کا خاتمہ 8 پارٹیوں کے اتحاد سے ممکن ہوا۔ یش اتید (17)، بلیو اینڈ وائٹ (8) ، لسیرائیل بیٹنو (7)، یامینا (6)، نیو ہوپ (6)، میرٹز (6) ،رام (4)۔ نظریاتی اور سیاسی طور پر ان جماعتوں میں سوائے یاہو کی مخالفت کے کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں پہلی بار مسلمان سیاسی جماعت رام بھی شامل ہوئی ہے۔ اب جب ان کا مشترکہ ہدف یاہو کی برطرفی حاصل ہو چکا ہے تو یہ کتنے عرصے تک متحد رہ سکیں گی؟

صرف سات سیٹیں رکھنے والی پارٹی کے سربراہ بینٹ ستمبر 2023 تک وزیر اعظم رہیں گے۔ پھر وہ یہ منصب جلیلہ یش اتید کے سربراہ 57 سالہ یائر لیپڈ کے حوالے کر دیں گے۔ اس اتحاد کو یہ حکومت 59 کے مقابلے میں 60 یعنی صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے ملی ہے۔ فلسطینی ریاست کے صدر 85 سالہ محمود عباس کے ترجمان نے بہت معروضی تبصرہ کیا ہے کہ یہ اسرائیل کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہمیں مستقبل کے بارے میں کسی خود فریبی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ ہم اپنے پرانے مطالبے پر قائم ہیں کہ اسرائیل 1967 کی جنگ میں قبضہ کیے ہوئے سارے علاقے خالی کرے۔ یاسر عرفات کے بھتیجے 68 سالہ ناصر القدویٰ کا کہنا ہے کہ بینٹ اور یاہو میں شخصی طور پر کوئی فرق نہیں ہے۔ بلکہ بینٹ زیادہ شدت پسند ثابت ہو گا۔ ایک مقبول فلسطینی رہنما 67 سالہ مصطفیٰ برغوثی نے کہا ہے کہ اس تبدیلی میں صرف ایک روشن پہلو ہے کہ اب نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے مقدمات کسی مداخلت کے بغیر چل سکیں گے۔

لیکن حکومت میں بینٹ کا مرکزی عہدے پر براجمان ہونا ہم فلسطینیوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ یہ حکومت قیام امن کے قابل نہیں ہو گی۔ حماس نے نئی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ یروشلم میں اس ہفتے ہونے والا فلیگ مارچ دھماکہ خیز ہو سکتا ہے۔ فائر بندی کو ایک مہینہ بھی ابھی نہیں ہوا۔ اس قسم کے اجتماع سے اشتعال پیدا ہو گا۔ فائر بندی کا معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ اس فلیگ مارچ کی یروشلم کی مقامی انتظامیہ نے بھی مخالفت کی ہے۔ فلسطینیوں میں بینٹ کے وزیر اعظم بننے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مسلم مملکتوں کی طرف سے کوئی ردّ عمل سامنے نہیں آرہا اور نہ ہی فلسطینی حکومت سے کسی اسلامی ملک نے تبدیلی کے بعد صورت حال جاننے کے لئے رابطہ کیا ہے۔ اس اتحاد میں رام کے سربراہ 47 سالہ منصور عباس کی شرکت ایک تاریخی پیشرفت ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں کہا گیا کہ اس نئی مخلوط حکومت کی کامیابی کی کنجی ایک مسلمان سیاستدان کے ہاتھ میں ہو گی۔

