اسمارٹ فون : انسانی یادداشت اور ذہانت کا دشمن ؟

برطانوی دماغی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون اور دیگر دستی آلات پر بڑھتا ہوا انحصار ہماری یادداشت، معلومات جمع کرنے اور مسائل حل کرنے کے لیے سوچ بچار کی صلاحیت شدید متاثر کر رہا ہے۔ اسی لیے ممتاز دماغی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون کا بے تحاشا استعمال اور اس پر انحصار ہمیں غبی اور کند ذہن بنا رہا ہے۔ دماغی ماہر ڈاکٹر سوسن گرین فیلڈ نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال آج کی نسل کو شدید متاثر کر رہا ہے اور ان میں معلومات جمع کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور محنت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں واقع لنکن کالج سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ اب نام یاد رکھنا اور سالگرہیں ازبر کرنا صرف ایک کلک کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ دماغ مسلسل مشق سے سیکھتا ہے اور اس میں حقائق جمع کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو یہ دماغی صلاحیت بتدریج کمزور ہوتی جاتی ہے۔ دوسری جانب سوسن گرین فیلڈ نے خبردار کیا ہے کہ نوجوان نسل اصل دنیا میں سیکھنے، کھیلنے اور معاشرے کا حصہ بننے کی بجائے اسکرین میں قید ہو کر رہ گئی ہے۔ گویا ہم نے سوچنے سمجھنے کا کام مشینوں اور اسمارٹ فونز کے سپرد کر دیا ہے۔ اس طرح دھیرےدھیرے زندگی کے پیچیدہ مسائل پر ہماری گرفت کمزور ہوتی جائے گی اور ہماری نسل تیزی سےاس جانب بڑھ رہی ہے۔

موبائل فون اعتدال سے استعمال کیجیے

آج کل بچے بڑے، سبھی اپنا زیادہ تر وقت اسمارٹ فون یا موبائل فون کی اسکرین پر نظریں جما کر گزارنے کے عادی ہو چکے۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ عادت گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟ نیویارک اسپائن سرجری اینڈ ری ہیبلیٹیشن میڈیسین کی ایک تحقیق کے مطابق جب لوگ اسکرین کو دیکھنے کے لیے سر آگے جھکائیں، چاہے وہ معمولی ہی سا ہو، تو اس سے ہماری گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر 60 پونڈز کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ کیا آپ اپنی گردن پر اتنا وزن اٹھا سکتے ہیں جو ایک آٹھ سالہ بچے جتنا ہو ؟ اور کیا آپ یہ کام روزانہ دو گھنٹے سے زائد کر سکتے ہیں؟ پاکستان میں موبائل فون کے استعمال کا دورانیہ واضح نہیں مگر امریکا میں اوسطاً ہر شخص روزانہ دو گھنٹے بیالیس منٹ اپنے موبائل فون کو استعمال کرتے ہوئے گزارتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی پوزیشن پر کسی بالغ شخص کے سر کا وزن 10 سے 12 پونڈ ہوتا ہے۔ تاہم جب اسے آگے جھکایا جائے تو اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ نتیجے میں گردن کے ساتھ ریڑھ کی ہڈی پر بھی دباؤ بڑھتا ہے اور کمر و گردن میں درد کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ چناں چہ امریکا میں ریڑھ کی ہڈی سے متعلق امراض کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران دوگنا اضافہ ہو چکا۔ واضح رہے ، ایک دوسری تحقیق میں انتباہ کیا گیا تھا کہ موبائل ڈیوائس پر بہت زیادہ وقت گزارنا درمیانی عمر میں بینائی کے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق کے مطابق موبائل کی اسکرین کمپیوٹر کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہے ۔ اس وجہ سے آنکھوں کو سکیڑنا پڑتا ہے جس سے بینائی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

جواد نعیم