سقوط کابل

دنیا نے حیرانی سے سقوط کابل کو دیکھا اور اشرف غنی کی ازبکستان فرار کی بزدلی کو بھی دیکھا۔ ’بیس سال بعد جنگ ختم ہو گئی ہے۔‘ یہ وہ پیغام تھا جو گزشتہ اتوار کو طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان نے میڈیا کو دیا۔ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امریکی عملے کے انخلا نے، اگرچہ یہ زیادہ منظم تھا، کئی عشرے قبل سائیگون سے جلد بازی اور منظم امریکی رخصتی کی یاد دلا دی۔ کابل کے صدارتی محل میں آرام سے بیٹھ کر تصاویر بنوانے والے طالبان نے وہی پیغام دیا جو ویت کانگ نے دیا تھا۔ طالبان نے ایک ماہ سے کم عرصے میں یکے بعد دیگرے شہر قبضہ کیے اور وہ بھی کسی معمولی مزاحمت کے بغیر۔ اس کے لیے تیاریاں دیہی علاقوں میں کئی برسوں سے جاری تھیں، جہاں غنی حکومت کی طاقت اور اس کے لیے ہمدردی بالکل موجود نہ تھی۔ حتیٰ کہ مزار شریف اور ہرات میں، جہاں سے توقع کی جا سکتی تھی، مقامی جنگجوؤں کی جانب سے مزاحمت بہت کم اور بہت تاخیر سے ہوئی۔

غنی مزار شریف بھاگا، تو ترکی سے حال ہی میں مقامی جنگجوؤں کو قائل کرنے کے لیے آنے والے ازبک جنگجو دوستم ان کے ساتھ ہو لیا، لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک انتہائی سنجیدہ پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے لیے طالبان کی تعریف ہونی چاہیے۔ وہ اہم سرحدی پوائنٹس کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں، انھوں نے ہر ایک کو یقین دلایا کہ وہ کسی بھی حال میں سرحدیں پار کر کے غیر ملکی علاقے میں داخل نہیں ہوں گے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ طالبان وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ وسطی ایشیائی ممالک میں داخل نہیں ہوں گے۔ یہی یقین ایران، پاکستان اور چین کو بھی دلایا جا چکا ہے۔ چناںچہ طالبان کے خلاف افغان جنگجوؤں کوپروان چڑھانے کی ان کے پاس کوئی وجہ نہیں ہے، جنھوں نے جنگجوؤں کو غیر مؤثر بنا کر افغانستان کو ایک اور ممکنہ خانہ جنگی سے فی الوقت بچا لیا ہے۔ مغرب کے لیے یہ ایک اسرار ہے کہ جس افغان آرمی کو انھوں نے پیسا دیا اور کئی برس تک اس کی تربیت کی، کیسے اور کیوں جنگ کے لیے اتنی ناکارہ نکلی۔

غنی کی حکومت نے جس کرپشن کو فروغ دیا، اس کا نتیجہ دفاعی بجٹ میں خردبرد کی صورت میں نکلا، دبئی میں رئیل اسٹیٹ بھی خریدی گئی۔ پام آئی لینڈ کے بڑے حصے کی ملکیت کس کے پاس ہے؟ فوجیوں کو شاذ و نادر ہی پوری تنخواہ مل پاتی ہے، کیوں کہ افسران سارا پیسا ہتھیا لیتے ہیں، جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کیوں فوج چھوڑنے کی شرح اتنی زیادہ ہے (سالانہ 35 ہزار فوجی)۔ یہ اکثر امریکا کے دیے ہوئے ہتھیار بلیک مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں تاکہ گزارا کر سکیں۔ ان کے پاس مغرب کی حمایت یافتہ کرپٹ حکومت کے لیے اور طالبان کے خلاف لڑنے کرنے کے لیے کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ دوحہ امن منصوبے کی ناکامی، جس پر امریکا اور طالبان میں اتفاق ہو گیا تھا، پہلے سے طے شدہ نہیں تھی۔ امریکا جو اپنے نقصانات کم کرانا چاہتا تھا، اور اسے ایک ہاری ہوئی جنگ سے محفوظ پسپائی درکار تھی، طالبان نے اس میں اپنے اس ہدف تک رسائی کو دیکھا، جس کے لیے وہ برسوں سے لڑتے آرہے تھے، یعنی غیر ملکی قبضے کا خاتمہ۔

