پاناما کیس کے فیصلے پرجشن کیوں ؟

پیش گوئی درست تھی۔ پاناما لیکس مقدمے کے فیصلے کے یاد گار ہونے میں کسی
کو کلام نہیں ۔ حتمی نتائج، جو جیتنے اور ہارنے والوں کا تعین کرتے ہیں، کے برعکس اس فیصلے کے نتیجے میں صرف ہارنے والے ہی سامنے آئے ، جو کہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے ۔ نواز شریف کیمپ سے بات شروع کرتے ہیں۔ وہاں جشن کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ حقیقت سے آنکھیں چُرانے اورسیاسی مخالفین کا مذاق اُڑانے کی رسم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اس میں خوشی کا پہلو سمجھ سے بالا تر ہے، نواز شریف کا اس کیس سے بچ نکلنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص برف اور پتھروں کے بلندی سے گرنے والے مہیب تودے کی لپیٹ میں آنے کے باوجود بچ نکلے، جبکہ وہ زخموں سے چکناچور ہو چکا ہو۔ ایک وزیر ِاعظم کا مالیاتی بدعنوانی اور رقم کی مشکوک ترسیل کی تحقیقات کرنے والی نیم فوجی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہونے کا تصور کسی بھی باوقار سیاست دان کے لئے شرم سے سر جھکا لینے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ موجودہ وزیر ِاعظم کے لئے یہ ایک کاری گھائو سے کم نہیں کہ اس کیس میں دوججوں نے اُنہیں دو ٹوک الفاظ میں بد دیانت کہا جبکہ باقی تین نے اُن کے الفاظ پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔

اکثریتی فیصلے میں اٹھائے گئے سوالات ظاہر کرتے ہیں کہ وزیر ِاعظم اور اُن کے بیٹے بیرونی ممالک میں جائیداد کی بابت اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کچھ نہ کر سکے۔ اختلافی نوٹ لکھنے والوں نے چاقو ذرا گہرا چلا دیا۔ ہو سکتا ہے کہ اُن کے قانونی دلائل سے جوڈیشل مہم جوئی کا تاثر ابھرتا ہو، لیکن اُنھوں نے دوٹوک اندازمیں وزیر ِاعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے بہت کاری ضرب لگائی ہے۔ ’’گاڈ فادر‘‘ کی مثال زندگی بھر مندمل نہ ہونے والا زخم ہے۔ اس ’’عزت افزائی ‘‘ پر مٹھائی بانٹنا عقل و فہم سے ماورا ہے ۔ جب جے آئی ٹی نے کام شروع کیا تو دامن مزید داغدار ہو گا۔ شک کی تپش اور اپوزیشن کی تضحیک سے پہنچنے والی اذیت رسانی سے مفر ممکن نہیں، لیکن تحقیقات اور تلاشی میں یہ کچھ تو ہوتا ہے۔

دوسری طرف اپوزیشن کے ہاتھوں میں بھی کامیابی کے کنگن نہیں سجے۔ سیاست میں بھی ،جیسا کہ قانون میں، کسی چیز پر قبضہ ہونا 9/10 کامیابی ہوتی ہے ۔ پی ٹی آئی ، پی پی پی ، جماعت ِاسلامی اور کچھ دیگر ’’ضمنی پارٹیوں ‘‘، جیسا کہ پی ایم ایل (ق) اور سیاسی اداکار، شیخ رشید ، سب نے یہی امید لگائی ہوئی تھی کہ نواز شریف کو چلتا کردیا جائے گا۔ چاہے وہ یہ مقصد حاصل کرنے کے کتنے ہی قریب کیوں نہ پہنچ گئے تھے، اب اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ ستاون دنوں تک فیصلے کی تاخیر نے اُن کی توقعات کو غیر حقیقی حد تک بڑھا دیا تھا۔ اب فیصلے کے بعد حکومت اپنی جگہ پر موجود، نواز شریف اپنے منصب پر برقراراور اُن کی صاحبزادی ،جو اُن کی ممکنہ سیاسی وارث بھی ہوسکتی ہیں اور جو میڈیا میں تشہیر کردہ پاناما اسکینڈل کا بطور ِ خاص نشانہ تھیں، کو بری کر دیا گیا ہے۔ جج صاحبان کا کہنا ہے کہ وہ زیر ِ کفالت اولاد نہیں۔ اس سے پہلے اپوزیشن نے کوشش کی تھی کہ اُنہیں نواز شریف کی مبینہ بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے درمیان ایک ’’سہولت کار‘‘ کے طور پر پیش کریں ، لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی ۔