منصور عباس انتہائی معروضی انداز میں عرب اسرائیلیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان پر یہودی اسرائیلی دائیں بازو کے ساتھ اشتراک پر انگلیاں اٹھی ہیں۔ لیکن منصور عباس نے عرب اسرائیلیوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے بجٹ میں اضافے کے لئے اس فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔ اتحاد سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ عرب اسرائیلیوں کی غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کا 2017 کا قانون منسوخ کیا جائے۔ مصطفیٰ برغوثی نے منصور عباس کی دلیل کو کمزور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی کوششیں پہلے بھی ہوئی ہیں۔ نسل پرست یہودی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ اسرائیل کے اندر رہتے ہوئے فلسطینیوں کو اپنے حقوق حاصل نہیں ہو سکتے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ نئے اسرائیلی وزیر اعظم بینٹ کیا عزائم رکھتے ہیں؟ والدین امریکی نژاد ہیں اور بہت کٹر مذہبی، بینٹ نے بھی اپنے بنیاد پرستانہ عقائد کو کبھی چھپایا نہیں۔

وہ اسرائیلی فوج میں ایک کمانڈو کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یاہو کے چیف آف اسٹاف بھی رہ چکے ہیں۔ وسیع تر یہودی قوم پرست ریاست کے پرچارک۔ فلسطینی بستیوں میں یہودی آباد کاروں کے سب سے بڑے حامی۔ انگریزی بڑی روانی سے بولتے ہیں۔ ٹاک شوز میں کھل کر اپنی شدت پسندی ظاہر کرتے ہیں۔ ایک مذاکرے میں ویسٹ بینک میں آباد کاری کے مسئلے پر انہوں نے ایک اسرائیلی عرب کو ڈانٹتے ہوئے کہا:’’ تم لوگ جب درختوں پر لٹک رہے تھے۔ ہماری یہاں یہودی مملکت تھی۔‘‘ وہ اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کے دو ریاستی نظریے کو ہمیشہ مسترد کرتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی اپنی کمپنی کے قیام کے بعد وہ کھرب پتی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر باقاعدہ شدت پسند یہودیوں کا روپ دھار کر قیام امن کی کوششوں کا مذاق اڑا چکے ہیں۔ اسرائیل میں نیتن یاہو کے 12 سالہ اقتدار کا خاتمہ۔ اسرائیل کے اندرونی معاملات کے لئے یقیناً بہتر ہو گا۔ مگر اس خطّے میں قیام امن کے لئے فلسطینی ریاست کی با اختیاری۔ فلسطینیوں پر ظلم و ستم میں کمی۔ فلسطینی نوجوانوں کے مستقبل کے لئے یہ تبدیلی کسی صورت مناسب نہیں لگ رہی ہے۔

یہ مخلوط حکومت کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ نیتن یاہو اپنی الوداعی تقریر میں کہہ چکے ہیں۔ ’ہم واپس آئیں گے‘۔ آٹھ پارٹیوں میں سے کسی ایک کی علیحدگی پر یاہو واپس آسکتے ہیں۔ پہلے تو یہ دیکھنا ہو گا۔ یہ متضاد نظریات رکھنے والا اتحاد ستمبر 2023 تک قائم بھی رہتا ہے یا نہیں؟ فلسطینی قیادت اگر رام پارٹی کو رام کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے تو تل ابیب کا راج سنگھاسن ڈول سکتا ہے۔ اسرائیل میں جمہوریت کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ اسی لئے وہاں ان ہائوس تبدیلی ممکن ہو گئی ہے۔ اسرائیلی بڑا میڈیا یاہو کی رخصتی کا خیر مقدم کر رہا ہے۔ کیونکہ ان میں تکبر بہت آگیا تھا۔ اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے وہ ہر ہتھکنڈہ استعمال کررہے تھے۔ کرپشن کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا۔ فلسطینیوں سے معاملات آگے بڑھنے کی بجائے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اسرائیلی تجزیہ کار نئی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ علاقے میں امن قائم کرنے کے اقدامات کو ترجیح دے۔ شدت پسندی سے یاہو کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ نئی حکومت نے اگر اعتدال کا راستہ اختیار نہیں کیا تو علاقے میں محاذ آرائی بڑھ سکتی ہے۔ ہماری نظر یں مسلم قیادتوں پر ہیں کہ وہ اسرائیل میں اس تبدیلی سے کیا فائدہ اٹھا سکتی ہیں ۔ نئی اسرائیلی حکومت پر دبائو ڈال کر اسے شدت پسندی سے روک سکتی ہیں یا نہیں۔