شروع ہی سے یہ بات بالکل واضح تھی کہ طالبان مستقبل میں کسی امریکی کٹھ پتلی حکومت کو برداشت نہیں کریں گے۔ طالبان کی اقدار میں سے ایک یہ بھی ہے کہ معاہدوں کی پاس داری ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتیں طالبان کی یقین دہانیوں پر اعتبار کر سکتی ہیں کہ بین الاقوامی سرحدوں کا احترام کیا جائے گا۔ آج کے طالبان کا رویہ 2001 سے قبل کے طالبان جیسا نہیں ہے۔ یہ ان کے الفاظ اور کابل میں ان کے عمل سے واضح ہو چکا ہے، بلکہ اس سے قبل دیگر تمام شہروں اور قصبات کی فتح میں بھی یہ سامنے آ چکا ہے۔ افغان فوج کو پیغام بہت واضح تھا، کہ اپنے ہتھیار ڈال دو اور بغیر کوئی سزا پائے چلے جاؤ، اس طرح انھوں نے کابل تک آسانی سے راستہ بنا لیا۔ اس رویے کی وجہ سے فوج کے پگھلنے میں تیزی آئی۔ وہ اچھے خاصے تبدیل ہو چکے ہیں، اور ایک مرکزی قوت کے بغیر مقامی کمانڈرز کی متعدد آرمیز پر مشتمل ایک اڑیل تحریک کے بجائے آج طالبان کہیں زیادہ متحد اور منظم ہیں، ورنہ وسیع پیمانے پر قتل عام اور لوٹ مار سے بچنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ وہ غیر منظم طاقت اب نہیں رہی، طالبان کی زمینی قوت کی قیادت اور اقدار کے ساتھ وابستگی کے مضبوط عزم سے ان کا نظم و ضبط مضبوط ہوا ہے۔

دوسری بات، طالبان کو ایک پشتون قوت کے طور پر بنایا گیا تھا، اس لیے اس نے پشتونوں کو افغانستان میں موجود دوسری نسلوں کے خلاف کھڑا کیا، آج طالبان میں تاجکوں اور ازبکوں کا ایک مضبوط طبقہ شامل ہے، جس کی وجہ سے ان کی نسلی تقسیم اگر مکمل طور پر ختم نہ بھی ہوئی ہو تو کم ضرور ہو گئی ہے۔ نسلی امتیاز سے بچنے سے یقینی طور پر طالبان کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک جامع حکومت پر ان کے اصرار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ میں شرط لگا سکتا ہوں کہ عبداللہ عبداللہ براہ راست یا بالواسطہ نئے سیٹ اپ کا حصہ ہوں گے (افغانستان پر میرے 29 ستمبر 2020 اور 2 اپریل 2021 کے مضامین پڑھیں)۔ طالبان رہنما کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے خواتین کے کردار کے حوالے سے ماضی کی غلطیوں سے سیکھا ہے۔ اگر یہ سچ ہے اور خواتین کو اسکول جانے، نوکری کرنے اور گھومنے پھرنے کی اجازت ہو گی، تو اس سے یقینی طور پر ان کی قبولیت کو استحکام ملے گا، بالخصوص شہروں میں۔

اور آخری بات یہ کہ طالبان کا شیعہ مخالف پہلو بظاہر لگتا ہے کہ نرم پڑ گیا ہے۔ اگر ایسا برقرار رہا تو اس سے ایک متحد افغانستان میں امن کو فروغ ملے گا۔ طالبان کا یہ اعلان کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، مستقبل قریب کے لیے ایک اچھی علامت ہے۔ افغانستان بھر کو اپنے قبضے میں کرنے کے دوران طالبان نے شہریوں کو یقین دلایا کہ کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا اور نہ لوٹ مار کی جائے گی۔ اس پر سختی سے عمل کیا گیا۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ افغانوں نے طالبان کو شہروں میں داخل ہونے کی اجازت دی اور فوج نے ہتھیار ڈالے یا انھوں نے راستہ دیا۔ افغانستان کے ارد گرد کی علاقائی طاقتیں جو جاری جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں، اب امن قائم رکھنے اور افغان ملک اور معیشت کی تعمیر نو میں مدد کرنے کے لیے تعاون کریں۔

