سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی معصوم بچے کی اپنے نانا کی لاش پر بیٹھے زار و قطار روتے تصویر جس نے بھی دیکھی، اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور مجھ سمیت ہر درد دل رکھنے والے صاحب اولاد کو رلا کر رکھ دیا۔ یہ تصویر مقبوضہ کشمیر کے 3 سالہ عیاد کی تھی جس کے 60 سالہ نانا بشیر احمد کو سوپور میں ایک ناکے پر موجود بھارتی سیکورٹی اہلکاروں نے گاڑی سے اتار کر بچے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کر دیا ، خوفزدہ سہما ہوا ننھا عیاد اپنے نانا کی لاش پر بیٹھا پوری دنیا کو دکھائی دیا۔ مقتول کے بیٹے نے درد بھری آواز میں کہا کہ لداخ میں چینی فوج کے ہاتھوں رسوا ہونے والی بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں پر اپنا غصہ نکال رہی ہے اور انہیں انتقام کا نشانہ بنارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں پیش آنے والا حالیہ دردناک واقعہ مظلوم کشمیریوں پر بھارتی ظلم و بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہے، روزانہ کتنے ہی بچے بھارتی ظلم و جبر کے نتیجے میں یتیم اور بے سہارا ہو رہے ہیں جو دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔
حالیہ کچھ مہینوں میں بھارتی سیکورٹی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کی ہیں۔ رواں سال اب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں سینکڑوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کے ساتھ ساتھ مودی حکومت کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے ان کی نسل کشی بھی کر رہی ہے اور مقبوضہ وادی میں آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کے خاتمے کے بعد بھارتی ہندوئوں کو ملازمت اور کاروبار کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں مستقل طور پر آباد کیا جارہا ہے اب تک ہزاروں بھارتی ہندو جائیدادیں خرید کر مقبوضہ کشمیر میں آباد ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں لداخ میں چینی فوج کے ہاتھوں رسوا ہونے کے بعد نریندر مودی کا اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے لداخ کا اچانک دورہ اور فوجیوں سے معنی خیز خطاب یہ ثابت کرتا ہے کہ مودی حکومت اپنی خفت مٹانے اور عوام کی توجہ شکست سے ہٹانے کیلئے مذموم کارروائیوں میں مصروف ہے اور اس کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان کیخلاف مزید کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے جس کیلئے پاکستان کو ہر لمحہ تیار اور چوکس رہنا ہو گا۔
بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کر کے اور دہشت گردی کروا کے غیر یقینی صورتحال پیدا کی جائے اور اس کی معیشت کو کمزور کیا جائے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات اور گزشتہ دنوں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والا دہشت گردی کا حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بھارت کے مذموم عزائم کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے میں جب دنیا کےتمام ممالک اپنے تمام وسائل کورونا وائرس سے نمٹنے اور اپنےعوام کی فلاح کیلئے بروئے کار لارہے ہیں، بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس پر اس نازک صورتحال میں بھی جنگی جنون سوار ہے اور وہ جنگی ساز و سامان کی خریداری پر اپنے تمام وسائل بے دریغ خرچ کر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں بھارت نے روس سے 25 مگ 29 جنگی طیارے اور 12 ایس یو 30 ایم کے آئی ایئر کرافٹس خریدنے اور اپنے 59 مگ 29 جنگی طیاروں کو اپ گریڈ کرنے کا دفاعی معاہدہ کیا ہے جس کی مجموعی مالیت 39 ہزار کروڑ بھارتی روپے ہے۔