محمود شام

بشکریہ روزنامہ جنگ

عرب اسرائیل تعلقات آج کے تھوڑے ہیں

انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے بعد جن عرب ممالک نے فلسطینیوں کے حق میں نئی ریاست پر لشکر کشی کی ان میں سے چار ممالک ( شام ، لبنان ، اردن ، مصر) کی سرحدیں براہ راست اسرائیل سے ملتی تھیں۔ جب کہ متعدد مسلمان ممالک کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت علامتی نوعیت کی تھی۔ علامتی تو محض تکلفاً کہہ رہا ہوں۔ دراصل ان مسلمان ممالک کی فلسطین نواز پالیسی ’’ حسین سے بھی مراسم یزید کو بھی سلام ‘‘ کے اصول پر استوار تھی۔ یہاں میں غیر عرب مسلم ممالک ترکی اور ایران کا تذکرہ نہیں کر رہا جنھوں نے اسرائیل کو وجود میں آنے کے ایک برس کے اندر ہی باضابطہ تسلیم کر لیا (انیس سو اناسی میں ایران نے اسرائیل سے تعلقات توڑ لیے) آج میرا موضوع غیر خلیجی عرب ممالک اور شمالی افریقہ ہے۔ اردن جیسی فرنٹ لائن اسٹیٹ بھی نومولود اسرائیلی ریاست سے روزِ اول سے رابطہ میں تھی۔ مثلاً انیس سو اڑتالیس انچاس میں جن عرب ممالک نے اسرائیل کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ان میں سب سے مضبوط اردن کی فوج المعروف عرب لیجن تھی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جس برطانیہ نے اسرائیل کی پیدائش میں دائی کا کردار ادا کیا۔اسی برطانیہ کا ایک جنرل سر جان بیگٹ گلب عرف گلب پاشا انیس سو چھپن تک عرب لیجن کا کمانڈر رہا۔ اسی کی قیادت میں عرب لیجن نے انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد مغربی کنارے پر اسرائیل کو روکا (مغربی کنارہ بشمول بیت المقدس بالاخر انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیل نے چھین لیا )۔ مگر گلب پاشا اپنے بادشاہ اور اس کے سرپرست برطانیہ کی مرضی کے برعکس نومولود ریاست پر فیصلہ کن وار کیسے کر سکتا تھا؟ چنانچہ اسرائیل نے متحدہ عرب فوج کو راستے میں ہی روک دیا۔ یہ فوج خود ہی رک گئی یا پھر سامراجی اسکرپٹ میں اس فوج کا بس اتنا ہی کردار تھا ؟ یہ آپ کی سوچ پر چھوڑتا ہوں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ صرف گلب پاشا ہی اسکرپٹ کا حصہ نہیں تھا بلکہ موجودہ اردنی بادشاہ کے دادا شاہ عبداللہ کے بھی اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریان سے مراسم تھے۔

اسی لیے شاہ عبداللہ پر کسی سرپھرے نے مسجدِ اقصی کی سیڑھیوں پر قاتلانہ حملہ کیا مگر گولی خوش قسمتی سے سینے پر لگے تمغوں سے ٹکرا کر پھسل گئی۔ شاہ عبداللہ کے بعد آپ کے صاحبزادے شاہ حسین تخت پر بیٹھے تو انھوں نے والد کی پالیسی کو آگے بڑھایا۔ انیس سو تریسٹھ کے بعد سے شاہ حسین اور اسرائیلی حکام کی لندن کے اس کلینک میں ملاقاتیں ہوتی تھیں جہاں شاہ طبی معائنے کی غرض سے آتے جاتے تھے۔ جون انیس سو سڑسٹھ میں اگرچہ اسرائیل نے شام سے گولان کی پہاڑیاں اور مصر سے جزیرہ نما سینا اور اردن سے بیت المقدس سمیت پورا غربِ اردن چھین لیا مگر اردن اور اسرائیل کے خاموش روابط پر کوئی خاص فرق نہ پڑا۔ انیس سو ستر میں اردنی ٹینکوں نے اسرائیل سے انیس سو اڑتالیس میں نکالے گئے فلسطینوں کے کیمپ یہ کہہ کر کھدیڑ دیے کہ فلسطینی اردن میں ریاست کے اندر ریاست بنا رہے ہیں۔ سیکڑوں ہلاکتیں ہوئیں۔ چنانچہ فلسطینیوں کی اکثریت لبنان منتقل ہو گئی۔