عمران خان کے لئے یہ موقع (اُن کے تخیل کے مطابق) اُنہیں وزیر ِا عظم ہائوس تک پہنچانے والا ایک اور شارٹ کٹ تھا جو ہاتھ سے نکل گیا۔ اگر نواز شریف وزیر ِاعظم ہائوس میں موجود ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پی ایم ایل (ن) پنجاب میں ایک ناقابل ِ شکست سیاسی قوت رہے گی ۔ یہ بات تواتر سے کہنے کے بعد کہ اُنہیں بنچ پر اعتماد ہے اور وہ اس کے فیصلے کو قبول کریں گے، اب پی ٹی آئی کے رہنما اس منقسم فیصلے پر بوکھلائے ہوئے ہیں ۔ ان کی سراسیمگی کا برملا اظہار اس حواس باختہ رویے سے ہوتا ہے کہ ایک طرف فیصلہ سننے کے بعد مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، اس کا بطور تاریخ ساز فیصلہ، خیر مقدم کیا ، تو دوسری طرف جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں احتجاج کیا گیا۔ وزیر ِاعظم کے مستعفی ہونے پر اپوزیشن کا اتفاق ِرائے بھی پختہ بنیاد نہیں رکھتا۔

پی پی پی کی نواز لیگ پر چڑھائی کرنے کی وجہ سندھ میں عزیر بلوچ کے اعترافات کے بعد آصف زرداری کی مشکلات ہیں۔ اعتزاز احسن کا آئی ایس آئی کے چیف کی غیر جانبداری پر شک غالباً اُن کے وسیع تر تاثر کی غمازی کرتا ہے کہ وزیر ِاعظم کی تلاشی لینے والی جے آئی ٹی میں شامل افسران انہی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں جو وزیر ِاعظم کے ماتحت ہیں۔ تاہم اصل معاملہ کچھ اور ہے ۔ اس کا تعلق اعتزاز احسن کے باس، آصف علی زرداری اور ریاستی اداروں کے درمیان سرد جنگ سے ہے جو سکوت اور باہمی افہام و تفہیم کے مختصر دور کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے ۔ اصل مسئلہ وزیر ِاعظم اور اُن کے بیٹوں کی تفتیش کرنے والی اس جے آئی ٹی کا نہیں کہ یہ ماتحت اداروں پر مشتمل ہے ، بلکہ اُس جے آئی ٹی کا ہے جس کے سامنے عزیر بلوچ نے ایسے اعترافات کیے ہیں جو پی پی پی کو ہضم نہیں ہو رہے ۔ کچھ دیگر خوف بھی دامن گیر ہے کہ اگر موجودہ وزیر ِاعظم کے خلاف جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو سابق صدر کے ماضی کے اعمال کا جائزہ لینے کے لئے کیوں نہیں؟ یہی وجہ ہے کہ پی پی پی جے آئی ٹی کی مخالفت کر رہی ہے ۔ اس حملے میں اعتزاز احسن مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔تاہم پس ِ پردہ ان کی ڈور آصف زرداری کے ہاتھ میں ہے۔

