اِدھر اُدھر جو قیامتیں گزر رہی ہیں۔ غالبؔ کی یاد آتی ہے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں
گھوڑے تو سرپٹ بھاگ رہے ہیں۔ مگر گھڑ سوار نہ لگام ہاتھ میں لے پارہے ہیں۔ نہ ہی پائوں ٹھیک سے رکاب میں رکھ رہے ہیں۔ گھوڑوں سے اتر بھی نہیں پاتے کیونکہ گھوڑے ریموٹ کنٹرول میں ہیں۔ 1992 میں بل کلنٹن کی انتخابی مہم کے ایک ماہر چالباز (Strategist) جیمز کارول نے حالات کے عین مطابق ایک جملہ کسا: “IT IS THE ECONOMY STUPID!” اور یہ جملہ کالموں، مضامین اور کتابوں کا سرنامہ بنا۔ انتخابی جلسوں میں نعرہ بن کر لگا۔ اب بھی چل رہا ہے۔ جیمز کارول کا یہ جملہ ان سارے ملکوں میں دہرایا جاتا ہے جہاں معیشت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان سارے خراب معاشی موسموں میں از خود لبوں پر آجاتا ہے کہ جہاں حکومتیں اور ریاستیں معیشت پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے سیاسی چالبازیوں میں مصروف ہوتی ہیں، اپنے خاندانوں کو عدالتوں سے بری کروا رہی ہوتی ہیں، اپنے سیاسی مخالفین کو سیاسی، سماجی، مالی اور حتیٰ کہ جسمانی طور پر ختم کروانے میں لگی ہوتی ہیں، کوئی نہ کوئی درویش یہ پکار رہا ہوتا ہے ’’ اصل مسئلہ معیشت ہے۔ نادان‘‘ ۔ Stupid کا عام ترجمہ تو احمق ہوتا ہے۔
یہ کہاوت بھی ہے۔ آپ کن احمقوں کی جنّت میں رہ رہے ہیں۔ میں تو سادہ سے لفظوں میں بڑے احترام کے ساتھ یوں عرض گزار ہوں گا۔ ’اصل بیماری معیشت ہے قبلہ‘۔ کوئی جمہوریت، آمریت، پارلیمانی یا صدارتی حکومت اپنی معیشت مستحکم کئے بغیر نہیں چل سکتی۔ اینکر پرسن چیخ رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین گریہ کناں ہیں۔ اساتذہ توجہ دلا رہے ہیں۔ معیشت، معیشت اور اب تو معیشت کی بد حالی انسانی جانیں لینے لگی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے زیرنگیں صوبہ سندھ کے زرخیز ضلع میرپور خاص میں 37 سالہ ہرسنگھ کوہلی عرف گلاہی بھیل اپنی چھ بیٹیوں کا پیٹ بھرنے کے لئے دس کلو آٹے کے تھیلے کیلئے لمبی قطار میں لگا تھا کہ بھگدڑ مچ گئی اور ایک غریب ہاری، دوسرے غریبوں کے قدموں تلے کچلا گیا۔
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا
میرپور خاص سے سندھ اسمبلی کے رکن سید ذوالفقار علی شاہ، ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مرنے والے کے گھر گئے۔ لیکن گورنر، وزیر اعلیٰ اور کسی وزیر کو یہ توفیق نہ ہوئی۔
جس ریاست میں جیتے جاگتے لوگ سب سے زیادہ ضرورت کی چیز آٹے کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہوں۔ لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہوں۔ بیٹیاں انتظار کررہی ہوں کہ ابا آٹا لے آئے تب روٹی پکے گی۔ تب بھوک مٹے گی۔ اس ریاست کے حاکموں، اداروں کے سربراہوں، وزیروں ، مشیروں اور سفیروں کے بارے میں تاریخ کیا الفاظ استعمال کرے گی؟ وہ صوبے جو کبھی پورے جنوبی ایشیا کو اناج فراہم کرتے تھے۔ وہاں اناج کی کمی حکمرانوں کی نا اہلی کے علاوہ کیا سمجھی جا سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی کہیں نہ کہیں حکمران ہے۔ 13 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحادی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس طرح اس بد قسمت ملک کی قیادت کے جو بھی دعویدار ہیں، وہ کہیں نہ کہیں فیصلہ ساز بھی ہیں۔ ہر سنگھ کی موت کے سب ذمہ دار ہیں۔ جس طرح 1992 میں امریکی صدر جارج بش عام امریکیوں کی اقتصادی ضروریات کو اہمیت نہیں دے رہا تھا۔ اسے یہ یاد دلانا پڑا IT IS THE ECONOMY STUPID ۔ اور معیشت کو اہمیت نہ دینے کی پاداش میں وہ الیکشن ہار بھی گیا۔ اس وقت امریکہ میں سیاسی محاذ آرائی اپنے عروج پر تھی۔
