ذمہ دارانہ صحافت کو اصل خطرہ کس سے؟

چلیں مان لیتے ہیں کہ پنجاب حکومت کا میڈیا کے متعلق بنایا گیا قانون کالا ہے اور اسی بنیاد پر صحافتی تنظیموں نے اسے مسترد کر دیا۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ہاتھوں کسی کی عزت محفوظ نہیں، جھوٹ بہتان تراشی اور فیک نیوز ہمارے میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کا معمول بن چکا۔ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر جھوٹے الزامات لگانا، کسی کی پگڑی اچھالنا، دوسروں پر غداری اور گستاخی تک کے سنگین الزامات لگانا، دوسروں کی زندگیوں تک کو خطرہ میں ڈالنا کیا یہ ہم نہیں کرتے رہے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر فتنہ انگیزی کرنے والے کتنوں کو سزائیں دی گئیں؟ کس طرح ٹی وی چینلز نے دوسرے ٹی وی چینلز اور صحافیوں کے خلاف جھوٹ کی بنیاد پر مہمات چلائیں، صحافیوں نے صحافیوں پر غداری کے فتوے لگائے، گستاخی تک کے الزامات لگائے لیکن کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہ ہوا۔ ایسا کیوں ہے کہ برطانیہ میں انہی الزامات پر ہمارے ہی ٹی وی چینلز اور صحافیوں پر جرمانے عائد کیے گئے جس پر نہ کسی نے آزادی رائے کی بات کی اور نہ ہی آزادی صحافت کیلئے خطرہ محسوس کیا۔ 

جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے تو اُس نے تو تمام حدیں پار کر دیں۔ کسی کو گالی دینا ہی اس کی آزادی ہے؟ کسی پر سنگین سے سنگین الزام لگایا جائے تو اس پر بھی کوئی پوچھ گچھ نہیں؟جو دل میں آئے کہہ دو چاہے کسی کے بھی متعلق ہو۔ جھوٹی اطلاعات یعنی فیک نیوز بنا بنا کر پھیلائی جاتی ہیں، ٹرولنگ اور بہتان تراشی کی بنیاد پر ٹرینڈز چلانا کھیل بن چکا ہے۔ گستاخانہ مواد بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے، ملک دشمنی کی بھی حدیں پار کی جاتی ہیں لیکن جب کسی کے خلاف حکومت ایکشن لیتی ہے تو شور مچ جاتا ہے کہ آزادی رائے پر حملہ ہو گیا۔ صحافتی تنظیموں سے میرا سوال ہے کہ جو کچھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے متعلق میں نے اوپر لکھا کیا ایسا ہی نہیں ہو رہا یا ہوتا رہا؟ اگر یہ سچ ہے تو پھر صحافتی تنظیموں نے جو کچھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے غلط ہو رہا ہے اور جس کا شکار میڈیا کے افراد خود بھی ہیں، اسے روکنے کیلئے کیا اقدامات کیے؟

جب ہم ذمہ دارانہ صحافت کو پروموٹ کرنے کیلئے خود اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کریں گے، جب ہم سوشل میڈیا یا میڈیا کو استعمال کر کے بہتان تراشی اور فتنہ انگیزی کرنے والوں کے احتساب کی بجائے اگر خود قانون کی گرفت میں آتے ہیں تو ہم اسے آزادی رائے اور آزادی صحافت کا مقدمہ بنا کر پیش کریں گے تو پھر جو کچھ غلط ہو رہا ہے وہ درست کیسے ہو گا۔ جب ہم اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کریں گے تو پھر حکومتوں کو موقع ملے گا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق میڈیا اور سوشل میڈیا کے متعلق قوانین بنا دیں۔ اور پھر جب کوئی بھی حکومت میڈیا سے متعلق کوئی قانون بناتی ہے یا بنانے پر غور کرتی ہے تو اُسے آزادی صحافت اور آزادی رائے پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔ سیاستدانوں کا تو یہ وطیرہ رہا ہے کہ جو حکومت میں ہو ں تووہ میڈیا کے متعلق قانون میں تبدیلی چاہتے ہیں جبکہ وہی جب اپوزیشن میں ہوں تو میڈیا کے ساتھ یکجہتی کیلئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت میڈیا پر قدغنیں لگانا چاہ رہی ہے۔ 