حالیہ معاہدہ گزشتہ سال نومبر میں فرانس سے ہونے والی اس دفاعی ڈیل کے علاوہ ہے جس میں بھارت نے فرانس سے 36 ریفائل فائٹر جیٹ طیارے خریدے جن کی مجموعی مالیت 8.3 ارب ڈالر تھی۔ یہ بات واضح ہے کہ بھارت یہ سب کچھ سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کر رہا ہے جس کا مقصد پاکستان پر دفاعی برتری حاصل کر کے اس کی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنا ہے۔ معصوم کشمیری بچوں کا اپنے باپ، بھائیوں اور رشتہ داروں کی لاشوں پر رونا روز کا معمول بن گیا ہے ۔ حالیہ واقعہ انسانی حقوق کے ان علمبرداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور انسانیت کے ان جھوٹے علمبرداروں کو معصوم کشمیریوں کی تذلیل اور ان پر ظلم و بربریت نظر نہیں آتی۔
وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارت کو واضح پیغام دیں کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے شہریوں پر بھارتی ظلم و ستم برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کل یہی بچے بڑے ہو کر بندوق اٹھا کر اپنے پیاروں کے خون کا بدلہ بھارتی سیکورٹی فورسز سے لیں گے جس کا الزام ہمیشہ کی طرح بھارت، پاکستان پر ڈالے گا۔ سمجھا تو یہ جارہا تھا کہ معصوم کشمیری بچے کی یہ تصویر دنیا کی اُن طاقتوں اور انسانی حقوق کے چمپئن کہلوانے والوں کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دے گی مگر افسوس کہ انسانیت کا پرچار کرنے والے مغربی ممالک اور ترقی یافتہ قوموں جن کے مفادات بھارت کی معاشی منڈی سے جڑے ہوئے ہیں، کو نانا کی لاش پر بیٹھے عیاد کے آنسو نظر نہیں آئے اور یہ تصویر عالمی ضمیر نہ جگا سکی۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، 1951ء میں وجود میں آنے والے اس کے سیاسی حلقے جنا سنگھ اور اس کی جانشیں یعنی موجودہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گزشتہ 70 برسوں سے بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 کی ’منسوخی‘ کے لیے شور مچاتے رہے۔ وہ آئین سے اس آرٹیکل کے خاتمے سے کم پر کسی بھی چیز کے لیے راضی نہیں تھے۔ کشمیر کو خودمختار حیثیت دینے کے لیے مرتب کردہ اس شق کے شریک خالق جواہر لال نہرو نے 1964ء میں اپنی موت سے پہلے تک آرٹیکل 370 کو برائے نام قانون تک محدود کر دیا تھا۔ 1949ء میں آئین ساز اسمبلی کا اختیار کردہ آرٹیکل 370 کوئی عام قانون نہیں تھا۔ یہ آرٹیکل ایک طرف 1949ء میں مئی سے اکتوبر یعنی 5 ماہ تک وزیرِاعظم نہرو اور ان کے نائب ولبھ بھائی پٹیل اور دوسری طرف کشمیر کے وزیرِاعظم شیخ محمد عبداللہ اور ان کے بااعتماد ساتھی اور ممتاز وکیل مرزا محمد افضل بیگ کے مابین مذاکراتی عمل کے ذریعے طے پانے والے آپسی سمجھوتے کا پیش خیمہ تھا۔ مگر 5 اگست 2019ء کو وزیرِاعظم نریندر مودی نے جو اقدام اٹھایا وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی تک ہی محدود نہیں بلکہ کشمیر کی آئینی اور سیاسی تباہی کے مترادف ہے۔
