Category Archives: Myanmar
روہنگیا مسلمان جائیں تو جائیں کہاں ؟
میانمار سے جان بچا کر انڈیا آنے والے روہنگیا مسلمانوں کے لیے ‘اچھی’ خبر ہے کہ ملک کے نائب وزیر داخلہ کرن ریجیجو کا کہنا ہے کہ حکومت انھیں سمندر میں پھینکنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ سن کر ان غریب لوگوں کو بہت سکون ملے گا۔ جنہیں تیرنا نہ آتا ہو انھیں اگر سمندر میں پھینک دیا جائے، یا پھینکنے کی دھمکی دی جائے، تو آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں کہ ان پر کیا گزرے گی۔ ویسے بھی حکومت کے سامنے راستے کافی محدود رہے ہوں گے۔ انڈیا سے برما کے راستے میں کہیں سمندر نہیں پڑتا، اگر ایسے حالات میں بھی ان لوگوں کو سمندر میں پھینکا جاتا تو بہت سے لوگ حکومت کی نیت پر شک کرتے۔
یہ سوال بھی اٹھتے کہ جب شمال مشرقی ریاستوں سے برما کی سرحد ملی ہوئی ہے، اور زمین سے سیدھا راستہ موجود ہے، تو سمندر کے راستے جانے کی کیا ضرورت تھی۔ کرن ریجیجو نائب وزیر داخلہ ہیں اس لیے قانون کی باریکیوں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بالکل واضح کر دیا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو گولی مارنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ‘ایسا نہیں ہے کہ ہم انہیں سمندر میں پھینک رہے ہیں یا گولی مار رہے ہیں۔ انہیں واپس بھیجتے وقت قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔’
اس کے بعد بھی روہنگیا شکایت کریں تو بات ذرا سمجھ سے باہر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جان بچا کر بھاگے تھے اور شاید انہیں لگا کہ بنگلہ دیش کے مقابلے میں وہ انڈیا میں زیادہ محفوظ رہیں گے۔ یہاں حکومت کا صرف اتنا کہنا ہے کہ آپ محفوظ رہیں گے، اس میں تو ہمیں کوئی شبہ نہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ آپ کے آنے سے ہم محفوظ رہیں گے یا نہیں ؟ حکومتیں بغیر سوچے سمجھے کوئی قدم نہیں اٹھایا کرتیں۔ وزارت داخلہ کو لگتا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن آسانی سے دہشتگرد تنظیموں کے جال میں پھنس جاتے ہیں، اور ملک کے وسائل میں انہیں حصہ دینے سے وہ لوگ محرومی کا شکار ہوسکتے ہیں جن کا ان وسائل پر پہلا حق ہے۔
جہاں تک پناہ گزینوں کا سوال ہے، ماضی میں انڈیا کا ریکارڈ کافی اچھا رہا ہے۔ یہاں دلائی لاما اور ہزاروں تبتی آرام سے رہتے ہیں، سری لنکا میں خانہ جنگی کے دوران لاکھوں تمل یہاں آئے، ان کا استقبال بھی ہوا اور انہیں سرکاری امداد بھی ملی۔ برما میں فوجی حکومت کے دوران آنگ سان سو چی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے بھی بہت لوگ بھاگ کر یہاں آئے، افغان پناہ گزین بھی یہاں رہتے ہیں، یہاں تک کہ دہلی کا ایک علاقہ ‘لٹل کابل‘ کہلاتا ہے۔ بنگلہ دیش سے چکما آئے تو انہیں بھی پناہ ملی اور جب بی جے پی کی حکومت آئی تو اس نے ان ہندو، سکھ، بودھ، جین اور پارسی پناہ گزینوں کے لیے ملک کی سرحدیں کھول دیں جنھیں اپنے ملکوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہو۔ بس شاید جلد بازی میں مسلمان اس فہرست سے باہر رہ گئے۔
کرن ریجیجو کا کہنا ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں بلاوجہ ان کی حکومت پر تنقید کر رہی ہیں، روہنگیا غیرقانونی تارکین وطن ہیں اس لیے انھیں واپس بھیجا جانا چاہیے۔ روہنگیاؤں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے، ویزا پاسپورٹ کے بغیر آجکل کون اپنے گھر سے نکلتا ہے؟ اگر سیاح کاغذی کارروائی پوری کر سکتے ہیں تو پناہ گزینوں کو کیا مسئلہ ہے؟ مارے گئے تو مارے گئے، لیکن بچ کر نکل گئے تو کم سے کم زبردستی واپس بھیجنے کی نوبت تو نہیں آئے گی۔ بہرحال، انڈیا آنے والے روہنگیا مسلمانوں کے لیے یہ مشکل کی گھڑی ہے، وہ جائیں تو جائیں کہاں؟ میانمار انہیں اپنا شہری نہیں مانتا، انڈیا انہیں پناہ دینے کے لیے تیار نہیں، ان کے سامنے بھی راستے محددو ہی ہیں۔ جیسا کہ ایک روہنگیا خاتون پناہ گزین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا : واپس جانے سے اچھا ہے کہ دریا میں کود کر جان دے دوں گی۔ اگر ان لوگوں کو زمین کے راستے میانمار واپس بھیجا گیا، تو میں نے نقشے میں دیکھا ہے کہ راستے میں ایک دریا پڑتا ہے۔
سہیل حلیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار
ابھی دو دن پہلے خبر آئی کہ میانمار کی فوج اور وہاں کے بظاہر جمہور نوازوں کے گٹھ جوڑ سے قائم حکومت نے لگ بھگ سو کے قریب روہنگیا مسلمانوں کو بڑے بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا جس میں شیر خوار بچوں کو دریا میں پھینکنے کے ساتھ ساتھ نہتے لوگوں کو زندہ جلانے کےواقعات بھی شامل ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف قتل و غارتگری کا یہ کھیل بظاہر دہشت گرد حملے کے جواب میں کیا گیا جو اب تازہ اطلاعات کے مطابق کافی مشکوک دکھائی دے رہا ہے۔ ان روح فرسا مظالم کے نتیجے میں ہزاروں روہنگیا پناہ کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت نے پناہ کی تلاش میں آئے ڈیڑھ سو سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو واپس میانمار کی جانب دھکیل دیا جہاں سے وہ بہ مشکل اپنی جانیں بچا کر آئے تھے۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے جو پرخطر حالات میں سات معمولی کشتیوں پہ سوار ہو کر دریائے ناف کے بنگلہ دیشی حصے میں پہنچے تھے۔
اگست کے اوائل میں بھارتی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ روہنگیا سمیت تمام غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیں گے۔ اسکے ساتھ ہی حکومت نے دعویٰ کیا کہ ملک میں چالیس ہزار روہنگیا غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں، اگرچہ اس اعلان کے مطابق تمام ’’غیر قانونی تارکین وطن‘‘ کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا مگر یہ جلد ہی واضح ہو گیا کہ اصل ہدف صرف روہنگیا ہیں۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ہندو انتہا پسندوں کو خوش کرنا تھا۔ اس سرکاری اعلان کے بعد ہندو شدت پسند حکمران جماعت بی جے پی کے کئی رہنمائوں نے کھلے عام روہنگیا کو ان کی قانونی حیثیت سے قطع نظر بار بار نشانہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو اس کے متعلق تشویش کا اظہار کرنا پڑا۔ انھوں نے حکومت ہند کو یاد دہانی کرائی کہ ’’رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو ان ممالک میں واپس نہیں بھیجا جانا چاہئے جہاں ان کے ساتھ اچھے سلوک کی توقع نہ ہو‘‘۔
مودی سرکار کی یہ سوچ پناہ گزینوں کے لئے بھارت کی روایتی پالیسی کے عین برعکس ہے جس کے مطابق تبت، سری لنکا یہاں تک کہ افغان پناہ گزینوں کا بھی کھلے دل سے استقبال کیا جاتا تھا۔ حکومت کی یہ معاندانہ پالیسی ہندو انتہا پسندانہ سوچ کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے۔ اگرچہ بھارت میں روہنگیا مسلمانوں کی تعداد چالیس یا پچاس ہزارسے زیادہ نہیں اور یہ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ملک میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور یہ کہ یہ مجبور و مقہور لوگ کسی بھی صورت ملک کیلئے کسی خطرے کا باعث نہیں ہو سکتے مگر حکومت نے ان کو ایک سیکورٹی رسک کے طور پر پیش کیا ہوا ہے۔ اس وجہ سے روہنگیا کے خلاف ایک نفرت والا ماحول بن گیا ہے بلکہ اس طرح کے لیبل سے ان کو مذہبی دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر مسلح ہندو گروہوں کو ان کے خلاف تشدد پر اکسایا جا رہا ہے۔
گزشتہ تین سالوں کے دوران ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر قاتلانہ حملوں میں بے انتہا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ان حملوں میں مارے جانے والوں کے لواحقین کو حکومت کی طرف سے انصاف کی کوئی امید نہیں بلکہ الٹا انہیں ہی جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے۔ اس سال کے اوائل میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں رہنے والے مٹھی بھر روہنگیا مسلمانوں کو ہندو شدت پسندوں کی جانب سے کھلےعام قتل کی دھمکیاں ملنی شروع ہو گئیں کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔ ان میں ہندو آبادی کے زیر اثر لگ بھگ سبھی سیاسی جماعتیں شامل تھیں یہاں تک کہ چیمبر آف کامرس نے کھلے عام روہنگیا لوگوں کو علاقے سے نہ نکلنے کی صورت میں قتل کی دھمکی دی۔
