ہم کہ ٹھہرے اجنبی اِتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مُداراتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبّے دھُلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
…
تھے بہت بے درد لمحے، ختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بےمہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گِلے شِکوے بھی کرلیتے مُناجاتوں کے بعد
اُن سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
Faiz Ahemd Faiz
پھر بنیں گے آشنا کتنی مُداراتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبّے دھُلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
…
تھے بہت بے درد لمحے، ختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بےمہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گِلے شِکوے بھی کرلیتے مُناجاتوں کے بعد
اُن سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn
- Print (Opens in new window) Print
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email