یہ اہداف پی ٹی آئی کے مقاصد سے کسی طور ہم آہنگ نہیں۔ اس کا واحد مقصد شریف برادران کی چھٹی کرانا ہے ۔ اہداف کی نیرنگی نواز شریف کے استعفے کے لئے چلائی جانے والی ملک گیر مہم کے راستے میں رکاوٹ ہے ۔اس مسئلے پر جماعت ِاسلامی کا اپنا کوئی موقف نہیں ۔ اس کے امیر کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ قومی سیاسی چیلنجز کو کس طرح ہینڈل کرنا ہے ۔ کبھی ملکی سیاست کے ایک اہم اور فعال عامل ، جماعت ِاسلامی ، کواب اس طرح یوٹرن لیتے ہوئے بے مقصد سرگرداں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن سیاسی بھونچال پیدا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے ۔ اپنی ناقص گورننس ، کھلے دل سے قرض لینے اور خرچ کرنے اور تباہ کن خارجہ پالیسی سازی کے باوجود پی ایم ایل (ن) اقتدار پر موجود رہے گی۔ پاناما لیکس سے کسی سونامی نے جنم نہیں لیا، اس نے صرف ارتعاش کی لہریں پیدا کی ہیں جو میڈیا کے کچھ عامل ایک بھرپور لہر میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کو بری طرح شکست ہوئی ہے ۔

پس ِ تحریر: چیف جسٹس آف پاکستان کی عمران خان کو یہ ہدایت برمحل ہے کہ دنیا بھر میں اختلافی نوٹ لکھے جاتے ہیں لیکن کہیں اتنا شور نہیں مچتا۔ نیز سپریم کورٹ پر بداعتمادی پیدا کرنے سے گریز کرنا ضروری ہے ۔

طلعت حسین

جس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

ہمارے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار فرماتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی منظر عام پر آنے والے اختلافی فیصلوں پر شور نہیں مچتا۔ سپریم کورٹ پر بداعتمادی کے اظہار کا اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں شور مچانے والوں کی تعداد دنیا کے باقی ممالک کے شور مچانے والوں سے زیادہ ہے چنانچہ یہاں شور کچھ زیادہ ہی سنائی دیتا ہے۔ بعض اوقات تو یہ شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس شور مچانے کےعلاوہ کوئی کام نہیں جہاں اور جب بھی موقع ملتا اور موقع نہیں بھی ملتا تو ہم شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے ضرورت سے زیادہ شور مچانے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو گی کہ ہم کوئی فیصلہ سننے کے بعد اس فیصلے کو سمجھنے سے پہلے اپنے اندر کے فیصلے سامنے رکھ دیتے ہیں اور دیکھتے ہی ہمارے اندر سے شور نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔

ہماری طرح دوسرے فیصلے کو سننےوالے بھی یہی کرتے ہیں اور ان کا بھی شور نکل جاتا ہے۔ ان تجربوں سے گزرنے کی وجہ سے ہم شور مچانے کے عادی ہو گئے ہیں اور جو شور مچانے کے عادی ہو جاتے ہیں وہ شور ہنگامے کے اندر سانس لینے کو زندگی کا عمل سمجھتے ہیں۔ شور ہنگامے کی زندگی کے عادی ہونے کی وجہ سے ہمیں امن، سکون، آرام اور عافیت کی گھڑیوں سے بھی کچھ دلچسپی نہیں رہی۔ شاعر نے کہا تھا اور صحیح کہا تھا کہ :

کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکو

تجس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

نمایاں، اعلیٰ، قابل قدر اور لائق ستائش کارنامے سرانجام دینے والے ہمارے بزرگوں نے یقینی طور پر شور شرابے اور ہنگامے کی زندگیوں سے گریز کیا ہو گا۔ خاموشی، سکون اور سکوت انسان کو حوصلہ اور عزت بھی فراہم کرتا ہے اچھی اچھی باتیں سوچنے کا موقع بھی دیتا ہے۔