ان دھمکیوں پر حکومت نے کوئی تادیبی کارروائی کرنے کے بجائے خاموش تماشائی رہنے میں ہی عافیت سمجھی کیونکہ وہ کسی بھی صورت ہندو شدت پسندوں سے الجھنے کا رسک نہیں لے سکتی۔ روہنگیا خطے میں شاید سب سے زیادہ بدقسمت لوگ ہیں۔ میانمار حکومت، نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی معیت میں ان لوگوں کے خلاف بدترین قتل وغارتگری میں ملوث ہے۔ ان کی افواج اور بودھ دہشت گرد انتہائی وحشیانہ طریقے استعمال کر کے مردوں، خواتین اور بچوں کو قتل کرنے میں پیش پیش ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران روہنگیا آبادی والے علاقوں کو فسادات اور فوجی کشی کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا، بیسوں گائوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا اور لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا گیا۔ صرف میانمار کے اندر سوا لاکھ سے زائد روہنگیا بے گھر کیمپوں میں رہ رہے ہیں جہاں انہیں مستقل بنیادوں پر نازی طرز کے وحشیانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید برآں انہیں کسی بھی حال میں کیمپوں کو چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ اقوام متحدہ نے روہنگیا کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ممکنہ طور پر ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘ کے طور پر بیان کیا ہے، مگر اسکے باوجود وہ ان کے مسلسل قتل عام کو روکنے میں ناکام ہے۔ اگر متاثرین مسلمان اور وہ بھی بہت غریب اور بے سہارا نہیں ہوتے تو شاید ہم نام نہاد بین الاقوامی برادری کے ضمیر کو برما حکومت کے خلاف کچھ ٹھوس اقدامات کرتے دیکھ سکتے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے اداروں نے روہنگیا کو دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم اقلیتوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی تحقیقات کے مطابق میانمار کی افواج روہنگیا اقلیت کے خلاف قتل وغارت، تشدد، جبری گمشدگی، بلاوجہ گرفتاری، جبری مزدوری اور زنا بالجبر جیسے ماورائے قانون اقدامات میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ کئی شدت پسند بودھ گروپ حکومت کے تعاون سے روہنگیا کے خلاف نفرت اور تشدد کو فروغ دینےمیں ملوث ہیں۔
انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے کئی رپورٹوں میں بودھ گروپوں، فوجی اور نیم فوجی دستوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں بلا امتیاز پوری کمیونٹی کو نشانہ بناتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے 2004 میں ایک رپورٹ کے مطابق روہنگیا لوگوں کی آزادی کو کافی محدود کر دیا گیا ہے اور ان میں سے زیادہ تر لوگوں کی شہریت کو موثر طریقے سے رد کر دیا گیا ہے۔ ان پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد ہیں جن میں کئی قسم کے جبری ٹیکس بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں شادی کرنے کے حوالے سے بھی کئی قدغنوں کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں عالمی برادری کی عدم توجہی کی وجہ سے ان کی حالت زار اور کسمپرسی مزید کربناک بن جاتی ہے۔
افسوس کہ ان کے پاس مقامی طور پر بھی کسی حمایتی ملک کا سہارا نہیں ہے جو ان کی طرف سے بات کر سکے یا کسی بھی قسم کی بین الاقوامی معاونت کے حصول کے لئے کوئی امداد کر سکے۔ سرکاری طور پر میانمار کی حکومت نے ان کو غیر قانونی تارکین وطن قرار دیا ہے اور اس وجہ سے انہیں شہری حقوق تو درکنار بنیادی انسانی حقوق بھی میسّر نہیں، مقامی طور پر انہیں بنگلہ دیشی کہا جاتا ہے مگر یہ وضاحت بنگلہ دیش کو قبول نہیں، نتیجتاً جب وہ پناہ کی تلاش میں بنگلہ دیش جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں وہاں آنے سے روک دیا جاتا ہے۔ روہنگیا ظلم اور جبر کی چکّی میں پس رہے ہیں، مسلسل لٹ بھی رہے ہیں اور کٹ بھی رہے ہیں مگر کوئی ملک ان کے حق میں موثر آواز نہیں اٹھا رہا۔
تقدیر کے قاضی کا ہے فتویٰ یہ ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
مرتضیٰ شبلی
Why Rohingya refugees risk their lives to flee Myanmar ?
Rakhine people flee a conflict area. Thousands are travelling across the border to Bangladesh after violence erupted between the army and Rohingya Muslims in the impoverished state of Rakhine.
So, the Rohingya are an ethnic minority in Myanmar. There are about 1.3 million of them in the country, although, over the last 2.5 years, 10 percent of them have fled on boats. They have lived in the country for generations, some for hundreds of years. But the government has decided to persecute them and has, over the last three years, beaten them with impunity, put them into camps, told them that they have to call themselves Bengali or they will be detained, and otherwise basically left all humanitarian access out, so they can’t even get food or medical care or even go to school.