انیس سو تہتر میں جب مصری صدر انور سادات اور شامی صدر حافظ الاسد نے اپنے اپنے مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل سے آزاد کروانے کا منصوبہ بنایا تو اس منصوبے میں اردن کو بھی شامل کیا گیا۔ سادات اور اسد نے حملے کی اصل تاریخ یعنی چھ اکتوبر خود تک محدود رکھی مگر شاہ حسین کو ایک ہفتے بعد کی تاریخ بتائی گئی۔ شاہ حسین نے اگلے ہی دن اسرائیل کا خفیہ دورہ کر کے وزیرِ اعظم گولڈا میر کو بتا دیا کہ دس اکتوبر کے بعد کسی بھی دن سرپرائز کے لیے تیار رہیں۔ اس سے پہلے کہ اسرائیلی ریزرو فوجیوں کو طلب کیا جاتا مصر اور شام نے چھ اکتوبر کو دو طرفہ حملہ کر دیا اور پھر شاہ حسین کو باضابطہ مطلع کیا گیا۔ جب نومبر انیس سو ستتر میں انور سادات پہلے عرب رہنما بن گئے جنھوں نے کھلم کھلا اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کیا تو پوری مسلمان دنیا سوگ میں تھی۔ مصر کا سیاسی و سماجی بائیکاٹ ہو گیا اور اسے عرب لیگ اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم سے نکال دیا گیا۔

لیکن جب انیس سو چورانوے میں دوسرے عرب ملک اردن نے اسرائیل کو باضابطہ تسلیم کیا تب تک اسرائیل کو کسی مسلمان بالخصوص عرب ملک کی جانب سے تسلیم کرنا نہ کرنا کوئی اچنبھے کی یا چیخنے چلانے والی خبر نہیں رہی۔ اس سے دو برس پہلے انیس سو بانوے میں خود پی ایل او اوسلو سمجھوتے کے تحت اپنوں کی بے اعتنائی اور امریکی دباؤ کی تاب نہ لا کر اسرائیل کو تسلیم کر چکی تھی۔ مگر پی ایل او کا یہ قدم اختیار سے زیادہ اس کی بے بسی کا غماز تھا۔ لہذا اس کے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور کسی مقتدر مسلمان عرب ریاست کی جانب سے تسلیم کرنے کی نوعیت میں فرق کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ صرف اردن ہی کیا۔ خود مراکش کے پچاس کی دہائی سے اسرائیل سے غیر اعلانیہ تعلقات ہیں۔ شمالی افریقہ میں مراکشی یہودی برادری عددی اعتبار سے سب سے بڑی تھی اور اب بھی ہے۔حالانکہ اکثریت پچھلے ستر برس میں اسرائیل منتقل ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے مراکش کی انٹیلی جینس ایجنسی کو تربیت دی۔ دو اسرائیلی وزرائے اعظم مختلف مواقعے پر رباط جا چکے ہیں۔