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چند سال پہلے تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں بنائے جانے والے میڈیا سے متعلق قانون کے حوالے سے جو کہا تھا اُس کی وڈیو ٹی وی چینلز پر چلائی گئی۔ کل جو وہ کہہ رہی تھیں آج وہ اُس کا الٹ کر رہی ہیں جبکہ تحریک انصاف اب اپوزیشن میں ہونے کی بنیاد پر میڈیا تنظیموں کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر رہی ہے۔ سیاست کے اس کھیل پر اعتراض اپنی جگہ لیکن میری صحافتی تنظیموں سے درخواست ہے کہ وہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے جھوٹ، فیک نیوز، فتنہ انگیزی وغیرہ کے خلاف نہ صرف اپنی آواز اُٹھائیں بلکہ موجودہ قوانین میں اگر کوئی کمی کسر ہے تو اُسے دور کرنے کا مطالبہ کریں تاکہ ذمہ دارانہ صحافت کو جو خطرہ فیک نیوز اور فتنہ پھیلانے والوں کی طرف سے ہے اُس کے آگے بند باندھا جا سکے۔

انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

اسانج کی امریکہ حوالگی کی درخواست مسترد، مگر یہ صحافت کی فتح نہیں

ایک برطانوی عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو جاسوسی کے الزام میں امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے۔ لندن کی سینٹرل کرمینل کورٹ میں جج وینیسا بیریٹسر نے فیصلہ دیا کہ اسانج کی دماغی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ انہیں ملک بدر کیا جائے۔ جج نے کہا کہ امریکہ میں اسانج کو ممکنہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ ان کی امریکہ حوالگی ’ظالمانہ‘ ہو گی۔ اسانج کو امریکہ میں سخت سکیورٹی والی جیل میں 175 سال قید کی سزا سنائی جا سکتی تھی۔ جج نے کہا کہ اسانج کو ان کے فیصلے کے خلاف امریکہ کی جانب سے ممکنہ اپیل تک حراست ہی میں رکھا جائے۔ 49 سالہ اسانج نے اپنی ویب سائٹ وکی لیکس پر امریکہ کی عراق میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات شائع کی تھیں، جس پر انہیں امریکہ میں جاسوسی اور سائبر ہیکنگ کے 17 مقدمات کا سامنا تھا۔ وہ اس وقت لندن کی ایک جیل میں قید ہیں۔ حال ہی میں اس جیل میں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کی وجہ سے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جسے ان کے وکیل نے ’نفسیاتی تشدد‘ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسانج خودکشی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔

صحافت کی فتح نہیں
برطانوی صحافی گلین گرین والڈ نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ وہ یہ تو سمجھتے ہیں کہ اسانج کی امریکہ حوالگی کے خلاف فیصلہ ’اچھی خبر‘ ہے، لیکن اسے ’صحافت کی فتح‘ نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’ظاہر ہے یہ صحافت کی فتح نہیں ہے۔ اس کے برعکس، جج نے واضح کیا ہے کہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ اسانج پر 2010 میں اشاعت کے سلسلے مقدمہ چلایا جا سکتا تھا۔ اس کی بجائے یہ امریکی جیلوں کے انتہائی ظالمانہ نظام کے خلاف فیصلہ ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’انجامِ کار، انسانی اور سیاسی نقطۂ نظر کے لحاظ سے اصل بات یہ ہے کہ اسانج کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔ امریکی حکومت کو اس کی پروا نہیں کہ وہ کس جیل میں رکھے جاتے ہیں، یا کیوں۔ وہ بس انہیں پنجرے میں رکھ کر خاموش کروانا چاہتے ہیں۔

انہیں فوراً رہا کیا جائے

اسانج کی منگیتر سٹیلا مورس نے برطانوی اخبار ’دا میل‘ میں ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ اگر برطانوی عدالت نے جولین اسانج کو امریکی جیل میں عمر قید کاٹنے بھیج دیا تو یہ ملک آزادیِ اظہار کے لیے محفوظ نہیں رہے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ اب آذربائیجان جیسا ملک ہمیں صحافت کی آزادی پر لیکچر دے رہا ہے۔ برطانوی اخبار دا گارڈین نے لکھا تھا کہ ’وکی لیکس کے ذریعے جرائم کا پردہ فاش کرنے پر کسی پر بھی مقدمہ نہیں چلانا چاہیے۔ اس کی بجائے ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی عدالت برائے جرائم کے خلاف بھرپور جنگ شروع کر رکھی ہے کہ اس ان الزامات کی تفتیش کیوں کی اور اس آدمی کے پیچھے پڑ گیا ہے جس نے انہیں افشا کیا تھا۔اخبار نے اسانج کے خلاف امریکی مہم کو سیاسی عزائم پر مبنی قرار دے کر لکھا ہے کہ اگر یہ فیصلہ ہو گیا تو کوئی اخبار خود کو محفوظ نہیں سمجھ سکے گا۔ اسانج اس وقت لندن کی ایک جیل میں قید ہیں۔ حال ہی میں اس جیل میں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کی وجہ سے اسانج کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جسے ان کے وکیل نے ’نفسیاتی تشدد‘ قرار دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسانج خودکشی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔

جولین اسانج کون ہیں اور انہوں نے کیا کیا ہے؟
جولین اسانج کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور انہوں نے 2006 میں وکی لیکس نامی ویب سائٹ قائم کی تھی جہاں پر مختلف ملکوں اور اداروں کے رازوں پر مبنی معلومات افشا کی جاتی تھیں۔ 2010 میں وکی لیکس نے امریکی فوج کے انٹیلی جنس اینالسٹ چیلسی میننگ کی فراہم کردہ معلومات شائع کیں جن میں امریکی فوج کی جانب سے عراق اور افغانستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تفصیل موجود تھی۔ اس کے جواب میں امریکی حکومت نے وکی لیکس اور جولین اسانج کے خلاف مجرمانہ تحقیقات شروع کر دی تھیں۔ اسانج نے سویڈن حوالگی سے بچنے کے لیے ایکواڈور کے لندن میں واقع سفارت خانے میں پناہ لے لی جہاں وہ سات سال تک مقیم رہے۔ اپریل 2020 میں وہ سفارت خانے سے نکل آئے تھے جس کے بعد سے وہ لندن کی ایک جیل میں بند ہیں۔

ایک کروڑ لیکس
وکی لیکس ویب سائٹ 2006 میں رجسٹر ہوئی تھی تاہم اس گروپ نے اپنا کام 2007 میں شروع کیا۔ اسانج کا کہنا تھا کہ یہ ویب سائٹ انکرپشن کا استعمال کرے گی تاکہ یہ سینسرشپ سے آزاد ہو۔

فلمیں
وکی لیکس کے مسئلے پر دو بڑی فلمیں بن چکی ہیں۔ ’دا ففتھ سٹیٹ‘ (2013) اور 2016 میں فرانس کے کین فلمی میلے میں دکھائی جانے والی دستاویزی فلم ’رسک۔‘ اس کے علاوہ اسانج امریکی ٹیلی ویژن شو ’دا سمپسنز‘ میں مہمان کے طور پر شامل ہوئے جس کی لائنیں انہوں نےایکواڈور کے سفارت خانے سے فون پر ریکارڈ کروائی تھیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

رابرٹ فسک : ایک نڈر اور بے باک صحافی کی داستان

برطانوی میڈیا پلیٹ فارم ’دی انڈپینڈنٹ‘ کے مشرق وسطیٰ میں معروف نامہ نگار اور اپنے دور کے سب سے مشہور صحافی رابرٹ فسک علالت کے بعد چل بسے۔ ان کی عمر 74 برس تھی۔ فسک حکومتوں کے سرکاری بیانیے پر سوال اٹھانے اور جس چیز سے وہ پردہ اٹھاتے تھے اسے شاندار انداز میں تحریر کرنے کے سبب سے مشہور تھے۔ وہ 1989 میں ’دا ٹائمز‘ کو چھوڑ کر ’دی انڈپینڈنٹ‘ کے ساتھ وابستہ ہو گئے اور تیزی سے اس کے سب سے زیادہ معروف اور ایسے مصنف بن گئے جن کی ان کے نام کے ساتھ سٹوریز کو سب سے زیادہ سرچ کیا جاتا تھا۔ وہ ڈبلن میں اپنی موت تک ’دی انڈپینڈنٹ‘ کے لیے لکھتے رہے۔ گذشتہ ہفتے تک ’دی انڈپینڈنٹ کے ایڈیٹر رہنے والے اور اب مینیجنگ ایڈیٹر کرسچیئن بروٹن نے کہا: ’نڈر، سمجھوتہ نہ کرنے والے، ثابت قدم اور ہر قیمت پر سچائی اور حقیقت کو سامنے لانے میں انتہائی پرعزم رابرٹ فسک اپنی نسل کے عظیم ترین صحافی تھے۔ انہوں نے ’دی انڈپینڈنٹ‘ میں جو آگ روشن کی وہ جلتی رہے گی۔‘

