کٹاس کے یہ آثار قدیمہ کوہ نمک کے دامن میں چوا سیدن شاہ سے چند کلو میٹر شمال میں ایک پہاڑی کے دامن میں سینکڑوں فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔ ان آثار قدیمہ میں متعدد مندر اور قلعے شامل ہیں۔ کوہ نمک کے دامن میں واقع کٹاس کے تاریخی آثار بھی ہمارا تہذیبی سرمایہ ہیں، ہزاروں سال پرانے یہ آثار قدیمہ اپنی اہمیت کے حوالے سے کسی بھی طرح ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے آثار قدیمہ سے کم نہیں۔ یہاں کے دو قلعوں میں سے اوپر والے قلعے کا رقبہ 200X300 1 فٹ ہے جبکہ نیچے والے قلعے کا قطرہ 800×45 فٹ ہے یہاں کے تاریخی آثار دو میل کے دائرے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جنرل کنگھم کا خیال ہے کہ یہ تاریخی آثار زیادہ قدیم نہیں۔ ان کا طرز تعمیر کشمیری ہے اس لئے یہ 625 عیسوی سے 939 عیسوی کے درمیان تعمیر کئے گئے تھے جب پنجاب پر کشمیری راجائوں کا قبضہ تھا۔ ایک اور انگریز ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر سٹیفن نے انہیں بدھ مت کے سٹوپا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق بدھ دور سے ہے، اور اشوکا سے قبل انہیں تعمیر کیا گیا جب برصغیر میں بدھ مت کو زوال آیا تو ہندوئوں نے ان پر قبضہ کرلیا اور انہیں سٹوپا سے مندروں میں تبدیل کر دیا.
مشہور چینی سیاح ہیون سانگ نے بھی اپنے سفرنامہ ہند میں اس آثار کا تذکرہ کیا تھا اس نے جس ریاست سنگھ پورہ کا تذکرہ کیا ہے وہ یہی مقام ہے ۔اس نے لکھا ہے کہ یہاں کے رہنے والے لوگ بہت خطرناک اور بہادر ہیں زہریلے سانپوں اور چھپکلیوں کی کثرت ہے جس کے باعث یہاں لوگ آنے سے ڈرتے ہیں وہ اس مقام کی خوبصورتی سے بھی بہت متاثر نظر آتا تھا معروف مسلمان سائنس دان البیرونی نے کٹاس کے مندروں میں بیٹھ کرہی ہندومت کے متعلق تعلیم حاصل کی تھی اور اس کا اظہار اس نے اپنی کتاب ’’کتاب الہند‘‘ میں بھی کیا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ البیرونی نے قلعہ نندنہ میں ہی بیٹھ کر دنیا کا قطر دریافت کیا تھا اس زمانے میں یہ تاریخی آثار ہندو مذہب کی یونیورسٹی کی حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔ دور دراز سے ہندو مذہب کے طالب علم یہاں آ کر گیان حاصل کرتے تھے۔
اس تاریخی آثار کا سب سے دلچسپ پہلو پانی کا تالاب ہے ہندومت کی روایات کے مطابق یہ تالاب انتہائی گہرا ہے اور اس کاسرا پاتال تک جاتا ہے لیکن جنرل کنگھم کے مطابق اس تالاب کی گہرائی 23 فٹ سے زیادہ نہیں یہ تالاب دو سو فٹ طویل اور 150 فٹ چوڑا ہے اس کے اندر آبی جھاڑیاں ہیں جس کے باعث اندر اترنا ناممکن ہے ان جھاڑیوں میں خطرناک قسم کے زہریلے سانپ اور چھپکلیاں بکثرت ہیں کیونکہ یہاں بہت کم لوگ آتے جاتے ہیں اس لئے یہ حشرات الارض یہاں عام طور پر نظر آ جاتے ہیں یہاں کے زہریلے سانپ پورے پاکستان میں مشہور ہیں۔ اس پانی کے تالاب کو کسی زمانے میں گانیا نالا سیراب کرتا تھا جو یہاں سے ہوتا ہوا جنوب میں اتر جاتا تھا اب یہاں صرف بارش کا پانی جمع ہوتا ہے۔
اس کے باوجود پانی شفاف ہے اور اس میں رنگ برنگی مچھلیاں انتہائی دلکش نظارہ پیش کرتی ہیں جنرل کنگھم کی اگرچہ یہ رائے ہے کہ مندر کشمیری دور سے متعلق ہیں لیکن وہ اس تصور کو بھی رد نہیں کرتا کہ پانڈوں نے انہیں تعمیر کروایا ہو گا وہ کہتا ہے کہ میں نے اچھی طرح تحقیق کرنے پر یہ معلوم کیا کہ یہاں12 مندر تھے جو ایک دوسرے سے منسلک تھے یعنی ہر پانڈو شہزادے کے لیے ایک مندر تعمیر کیا گیا تھا۔ مندر کے اوپر سے وادی کا نظارہ عجب خوبصورت منظر پیش کرتا ہے کسی زمانے میں یہاں ایک عالیشان شہر تھا سامنے والی پہاڑی جسے جنرل کنگھم نے کوٹیرا کا نام دیا ہے کے اوپر ابھی تک تاریخی آثار پائے جاتے ہیں یہاں پر ایک بڑے مشہور ہندئو سادھو کا گھر تھا جو اس علاقے میں بہت مقبول تھا اور اس کے پاس دور دراز سے لوگ آیا کرتے تھے اس پہاڑی پر یہ قصبہ آباد تھا۔ 1993ء میں سانحہ بابری مسجد کے بعد بعض جوشیلے افراد نے ان مندروں کو بھی نقصان پہنچایا تھا جو اپنی جگہ انتہائی غط بات ہے چونکہ یہاں مندروں میں کوئی عبادت نہیں ہوتی۔