میکسیکو سرحد پر دیوار، امریکی عدالت نے ٹرمپ کو رقم استعمال کرنے سے روک دیا

امریکی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے رقم استعمال کرنے سے روک دیا۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فیصلہ بارڈر نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس اور امیگریشن ریفارم گروپ کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا گیا۔ وفاقی جج کا کہنا ہے کہ بارڈر پر سکیورٹی کی اہمیت کو کم نہیں کرنا چاہتے مگرعوامی مفادات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ 724 کلو میٹر طویل دیوار کی تعمیر پر ملٹری بجٹ سے 3.6 بلین ڈالر کی رقم استعمال ہونا تھی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق وفاقی جج ڈیوڈ برونس نے کیس کی سماعت ٹیکساس میں کی، عدالت کی طرف سے 21 صفحات پر مبنی حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق امریکی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے شدید دھچکا کا باعث بنے گا کیونکہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ آئندہ سال نومبر 2020ء تک سرحد پر دیوار تعمیر کی جا سکے  تاکہ مہاجرین کو غیر قانونی طور پر ملک میں آنے سے روکا جا سکے۔ دوسری طرف محکمہ انصاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ سال فروری کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے واضح انداز میں کہا تھا کہ پینٹا گون کے پیسوں سے فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ دیوار تعمیر کی جا سکے جس پر کانگریس کے رہنماؤں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ کانگریس کے اعلیٰ ڈیموکریٹک حکام نے فیصلے پر شدید تنقید کی تھی۔

بشکریہ دنیا نیوز

’’دیوار بناؤ صدر ٹرمپ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ

امریکی سپریم کورٹ نے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ متنازعہ دیوار بنانے سے متعلق مقدمے میں ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، میکسیکو کی سرحد پر دیوار کا ایک حصہ تعمیر کرنے کے لیے امریکی محکمہ دفاع (پنٹاگون) کے بجٹ میں سے 2.5 ارب ڈالر خرچ کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ صدارتی انتخابات کے دوران میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر، ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی منشور میں شامل تھی جبکہ انہوں نے صدر بنتے ہی اس دیوار کی تعمیر کےلیے کوششیں شروع کر دی تھیں۔ البتہ، ٹرمپ کے سیاسی مخالفین اس فیصلے کے خلاف ریاست کیلیفورنیا کی عدالت میں چلے گئے تھے جس نے ٹرمپ کو یہ دیوار تعمیر کرنے سے روک دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف صدر ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے گزشتہ روز انہیں نہ صرف یہ دیوار تعمیر کرنے کی اجازت دے دی ہے بلکہ یہ بھی فیصلہ دیا ہے کہ وہ اس مقصد کےلیے پنٹاگون کے بجٹ میں سے ڈھائی ارب ڈالر استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مخالفین، خاص کر ڈیموکریٹس نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ممتاز رہنما نینسی پلوسی نے ٹرمپ کے طرزِ حکمرانی کو ’’بادشاہت‘‘ کہتے ہوئے اس فیصلے کو ’’انتہائی غلط‘‘ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ کی مخالف اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سیلی ڈیل نے ٹرمپ کی ٹویٹ کا طنزیہ جواب دیتے ہوئے لکھا: ’’بہت خوب! تو آپ نے ہمارے دفاعی فنڈز ایک ایسی بے کار دیوار کے لیے لوٹ لیے جس کی مخالفت اکثر امریکی کرتے ہیں۔‘‘ اُدھر امریکا میں شہری آزادی کی تنظیم ’’اے سی ایل یو‘‘ اور ماحولیاتی تحفظ کے پریشر گروپس نے بھی اس فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور اس کے خلاف ’’نائنتھ سرکٹ کورٹ‘‘ جانے کا اعلان کیا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

