دنیا کی بلند ترین چوٹیاں کون سی ہیں اور کہاں واقع ہیں؟

دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں بالترتیب ایورسٹ (8849 میٹر)، کے ٹو (8611 میٹر)، کنچن جنگا (8586 میٹر)، لوتسے (8516 میٹر)، مکالو (8485 میٹر)، چو آویو (8188 میٹر)، دولاگیری ون (8167 میٹر)، مناسلو (8163 میٹر)، نانگا پربت (8165 میٹر)، انا پرنا ون (8091 میٹر)، گاشر بروم ون (8080 میٹر)، براڈ پیک (8051 میٹر)، گاشر بروم ٹو (8034 میٹر) اور شیشا پنگما (8027 میٹر) ہیں۔
اب جانتے ہیں کہ کونسی چوٹی کہاں واقع ہے:

چین: شیشا پنگما
پاکستان اور چین : کےٹو، براڈ پیک، گاشر بروم ون اور گاشر بروم ٹو
نیپال اور چین: ایورسٹ، لوسٹے، مکالو اور چوآئیو
نیپال: دولاگیری، مناسلو اور اناپورنا
نیپال اور انڈیا: کنچن جنگا
پاکستان: نانگا پربت

اب یہ کوہ پیماؤں پر میسر ہے کہ وہ کس چوٹی کو کس ملک کے راستے سر کرنا چاہتے ہیں۔ نانگا پربت مشکل پہاڑ ہے مگر زیادہ تر کوہ پیماؤں کے نزدیک کے ٹو ’کلر ماؤنٹین‘ ہے۔ گیل جی نے اسے زیادہ مشکل اس لیے بھی کہا کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں ریسکیو کے حوالے سے نظام نیپال جتنا بہتر نہیں ہے۔ یاد رہے کے ٹو کی چوٹی کو سر کرنے کی جستجو کرنے والے ہر چار میں سے ایک کوہ پیما کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ کے ٹو پر اموات کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ اس کے برعکس دنیا کی سب سے بلند چوٹی ایورسٹ پر یہی شرح چار فیصد ہے۔

پاکستان کا ’قاتل پہاڑ‘ ايک اور جان لے گيا

ايک پاکستانی اہلکار نے بتايا ہے کہ نانگا پربت سے ايک خاتون کوہ پيما کو بچا ليا گيا ہے جب کہ اس کے ايک ساتھی کے بارے ميں خيال کيا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہو گيا ہے۔ ’ايلپائن کلب آف پاکستان‘ کے ترجمان نے تصديق کی کہ فرانسيسی کوہ پيما اليزبتھ ريول کو ريسکيو کر ليا گيا ہے۔ تاہم خراب موسم کی وجہ سے پولش شہری ٹومک ماکيووٹز کو نہيں بچايا جا سکا اور امکاناً وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستانی حکام نے پولينڈ سے تعلق رکھنے والے اس مرد کوہ پيما و فرانسيسی خاتون کوہ پيما کے ريسکيو کے ليے باقاعدہ کارروائی شروع کی تھی۔ دونوں غير ملکی کوہ پيما نانگا پربت سر کرنے کی کوششوں ميں تھے، جس کی اونچائی 8,126 ميٹر ہے۔ يہ کوہ پيما 7,400 ميٹر کی بلندی پر پھنس گئے تھے۔

ريسکيو کی کارروائی ميں پولينڈ کے کوہ پيماؤں سميت پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے بھی حصہ ليا۔ چار پولش کوہ پيماؤں کو دنيا کے دوسرے سب سے اونچے پہاڑ ’کے ٹو‘ کے بيس کيمپ سے نانگا پریت پر اس مقام تک پہنچايا گيا، جہاں يہ  پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے درست مقام کے بارے ميں اس وقت پتا چلا، جب دور سے ديگر کوہ پيماؤں نے دوربين کی مدد سے ديکھا کہ پہاڑ پر الیزبتھ ريول نيچے اترنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ اپنے پولش ساتھی کی مدد کر رہی ہے، جو بظاہر تکلیف ميں تھا۔

نانگا پربت دنيا کا نواں سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ کوہ پيماؤں اور مقامی لوگوں ميں اسے ’قاتل پہاڑ‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کيونکہ اس کی چوٹی کو سر کرنے کی کوششوں ميں کافی کوہ پيماؤں کی جانيں جا چکی ہیں۔ پچھلے سال جولائی ميں بھی اسپين اور ارجنٹائن کے دو کوہ پيما اس پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش کے دوران لا پتہ ہو گئے تھے۔ ان کے بارے ميں بھی خيال يہی ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہيں۔ سن 1953 ميں پہلی مرتبہ کسی کوہ پيما نے نانگا پربت کو کاميابی سے سر کيا تھا۔ اسے سر کرنے کی کوششوں ميں تيس کوہ پيما ہلاک ہو چکے ہيں۔

Amazing Murree

Amazing Karakaram Highway

On Way to Chillas – Karakaram Highway
On Way to Chillas2 – Karakaram Highway (First View of Nanga Parbat)
On the Way to Tirshing

On the Way to Tirshing

On the way to Sheosar – Deosai
Near Dasu – Karakaram Highway
Nanga Parbat from Tirshing
Nanga Parbat from Jaglot – Karakaram Highway

Nanga Parbat from Deosai 1

Nanga Parbat from Deosai 2
Nanga Parbat from Deosai 3
Nanga Parbat from Deosai 4
Lady Finger – Hunza

Karimabad Hunza

Junction of 3 great mountain ranges – Karakaram, Hindukush and Himaliya
Jalgot – Karakaram Highway
Hunza Valley
Golden Peak(spantik) from Hunza Valley 

Gilgit Valley

Gilgit Astor Road
Closeview of Nanga Parbat
Chilam Choki – On way to Deosai
Butgram – Karakaram Highway
Enhanced by Zemanta