ملک ریاض کو ایک ہزار ارب روپے کے عوض تمام مقدمات ختم کرنے کی پیشکش

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض کو ایک ہزار ارب روپے کے عوض تمام مقدمات ختم کرنے کی پیشکش کر دی۔ عدالت عظمیٰ میں جعلی اکاؤنٹس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے موقع پر ملک ریاض عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کی آمد سے قبل ہی ملک ریاض کے وکلا کی ایک فوج پہلے سے ہی روسٹرم کے اردگر مورچہ زن تھی۔ روسٹرم پر آنے سے پہلے ملک ریاض اپنے وکلا کو جو بھی ہدایت دیتے تھے وہ حکمراں جماعت تحریک انصاف کے رکن اسمبلی رمیش لال کے ذریعے دی جاتی تھی۔ ملک ریاض جب روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کر کے پوچھا کہ ہر برے کام میں آپ کا نام کیوں آتا ہے؟۔ اس پر بحریہ ٹاؤن کے مالک نے کہا کہ انہوں نے اچھے کام بھی کیے ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات ہے تو بتائی جائے اور وہ تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سماعت کے دوران ملک ریاض نے کہا کہ شکر کریں پاکستان میں 70 منزلہ عمارت بنی ہے، اس بیان پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ باغ ابن قاسم کی زمین پر عمارت بنا ڈالی۔ ملک ریاض نے جواب دیا کہ میں نے زمین ڈاکٹر ڈنشا سے خریدی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کراچی میں جو آپ کر رہے ہیں کیا وہ جائز ہے؟ جس پر ملک ریاض نے کہاکہ وہ سارا معاملہ ختم کرنا چاہتے ہیں ، آپ حکم کریں۔ چیف جسٹس نے ملک ریاض کو کہا کہ وہ پہلے بھی انہیں یہ پیشکش کرچکے ہیں کہ ایک ہزار ارب روپے ادا کر کے تمام مقدمات سے اپنی جان چھڑا لیں تاہم بحریہ ٹاؤن کے سربراہ نے اس پر مسکراتے ہوئے خاموشی اختیار کی۔ چیف جسٹس نے دیامیر بھاشا ڈیم کا ذکر کیے بغیر کہا کہ چلیں آپ 500 ارب دے دیں تو وہ خود عملدرآمد والے بینچ میں بیٹھ کر ان کے خلاف تمام مقدمات کو ختم کر دیں گے۔

ملک ریاض اس پر بھی مسکرا دیے تو بینچ کے سربراہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ وہ دور گیا جب آپ حکومتیں بنواتے اور تڑواتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہو گا۔ اس پر ملک ریاض نے برملا جواب دیا کہ اللہ کی قسم میں ملک نہیں چلاتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جن کے نام جعلی اکا ؤ نٹس کیس میں آئے ہیں۔ ملک ریاض نے عدالت سے کہا کہ میں نے 2005ء میں بحریہ آئیکون کے لیے زمین خریدی تھی اس وقت پورے ملک میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے مالک سے کہا کہ وہ 1980ء میں اپنی مالی پوزیشن دیکھیں اور آج کی مالی پوزیشن دیکھیں تو سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اب نیب ملک ریاض کا معاملے کو دیکھے گا۔

Mubashir Luqman

Mubashir Luqman has been accused of being on the payroll of various influential people and fringe outlawed Muslim sects. These include Chaudry Shujat[2] and Malik Riaz[3]
On July 30, 2010, a plea against Mubashir Luqman was dismissed. Mian Mehmood, a resident of PECHS, Block 6, Karachi, had filed a petition in the court of additional district and sessions judge (east), Sanaullah Ghori. The petitioner held that on June 2, 2010, the channel broadcasted its programme (Point-Blank with Luqman) in which spiritual leader of Qadianis Ghulam Ahmad was also invited, “which hurt my and millions of fellow Muslims’ religious sensibilities”, said the petitioner.[4]
On 7 September 1974, The Parliament of Pakistan through a unanimous vote declared Qadianis non Muslims and this act of Parliament received the assent of the President and was made law.[5]
Mubashir Luqman has been accused of having affairs with film actresses Resham and Zara Sheikh.[6]
After his interview with Malik Riaz dubbed the Interview Gate Fiasco, Mubashir Luqman was accused of running away from the country to avoid a judicial probe in the interview scandal.[7]
Mubashir Luqman was fired from Dunya TV after the Malik Riaz Interview was Leaked.[8][9][10]
According to reports from Dunya TV, Nasim Zehra, Director Current Affairs has resigned to protest against the non-professional practices going on within the Dunya TV vis a vis Mubashir Luqman’s interview with Malik Riaz.[11][12]
Mubashir Lucman who hosted a two-hour long current affairs show with real estate tycoon, Malik Riaz was suspended over his on-air and off-air remarks in the interview.[13]
In his replies on Twitter Mubashir Lucman expressed to answer all accusations against him.[14]
On 16 July 2012, Mubasher Lucman New promo was released on ARY News which is actually a rip-off of a less-viewed YouTube video ‘I am an Entrepreneur’.[15]
Enhanced by Zemanta