ٹرمپ کا بارڈر اخراجات کیلئے اضافی 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کا مطالبہ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ نے جنوبی سرحد میں وسطی امریکا سے مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سیکیورٹی اور دیگر اخراجات کے لیے کانگریس سے اضافی 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کی منظوری کا مطالبہ کر دیا۔ خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو امدادی اخراجات کے لیے 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے جو مہاجر خاندانوں اور بچوں کے لیے پناگاہوں کی تعمیر میں خرچ ہوں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی اضافی ضرورت ہے جو انتظامی سطح پر درکار ہیں جس میں ذاتی اخراجات سمیت، قیدیوں اور اسمگلنگ کی تفتیش کے لیے درکار ہیں۔ کانگریس کو دی گئی درخواست میں شامل 17 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ٹیکنالوجی کی بہتری سمیت مشن کے تعاون کے طور پر استعمال کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے کہا ہے کہ ڈی ایچ ایس منصوبے کے تمام وسائل مالی سال کے اختتام سے قبل ہی خرچ ہوں گے اور اضافی وسائل کے بغیر صورت حال سے نمٹنا خطرناک ہو گا۔ صحت کے محکمے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مہاجرین کے بچوں کا خیال محکمہ صحت رکھتا ہے جس کو مخصوص حالات کے باعث ڈی ایچ ایس سے الگ کیا گیا ہے تاہم اس کے وسائل جون تک اختتام پذیر ہوں گے۔ قبل ازیں ہوم لینڈ سیکیورٹی کے قائم مقام سیکریٹری کیون مک الینان نے کانگریس کے اجلاس کے دوران کہا تھا کہ جنوبی بارڈر میں مہاجرین کی نقل و حرکت میں اضافے کے باعث محکمہ پیسوں کے بغیر چل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حاصل ہونے والی رقم عارضی طور پر اور مہاجر خاندانوں اور ان کے بچوں کو نیم عارضی سہولیات کے لیے استعمال ہوں گے تاہم انہوں نے اعداد وشمار کی وضاحت نہیں کی۔ خیال رہے کہ امریکا میں رواں سال مارچ میں ایک لاکھ مہاجرین داخل ہوئے تھے جو 12 سال کے دوران سب سے بڑی تعداد ہے۔ امریکا کے محکمہ کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کا کہنا تھا کہ اب تک سب سے بڑا گروہ 424 افراد کا تھا جو نیو میکسیکو کے مضافات میں داخل ہوا۔ واضح رہے کہ 26 مارچ کو پینٹاگون کے قائم مقام سربراہ پیٹرک شناہان نےمیکسکو سے ملحقہ سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

پینٹاگون سےجاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پیٹرک شناہان نے امریکی آرمی انجینئرز کمانڈر کو ہوم لینڈ سیکیورٹی اور کسٹمز اینڈ بارڈر پیٹرول سے تعاون کے لیے ارب ڈالر سے متعلق منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کی اجازت دی ہے‘۔ یاد رہے کہ دسمبر 2018 میں کانگریس نے امریکی صدر کے مطالبے پر دیوار کی تعمیر کے لیے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر فنڈز کے اجرا کی منظوری دینے سے انکار کر دیا تھا جس کی پاداش میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی اداروں کے لیے پیش کیے جانے والے بجٹ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بجٹ جاری نہ ہونے کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ایجنٹس، ایئر ٹریفک کنٹرولر اور میوزیم کے ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہو گئے تھے۔

بعد ازاں امریکی صدر نے جنوری کے آخر میں شٹ ڈاؤن عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ کانگریس کے رہنماؤں کے ساتھ وفاقی حکومت کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے سمجھوتے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ کانگریس کی جانب سے حکومت کو دیوار کی تعمیر کے لیے ایک ارب 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے فنڈز استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے 5 ارب 70 کروڑ ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کے بعد گزشتہ ماہ امریکی صدر نے کانگریس کی جانب سے فنڈز منظور نہ کیے جانے پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔

بشکریہ ڈان نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میکسیکو کے ساتھ سرحد بند کرنے کی دھمکی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ میکسیکو کے ساتھ اپنی سرحد آئندہ چند روز میں کسی بھی وقت بند کر سکتا ہے۔ ریاست فلوریڈا میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر غیر قانونی تارکینِ وطن کے بارے میں اپنی جنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات کا قوی امکان ہے کہ میکسیکو کی سرحد اگلے ہفتے بند کر دوں گا۔‘ اس سے قبل انھوں نے غیر قانونی افراد کی امریکہ آمد کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے پر میکسیکو کے حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور میکسیکو کو خبردار کیا ہے کہ ’اگر وہ انھیں روک سکتے تو ہم سرحد بند کر دیں جو بہت لمبے عرصے تک بھی بند رہ سکتی ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے کارواں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں کی تعداد میں افراد امریکہ پہنچنے کا مقصد لیے سفر کر رہے ہیں اور اس بارے میں میکسیکو کو فوری کارروائی کرنا چاہیئے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کی سرحد بند کرنے کی دھمکی کا اطلاق فضائی سفر پر بھی ہو گا یا نہیں۔
صدر ٹرمپ کی اس تنبیہ کے جواب میں میکسیکو کے سیکرٹری برائے خارجہ اُمور نے کہا کہ ’میکسیکو دھمکیوں کی بنیاد پر کارروائی نہیں کرتا ہے۔‘ اگرچہ صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر بھی لکھا ہے کہ میکسیکو تارکینِ وطن کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہا ہے

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق میکسیکو کے حکام کارواں کو روک رہے ہیں اور امریکہ سے نکالے جانے والے تارکینِ وطن کو حراست میں لے رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحد بند کرنے سے اقتصادی نقصان ہو گا کیونکہ میکسیکو امریکہ کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق سنہ 2018ء میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم 600 ارب ڈالر ہے۔ امریکہ کے چیمبر آف کامرس کا کہنا ہے کہ سرحد بند کرنے سے ’معیشت پر فوری منفی اثرات‘ پڑیں گے اور امریکہ میں 50 لاکھ ملازمتوں کو خطرہ لاحق ہو گا۔

بشکریہ وائس آف امریکہ