اس منسوخی نے نہ صرف کشمیر سے اس کی خودمختار حیثیت چھین کر اسے ’یونین ٹیریٹری‘ کا حصہ بنا دیا بلکہ وادئ کے پورے سیاسی منظرنامے کو بُری طرح سے بدل رکھ دیا گیا۔ کشمیر میں نئی حلقہ بندیوں، وہاں کی 2 اہم سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) میں اختلافات پیدا کرنے کی سازشوں، بی جے پی کے خوشامدیوں اور اس کی جی حضوری کرنے والوں پر مشتمل ایک نئے سیاسی محاذ کے قیام اور جموں کو برتری دینے پر زور و شور سے کام جاری ہیں۔ بی جے پی کے خوشامدی ٹولے میں پی ڈی پی کے 2 سینئر رہنما بھی شامل ہیں جبکہ کشمیر میں سیاسی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد کو جیل میں بند کر دیا گیا تھا۔ یہ ساری مشق اس اندازے پر کی گئی کہ کشمیر کے رہنما، پریس اور سیاسی طبقہ بی جے پی کے منصوبوں پر سرخم تسلیم کر لیں گے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر پوری وادئ کشمیر میں خوف و ہراس سے بھرا ماحول پیدا کیا گیا۔
بی جے پی کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کہ بالآخر کشمیر میں سارے لوگ ان کے عزائم کے آگے جھک جائیں گے اور ہار جائیں گے۔ بی جے پی کے اس اندازے کی بھرپور عکاسی کشمیریوں کے بارے میں اس کے رہنماؤں کی کمزور رائے کرتی ہے۔ سیاستدانوں کو اس لیے جیل میں بند نہیں کیا گیا تھا کہ وہ کوئی جرم کرنے جا رہے تھے بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہی تھی۔ انہیں اس خوف کے پیشِ نظر حراست میں لیا گیا کہ کہیں وہ بی جے پی حکومت کی اس بدنیت اسکیم کو مسترد نہ کر دیں اور عوام کو بھی اپنی اس رائے کا ساتھی منا لیں۔ وہ کسی بھی طور پر دہشتگرد نہیں تھے۔ پی ڈی پی اور این سی کے رہنما جب کشمیر میں بطور وزیر اعلیٰ صاحبِ اقتدار تھے تو اس وقت انہوں نے مسلح بغاوت کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی دہلی کی سرکار کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ دراصل بی جے پی کی اس اسکیم کو جب عوام اور دیگر تمام حلقوں نے مسترد کر دیا تو حکمراں جماعت ان سیاسی قوتوں کو سیاسی سرگرمی سے جبری طور پر دُور کرنے پر مجبور ہو گئی۔
آخر یہ استحصال و ظلم کا نظام کب تک رائج رہ سکتا ہے؟ کب تک ان سیاسی رہنماؤں کو حراست میں رکھا جاسکتا ہے؟ حکمرانوں کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے منصوبوں کی تفصیلات اپنے قیدیوں کے کانوں تک پہنچا ہی دیتے ہیں۔ قریب 2 دہائیوں پہلے نئی دہلی نے اسی طریقے کو اپناتے ہوئے جیل میں بند حریت رہنماؤں کے درمیان اختلافات پیدا کر دیے تھے۔ مگر اس بار معاملہ یکسر مختلف ہے۔ کشمیریوں کو کہا جارہا ہے کہ وہ جدوجہد سے بھرپور ماضی، عظیم ثقافت اور 1586ء میں مغل شہنشاہ اکبر کے آزاد کشمیر پر قبضے کے بعد سے شروع ہونے والی صدیوں پرانی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ سمیت اس قدیم تاریخی سرزمین کی سیاسی شناخت کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیں۔ کشمیریوں نے نہ تو کبھی اپنی تاریخ کو مسخ کیا ہے اور نہ ہی کبھی ایسا کریں گے۔ بی جے پی نے جو حربہ استعمال کیا ہے وہ کلونیل دور کا خاصہ ہے۔
کرمنل پروسیجر کوڈ، 1898ء خود اپنے اندر ایک غیر شفاف ماضی سموئے ہوئے ہے۔ اگرچہ 1973ء میں اس کے اندر ’تبدیلی‘ کی گئی تھی لیکن نیا کوڈ بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔ دفعہ 107 کے مطابق: جب کسی ایگزیکیٹو مجسٹریٹ کو یہ اطلاع موصول ہو کہ کوئی شخص نقص امن یا عوامی سکون کو خراب کرنے کے درپے ہے یا پھر ایسا کوئی اقدام اٹھانے جا رہا ہے جس کے باعث مذکورہ حالات پیدا ہوسکتے ہیں اور مجسٹریٹ کے خیال میں اگر اس شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی گنجائش نکلتی ہے تو وہ اس شخص کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ایک سال تک کے لیے پُرامن رہنے کی یقین دہانی کے عوض مچلکے جمع کروانے کا حکم دے سکتا ہے۔ دفعہ 151 کے مطابق: اگر کسی پولیس افسر کو یہ پتا چلتا ہے کہ کوئی شخص کسی جرم کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اگر افسر یہ محسوس کرتا ہے کہ جرم کو روکنے کے لیے سوائے اس شخص کی گرفتاری کے اور کوئی راستہ نہیں ہے تو وہ مجسٹریٹ کے احکامات اور وارنٹ کے بغیر اس شخص کو حراست میں لے سکتا۔