تیونس اور اسرائیل کے غیر رسمی تعلقات حبیب بورقیبہ کے دور سے ہی قائم ہیں۔اسرائیل زرعی ٹیکنالوجی سے تیونس نے بھی خاصا استفادہ کیا۔ جب انیس سو بیاسی میں شدید اسرائیلی فوجی دباؤ کے سبب یاسر عرفات کی قیادت میں پی ایل او کو بیروت چھوڑنا پڑا تو فلسطینی قیادت کو تیونس نے ہی سرچھپانے کی جگہ دی۔مگر پھر اسی تیونس کے صدر زین العابدین بن علی نے انیس سو چھیانوے میں اسرائیل کو رابط دفتر کھولنے کی اجازت دی اور اپنا بھی ایک دفتر تل ابیب میں کھولا۔ عرب لیگ اور اسلامی کانفرنس کے ایک اور اہم افریقی عرب رکن سوڈان کے بھی اسرائیل سے تعلقات بگڑتے بنتے رہے۔ انیس سو ستاون میں سوڈانی وزیرِ اعظم عبداللہ خلیل کی اسرائیلی رکن ِ پارلیمان گولڈا میر سے پیرس میں ملاقات ہوئی۔ مگر بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ اگرچہ انیس سو انہتر میں تختہ الٹنے والے جنرل جعفر النمیری کے دورِ صدارت میں اسرائیل سے روایتی فاصلہ برقرار رہا۔ البتہ جب انیس سو چوراسی پچاسی میں اسرائیل نے ایتھوپیا کے آٹھ ہزار فلاشا یہودیوں کو فضائی راستے سے براستہ سوڈان اسرائیل منتقل کرنے کا آپریشن شروع کیا تو نمیری حکومت انجان بن کے دوسری جانب دیکھتی رہی۔

اس برس پھر کسی حیرت انگیز خبر کے لیے قیاس آرائی شروع ہو گئی جب فروری میں سوڈان کی عبوری حکمران کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتح برہان نے یوگنڈا میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے کیمروں کے سامنے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد نیتن یاہو نے دو طرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت کی امید ظاہر کی۔ مگر فوراً ہی سوڈانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تردید آ گئی۔ سوڈان دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست میں شامل ہے۔ لہذا اسے بین الاقوامی بالخصوص امریکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور عالمی مالیاتی اداروں سے مدد کے حصول میں سیاسی دشواریوں کا سامنا ہے۔ سوڈانی فوجی قیادت کا خیال ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے میں امریکی پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ البتہ حکومت میں شامل سویلین رہنما فلسطینیوں سے سمجھوتے پر تسلی بخش عمل درآمد سے قبل اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مخالف ہیں۔ حال ہی میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے بھی سوڈان کو رجھانے کے لیے خرطوم کا دورہ کیا مگر کچھ زیادہ پیش رفت نہ ہو سکی۔

اس وقت عربوں اور شمالی افریقی ممالک سے دوطرفہ اسرائیلی تجارت کا حجم بظاہر بہت کم یعنی سات ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے۔ مگر اگلے برس یہ حجم اگر تگنا نہیں تو دوگنا ہونے کی امید ضرور ہے۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی پوری کوشش ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے جتنی ٹرافیاں جمع کر سکتے ہیں کر لیں۔ جب کہ کئی ممالک اور ان کے حکمران ٹرمپ کے احسانات کا بدلہ چکانے کے لیے بھی بے چین ہے۔ لہذا اگلے چند ہفتے میں ایک آدھ مزید مسلمان ملک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ البتہ قطار میں لگے زیادہ تر ممالک شائد امریکی صدارتی نتائج کا انتظار کریں۔ مگر بالخصوص خلیجی ممالک اسرائیلی قربت کے لیے اتنے اتاؤلے کیوں ہو رہے ہیں۔ اس بابت اگلے کالم میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