دوسروں کی بہتری اور مدد کے طریقوں پر غور کرنا اور ان طریقوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کرنا ہی زندگی ہے اور خدا وند کریم نے بھی انسانوں کو انسانوں کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کی بہتری کی راہیں تلاش کرنے کے لئے ہی پیدا کیا ہے اور یہ انسانی عمل عبادت کی ذیل میں آتا ہے۔ انسان کو اگر حیوان ناطق کہا جاتا ہے تو یہ بھی ضروری نہیں ہو گا کہ وہ حیوان ناطق اپنے نطق کو آرام، سکون اور خاموشی کا موقع ہی نہ دے۔ قدرت نے انسان کو نطق یا اظہار کی قدرت عطا فرمائی ہے تو یہ قدرت اسے اپنے مافی الضمیر کو بیان کرنے کے لئے ودیعت ہوئی ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اظہار بیان کی قدرت اپنا مافی الضمیر چھپانے کے لئے بھی دی گئی ہو مگر خاموشی، سکون، آرام اور امن بھی دنیا کی اعلیٰ ترین نعمتوں میں شمار کئے جاتے ہیں جن سے انسان سب سے زیادہ فائدے اٹھاتا ہے۔

منو بھائی

ہماری ریاست ناکام نہیں بیمار ہے

ہمارے ایک سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ، سینیٹر،دانشور اور مبصر جاوید جبار آغاز خان یونیورسٹی کے سیمینار سے خطاب میں بتاتے ہیں کہ پاکستان ناکام Failingریاست نہیں بیمارAilingریاست ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب ،ویٹی کن سٹی، اسرائیل، نیپال اور مالدیپ بھی مذہبی ریاستیں ہیں مگر پاکستان ان سب سے بہت مختلف ہے۔ ہمارے ہاں کو ئی پوپ جیسی مذہبی قیادت نہیں ہے،پاکستان میں مسلمانوں کا نیپال کے ہندوئوں جیسا کوئی یک جہتی والا وجود بھی نہیں ہے اور مالدیپ جیسی سنی مسلمانوںکی کوئی وحدت بھی نہیں ہے۔ ہم ایک مخصوص اور منفرد قسم کا انوکھا وجود رکھتے ہیں جو ایک خطے کے مختلف علاقوں کو ملانے سے ’’پاکبازوں کی سرزمین‘‘ کے نام پر وجود میں لایا گیا۔ پاکستان ایک اچھوتے، منفرد، شاندار مگر انوکھے تصور کے تحت وجود میں آیا جو دو ایسے حصوں پر مشتمل تھا جس کے درمیان اور اطراف میں مخالف نظریات رکھنے والا ملک موجود تھا۔ نظریے اور فلاسفی کی ہم آہنگی اس ناقص تصور پر قابو پاسکتی تھی مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔

جاوید جبار نے کہا کہ قیام پاکستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ ملک دس ہفتوں کے نوٹس پر وجود میں لایا گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانوی حکومت یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی چنانچہ اس نے لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہاں بھیجا اور انہیں اٹھارہ مہینوں کا مینڈیٹ دیا گیا جبکہ وہ خود اس سے بھی زیادہ جلدی میں تھے اور جاپان کی شکست کی دوسری سالگرہ میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے اور ان کی یہ عجلت برصغیر میں انسانی تاریخ کی خوفناک ترین خون ریزی کی ایک بڑی وجہ بنی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو ڈاکٹروں نے زندگی کا صرف ایک سال کا وقفہ دیا تھا۔ قائد اعظم جو یہ سمجھتے تھے کہ کلکتہ کے بغیر پاکستان، دل کے بغیر انسان کے موافق ہوگا جو کہ ممکن نہیں ہوسکتا مگر انہیں چودہ یا پندرہ اگست1947ء تک کلکتہ کے بغیر پاکستان کو قبول کرنا پڑا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کی انا کو سکون دینے والی یہی تاریخیں تھیں جو جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی دوسری سالگرہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ جاوید جبار کے مطابق ہم پاکستانی مذہبی اور لسانی وحدت رکھنے والی قوم نہیں ہیں، ہماری قومی نوعیت روحانی ہے اور روحانی قومیں سینکڑوں سالوں کے روحانی عمل سے وجود میں آتی ہیں جبکہ ہم کل اور پرسوں کے خواب دیکھنے والے لوگ ہیں۔ جاوید جبار کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ انڈیا کی ایک تاریخ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ تاریخ علاقے کی ہوتی ہے چنانچہ انڈیا بھی1947ء کے بعد ایک نئے ملک کے طور پر پاکستان کی طرح وجود میں آیا بطور ایک نئے ملک کے لیکن انڈیا نے بہت سی جہتوں میں وسعت پائی جن میں جمہوریت بھی شامل تھی۔ انڈیا نے1948ء میں حیدرآباد کی ریاست پر قبضہ کیا اور اس کے علاوہ548 ریاستوں اور راجواڑوں کو اپنی ریاستی تحویل میں لینے اور قبضہ کر لینے میں واضع فرق ہے۔ تحویل میں لینے والے جسموں کے علاوہ دلوں اور دماغوں تک بھی رسائی حاصل کرتے ہیں اور انڈیا نے یہ فریضہ ادا کیا

