میں ذرا وہاں چلا ہوں کبھی یاد کرتے رہنا

میں ذرا وہاں چلا ہوں کبھی یاد کرتے رہنا
میرے بعد نوجوانو ….. یہ جہاد کرتے رہنا
جہاں طلحہ اور حزیفہ، عدنان نے جان لٹائی
چلے موت کے سفر پر راہ_حریت کے راہی
…وہ یقین_غازیانہ وہ خودی کی بے پناہی
میں ذرا وہاں چلا ہوں کبھی یاد کرتے رہنا
میرا شوق میرے جزبے کبھی یاد کرتے رہنا
بدعاۓ غائبانہ مجھے شاد کرتے رہنا
ہے جہاد صبر میں بھی یہ جہاد کرتے رہنا
میں ذرا وہاں چلا ہوں کبھی یاد کرتے رہنا
میرے تن کا ذرہ ذرہ جہاں جا کے کام آۓ
میری خواہش شہادت کوئی معجزہ دکھاۓ
نہ بہانا اشک جب بھی میری لاش کوئی لاۓ……!!!
نہ بہانا اشک جب بھی میری لاش کوئی لاۓ……!!!
میں ذرا وہاں چلا ہوں …………….. کبھی یاد کرتے رہنا

Enhanced by Zemanta

اقتباس از طلوع اسلام – علامہ اقبال

اقتباس از طلوع اسلام – علامہ اقبال
===========================
تو راز کن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا

یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل! اچھل کر بے کراں ہو جا

غبار آلودۂ رنگ ونسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغ حرم! اڑنے سے پہلے پر فشاں ہو جا

خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سر زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر
شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا

گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا

Enhanced by Zemanta