پاکستان میں اب 2023 میں سیاسی کلچر تصادم، الزامات، تضادات اور ایک دوسرے پر یلغار سے بھرپور ہے۔ پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں۔ کپڑے اتارے جارہے ہیں۔ نجی زندگی کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ کساد بازاری ایسی کہ پہلے کبھی نہ دیکھی گئی۔ افراط زر اس بلندی تک کبھی نہیں پہنچا۔ یہی چہرے 1988 سے راج کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا حکومتی تجربہ پختہ ہو گیا ہے۔ 2018 تک یہی باریاں لے رہے تھے۔ اتنی طویل مسلسل حکمرانی کے بعد تو ملک کو خود کفیل اور معیشت کو مستحکم ہو جانا چاہئے تھا۔ ہمارے قدرتی وسائل پوری طرح استعمال ہو رہے ہوتے۔ سونا تانبا، قیمتی پتھر، گیس اور تیل سب نکل رہے ہوتے۔ ہماری زرخیز زمینوں کی پیداواری صلاحیت فی ایکڑ بڑھ گئی ہوتی۔ غیر ملکی قرضے تو مگربڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ یہ قرضے کہاں گئے؟ ان سے کون سے منصوبے تعمیر ہوئے۔
قرضے کسی نے بھی لئے۔ قرضے اتارنے تو ہیں۔ یہ ہماری قوم کی حیثیت سے ذمہ داری ہے۔ ہم ایک دوسرے پر الزام عائد کر کے ان سے بچ تو نہیں سکتے۔ قرضوں کی ادائیگی اور اپنے مسائل کے حل میں مدد کے لئے ہم جن امیر ریاستوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ ان کے حکمران تو اب با آواز بلند یہ کہنے لگے ہیں کہ آپ کے ٹیکس دہندگان جب ٹیکس نہیں دے رہے اور آپ ان سے ٹیکس حاصل کرنے میں ناکام ہیں تو ہمارا ٹیکس دہندہ ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم ایسی قوم کی مدد کیوں کریں، جو اپنے ٹیکس دہندگان سے ٹیکس وصول نہیں کر پاتی۔ دوسری طرف جو ٹیکس دہندگان ہیں۔ وہ اپنے کارخانے بند کر رہے ہیں۔ انہیں گیس نہیں مل رہی۔ بجلی نہیں ہے۔ ان کی پیداوار نہیں ہے۔ تو ان سے ٹیکس بھی کم ملے گا۔ حکومت وقت کی اولین ذمہ داری تو یہ تھی اور ہے کہ وہ معیشت کو مستحکم کرے۔ ماہرین کے مشورے کے بعد ضروری راستے اختیار کئے جائیں۔
شور مچا ہوا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے والا ہے۔ کوئی ریاست جب اپنے بیرونی قرضوں کی قسطیں ادا نہ کر سکے۔ اس پر سود کی ادائیگی سے قاصر ہو تو اس ملک کو دیوالیہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کے تجارتی جہاز دنیا میں کہیں بھی ہوں۔ ضبط کر لئے جائیں۔ اکائونٹس منجمد کر دیے جائیں۔ اندرونی قرضوں کی ادائیگی تو نوٹ چھاپ کر ہو جاتی ہے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگی تو ڈالر سے ہی ہو سکتی ہے ڈالر ہمارے پاس نہیں ہیں۔ ہماری قرضے لینے کی اہلیت بھی گر رہی ہے۔ مزید قرضے نہیں مل سکتے۔ جنیوا میں ہمارے لئے امدادی کانفرنس ہوئی ہے۔ ہماری کمزور معیشت وہاں بھی زیادہ رقوم لینے میں حائل رہی ہے۔ مقامی بینکوں میں ڈالر اکائونٹ رکھنے والے سخت پریشان ہیں۔ خدانخواستہ ملک دیوالیہ ہوا تو سب اس کی زد میں آئینگے۔ حکمراں طبقے، ریاستی ادارے، اپوزیشن، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے غریب عوام، ہمارے ماہرین، اساتذہ ، یونیورسٹیاں اور میڈیا۔ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ تاریخ کی روشنی میں یہ تجاویز دیں کہ ملک کو اس صورت حال سے کیسے نکالا جائے۔