پانچ فروری کو حراست میں لیے جانے والے افراد کی گرفتاری کو 6 ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ وہ مچلکوں پر دستخط کرنے سے انکاری ہیں۔ ایک افسر نے دی ٹربیون کو بتایا کہ حکومت اب صرف مشاورتی بورڈ کی سفارش کے بعد ہی 6 فروری کے بعد انہیں حراست میں رکھنے کی مجاز ہے۔ جموں و کشمیر کی حکومت نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 107 کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مجسٹریٹوں کے ذریعے تقریباً 6 ہزار سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیا ہوا ہے۔‘
3 سابق وزرائے اعلیٰ سمیت تقریباً ایک ہزار افراد کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفع 107 اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اب بھی قید ہیں۔ ایک پولیس افسر کے مطابق اگر پولیس سیاسی رہنماؤں یا دیگر افراد کو دفعہ 151 کے تحت حراست میں لیتی تو ان سب کو ضمانت پر رہائی مل جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی راج کے قانون کی دفع 107 ایسے وقت میں کارگر ثابت ہوتی ہے۔ کشمیر ہو یا دنیا کا کوئی دوسرا حصہ، سازشیں عوامی رائے کو زیر نہیں کر سکتیں۔ شہریت ترمیمی ایکٹ جیسا بدنیت قانون اور 5 اگست 2019ء کی اسکیم مودی حکومت کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھودا ہوا گڑھا ثابت ہو گی۔
اے جی نورانی
یہ مضمون 8 فروری 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔
بھارتی اخبار’دی ہندو‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی کے پاس اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر میں آپشن ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
مضمون کے مطابق عالمی برادری کی نظر میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو درست ثابت کرنے کی کوشش سے پہلے حکومت کو ملک کے اندر دل جیتے ہوں گے۔ مضمون میں مزید کہا گیا کہ پانچ اگست کو بھارت کے زیراتنظام جموں و کشمیر اور لداخ کی نیم مختار حیثیت ختم کر کے دونوں علاقوں کو براہ راست مرکزی حکومت کے انتظام میں دے دیا گیا لیکن 100 دن سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی یہ علاقے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ کشمیر کے زیادہ تر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور مواصلاتی ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے علاقہ بیرونی دنیا سے کٹا ہوا ہے اس وجہ سے وہاں کے حقیقی حالات کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔
حقیقت کو پرکھنے کا پیمانہ
مضمون کے مطابق یہ قیاس آرائی عام ہے کہ اس وقت بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سکوت طاری ہے، اس کے پردے پیچھے گہری بےچینی اور غصہ چھپا ہوا ہے جس کا اظہار تشدد کے گاہے بگاہے ہونے والے واقعات میں کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال کا ایک واضح ثبوت گذشتہ ماہ یورپی پارلیمنٹ کےکچھ ارکان کے دورہِ سری نگر کے موقعے پر سامنے آیا جس دوران پورا شہر بند تھا اور تشدد کے اکادکا واقعات بھی ہوئے۔ حکام کے لیے یہ دعویٰ کرنا ممکن ہے کہ کشمیر میں اس وقت ہونے والے تشدد کے واقعات پانچ اگست سے پہلے ہونے والے واقعات سے کم ہیں لیکن یہ نکتہ قابل غور ہے کہ آیا کشمیر کے موجودہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے کوئی پیمانہ موجود ہے؟
