پاکستان میں کووڈ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کریں، کسی غلطی کو کیسے درست کروائیں؟

اس وقت جب پاکستان میں کورونا وائرس کی ویکسینیشن کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے، وہاں لوگوں کے ذہنوں میں موجود سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کس طرح ویکسینیشن کا ثبوت یا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈان نے اس حوالے سے لوگوں کی مدد کے لیے ایک سادہ گائیڈ کے ذریعے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے حصول اور اس دوران کچھ غلط ہونے پر کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟ کے بارے میں بتایا ہے۔

میں کس طرح سرٹیفکیٹ کے لیے اپلائی کروں؟
کووڈ 19 ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے لیے آن لائن درخواست دینے کے لیے نیشنل امیونزائزیشن منیجمنٹ سسٹم (ایم آئی ایم ایس) پورٹل پر جائیں اور وہاں شناختی کارڈ پر موجود تفصیلات کا اندراج کریں۔ اس سرٹیفکیٹ کی فیس 100 روپے ہے جو ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادا کی جاسکتی ہے۔ ویب سائٹ میں بتایا گیا ہے کہ جزوی ویکسینیشن (یعنی ایک خوراک کا استعمال) کی صورت میں بھی سرٹیفکیٹ کو ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے کسی مرکز پر جاکر بھی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد شناختی کارڈ پر موجود اپنا نام اور قومیت کا اندراج کریں۔

اس کے بعد ادائیگی کے طریقہ کار کا انتخاب کریں۔

ادائیگی کے بعد آپ ایک رسید کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں، اس سے اپنی تفصیلات کی تصدیق کریں اور بس، آپ کا سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کے لیے تیار ہے۔

اگر آپ سرٹیفکیٹ کا پرنٹ دوبارہ نکالنا چاہتے ہیں تو این آئی ایم ایس ویب سائٹ پر جاکر دوبارہ اپنی تفصیلات کا اندراج کریں۔ تاہم دوبارہ پرنٹ نکانے پر نام اور قومیت کے اندراج کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ ویب سائٹ براہ راست ری پرنٹ آپشن کی جانب لے جائے گی۔

میں اپنی تفصیلات کیسے تبدیل کروں؟
این آئی ایم ایس کے مطابق آپ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ میں مخصوص تفصیلات کو تبدیل کر سکتے ہیں جیسے نام کے ہجے، پاسپورٹ نمبر یا قومیت میں غلطیوں کو ویب سائٹ پر جا کر دوبارہ تفصیلات کا اندراج کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے پر ویب سائٹ آپ کو ایک پیج پر لے جائے گی جہاں سرٹیفکیٹ ڈیٹا کی تفصیلات کی تدوین کا آپشن ہو گا اور آپ ان کو درست کر سکیں گے۔ باقی پراسیس وہی پرانا ہو گا یعنی شناختی کارڈ کی تفصیلات کا اندراج کریں، 100 روپے فیس ادا کریں اور سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کر لیں۔

دیگر غلطیاں کیسے ٹھیک کریں؟
تاہم کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر شکایت کی ہے کہ سرٹیفکیٹ میں دیگر تفصیلات جیسے کونسی ویکسین استعمال ہوئی اس کا نام یا ویکسنیشن کی تاریخ درست نہیں۔ کچھ افراد کی جانب سے یہ شکایت بھی کی گئی ہے کہ انہیں اب تک ایک خوراک فراہم کی گئی ہے مگر این آئی ایم ایس سرٹیفکیٹ میں دکھایا گیا ہے کہ ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے۔ کچھ نے یہ شکایت کی ہے کہ انہیں دوسری خوراک تو مل گئی ہے مگر ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ ہونے پر سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر سکے۔ اس حوالے سے ڈان کی جانب سے وزارت صحت (این ایچ ایس) سے رابطہ کرنے پر این ایچ ایس کے ترجمان ساجد شاہ نے بتایا کہ اب تک کی پنچ آپریٹرز کی جانب سے کی گئی غلطیوں کی سیکڑوں شکایات مل چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان غلطیوں کی تصیح کے لیے لوگ اس ویکسنیشن مرکز پر درخواست جمع کرا سکتے ہیں جہاں ان کو ویکسین لگائی گئی یا این آئی ایم ایس ویب سائٹ پر شکایت درج کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ ہیلپ لائن 1166 سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ڈیٹا انٹری پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ آپریٹرز ان کے سامنے ہی سسٹم میں ڈیٹا کا اندراج کرتے ہیں۔ وزارت صحت سندھ کی ترجمان مہر خورشید نے بتایا کہ صوبے کے ہر ویکسینیشن مرکز میں کمپلینٹ ڈیسکس موجود ہیں، ڈیٹا انٹری میں غلطی پر شہریوں کو ان ڈیسکس سے روجع کر کے ان کو درست کرانا چاہیے۔

بشکریہ ڈان نیوز

نادرا شناختی کارڈ فیس میں 100 فیصد اضافہ

نادرا نے شناختی کارڈ کی فیسوں میں 100 فیصد اضافہ کرتے ہوئے نارمل فیس 400 روپے اوورسیز کیلئے فیسوں میں معمولی کمی کر دی، ملک بھر کے دفاتر کو آگاہ کر دیا ہے کہ نئی فیسوں کا اطلاق فوری اور آج ہی سے ہو گا۔ اس حوالے سے ملک بھر کے نادرا دفاتر کو آگا ہ کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی ارجنٹ فیس 500 روپے سے بڑھا کر 1150 روپے کر دی گئی ہے۔ اسمارٹ کارڈ کی نارمل فیس 300 سے بڑھا کر 750 روپے اور ارجنٹ فیس 750 سے بڑھا کر 1500 روپے کی گئی ہے اس کے علاوہ اسمارٹ کارڈ کی تجدید کی فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

نارمل شناختی کارڈ کی فیس 200 روپے سے بڑھ کر اب 400 روپے اور 1600 روپے میں بننے والا ایگزیکٹو شناختی کارڈ اب 2500 روپے میں بنے گا جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے شناختی کارڈز کی فیسوں میں چند سو روپے کمی کی گئی ہے۔ شناختی کارڈ کی فیسیں بڑھانے کی منظوری گزٹ آف پاکستان نے دی ہے ۔نائیکوپس کارڈز کی فیس زون اے نارمل 39 ڈالر ارجنٹ 57 ڈالر اور ایگزیکٹو سمارٹ کارڈ کی فیس 78 ڈالر وصول کی جائے گی ۔ زون بی میں نارمل سمارٹ کارڈ کی فیس 20 ڈالر،ارجنٹ 30 ڈالر اور ایگزیکٹو سمارٹ کارڈ کی فیس 40 ڈالر ہو گی۔ پہلے سے موجود نائیکوپس کارڈز پر تین ڈالر اور قومی شناختی کارڈز پر ساڑھے تین سو روپے کی رعایت دی جائے گی۔