ترکی نے دھماکے میں تباہ لبنان کی بندرگاہ کی تعمیر نو کی پیشکش کر دی

ترکی کے نائب صدر فواد اوکتائے نے لبنانی صدر کو مرسین بندرگاہ کی دوبارہ تعمیر کرنے کی پیشکش کی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک نائب صدر فواد اوکتائے اور وزیرخارجہ میولوت چاوش اولو نے لبنانی صدر میشال نعیم عون سے ملاقات کی اور بندرگاہ دھماکے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں وزراء نے ترک صدر کی مرسین بندرگاہ کی دوبارہ تعمیر کرنے کی پیشکش کا پیغام بھی پہنچایا۔ قبل ازیں ترک صدر رجب اردگان نے آیا صوفیہ کی مسجدِ کبیرہ میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد بات صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ترکی نے امدادی سامان سے بھرے فوجی طیارے روانہ کر دیئے ہیں جن میں متعدد عسکری امداد کے علاوہ طبی سامان بھی شامل ہے، اس کڑے وقت میں ہم اپنے لبنانی بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ واضح رہے کہ لبنان کی بندرگاہ میں امونیم نائٹریٹ کے اسٹور میں خوفناک دھماکا ہوا تھا جس میں 135 افراد ہلاک، 5 ہزار سے زائد زخمی اور سیکڑوں رہائشی گھر تباہ ہو گئے تھے اور پورا علاقہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

 

بیروت کی تباہی میں چھپے راز

لندن سے صفدر عباس بھائی کا میسج تھا ‘ لکھا : اپنے ریسرچر سے پاکستان میں امونیم نائٹریٹ کھاد فیکٹریوں اور دیگر جگہوں پر سٹوریج اور حفاظتی اقدامات پر تحقیق کریں کیونکہ خیر سے پاکستان میں حفاظتی اقدام کو کچھ نہیں سمجھا جاتا ۔ کچھ نہیں تو بیروت کی تباہی سے ہی سیکھ لیں جہاں ستائیس سو ٹن کیمیکل نے شہر کو لمحوں میں تباہ کر دیا۔ بیروت دھماکے کی شروع میں کئی وجوہات بتائی گئیں۔ پہلے کہا گیا کہ اسرائیل نے حملہ کرایا تھا ‘ کسی نے کہا کہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو ٹارگٹ کیا گیا ‘کوئی بولا کہ راکٹ کا حملہ ہوا ۔ کسی نے دھماکے کے بعد آسمان پر دھویں کی چھتری بنتے دیکھ کر اسے ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بموں سے تشبیہ دی تو کسی نے پاکستان کے اوجڑی کیمپ کو یاد کیا جب 1988 ء میں اسلحہ ڈپو میں دھماکوں کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد پر میزائلوں کی بارش ہوئی تھی۔

دراصل حالیہ تباہی کھاد بنانے میں استعمال ہونے والے کیمیکل امونیم نائٹریٹ کی وجہ سے ہوئی تھی جو بیروت پورٹ پر سات برس سے گوداموں میں پڑا تھا۔ پورٹ پر آگ لگی تو پھیل کر ستائیس سو ٹن امونیم نائٹریٹ کو لگ گئی اور یہ ایٹمی دھماکے کی طرح پھٹ گیا اور چند لمحوں میں شہر کو اڑا کر رکھ دیا۔ سینکڑوں لوگ مارے گئے اور ہنستا بستا بیروت ویرانے کا منظر پیش کرنے لگا ۔ اب جو باتیں سامنے آرہی ہیں وہ دل دہلا دینے والی ہیں کہ کیسے ماضی میں کی گئی غلطیوں کا خمیازہ انسان کو اپنی جان دے کر بھگتنا پڑتا ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جب کسی معاشرے میں گروہ آپس میں برسرپیکار ہوں‘ کرپشن بڑھ جائے اورکسی کو احتساب کا ڈر نہ ہو تو تباہیاں آتی ہیں۔ کہانی کچھ یوں نکلی ہے کہ 2013 ء میں ایک بحری جہاز جس پر ستائیس سو ٹن امونیم نائٹریٹ لدا تھا‘ بیروت کی بندرگاہ پر رکا جہاں سے اس نے مزید کارگو اٹھانا تھا لیکن پورٹ پر اس جہاز کے عملے کا لبنانی کسٹمز افسران سے قانونی پھڈا ہو گیا۔