 وسعت اللہ خان

بشکریہ ایکسپریس نیوز

عرب رياستوں نے ساتھ چھوڑ ديا، اب فلسطينی کس کا در کھٹکھٹائيں

دو عرب رياستوں نے اسرائيل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر ليے ہيں۔ مشرق وسطی ميں نئے اتحاد سامنے آ رہے ہيں اور ماہرين کا کہنا ہے کہ اس بدلتی ہوئی صورت حال ميں فلسطين تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ 11 ستمبر کی شب بحرين اور اسرائيل کے درميان سفارتی تعلقات قائم کرنے کے فیصلے کا اعلان کيا۔ امريکی صدر نے اسرائيلی وزير اعظم بينجمن نيتن ياہو اور بحرين کے شاہ حماد بن عيسی الخليفہ کے ساتھ جاری کردہ مشترکہ بيان ميں کہا کہ يہ تاريخی معاہدہ مشرق وسطی ميں قيام امن کی راہ ہموار کرے گا۔ متحدہ عرب امارات کی طرح اب بحرین بھی اسرائيل کے ساتھ سفارتی، سلامتی، تجارتی اور ديگر تمام شعبوں ميں تعلقات قائم کر سکے گا۔ متحدہ عرب امارات کے بعد بحرين اسرائيل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والی دوسری عرب رياست بن گئی ہے جب کہ مصر اور اردن کے پہلے ہی سے تعلقات تھے۔ دوسری جانب اعلیٰ فلسطينی قيادت نے بحرين کے فيصلے کو رياست فلسطين کی پيٹھ ميں خنجر گھونپنے سے تعبير کيا ہے۔ ايران نے بحرين پر تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بحرين بھی اسرائيلی جرائم ميں حصہ دار ہے۔ ترکی نے بھی اپنے رد عمل ميں بحرين پر تنقيد کی ہے۔

فلسطين سفارتی سطح پر تنہا
اس ہفتے بائيس رکنی عرب ليگ کا اجلاس ہوا، جس ميں فلسطين کی کوشش تھی کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائيل کے مابين پچھلے ماہ طے ہونے والی ڈيل کی مخالفت کی جائے مگر ايسا نہ ہو سکا۔ فلسطين لبريشن آرگنائزيشن کے ايک سابق اعلیٰ اہلکار ساری نصيبہ نے کہا ہے کہ حاليہ پيش رفت سے فلسطينی قيادت کافی نالاں ہے، ”ليکن وہ عرب ممالک سے پہلے کے مقابلے ميں زيادہ نالاں نہيں۔ فلسطينی ہميشہ ہی سے يہ کہتا آيا ہے کہ عرب ممالک نے ان کا ساتھ اس طرح نہيں ديا جس طرح انہيں دينا چاہيے تھا۔‘‘ سياسی تجزيہ کار غسان خاطب کہتے ہيں، ”اس وقت عرب دنيا ہر قسم کے مسائل سے دوچار ہے۔ خطے کے کئی ملکوں کو مسلح تنازعات، سياسی انقلاب، خانہ جنگی اور کشيدگی کا سامنا ہے۔ فلسطينی شہری عرب ممالک ميں تقسيم کی قيمت چکا رہے ہيں۔

ايک مغربی سفارتی ذريعے نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر کہا، ”فلسطينيوں کے پاس اور کوئی راستہ ہے بھی نہيں۔ وہ اس ليے بھی پھنس گئے ہيں کيونکہ ان کے حقوق کی بات ترکی اور ايران کر رہے ہيں۔‘‘ ايران کے غزہ پٹی ميں متحرک ايسے گروپوں کے ساتھ تعلقات ہيں، جنہيں مغربی ممالک اور اسرائيل جنگجو گروپ قرار ديتے ہيں مثلاً اسلامک جہاد اور حماس۔ ترکی فلسطين کی حمايت کرتا ہے اور ترک افواج ليبيا ميں مصر اور متحدہ عرب امارات کی حمايت يافتہ قوتوں کے خلاف برسرپيکار ہيں۔ سياسی تجزيہ کار غسان خاطب کے مطابق فلسطينیوں کو ايران، ترکی اور قطر سے دور رہنا چاہيے کيونکہ ان کے عرب خليجی رياستوں کے ساتھ بڑے مسائل چل رہے ہيں: ”علاقائی سپر پاورز کے جھگڑوں ميں پڑنا فلسطين کے مفاد ميں نہيں۔ اگر ايران کا ساتھ ديا، تو سعودی عرب کی حمايت ختم۔ اور اگر ترکی کے ساتھ چلے تو اور کوئی ساتھ چھوڑ دے گا۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

