نیپالی کوہ پیماؤں نے سردیوں میں ‘کے ٹو’ سَر کر کے تاریخ رقم کر دی

موسم سرما میں کے ٹوکو سر کرنے کی مہم بالاخر کامیاب ہو گئی ، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو پہلی بار موسم سرما میں سر کر کے تاریخ رقم کر دی گئی ۔ 10 نیپالی کوہ پیماؤں کی ٹیم مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے چوٹی کی انتہائی بلندی پر پہنچی۔ کے ٹو کی تاریخی سرمائی مہم جوئی میں کامیابی نے کوہ پیماوں کے قدم چوم لئے۔ 10 نیپالی کوہ پیماؤں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ نیپالی ٹیم کے ممبران نے 10 میٹرز کا فاصلہ ایک ساتھ طے کیا اور ملکر چوٹی پرقدم رکھ کر کامیابی حاصل کی ۔ ٹیم کی قیادت نیرمل پورجا اور مینگماجی نے کی۔ ایکسپڈیشن انچارج کی جانب سے کامیابی کا اعلان کیا۔ کوہ پیما 10 منٹ تک چوٹی پر ٹھہرے اور پھر واپسی کا سفرشروع کیا۔ کوہ پیماؤں گزشتہ رات کیمپ تھری پر گزاری۔ دوسری جانب کے ٹو کیمپ ون پر اسپینش کوہ پیما حادثے کا شکار ہوا جو شدید زخمی ہونے کے بعد جانبر نہ ہو سکا۔ اسپین کے صدر پیڈرو سانچز نے سیر گیمینگوڑی کی ہلاکت پر ان کے خاندان والوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

اڑتالیس کوہ پیماوں پرمشتمل ٹیم 29 دسمبرکوبیس کیمپ پہنچی تھی جس میں 5 خواتین بھی شامل تھی ان میں پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ اور ساجد سدپارہ بھی تھے تاہم صرف 10 نیپالی کوہ پیما خطرناک چوٹی کو سرکرنے میں کامیاب ہوئے۔ کےٹو سر کرنے پر وزیر اعلی گلگت بلتستان نے نیپالی کوہ پیماوں کو مبارکباد دی ان کا کہنا تھا کہ مہم جوئی میں کامیابی سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔ بلیو سکائی ٹریک اند ٹورز کے سربراہ غلام محمد نے غیر ملکی میڈیا کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تقریبا 46 کوہ پیماؤں کی ٹیم تھی جو سردی میں کے ٹو کو سر کرنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے دس کوہ پیما کے ٹو سر کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن میں سے سات کوہ پیما ان کی کمپنی کے لیے پاکستان میں ٹور اپریٹر کی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

سطح سمندر سے 8611 میٹر (28251 فٹ) کی بلندی پر واقع یہ چوٹی سردی کے موسم میں سر کرنا ایک نہایت مشکل کام کے ہے۔ پہاڑوں کے درجہ حرارت کی ویب سائٹ ماؤنٹین فورکاسٹ کے مطابق جس وقت یہ کوہ پیما کے ٹو کو سر کر رہے تھے اس وقت وہاں پر درجہ حرارت منفی 42 ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔ نیپالی کوہ پیماؤں کی اس ٹیم کی سربراہی نیپال سے تعلق رکھنے والے منگم گیابو شرپا کر رہے ہیں۔ شرپا ساؤتھ ایشیا کے پہلے کوہ پیما ہیں جو آٹھ ہزار فٹ سے بلند دنیا کی 14 چوٹیاں سر کر چکے ہیں۔ دریں اثناء تمام کوہ پیما 7250 میٹر کی بلندی پر واقع کیمپ تھری پہنچ گئے ہیں جہاں آٹھ کوہ پیما رات گزاریں گے جبکہ 2 کوہ پیما بیس کیمپ تک اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ نیپالی کوہ پیماؤں کو کے ٹو کی انتہائی بلندی سے کیمپ تھری تک پہنچنے میں 7 گھنٹے لگے جبکہ گزشتہ رات ایک بجے سے جاری اس سفر میں نیپالی کوہ پیماوں نے 35 کلو وزن اٹھا کر مسلسل 22 گھنٹے خطرناک ترین پہاڑی حصے میں کوہ پیمائی کی ہے۔

نثار عباس

بشکریہ روزنامہ جنگ

ماؤنٹ ایورسٹ : کوہ پیماؤں کی جنت

نیپال میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ ہے۔ یہ چوٹی نہ صرف نیپال میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کی سب سے اونچی چوٹی ہے بلکہ دنیا بھر میں سب سے اونچی چوٹی ہے۔ اس چوٹی سے نیچے چٹانی وادیوں میں برف کے علاوہ گلیشیئر بھی گرتے رہتے ہیں جو گرمی کے ساتھ پگھلنے کے بعد ندی نالوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور دیگر فصلوں کے علاوہ بانس کی فصل کے لئے از حد مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ’’کھمبو‘‘ وہ گلیشیئر ہے جہاں پر ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی کو کامیابی کے ساتھ سر کرنے والے کوہ پیماؤں نے 1953ء میں اپنا بیس کیمپ لگایا تھا۔ ان کوہ پیماؤں کے نام ایڈمنڈ ہیلرے اور تن زنگ تھے۔

اس کی وادی کوہ پیماؤں کی جنت ہے جن کے پہاڑوں کی بابت علم نے ان گنت کوہ پیماؤں کی معاونت سر انجام دی اور انہوں نے اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش سر انجام دی۔ 1852ء میں ایورسٹ کو کوہ پیماؤں کے لئے ایک عظیم چیلنج کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا جبکہ اس کی بلندی کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور اس کا نام سر جارج فورسٹ کے نام پر رکھا گیا تھا جو کہ ایک سروئیر تھا۔ 1924ء اور 1952ء کے دوران اس چوٹی کو سر کرنے کیلئے کئی ایک کوششیں کی گئی تھیں۔ ان کوششوں کے آغاز میں کوہ پیماما لوری اور ارون اس چوٹی کو سر کرنے کی جدوجہد کے دوران غا ئب ہو گئے تھے۔ بالآخر اس چوٹی کو سر کرنے کا سہرا رائل جغرافیائی سوسائٹی کی ٹیم کے سر رہا ۔

اس ٹیم میں سرجان ہنٹ کے علاوہ ہیلر ے اور تن زنگ بھی شامل تھے۔ انہوں نے جرأت اور بہادری کی نا قابلِ فراموش مثال قائم کرتے ہوئے اس چوٹی کو انتہائی کامیابی کے ساتھ سر کیا تھا۔ اس کے بعد جدید ساز و سامان کی افادیت سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے کئی ممالک کے کوہ پیماؤں نے اس چوٹی کو سر کیا۔ ان ممالک میں جاپان، امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور ہندوستان بھی شامل ہیں۔ اگرچہ اس چوٹی کو سر کرنے کی جدوجہد کے دوران کئی ایک مسائل اور رکاوٹیں سامنے آتی ہیں لیکن آج تک کسی بھی کوہ پیما کی ملاقات پُر اسرار پیسی سے نہیں ہوئی، یا برف کے آدمی سے نہیں ہوئی جس کے بارے میں مقامی لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ برف پوش پہاڑوں پر مقیم ہے۔

شاہدہ لطیف

Samina Baig First Pakistani Women Climbed the Mount Everest

Samina Baig First Pakistani Women Climber today Climbed the Highest Mountain of This Planet Mount Everest Along Her Brother ALi both are From Gilgit Baltistan ,

We Congratulate Both

Pakistan Zindabad ♥

Enhanced by Zemanta