بحری جہاز کی کمپنی مقروض تھی اور حکام چاہتے تھے کہ پہلے پیسے کلیئر کیے جائیں پھر پورٹ چھوڑنے کی اجازت ملے گی۔ یوں سات برس قبل اس پھڈے میں ستائیس سو ٹن امونیم نائٹریٹ‘ جو موزمبیق جارہا تھا‘ کو ضبط کر کے جہاز سے اتار لیا گیا اور اسے پورٹ میں سٹور کر دیا گیا ۔ پورٹ کے کسٹمز ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اس نے کئی دفعہ خبردار کیا کہ پورٹ پر خطرناک کیمیکل پڑے ہیں جو تباہی مچا سکتے ہیں ‘ مگرکسی نے نہ سنی۔ اس دھماکے کے بعد کسٹم حکام کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے لبنان میں گلیاں کوڑے اور گند گی سے بھر گئی تھیں۔ وہاں بھی کنٹریکٹ لینے کیلئے طاقتور طبقات میں لڑائیاں شروع ہو گئیں کیونکہ اس میں بہت پیسہ ہے۔ اس پر مظاہرین نے ایک تحریک شروع کی جس کا نام ”You Stink‘‘ رکھا گیا۔ رہی سہی کسر اس وقت پوری ہو گئی جب حکومت نے بھاری قرضہ لے لیا اور معاشی بدانتظامی سے پورا سسٹم بیٹھ گیا ۔

لبنان کی خوش حال مڈل کلاس کی حالت بُری ہوتی گئی اور زندہ رہنے کیلئے انہوں نے اپنی چیزیں بیچنا شروع کر دیں۔ کچھ کسر رہ گی تھی تو بجلی کی لوڈشیڈنگ نے پوری کر دی ۔ اس دوران لبنان کی کرنسی کی ویلیو اسی فیصد کم ہو گئی۔ حکومت کے پاس آئل خریدنے کے پیسے تک نہ رہے۔ اس پر لبنان میں پچھلے سال مظاہرے شروع ہو گئے اور لوگوں نے حکومت کی برطرفی کا مطالبہ شروع کر دیا ۔ اب سوال یہ ہے اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ دراصل ذمہ داری مختلف گروپس پر آتی ہے۔ 1990 ء کی سول وار ختم ہونے کے بعد جو ڈیل ہمسایہ ملک شام نے کرائی تھی‘ اس کے مطابق ملک کا صدر کرسچئن‘ وزیراعظم سنی اور پارلیمنٹ کا سپیکر شیعہ ہو گا ۔ لبنان میں مختلف گروہ ہر وقت مخلوط حکومت میں پوزیشن اور سٹیٹس برقرار رکھنے کیلئے لڑتے رہتے ہیں تاکہ وہ پاور میں رہیں ۔

ان گروہوں میں چند ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو وار لارڈز تھے اور انہیں یہ بھی خوف ہے اگر حکومت یا سسٹم بدل گیا تو انہیں اپنے جرائم کی سزا مل سکتی ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ‘ جس نے 2006 ء کی جنگ میں اسرائیل کو شکست دی تھی‘ کے پاس لبنان کی آرمی کے برابر فائر پاور ہے۔ حزب اللہ ملک کے ائیر پورٹس کو کنٹرول کرتی ہے‘ اسے مختلف کاروباری گروپس مالی امداد دیتے ہیں‘ ایران سے بھی اسے سپورٹ ملتی ہے۔ ان حالات میں لبنان میں بھان متی کے کنبے کی طرح اکٹھی کی گئی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں۔ اب ان دھماکوں کے بعد ملک کی اشرافیہ نے ایک دوسرے پر الزامات لگانا شروع کر دیے ہیں۔ وزارت پبلک ورکس اور پورٹ حکام کہتے ہیں کہ اس دھماکے کی ذمہ دار عدلیہ ہے جس نے بار بار درخواستوں کے باوجود اس خطرناک کارگو کو ریلیز کرنے کی اجازت نہ دی اور بیروت تباہ ہو گیا ۔