مضمون میں مزید لکھا گیا کہ دعوؤں اور مخالفانہ دعوؤں کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے قابل فخر ورثے پر کاری ضرب لگی ہے کیونکہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ سمیت کئی کشمیر ی رہنما قید ہیں اور علاقے میں کرفیو نافذ ہے یہ صورت حال برقرار رہے گی۔
کچھ اچھا کچھ برا
باجود اس کے کہ کشمیر میں عوام سے رابطے کی بڑی مہم شروع کی گئی ہے لیکن اب واضح ہو گیا ہے کہ اس مہم کے وہ نتائج سامنے نہیں آئے جن کی وزیراعظم نریندرمودی اور بھارتی حکومت کو امید تھی۔ مضمون میں کہا گیا کہ بلاشبہ کچھ اچھی باتیں بھی ہیں، اکثر یورپی ملکوں اور کچھ اتحادی ملکوں نے کشمیر میں بھارتی اقدامات کو براہ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ اسی طرح کچھ ناکامیاں بھی ہیں، جرمن چانسلر اینگلا میرکل جیسی ممتاز رہنما نے تشویش ظاہر کی کہ کشمیر یوں کے حالات اچھے اور پائیدار نہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کشمیری عوام کو کئی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ کمیشن نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے زیرانتظام کشمیر میں موجودہ صورت حال ختم اور لوگوں کے حقوق بحال کرے۔ مضمون کے مطابق بھارتی حکومت کے لیے عالمی رائے اور یہ حقیقت کہ کشمیر 1994 کے بعد ایک بار پھر عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آیا ہے، اس کے لیے یہ بات واقعی تشویش ناک ہے کہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کا ریکارڈ اور جمہوری ساکھ داؤ پر لگ گئے ہیں۔
اطلاعات اور شناخت کے مسائل
ایسے افراد جو کشمیر کے موجودہ حالات کا سیدھا سادہ جواب چاہتے ہیں، ان کے لیے بھی صورت حال الجھا دینے والی ہے کہ مشکوک قسم کی توجیہات پیش کرنے کی بجائے حکومت سیدھی طرح کیوں نہیں بتاتی کہ اس نے کشمیر کی خود مختاری ختم کر کے کیا حاصل کیا؟ بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ کشمیری عوام، بھارتی شہریوں اور دنیا کو بتائے کہ اس کے پاس مستقبل میں شورش زدہ علاقے کے لیے کیا منصوبہ ہے؟ مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنے کی بجائے جمہوری اقدار کی پاسداری لوگوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو گی۔ بھارتی حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ آئین سے آرٹیکل 370 تو ختم کر سکتی ہے لیکن کشمیریوں کی شناخت ختم نہیں کر سکتی۔
جمہوریت کا سوال
مضمون میں حکومت کو مشورہ دیا گیا کہ بعض ممالک کی طرف سے کشمیر میں بھارتی اقدامات کی مخالفت کی صورت میں بھارت کو فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ ترکی اور ملائشیا نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بھارتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ان ممالک سے رابطے میں باہمی تعلقات پر زد نہیں پڑنی چاہیے۔
مقبوضہ کشمیر میں سفاک اور بے رحم کرفیو کے سو دن مکمل چکے ہیں لیکن کشمیریوں پر بھارتی افواج نے بدستور عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے، 30 ہزار سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کر کے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی دیگر جیلوں میں بند کر رکھا ہے، پوری وادی حراستی مرکز میں تبدیل ہو گئی ہے، ہر دس نہتے کشمیریوں پر ایک فوجی مسلط ہے، چھ ہزار سے زائد نا معلوم قبریں دریافت ہو چکی ہیں، 80 ہزار سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں، 49 فیصد بالغ کشمیری دماغی امراض کا شکار ہیں، سینکڑوں خواتین اور لڑکیوں کو اٹھا کر غائب کر دیا گیا۔ خوراک اور ضروریات زندگی کی قلت عروج پر ہے، زندگی بچانے والی ادویات نایاب ہو چکی ہیں۔ بھارت اور اس کی ریاستی مشینری دہشت گردی کی اندھی تاریخ رقم کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خود ارادیت مانگنے کی سزا دینا چاہتی ہے۔