اکرام سہگل

بشکریہ ایکسپریس نیوز

Dr. Abdul Qadir Khan column on Negociations with Taliban

میں نے کافی عرصہ پیشتر اپنے ایک کالم میں اس مسئلے پر تفصیلی تبصرہ کیا تھا اور ان لوگوں کی کم عقلی پر افسوس کیا تھا جو روز یہ رٹ لگا رہے تھے کہ پہلے ہتھیار ڈالو اور پھر بات کرو۔ میں نے بتایا تھا کہ قبائلیوں اور پٹھانوں سے یہ کہنا اس بات کے مترادف ہے کہ اپنے پورے کپڑے اُتار کر ہمارے سامنے کھڑے ہوجاؤ اور پھر ہمارے حکم اور ہدایات پر عمل کرو۔ یہ غیّور اور بہادر قوم ہے اور ان کی تاریخ سخت جدوجہد اور اپنے علاقے کی آزادی اور خودمختاری قائم رکھنے کیلئے کامیاب جنگوں کے سنہری واقعات سے بھری پڑی ہے۔ میرے عزیز دوست، سابق سفیر عزیز احمد خان صاحب نے ایک روز بتایا تھا کہ ”پٹھان اس وقت پُرسکون ہوتا ہے جب وہ جنگ کررہا ہوتا ہے“۔ جس طرح بھوپال میں کہاوت تھی کہ وہاں بچے پہلے پیراکی سیکھتے ہیں اور پھر چلنا (شہر میں پانچ بڑے تالاب تھے) اسی طرح قبائلی بچہ گولی کی آواز پہلے اور اذان کی آواز بعد میں سنتا ہے۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہمارے ناسمجھ حکمراں طبقے اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ یہ پہلے اپنے کپڑے اتاریں (یعنی ہتھیار ان کے پیروں میں ڈال دیں) اور پھر امن کی بھیک مانگیں۔
حکومتی بیانات اور مطالبات کے علاوہ ہمارے صحافی اور نام نہاد ماہرین دفاعی اُمور روز ہی یہ کہتے اور سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ جن لوگوں نے ہمارے 35 ،40 ہزار شہری اور فوجی ہلاک کئے ہیں ان سے کس طرح بات چیت یا مفاہمت کی جاسکتی ہے۔ اگر ان کی عمر اور حافظہ و معلومات ساتھ دیں تو ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ذرا دوسری جنگ عظیم کے واقعات، نقصانات، تباہی اور ہلاکتوں پر نظر ڈالیں، جرمنی ،جاپان اور اٹلی کی جانب سے شروع کردہ بھیانک جنگ کے نتیجے میں کم از کم ساڑھے پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوئے، اس سے کئی گنا زیادہ زخمی اور اپاہچ ہوگئے، ان کی دشمنی اور ایک دوسرے سے نفرت و جارحیت تاریخ کے شرمناک اوراق ہیں۔ ایک طرف امریکہ، انگلستان، فرانس، روس تھے اور دوسری جانب جرمنی، اٹلی، جاپان تھے۔ لاکھوں ہندوستانی سپاہی اور افسران انگریزوں کے ساتھ لڑرہے تھے اور ہلاک ہو گئے تھے۔ میں نے یورپ میں وہ کھنڈرات دیکھے ہیں اور جاپان میں ایٹمی ہتھیاروں کی تباہی دیکھی ہے۔ لینن گراڈ میں لاکھوں افراد جرمن محاصرہ کے دوران بھوک سے ہلاک ہوگئے تھے۔ انہوں نے شہر کے تمام جانور جن میں بلی، کتے بھی شامل تھے کھانے کے بعد انسانی مردے تک کھائے تھے۔ امریکی فاسفورس بموں کے حملوں سے ٹوکیو شہر میں لاکھوں لوگ جل کر ہلاک ہوگئے تھے اور پھر ایٹمی حملوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ انسان اس طرح جلے جیسے کلام مجید میں دوزخ کا نقشہ کھینچا جاتا ہے۔
میں نے یہ اندوہناک واقعات اس لئے بیان کئے ہیں کہ ان تمام بھیانک ہلاکتوں اور جنگ ریزی کے باوجود انگریزوں، امریکیوں، جرمنوں، فرانسیسیوں اور جاپانیوں نے کبھی ایک دوسرے سے ملنے یا دوستی کرنے سے یہ کہہ کر انکار نہیں کیا کہ تم قاتل ہو تم نے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا ہے ہم تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتے ہیں ، تم اپنی فوج، سپاہی، ایئرفورس، نیوی کو تحلیل کردو۔ یہ قومیں اس وقت دنیا کی بہترین دوست ہیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ایک دوسرے کے دفاع کے معاہدے کئے ہوئے ہیں۔ اگر اتنے بڑے دشمن، اتنی ہلاکتوں اور تباہیوں کے بعد بہترین دوست اور ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے ہیں جبکہ ان کا تعلق مختلف قوموں اور تاریخ و ثقافتوں سے ہے تو پھر ہم کیوں اپنے بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر افہام و تفہیم سے اختلافات دور نہیں کر سکتے، ہم ایک ہی ملک کے باشندے ہیں، ایک ہی خدا، ایک ہی رسول، ایک ہی دین کے ماننے والے ہیں۔ اگر ان پر 35 ،40 ہزار ہلاکتوں کا الزام ہے تو ذرا یہ بھی تو معلوم کرو، تحقیق کرو کہ ان کے کتنے ہزار یا کتنے لاکھ بیگناہ ہماری اور امریکی جارحیت کا شکار ہوئے ہیں، ہم نے کبھی نہ ہی غیرملکی اور نہ ہی پاکستانی صحافیوں کو اس علاقہ میں جانے کی اجازت دی ہے۔ ہمارا ضمیر گناہگار ہے کہ ہم اپنی کارستانیوں کو دنیا کے اور اپنے عوام سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ مشرف جو لعنت ہم پر تھونپ گیا ہے ہم نے اس کو بلا چوں و چرا اپنا لیا ہے۔ آپ خود ہی سوچئے ایک ایسی جنگ جس کا ہمارے ساتھ کوئی واسطہ نہ تھا، ہمارا تعلق نہ تھا جس سے نہ ہمیں فائدہ ہونے کی اُمید تھی جو اپنے ہی مسلمان بھائیوں، بہنوں، بچوں، بچیوں کے قتل عام کی شکل میں نکلا۔ آپ اگر رائے شماری کرائیں تو ملک کی کم از کم 80 فیصد آبادی اس جنگ اور اس جنگ میں حصہ لینے کے سخت خلاف ہے اس کے باوجود ہمارے آرمی چیف اس کو ہماری جنگ قرار دے رہے ہیں۔ ہمارے F-16 ، ہیلی گن شپس ہمارے اپنے ملک میں،ہمارے اپنے شہریوں پر آگ و تباہی برسا رہے ہیں اور ہمارے چند تجزیہ نگار اس کی حمایت میں زمین و آسمان سر پر اُٹھا رہے ہیں۔ آپ ہی سوچئے اگر یورپی ممالک پرانی تاریخ ، قتل و غارتگری کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے دشمن بنے رہتے تو آج ان کا کیا حال ہوتا۔ اگرچینی دوسری جنگ عظیم سے پہلے جاپانیوں کے بہیمانہ قتل و غارتگری کو لے کر بیٹھتے تو جاپان سے دوستانہ تعلقات نہ ہوتے۔ آپ کو علم ہونا چاہئے کہ جاپانیوں نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نہتے بیگناہ چینی شہریوں کو تلواروں سے قتل کرکے نیچے بڑے دریا میں پھینک دیا تھا اور چشم دید غیرملکی مبصرین نے کہا کہ انہوں نے تیرتی ہوئی لاشوں پر پیر رکھ کر اتنا بڑا اور گہرا دریا عبور کیا تھا۔ اسی طرح کورین شہریوں پر جاپانیوں کی قتل و غارتگری پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ہمارے ”ذہین و فہیم “ تجزیہ نگار یہ بے سود خونی جنگ جاری رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں، ان کے سامنے ابھی شمالی آئرلینڈ میں وہاں کے عوام اور برطانوی شہریوں و فوجوں کی جنگ کی مثال ہے۔ گفت و شنید اور افہام و تفہیم سے یہ جنگ بند ہوئی اور انگلستان ایک سپر پاور ہو کر بھی لڑائی کے ذریعے یہ جنگ ختم نہ کرسکا۔ میں نے کافی عرصہ پیشتر ایک کالم میں کھل کر اجتماعی قبروں کے خطرے کا اظہار کیا تھاکہ ایسا وقت آنے والا ہے کہ طالبان مزاحمت کاروں کے دلوں سے پولیس، رینجرز اور آرمی کا خوف نکل جائے گا اور وہ ان پر حملے کریں گے اور ہلاک کریں گے اور اب یہی ہو رہا ہے۔ اب وہ خوفزدہ ہوکر بھاگتے نہیں ہیں بلکہ شہر میں ان کی گاڑیوں، آرمی کے قافلوں اور وزیروں پر حملے کرتے نہیں ڈرتے۔ یہی سلسلہ جاری رہا تو پھر ایران، عراق اور فرانس و روس کے خونریز انقلابات دہرائے جائیں گے۔