پاکستان نے 1972 ء میں پنجاب، سندھ، سرحدی صوبے اور بلوچستان کو ایک یونٹ کی شکل دینے کی کوشش کی چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی ریاست کو وجود میں1972ء میں لانے کی کوشش کی گئی جو ناکام رہی۔ جاوید جبار کے مطابق ریاست کو وجود میں لانے میں ہماری ناکامی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کے چار کروڑ ستر لاکھ گھرانے ہیں۔ ان میں سے اگر ہم تین کروڑ گھرانوں کو غریب اور نادار فرض کرلیں تو قومی خزانے میں انکم ٹیکس جمع کرانے والے صرف دس لاکھ ہی کیوں ہیں؟ ہمارا آبادی پر بھی قابو ہونا چاہئے تھا مگر پاکستان کے صرف تین ہزار بیاہتا جوڑے اس معاملہ میں احتیاط سے کام لیتے ہیں دیگر سب بے لگام ہیں۔ بلاشبہ پاکستان میں اٹامک انرجی کمیشن، نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی، سپریم کورٹ، کارپوریٹ اور فنانشل سیکڑ اور ڈائیو بس جیسے ادارے بھی ہیں جو وقت کی پابندی کا خیال اور احترام رکھتے ہیں مگر جب ہم کہتے ہیں کہ ہم بلوچ اور سندھی ہیں تو اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم اعلیٰ اور مشترکہ شناخت کا احترام بھی کرتے ہیں۔جاوید جبار کے الفاظ میں پاکستان کی بے شمار عورتیں اور مرد اس ملک کے مسائل پر قابو پانے کے لئے سیاست میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر پاکستان کو کسی ایک ’’اتاترک‘‘ کی ضرورت نہیں ایک ہزار اتاترک چاہئیں جو پاکستان کو واپس قومی ترقی کی راہوں پر ڈال سکیں یہ صرف ’’میں‘‘ اور’’آپ‘‘ ہی نہیں’’ہم سب‘‘ پاکستان کو محفوظ اور مضبوط پاکستان میں بدل سکتے ہیں اور اپنی بیماری کو مرض الموت بننے سے پہلے دور کرکے صحت مند ہوسکتے ہیں۔

منو بھائی
بشکریہ روزنامہ ‘جنگ’

مشرف کے پیچھے فوج یا فوج کے آگے مشرف؟

پاکستان کے سابق فوجی سربراہ ، چیف ایگزیکٹو کے طور پر میاں نواز شریف کے بھاری مینڈیٹ والے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے صدر مملکت جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی فوج ان کے خلاف درج ہونے والے غداری کے مقدمے سے پریشان ہے اور ساری فوج ان کی حمایت میں ان کے پیچھے کھڑی ہے۔ اگر مقدمہ یہ ہوتا کہ ساری فوج سابق جرنیل پرویز مشرف کے پیچھے کھڑی ہے یا نہیں تو دلائل او کوائف سے ثابت کیا جا سکتا کہ ساری فوج ان کے پیچھے کھڑی ہے یا وہ ساری فوج کے آگے کھڑے ہو گئے ہیں؟