معیشت کی بد حالی پر واویلا کرنے کی بجائے راہِ نجات کا تعین کیا جائے۔ امیر ملکوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنے سرمایہ داروں، ٹھیکیداروں اور جاگیرداروں کے اثاثے قومی تحویل میں لے کر اپنے پائوں پر کھڑا ہوا جائے۔ قوم کو سادگی اور کفایت شعاری کے راستے بتائے جائیں۔ وزیروں مشیروں کی تعداد کم کی جائے۔ تین چار سال کیلئے ساری سرکاری مراعات ختم کی جائیں۔ جناب وزیر اعظم : اصل مسئلہ معیشت ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست کے اواخر تک ملک کا مجموعی قرضہ تقریباً 21 کھرب 80 ارب روپے تک پہنچ گیا جو کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران کی شرح سے 11.23 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال 31 اگست کو پاکستان کا قرض ساڑھے 19 کھرب روپے تک تھا۔ مرکزی بینک کے ہفتہ کو سامنے آنے والے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت بدستور بینکوں سے قرضوں پر انحصار کر رہی ہے جب کہ ماہرین اس بڑھتے ہوئے قرضے کو اخراجات اور بجٹ خسارے میں اضافے، ٹیکسوں کی کم وصولی اور بڑی تعداد میں ٹیکس کا دائرہ محدود ہونے اور بیرونی سرمایہ کاری کے فقدان کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔
پاکستان کو ایک دہائی سے زائد عرصے تک دہشت گردی کے علاوہ توانائی کے شدید بحران کا بھی سامنا رہا جس سے اس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ لیکن موجودہ حکومت یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ ماضی کی نسبت ملک کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مستقبل میں مزید فروغ پائے گی۔ تاہم خاص طور پر وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں جاری کارروائیوں کے بعد سے حزب مخالف اور ماہرین اقتصادیات یہ کہتے آ رہے ہیں کہ ضروری ہے کہ ملک کی اقتصادیات کو کسی بڑے بحران سے بچانے کے لیے اسحٰق ڈار منصب سے علیحدہ ہو جائیں اور حکومت اس جانب سنجیدگی سے توجہ دے۔
حکومت کو سیاسی طور پر بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور کاروباری طبقہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش کو بھی معیشت کے لیے مضر قرار دیتا آ رہا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی بینک بھی اپنی ایک تازہ رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے بارے میں خبردار کر چکا ہے اور اس کے بقول پاکستان میں ترسیلات زر اور زرمبادلہ میں مسلسل کمی، مجموعی قرض، تجارتی اور بجٹ خسارہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن وفاقی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چیلنجز کے باوجود ملک کی معیشت مستحکم ہے۔ حکومتی عہدیداران بھی یہ کہتے آ رہے ہیں کہ معیشت کی بحالی اور اس کا استحکام موجودہ حکومت کی ترجیح رہی ہے اور اس کی پالیسی کی وجہ سے ماضی کی نسبت صورتحال اتار چڑھاؤ کے باوجود بہتری کی طرف گامزن ہے۔
حکمران جماعت کے قانون ساز اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے رکن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے اس ضمن میں اصلاحات بھی کی ہیں۔ “2013-14 میں جب ہم آئے تھے تو ہمارا کل ریونیو کلیکشن 1955 ارب روپے تھا اور اس سال ہمارا ہدف 4000 ارب روپے ہے یعنی دگنے سے بھی زیادہ ہے۔ جب یہ سارے سی پیک کے منصوبے اور توانائی کے منصوبے مکمل ہوں گے تو اس سے صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔” ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ صورتحال کی بہتری کے لیے ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے بھی ٹھوس اقدام کرنا ہوں گے۔