عدلیہ کہتی ہے کہ جو انکوائری کمیشن بنایا گیا ہے وہ غیرجانبدار نہیں ۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کے حامی سیاستدانوں اور سکیورٹی حکام کا وفادار ہے اور اس سے منصفانہ انکوائری کی امید نہیں۔ لبنانی اشرافیہ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کے بیروت پورٹ کے ساتھ بہت سے مفادات وابستہ ہیں کیونکہ ملک کی زیادہ تر امپورٹ یہیں سے ہوتی ہے۔ عام لبنانی کو اپنی حکومت پر اعتبار ہے نہ ایلیٹ اور افسر شاہی پر۔ وہ انہیں کرپٹ سمجھتے ہیں اور کورونا سے پہلے وہ سیاسی ایلیٹ کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے‘ اب بیروت کی تباہی بربادی کے اس تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی ہے۔ یہ ایک شہادت ہے کہ کیسے سیاستدان‘ سول سکیورٹی اور اشرافیہ کرپشن اور نااہلی سے ایک خوبصورت ملک کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں۔ جو حکمران‘ بیوروکریٹس اور عدلیہ سات سال تک ستائیس سو ٹن بارود پر بیٹھے رہے ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔

اندازہ کریں‘ جو کارگو موزمبیق جارہا تھا اسے بیروت پورٹ پر اتار لیا گیا اور وہ سات سال پھٹنے کا انتظار کرتا رہا۔ عدلیہ‘ کسٹمز حکام اور سیاستدان سات برس تک فیصلہ نہ کر سکے کہ پورٹ پر سٹور میں رکھے ستائیس سو ٹن کے ٹائم بم کا کیا کرنا ہے‘ جب تک اس نے خود پھٹنے کا فیصلہ نہ کر لیا ۔ کیا ایسا نہیں لگتا جیسے آپ نے یہ کہانی پہلے بھی سن رکھی ہو؟ ان حالات میں صفدر بھائی کہتے ہیں ہم کچھ بیروت کی بربادی سے سیکھ لیں۔ ہم پہلے کچھ سیکھے ہیں کہ اب سیکھیں گے ؟ ہاں! ہماری قوم اتنا سیکھی ہے کہ اگر میڈیا کرپٹ سیاسی ایلیٹ اور افسر شاہی کے کرتوت سامنے لاتا ہے تو یہی عوام اسی میڈیا پر پل پڑتے ہیں کہ تم لوگ ہمارے پسندیدہ لیڈروں کی شان میں گستاخی کرتے ہو۔

لبنان کی اس تباہی میں ایک ہی سبق پوشیدہ ہے کہ جب تک عوام سیاستدانوں اور افسر شاہی سے اپنا رومانس ختم نہیں کریں گے اور انہیں فرشتوں کی جگہ عام انسان نہیں سمجھیں گے تو سات سال بعد بھی اسی حکمران طبقے کی بے حسی‘ غلط فیصلے یا دیکھ بھال کا رویہ ایک لمحے میں پورے شہر کو تباہ کر سکتے ہیں‘ جیسے بیروت میں ہوا ۔ ہم پاکستانی کیا سبق سیکھیں؟ یہاں تو ہر پارٹی ورکر عمران خان‘ نواز شریف‘ زرداری کے ذاتی وفاداری کے رتبے پر فائز ہے۔ وہ کچھ بھی کر لیں‘ یہ سب ان کا دفاع کریں گے۔ ان حکمرانوں کے اپنے اپنے وفادار ورکرز اور سوشل میڈیا پر حامی ہیں جو حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن کی سزا خود بھگتنے کو تیار ہیں لیکن اپنے لاڈلوں کی نالائقیوں‘ کرپشن اور غفلت پر تنقید سننے کو تیار نہیں۔ جس معاشرے میں حکمران اور اشرافیہ کو احتساب کا ڈر نہیں ہوتا وہ معاشرے بیروت کی طرح لمحوں میں برباد ہوتے ہیں ۔ بیروت کی تباہی کا یہی سبق ہے کہ اپنے حکمرانوں اور سول بیوروکریسی کو شک کا فائدہ نہ دیں ‘ورنہ آپ بچوں سمیت اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے مارے جائیں گے۔