فلسطینیوں کے لئے کچھ بھی نہیں

’’انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز‘‘ لندن میں مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی اور دیگر معاملات کے ماہر ایمل ہوکاٹیم نے ’’یو اے ای‘‘ اور اسرائیل کے مابین ہونے والے حالیہ امن معاہدے پر اپنے تبصرہ میں کہا ہے کہ اس معاہدہ میں فلسطینیوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ مذکورہ معاہدے میں جو بڑا خطرہ ہے وہ یہ کہ متحدہ عرب امارات، دنیا کے مسلمان ممالک خصوصاً خطے کے عرب ممالک میں بڑی حد تک غیر مقبول ، غیر اہم اور تنقید کی زد میں ہو گا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس مسئلہ کے سب سے بڑے فریق فلسطین کی قیادت کو اس معاملے میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ لیکن ایسا ضرور ہو گا کہ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر امریکی اتحادی ممالک ’’یو اے ای‘‘ کی انتہائی ستائش کریں گے۔ ایمل ہوکاٹیم نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اس معاہدے کےمحرکات کیا ہیں اور ’’یو اے ای‘‘ جو خود 1971ء میں قائم ہوا اس کا اس میں کیا فائدہ ہے۔

ادھر ایران اور ترکی نے اس معاہدے پر شدید ترین اور واضح تنقید کی ہے اور ترکی نے تو اس کو ’’یو اے ای‘‘ کا منافقانہ طرز عمل قرار دیا ہے کیونکہ ترکی سمجھتا ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات‘‘ نے یہ معاہدہ خطے میں امن کے قیام یا فلسطینیوں کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ صرف اپنے مفاد کے لئے کیا ہے۔ مذکورہ معاہدے پر پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ’’اقوام متحدہ‘‘ اور ’’او آئی سی‘‘ کی قراردادوں کے مطابق دونوں ریاستوں (اسرائیل، فلسطین) کے مابین امن معاہدے کا حامی ہے۔ بظاہر یہ معاہدہ اسرائیل اور ’’یو اے ای‘‘ کے درمیان ہوا ہے لیکن اصل میں یہ معاہدہ امریکہ اور اسرائیل کی منصوبہ بندی اور خواہش کی تکمیل کے طور کیا گیا ہے۔ تاریخی حوالے کچھ بھی ہوں اور سیاسی موشگافیاں خواہ کوئی بھی تصویر دکھا رہی ہوں لیکن آنکھوں دیکھے حقائق بہر حال معتبر ترین ہوتے ہیں کیونکہ 2019ء میں ’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ (اے ایم ڈبلیو ٹی) کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد کے ہمراہ میں خود فلسطین اور اسرائیل کا تفصیلی دورہ کر چکا ہوں اور اس دورے کا لب لباب یہ ہے کہ بیت المقدس مسجد اقصیٰ، انبیاء کرام کے مزارات سمیت سب کچھ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے حتیٰ کہ وہ فلسطینی علاقے بھی جہاں فلسطینیوں کی اکثریت ہے وہاں بھی اسرائیل کا ’سکہ‘ ہی چلتا ہے۔