Dr. Abdul Qadir column on Negociations with Taliban

روزنامہ جنگ کراچی 

“}” href=”https://www.facebook.com/#” id=”.reactRoot[150]” role=”button” title=”Like this”> 

Enhanced by Zemanta

The Hindu Kush

English: Saraghrar Peak (Hindu Kush, Pakistan)
English: Saraghrar Peak (Hindu Kush, Pakistan) 
The Hindu Kush (Pashto/Persian: ھندوکُش), also known as Pāriyātra Parvata (Sanskrit: पारियात्र पर्वत) or Paropamisadae (Greek: Παροπαμισάδαι), is an 800 km (500 mi) long mountain range that stretches between central Afghanistan and northern Pakistan. The highest point in the Hindu Kush is Tirich Mir (7,708 m or 25,289 ft) in Chitral District of Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan.
 
The mountains have historical significance in the Indian subcontinent and China. There has been a military presence in the mountains since the time of Darius the Great. The Great Game of the 19th century often involved military, intelligence and/or espionage personnel from both the Russian and British Empires operating in areas of the Hindu Kush. The Hindu Kush were considered, informally, the dividing line between Russian and British areas of influence in Afghanistan.
During the Cold War the mountains again became militarized, especially during the 1980s when Soviet forces and their Afghan allies fought the mujahideen. After the Soviet withdrawal, Afghan warlords fought each other and later the Taliban and the Northern Alliance and others fought in and around the mountains.
 
The American and ISAF campaign against Al Qaeda and their Taliban allies has once again resulted in a major military presence in the Hindu Kush.[8][9]
Alexander the Great explored the Afghan areas between Bactria and the Indus River after his conquest of the Achaemenid Empire in 330 BC. It became part of the Seleucid Empire before falling to the Indian Maurya Empire around 305 BC.
Alexander took these away from the Persians and established settlements of his own, but Seleucus Nicator gave them to Sandrocottus (Chandragupta), upon terms of intermarriage and of receiving in exchange 500 elephants.[10]
Strabo, 64 BC–24 AD
Indo-Scythians expelled the Indo-Greeks by the mid 1st century BC, but lost the area to the Kushan Empire about 100 years later.[11]
Before the Christian era, and afterwards, there was an intimate connection between the Kabul Valley and India. All the passes of the Hindu-Kush descend into that valley; and travellers from the north as soon as they crossed the watershed, found a civilization and religion, the same as that much prevailed in India. The great range was the boundary in those days and barrier that was at time impassable. Hindu-Kuh–the mountain of Hind–was similarly derived.
Pre-Islamic populations of the Hindu Kush included Shins, Yeshkun,[12] Chiliss, Neemchas[13] Koli,[14] Palus,[14] Gaware,[15] Yeshkuns,[16] Krammins,[16] Indo-Scythians, Bactrian Greeks, Kushans.
Enhanced by Zemanta

Bala Hissar Fort

English: External View of Bala Hissar and the ...
Bala Hissar (Pashto/Urdu/Persian: قلعه بالا حصار‎) is one of the most historic places of Peshawar. The word Bala Hissar is from Dari Persian, meaning, “elevated or high fort”. The name was given by the Pashtun King Timur Shah Durrani (1773–1793), who used the fort as the winter capital of the Afghan Durrani Empire, with the summer capital being in Kabul. The Sikh empire who conquered Peshawar in the early 19th century named it Samir Garh in 1834 but the name did not become popular.
The Fort has been the headquarters of the Frontier Corps since 1949.[1]
 