ڈالر کا اتنی تیزی سے نیچے آنا بظاہر تو بہت اچھی بات معلوم ہوتی ہے، اگر یہ وقتی نہیں، حقیقی ہے اور حکومت کی دیرپا پالیسی کا نتیجہ ہے تو اس کا مطلب ہے ملکی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے، اس کے دور رس نتائج نکلیں گے۔ اس سے ہماری امپورٹس کی لاگت کم ہو گی، قیمتوں میں کمی آئے گی، ہماری امپورٹس کا بڑا حصہ خام مال کا ہوتا ہے۔ جب خام مال سستا ہوگا تو تیار اشیا کی قیمتیں بھی کم ہوں گی، عوام کو ریلیف ملے گا، لیکن یہ سب اسی وقت ہوگا جب ڈالر کی یہ تنزلی برقرار رہے، مگر ماضی کا مشاہدہ یہ ہے ایسی تبدیلیاں وقتی طور پر کچھ لوگوں کو کھل کھیلنے کے لیے کی جاتی رہی ہیں۔ اس وقت بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اندرون خانہ مارکیٹ سے سستے داموں ڈالر خرید رہے ہیں۔ اگرچہ عوام کی اکثریت گھبراہٹ میں اور مزید گرنے کے خوف سے ڈالر فروخت کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ دبائو کا شکار ہے۔ حکومت کو اعلان کرنا چاہیے کہ ڈالر کی کیا قیمت رکھنا چاہتی ہے۔ روز روزکا اتنا اتار چڑھائو کچھ کو مالا مال اور کچھ کو کنگال کر سکتا ہے۔ ایک دلچسپ مکالمہ آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔
مدینہ منورہ میں میرے بیٹے نے سنایا، جو ایک عرصہ سے سعودی عرب میںقیام پذیر ہے۔ شروع کا دور تھا، ایک دن منی چینجر سے ڈالر بدلوانے گیا، اس سے ریٹ معلوم کیا۔ 3.70 ریال فی ڈالر اپنی عادت کے مطابق پوچھا، کچھ بڑھنے کا امکان ہے تو کل تک انتظار کر لوں۔ کرلو،20 سال سے میں بیٹھا ہوں، آج تک تو بڑھا نہیں۔ اس کو کہتے ہیں استحکام اورحکومت کا کنٹرول۔ وہاں پر آج بھی ڈالر 3.70 ریال میں جتنے چاہو بیچ لو اور 3.75 ریال میں جتنے چاہو خرید لو۔ پانچ حلالے کا فرق تو کبھی اس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ وہاں پر دور تک کوئی منی چینجر کی دکان نہ ہو۔ اسی لیے ایک عرصہ تک وہاں پر قیمتوں میں استحکام رہا۔ جو کولڈ ڈرنک کا ڈبہ بیس سال پہلے ایک ریال کا تھا وہ گزشتہ سال تک بھی ایک ریال کا تھا۔ ہمارے ہاں بیس سال پہلے کی قیمتیں اپنے پوتوں یا نواسوں کو سنائیں تو ان کو یقین ہی نہیں آتا۔ ظاہر ہے جب انھوں نے چند برسوں میں یوں قیمتیں دگنی، تگنی ہوتی دیکھیں تو اتنے عرصے تک قیمتوں کا یوں مستحکم رہنا ان کے لیے کسی خواب سے زیادہ بھلا کیوں کر ہوسکتا ہے۔
اب ہم آتے ہیں اس کے دوسرے پہلو کی طرف۔ اس کے ایکسپورٹ اور ایکسپورٹر پر کیا اثرات ہوں گے۔ اس وقت ہماری نظر چھوٹے اور درمیانے ایکسپورٹر کی طرف ہے، جو چھوٹی چھوٹی فیکٹریوں میں ملبوسات وغیرہ بنا کر مختلف ممالک کو برآمد کرتے ہیں۔
وہ کاروباری جو ایک ماہ میں چار پانچ کنٹینر ایکسپورٹ کرتے ہیں، ان کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ ان کی حیثیت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے، جن کا سرمایہ محدود ہے۔ ان کے تین چار مہینے کے سودے پیشگی فروخت ہوئے ہوتے ہیں۔ انھوں نے 105 روپے کے ڈالر کے حساب سے مال بیچا ہوا ہے۔ اس کا منافع 5 سے 7 فیصد ہے۔ اس وقت پاکستانی برآمد کنندگان کو کتنے مقامی مسائل کا سامنا ہے، ان کا بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ اس پر اپنے ریجن کے ممالک سے مسابقت اور مقابلہ۔ خریدار سے ذرا سی قیمت بڑھانے کی بات کریں تو بھارتی اور بنگلہ دیشی تاجر ہم سے کم قیمت میں مال دینے کو تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ ایسے میں اپنی قیمت پر اصرار کرنا خریدار کو کھو دینا ہوتا ہے۔ یہ ایکسپورٹر کیسے چل پائیں گے۔ حکومت کی جانب سے فوری طور پر ان کے لیے کسی رعایت کا اعلان نہ کیا گیا تو یقینی طور پر وہ اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ بے شک ان کا خام مال بھی ڈالر کے گرنے سے سستا ہونا چاہیے، مگر ان کی قیمتیں فوری کم نہیں ہوں گی، کیوں کہ جو خام مال موجود ہے، وہ تو پرانے ڈالر کے بھائو آیا ہوا ہے اور پھر ہمارے ملک میں قیمتیں کم کرنے کا رجحان بہت کم یا بہت سست ہے، کیوں کہ خام مال درآمد کرنے والے یا بنانے والے سب بڑے بڑے دیو ہیں۔