فلسطینیوں کے پاس نہ تو ان کا ریاستی پاسپورٹ ہے اور نہ ہی اپنی کرنسی، زیادہ تر فلسطینیوں کے پاس اردن یا مصر کا پاسپورٹ ہوتا ہے۔ فلسطینی نبیوں کے مزارات اور مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لئے بھی خاصی شرائط کے ساتھ آ جا سکتے ہیں اور وہ بھی روزانہ نہیں۔ فلسطینیوں کے لئےان کا اپنا وطن ہی ایک کھلی جیل کے مترادف ہے۔ ابھی چند ہفتے پہلے ہی اسرائیل نے دو طرفہ ریاستی حدود کا ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا جس میں اپنے اور فلسطینیوں کے علاقے دکھائے گئے تھے اس نقشے میں وہ علاقے بھی اسرائیل میں شامل کئے گئے جو پچھلے سال ہمارے دورے کے دوران فلسطینی علاقے تھے۔ اسرائیل نے ازخود یہ علاقے اپنے ظاہر کر کے یہ نیا نقشہ بنایا اور اب ایک ایسے ملک کے ساتھ ایک نام نہاد قسم کا ’امن معاہدہ‘ کر لیا جو نہ تو اس جھگڑے کا فریق ہے اور نہ ہی اس تنازع کے کلیدی فریق فلسطین نے ’’یو اے ای‘‘ سے فریق بننے یا معاہدہ کرنے کی کوئی درخواست کی ہے۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ سینکڑوں سال پہلے بھی اور آج بھی اسلامی یا مسلمانوں کی تاریخ بھری پڑی ہے کہ جب بھی سیاسی دھوکہ بازی ہوئی اور دوسری قوموں نے اسلامی سلطنتوں کو تاراج کیا تو اس میں غیر نہیں اپنے ہی ہم مذہب ملوث تھے، آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے چنانچہ اس حقیقت میں کوئی دو آرا نہیں ہیں کہ فلسطینی زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر اور قبضے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔ امریکی محققین پروفیسر اسٹیفن والٹ اور پروفیسر جان میئر شمیر نے اپنی کتاب ’’دی اسرائیل لابی اینڈ یو ایس فارن پالیسی‘‘ میں ایک خط نقل کیا ہے جس کے مطابق اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے عالمی یہودی کانگریس کے صدر ناہم گولڈ مین کو لکھے گئے اپنے تاریخی اہمیت کے حامل خط میں برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر میں کوئی عرب لیڈر ہوتا تو اسرائیل سے کبھی سمجھوتہ نہ کرتا، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے فلسطینیوں سے ان کا ملک چھینا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ ہمارا تعلق اسرائیل سے ہے لیکن یہ دو ہزار سال پہلے کی بات ہے!! لیکن افسوس کہ وہ بات جو ایک یہودی جو وزارت عظمیٰ جیسے کلیدی عہدے پر رہ چکا ہو جب یہ بات کر رہا ہے تو پھر دوسرے کسی حوالے کی تو ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ یہ اصل بات اب مسلمان دنیا خصوصاً عرب ملکوں کے درمیان نفاق، کشیدگی، ہٹ دھرمی اور اختلافات کے ملبے تلے دب چکی ہے اور برائے نام امت مسلمہ کے لئے ایک کہانی بن کر رہ گئی ہے۔
سنہ2002 ء کے عرب امن معاہدے میں اسرائیل سے  مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ 1967 کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کے قبضے کئے گئے علاقوں سے دستبردار ہو جائے تو قیام امن کے اس اقدام کے بدلے وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر بحال کر سکتے ہیں لیکن ایسا آج تک ممکن نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے برعکس اسرائیل بےوجہ فلسطینیوں پر بمباری بھی کر رہا ہے اور اپنی مرضی سے نئے نقشے بھی بنا رہا ہے اور ستم بالائے ستم کہ ایسی صورتحال کے باوجود عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنی پالیسیاں تبدیل کیں اور چند ہی برسوں میں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے میں ہی بہتری سمجھی اور نتیجتاً ’’متحدہ عرب امارات‘‘ اور اسرائیل نے فلسطینیوں کی مرضی و منشا کے خلاف ایک کھوکھلا معاہدہ کر کے اپنے مفادات کی ترویج کو مقدم رکھا ہے۔

وجاہت علی خان

بشکریہ روزنامہ جنگ