Design
The fort stands on a high mound in the northwestern corner of Peshawar City. Not long ago, the fort used to be conspicuously away from the old city of Peshawar, but now the construction of new buildings has covered space between the old city and the fort. However, the fort’s position on a high mound gives a commanding and panoramic view of Peshawar and the entire Peshawar valley. On a clear day, one can see the mountains encircling Peshawar valley and beyond. The area covered by the inner wall of the fort is about 10 acres (40,000 m2) and the outer wall is about 15 acres (61,000 m2). The height of the fort is about 90 feet (27 m) above ground level.

History

Renowned historian Dr A.H. Dani in his book Peshawar-Historic City of Frontier writes that when Hiuen Tsang, a Chinese traveller, visited Peshawar in 630 AD, he spoke of a “royal residence”.
He says that Chinese word “Kung Shing” used for its significance and is explained as fortified or walled portion of the town in which the royal palace stood.
Hiuen Tsang then makes a separate mention of the city, which was not fortified. This shows that the royal residence formed the nucleus of a Citadel, which must have been further protected by a moat.
Dr Dani further says that a channel of old Bara River surrounded by a high spot, which includes the Bala Hissar and Inder Shahr. The higher area could have been the citadel, which is the present Bala Hissar.
Peshawar has always been a strategic city and its capturing and ruling over it was of great importance for the invaders and kings.
“In the 11th century AD, the Hindu ruler, Raja Jaipal of the Hindushahi dynasty was defeated in the vicinity of Peshawar and Mehmud Ghaznavi garrisoned the fort with his army,” says Dr Taj Ali. The British officers who visited Peshawar in the 19th century mentioned that the fort used to be a royal residence of Afghan rulers, he added.
The Bala Hissar has seen its construction and destruction by conquerors, warriors, invaders and kings on several occasions. After the overthrow of emperor Humayun by the Afghan King Sher Shah Suri, the Afghans destroyed the fort.
When Hamyun was staying in it he decided to rebuild it before proceeding to Kabul. He wanted to use the fort for his conquest of India at a later stage. As his officers did not want to stay back, Hamayun himself supervised the rebuilding of the fort, which was soon completed.
“The Afghan rulers named it “Bala Hissar” a Persian name meaning high fort while the Sikhs renamed and rebuilt it calling their fort “Sumergarh” in 1834 but the name did not become popular, says Dr Taj.
The fort was constructed on a mound with commanding view of the surrounding area including Shalimar gardens presently known as Jinnah Park towards its north. This gave more prominence and grandeur to the fort, he said.

  Sumergarh

In the early nineteenth century, Peshawar was the summer capital of the Kingdom of Kabul and the Bala Hissar the residence of Afghan kings. The Sikhs fought and defeated the Kabul Barakzais in the Battle of Nowshera in early 1823. On conclusion of this battle, fought on the right bank river Indus, the Sikhs chased the retreating Afghans past Peshawar through the Khyber Pass.
The Sikhs followed this by the destruction of the Afghan Royal court and the Bala Hissar fort. In December 1823, the British spy Moorcroft found the fort “a heap of rubbish, and the only use made of it by the rulers of Peshawar was as a quarry from whence to procure materials for dwellings of their own erection”.[2]
Archival records show that soon after the occupation of Peshawar by the Sikhs in 1834, Hari Singh Nalwa commenced the reconstruction of the fort.[3] The Sikhs called their fort ‘Sumair Ghar’ (after ‘Sumer’ another name for Mount Kailash). The first Guru of the Sikhs, Guru Nanak Dev, had visited Mount Sumer in the course of his travels. Hari Singh Nalwa installed a plaque over the gate of the fort that read:
“This Sumair Garh was built in the city of Peshawar by the exalted Maharaja Ranjit Singh Bahadur in Raja Bikramjit Sambat 1891 with the blessing of Almighty God”.[4]
Ranjit Singh was greatly pleased when he visited the newly constructed fort for the first time on 16 May 1835.
The British reconstructed the outer walls of the Bala Hissar after the annexation of the Kingdom of the Sikhs in 1849. This Sikh fort continues to dominate the city of Peshawar in the twenty-first century.
Enhanced by Zemanta