فسک نے جو کچھ لکھا اس کا زیادہ تر حصہ متنازع تھا۔ ایسا لگتا ہے انہیں اس بات سے لطف آتا تھا۔ 2003 میں جب امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر حملے کی تیاری کی تو فسک نیو یارک میں اقوام متحدہ کے دفتر میں گئے جہاں انہوں نے دیکھا کہ اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے جنگ کے لیے غیر متاثر کن کیس تیار کر رکھا تھا۔ انہوں نے لکھا: ’جب جنرل کولن پاول سلامتی کونسل پہنچے اور نمائندوں کے گال چومے اور اپنے بڑے بازو کے ارگرد پھیلائے تو اس وقت کھیل کا آغاز بہت خوفناک تھا۔ جیک سٹرا ان کے بڑے سے امریکی معانقے کے لیے خاصے موزوں تھے۔‘ فسک کینٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے لنکاسٹر یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور فلیٹ سٹریٹ میں واقع اخبار ’سنڈے ایکسپریس‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے ’دا ٹائمز‘ کے لیے کام کرنا جاری رکھا جہاں وہ شمالی آئرلینڈ، پرتگال اور مشرق وسطیٰ میں مقیم رہے۔

انہوں نے لبنان کے شہر بیروت میں کئی دہائیاں گزاریں۔ وہ ساحلی علاقے میں شہر کی معروف سڑک پر واقع اپارٹمنٹ میں مقیم رہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں جب لبنان میں کام کیا جب قوم خانہ جنگی کا شکار ہو کر منقسم تھی اور بہت سے صحافیوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ فسک نے کئی ایوارڈ حاصل کیے جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور برٹش پریس ایوارڈز شامل ہیں۔ انہوں نے متعدد کتابیں جن میں ’پٹی دا نیشن: لبنان ایٹ وار‘ اور ’دا گریٹ وار فار سویلائزیشن‘ اور ’دا کنکوئسٹ آف دا مڈل ایسٹ‘ سب سے زیادہ قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ٹرینیٹی کالج سے ڈاکٹریٹ مکمل کی اور کاؤنٹی ڈبلن کے علاقے ڈالکی میں گھر کے مالک تھے۔ انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا دو مرتبہ انٹرویو کیا۔ نائن الیون کے حملوں اور ان کے نتیجے میں عراق پر امریکہ اور برطانیہ کے حملے کے بعد انہوں نے پاکستان افغانستان سرحد کا سفر کیا جہاں ان پر افغان مہاجرین کے ایک گروپ نے حملہ کر دیا جو مغربی طاقتوں کے ہاتھوں اپنے ہم وطنوں کی ہلاکت پر غصے میں تھے۔ انہوں نے اس واقعے کو صفحہ اول پر شائع ہونے والی مشہور رپورٹ بنا دیا جو ان کے زخمی چہرے کی تصویر کے ساتھ مکمل تھی۔

انہوں نے لکھا: ’مجھے احساس ہوا کہ وہ سب افغان مرد اور لڑکے تھے جنہوں نے مجھ پر حملہ کی۔ وہ ایسا کبھی نہ کرتے لیکن ان کا وحشی پن مکمل طور پر دوسروں، ہماری وجہ سے تھا۔ ہم جنہوں نے ان روسیوں کے خلاف ان کی جدوجہد کو مسلح کر دیا تھا اور ان کے درد کو نظرانداز کرکے ان کی خانہ جنگی پر قہقہہ لگایا اور اس کے بعد صرف چند میل کے فاصلے پر ’وار فار سویلائزیشن‘ کے لیے انہیں پھر رقم دی اور اس کے بعد ان کے گھروں پر بمباری کی اور ان کے خاندانوں کو منتشر کر دیا اور انہیں ’اضافی نقصان‘ قرار دیا۔‘ فسک جنہوں نے آئرلینڈ کی شہریت حاصل کر لی تھی ان کی آئرش صدر مائیکل ڈی ہگنز نے بھی تعریف کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں لکھا: ’مجھے رابرٹ فسک کی موت کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا۔ ان کی موت سے صحافت اور مشرق وسطیٰ پر معلوماتی تبصرے کی دنیا بہترین تبصرہ کرنے والے افراد میں سے ایک سے محروم ہو گئی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’صرف آئرلینڈ کے لوگ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نسلیں دنیا کے جنگ زدہ علاقوں میں ہونے والے واقعات اور مزید اہم یہ کہ وہ اثرورسوخ جو شائد اس جنگ کا سبب تھے، ان پر ان کے تنقیدی اور معلوماتی نکتہ نظر کے لیے انحصار کرتی تھیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

Journalists Killed in Pakistan

Journalists Killed in Pakistan