فوج کے ترجمان ادارے ’’آئی ایس پی آر‘‘ کی جانب سے خلاف معمول اس دعوے کے بارے میں کچھ کہنے، تصدیق یا تردید کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کی گئی ہے جس کے بارے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پریشان ہیں۔ مشرف کے دعویٰ کے بارے میں فوجی مؤقف اور پوزیشن واضح نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے خاموشی کو نیم رضا بھی سمجھا جا سکتا ہے ۔ مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ’’آئی ایس پی آر‘‘ والے اس دعوے کو کوئی اہمیت ہی نہ دے رہے ہوں۔ حکومت کے ترجمان وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف عوام کو گمراہ کرنے کے علاوہ پاکستانی فوج کو بھی خواہ مخواہ خجالت میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فوج کے سابق سربراہ جنرل اسلم بیگ ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل اور دیگر بہت سے سابق سینئر فوجی افسران نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے مذکورہ بالا دعوے کو گمراہ کن قرار دیا ہے جو بہت حد تک قرین قیاس لگتا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی بھی پوری کوشش لگتی ہے کہ فوج کے نئے سربراہ کو اس معاملے میں دخل انداز ہونے پر مجبور کیا جائے۔ پرویز مشرف کا فرمان ہے کہ ’’مصیبت میں ہوں دیکھتے ہیں کہ نئے آرمی چیف پرانے آرمی چیف کو مصیبت سے باہر نکالنے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ کہاں تک جاتے ہیں۔ یقینی بات ہے کہ نئے آرمی چیف وہاں تک تو ہرگز نہیں جائیں گے جہاں تک سابق آرمی چیف چلے گئے تھے مگر شاید وہ اپنے طور پر کسی ’’مک مکا‘‘ کی کوشش کریں۔ عین ممکن ہے کہ پاکستان کے کچھ لوگوں نے یہ سوچنا یا فکر مند ہونا شروع کر دیا ہو کہ فوج کے موجودہ سربراہ فوج کے سابق سربراہ کو ملکی آئین، دستور سے غداری اور اپنے عہدہ کے حلف کی خلاف ورزی کی سزا سے بچانے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ کیا کر سکتے ہیں اور کہاں تک جا سکتے ہیں۔ اعتدال سے کام لیں گے یا سابق فوجی سربراہ کی طرح ’’انتہا پسندی‘‘ کا مظاہرہ کریں گے؟

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ آرمی چیف سے ملاقات کے لئے نہیں کہیں گے وہ خود ملنا چاہیں تو اعتراض نہیں ہو گا۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک میرے لئے اچھا سوچ رہے ہیں طالبان اور القاعدہ سے خطرہ ہے۔ اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ سابق جرنیل پرویز مشرف صرف پاکستان کے فوجی سربراہ کی مدد ہی نہیں امریکہ بہادر کی توجہ بھی چاہتے ہیں اور شاید اسی لئے فرمایا ہے کہ فوج ان کی آخری امید نہیں ہے۔ کچھ لوگ ڈاکٹر علامہ پروفیسر طاہر القادری کے نئے ڈرامے کے ڈانڈے بھی جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے سے ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں

نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ

ون اینڈ دی سیم تھنگ

والا معاملہ بھی ہو سکتا ہے شاید! ہو سکتا ہے جیسے ہر پپو یار کو تنگ کرنے کے لئے ایک اور پپو یار ہوتا ہے ویسے ہی ہر ڈرامے کو کامیاب بنانے کے لئے ایک اور ڈرامہ ہوتا ہے۔

منو بھائی

بشکریہ روزنامہ ‘جنگ

Enhanced by Zemanta