یہ سب کچھ 21 ویں صدی میں ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار سب کچھ جانتے بوجھتے اور دیکھتے ہوئے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بات بیانات، اعلانات اور قراردادوں سے آگے نہیں بڑھی اور سوالات وہیں کھڑے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں فاشزم کب تک چلے گا۔ دنیا میں امن کے علمبردار اور انسانی حقوق پر چیخ و پکار کرنے والے عملا کب کشمیریوں کیلئے آواز اٹھائیں گے۔ کیا ہماری سفارتکاری نتیجہ خیز نہیں ہوئی ؟ کیا کشمیر میں مرنے والے انسان نہیں ؟ کیا بھارتی فوج کے ہاتھوں ان کا بہنے والا خون سرخ نہیں ؟ پاکستان، جس کی ریاستی پالیسی یہ طے پائی تھی ہم آخری گولی، آخری جوان اور آخری حد تک جائیں گے، کیونکر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے ؟ بھارت نے کشمیر کی جنت نظیر وادی کو جہنم میں تبدیل کر دیا ہے لیکن عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں، بنیادی سوال یہی ہے کہ عالمی قوتیں کب حرکت میں آئیں گی ؟ عالمی ضمیر کب جاگے گا ؟
جہاں تک پاکستانی پالیسی اور حکمرانوں کے طرز عمل کا سوال ہے تو ابھی تک ہم اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر کے نشے سے باہر نہیں آ رہے۔ ہم صرف اس امر پر خوش ہیں کہ اقوام متحدہ نے حق خود ارادیت سے متعلق اپنی ستر برس پرانی قراردادوں کو مؤثر قرار دیا اور اگر یہ قراردادیں مؤثر ہیں تو پھر سلامتی کونسل ان پر عملدرآمد کے حوالے سے متفکر کیوں نہیں ؟ امریکا جو خود کو سپر پاور اور دنیا کا بلا شرکت غیرے مالک تصور کرتا ہے، بھارت کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑتا ؟ اس کا طرز عمل تو یہی ظاہر کر رہا ہے کہ بھارت جو چاہے کرتا رہے عالمی قوانین اور اصولوں کی دھجیاں بکھیرتا پھرے۔ پاکستان سب کچھ برداشت کرے ، خاموش رہے تا کہ کسی کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔ دوسری جانب انسانیت کا دشمن نریندر مودی اپنے انتہا پسندانہ عزائم پر کاربند ہے اسے کھلی چھٹی ملی ہے کہ وہ کشمیریوں پر قیامت صغریٰ نازل کرے، بھارتی فوجی گلی محلوں میں کشمیریوں کے خون سے ہاتھ رنگتے نظر آئیں اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہ ہو۔
اس صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے، کیا ہم کشمیر سے نظریں پھیر چکے ہیں ؟ اگر ہم کشمیر کو زندگی موت کا مسئلہ سمجھتے ہیں تو پھر جان لیں کشمیر پر ہماری خاموشی بھارت کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے پر اکسائے گی لہٰذا ہمیں اب کشمیر پر زبانی کلامی راگنی چھوڑ کر کچھ عملا ایسا کرنا ہو گا جس سے بھارت کی سفاکیت ایکسپوز ہو اور دنیا بھی محسوس کرے کہ یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر خطہ میں امن کی کوئی گارنٹی نہیں ہو گی۔ کشمیر پر کسی قسم کا صرف نظر تاریخ میں مجرمانہ غفلت کے مترادف ہو گا، کرتار پور راہداری کا جشن اپنی جگہ لیکن جب تک کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں ملتا اور وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے نہ تو پاکستان مکمل ہو گا اور نہ ہی علاقائی امن، سلامتی اور بقا کی کوئی گارنٹی ہو گی۔