رؤف کلاسرا

بشکریہ دنیا نیوز

خانہ جنگی کی بھاری قیمت ادا کرتے شامی بچے

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے بیرونِ ملک پناہ 

لینے والے شامی بچوں کا نہ صرف سلسلۂ تعلیم منقطع ہوگیا ہے بلکہ انہیں کم اجرت پر زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔
ادارے کی ذیلی تنظیم اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزیناں یا ’یو این ایچ سی آر‘ نے کہا ہے کہ 2013 کے اختتام تک لبنان اور اردن میں رہنے والے تقریباً تین لاکھی شامی بچے سکول سے دور رہ جائیں گے۔ 
متعلقہ عنوانات 
ان میں سے متعدد بچے جو سکول نہیں جا پاتے وہ کام کرنے جاتے ہیں اور سات سال کی عمر تک کے بچے بھی کام کرنے پر مجبور ہیں۔
شام کے 22 لاکھ تارکین وطن میں سے نصف بچے ہیں اور اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق جنگ زدہ علاقوں سے دور رہنے کے باوجود انھیں سنگین خطرات لاحق ہیں۔
تنطیم کی رپورٹ میں شام کی خانہ جنگی کے نتیجے میں شام اور شام سے باہر پناہ گزین بچوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بچے جسمانی اور نفسیاتی دونوں طرح کے خطرات سے دو چار ہیں۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر انٹونیو گوٹریس نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ’اگر ہم نے تیزی سے عمل نہیں کیا تو معصوموں کی ایک نسل پر قابل نفرت جنگ کے دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔‘
یو این ایچ سی آر کے تخمینے کے مطابق 37 ہزار بچے بغیر کسی سرپرست کے ہیں
شام کی تین سال سے جاری خانہ جنگی سے متعلق برطانیہ کے ایک تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ اس جنگ میں اب تک تقریبا گیارہ ہزار بچے مارے گئے ہیں۔
یو این ایچ سی آر نے جولائی اور اکتوبر 2013 کے درمیان اردن اور لبنان میں رہنے والے شامی بچوں اور ان کے اہل خانہ سے انٹرویوز کا ایک سلسلہ چلایا۔
محققین نے اس سلسلے میں 81 پناہ گزین بچوں کا انٹرویو کیا۔ ان کے علاوہ اردن اور لبنان میں رہنے والے مزید 121 بچوں کے ساتھ گروپ مباحثہ منعقد کروایا گیا۔
انھوں نے اس بابت تارکین وطن کے ساتھ کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے اور غیر سرکاری تنظیموں سے بھی رابطہ کیا۔
اس جائزے کے دوران بے وطن بچوں میں ملازمت، محنت کشی اور تنہائی کی بلند شرح دیکھی گئی۔
یو این ایچ سی آر کے تخمینے کے مطابق 70 ہزار سے زیادہ خانوادے بغیر والد کے ہیں جبکہ 37 ہزار بچے بغیر کسی 
سرپرست کے ہیں، نہ تو ان کی والدہ ہے اور نہ ہی والد۔
شام کے گیارہ لاکھ تارکین وطن میں سے 385007 لوگ لبنان میں ہیں، 294304 ترکی میں جبکہ 291238 اردن میں ہیں
شام کے گیارہ لاکھ تارکین وطن میں سے 385007 لوگ لبنان میں، 294304 ترکی میں جبکہ 291238 اردن میں ہیں۔ ان کے علاوہ ان کی اچھی خاصی تعداد عراق اور مصر میں بھی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تارکین وطن کی اس بڑی تعداد کا اثر ان ممالک پر بھی پڑا ہے جہاں یہ پناہ گزین ہیں۔
اس رپورٹ کے مصنفوں کے مطابق لبنان کے رہنے والے 80 فیصد شامی بچوں کو سکول میسر نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنہ 2013 کے آخر تک لبنان میں سکول نے جانے والے بچوں کی تعداد وہاں جانے والے بچوں سے بڑھ جائے گی۔
اس کے علاوہ بہت سے بچے کسی ملک کے شہری نہیں ہیں کیونکہ یہ پناگزین کیمپوں میں پیدا ہو رہے ہیں اور جس ملک میں یہ پیدا ہو رہے ہیں اس ملک کے حکام ان کی پیدائش کو درج نہیں کر رہے ہیں۔
لبنان میں جن 781 نومولود اطفال کا سروے کیا گیا ہے ان میں سے 77 فیصد کے پاس کوئی سرکاری برتھ سرٹیفیکیٹ نہیں ہے۔ اردن کے زعتری ریفیوجی کیمپ میں صرف 68 بچوں کو جنوری تا اکتوبر سنہ 2013 کے درمیان سرٹیفیکیٹ جاری کیا گیا ہے۔

Enhanced by Zemanta