یہ سب ایک ہوکر چھوٹے برآمدکنندگان اور تاجروں کا استحصال کرتے ہیں۔ اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ حکومت نے ایک عرصہ سے جنرل سیلز ٹیکس کا ریفنڈ بھی روکا ہوا ہے۔ اس طرح اس طبقہ کو تو بے حد مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اگر یہ کارخانے بند ہوگئے تو بے روزگاری میں کتنا اضافہ ہوگا۔ حکومت کے ریونیو میں کتنی کمی آئے گی۔ حکومت کا ٹریڈ ڈیفسٹ مزید بڑھ جائے گا۔ ایک دفعہ دبئی میں ایک بھارتی تاجر سے بات ہو رہی تھی کہ و ہ کس طرح اتنی کم قیمت پر مال برآمد کر لیتے ہیں، تو انھوں نے بتایا جو حکومت ریبیٹ (Rebate) دیتی ہے، وہی ہمارا نفع ہوتا ہے۔ یہ مال تو ہم خرید کے خرید یا اس سے بھی کم پر بیچ دیتے ہیں، ورنہ تو چائنا سے مقابلہ کیسے کرتے۔ پوری دنیا ہی چین سے خوف زدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی حکومتیں اپنی برآمد کی مختلف طریقوں سے حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ہماری حکومت کو بھی اس پر بھرپور طریقے سے غور کرنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری معیشت سنبھلنے کے بجائے بگڑ جائے، کیوں کہ معیشت برآمد (Export) بڑھنے سے اچھی ہوتی درآمد
ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کی صبح ڈالر اوپن مارکیٹ میں 98 روپے کا ہوگیا۔ پاکستانی روپیہ ڈالر پر حاوی ہوتا جارہا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز سے اب تک ڈالر کی قدر میں 6 روپے 16 پیسے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ساڑھے آٹھ ماہ کے بعد ڈالر اس سطح پر آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں کمی ملک میں رواں ماہ ڈالر کی آمد کی توقعات کے باعث ہورہی ہے، جبکہ فاریکس ڈیلرز کے مطابق عوام بھی ڈالر کو روپے میں تبدیل کروارہے ہیں۔ دوسری جانب رواں مالی سال کے دوران 10 ارب 20 کروڑ ڈالر ترسیلاتِ زر کی صورت میں موصول ہوئے، جو گزشتہ عرصے کی نسبت 11 فیصد زیادہ ہیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر اضافے کے بعد 9.37 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوششوں نے مثبت نتائج دکھانا شروع کیے ہیں اور ہم جلد ہی اپنے اعلان کے مطابق مارچ کے مہینے کے آخر تک زرِ مبادلہ کے ذخائر کو دس ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت ایک منصوبے کے تحت زرِمبادلہ میں اضافے کی پالیسی پر کاربند ہے جو کولیشن سپورٹ فنڈ، اتصالات سے بقایا جات کی وصولی اور یورو بانڈزکی وصولیوں کی مدد سے ممکن ہوگا۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی کی وجوہات کے بارے میںٹاپ لائن سیکورٹیز کے چیف ایگزیکٹو محمد سہیل کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں گراوٹ کی بڑی وجہ پاکستان ڈیویلپمنٹ فنڈ کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد ہے جس پر ایک خوشگوار حیرت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ پہلے کسی کو وزیرِ خزانہ کی اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر تک جاسکتے ہیں۔ادھر پاکستان فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کے ذمہ دارسٹے باز تھے جنہوں نے مارکیٹ سے ڈالر خرید کر ذخیرہ کرلیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل میں کچھ بینک بھی ملوث تھے جنہوں نے ڈالر خریدنے کے لیے کارٹیل بنائے جس کا ثبوت یہ ہے کہ نجی بینکوں کے پاس سرکاری بینکوں سے زیادہ ڈالر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت نے اس ضمن میں واضح اعلانات کیے تو اس کا اثر مارکیٹ پر بھی پڑا۔ روپے کی قدر میں کتنا اضافہ ممکن ہے اس بارے میں ملک بوستان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت برآمد کنندگان کے دباؤ میں نہ آئے تو اگلے تین ماہ میں ڈالر 90 روپے کی سطح پر آسکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرِ معاشیات، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا فرائیڈے اسپیشل سے بات چیت میں کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں اضافہ بظاہر اچھی بات ہے مگر انہیں یہ سب مصنوعی لگ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس ہم جب بھی جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کریں، اور یہ 2001ئ، 2008ء اور2013ء میں بھی ہوچکا ہے اور ہمیشہ روپے کی قدر میں کمی کی جاتی رہی ہے۔ اس دوران سٹے باز میدان میں آجاتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ روپے کو گرا کر خوب دولت کماتے ہیں۔ اس سٹے بازی اور غلط کاری میں بینکوں کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔2001ء میں بھی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ سٹے بازی ہوئی ہے، اور2008ء میں مشیر خزانہ نے کہا تھا کہ سٹے بازی ہوئی ہے اور بینکوں کا اس میں کردار ہے، ہم ایکشن لیںگے۔ اب جو روپے کی قدر میں کمی ہوئی اس میں بھی سٹے بازی ہوئی جس میں بینکوں کا بھی کردار ہے، اور اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم سٹہ بازوں کے خلاف ایکشن لیں گے۔ لیکن کسی کے خلاف کبھی ایکشن نہیں ہوا، اور یہ اربوں روپے کما کر بچ کر نکل جاتے ہیں۔ اب یہ جو ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں بڑھی تھی اور ڈالر 98 روپے سے111 روپے کا ہوگیا تھا اس کا جواز نہیں تھا۔آئی ایم ایف چاہتا تھا کہ 103 سے 104روپے پر آجائے، مگر سٹے بازوں نے اس کو 111روپے تک پہنچا دیا۔ اسحاق ڈار نے کوشش کی کہ اس کو کم کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک نے کوشش کی اور کہا کہ روپے کو مضبوط کریں۔ دیکھیں ایکسچینج کمپنیوں کی ایسوسی ایشن بھی آفر کرتی ہے کہ آپ کو اگر سپورٹ چاہیے تو ہم آپ کو کئی ارب ڈالر دینے کو تیار ہیں۔ تو ماضی میں تو ایسا بھی ہوا کہ 25، 30 فیصد تک مختصر مدت میں بہتری آئی ہے، اور ابھی جو ہوئی ہے وہ 10فیصد ہوئی ہے۔ یہ کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔ سٹے بازی تھی،اس عمل کو الٹدیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی بہتری آئی ہے تو پیٹرول کے نرخ کم ہونے چاہئیں، درآمدی اشیاء کے نرخ بھی کم ہونے چاہئیں، ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہونے چاہئیں۔ اگر ایسا نہیں ہے اور اِس وقت تو یہ بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے معاشی اشاریے خراب ہیں تو روپے کی قدر کو اتنا گرانے کی ضرورت تھی اور نہ جس طرح انہوں نے ٹھیک کیا ہے اس کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ اعداد وشمار اس کی نفی کرتے ہیں۔ (1)جاری کھاتوں کا خسارہ چار سو چالیس ملین سے بڑھ کر دو بلین روپے ہوگیا ہے۔ (2) پاکستانی شرح نمو چار یا پانچ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ (3) پاکستان کے جو تجارتیشراکت دار ہیں اُن کے یہاں مہنگائی دو فیصد ہے جبکہ ہمارے یہاں نو فیصد ہے۔ سات فیصدکا فرق تو بہرحال ہے۔ اِس مرتبہ کھیل ہوا ہے اور کھیل کا تعلق پاکستان کی سلامتی سے ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کہتا ہے کہ اگر پاکستان نے نجکاری کی تو اس کی قسمت بدل جائے گی۔ ہمیں تو پتا ہے کہ نجکاری سے کیسی قسمت بدلتی ہے! تو اب اس کی جو صحیح صورت حال ہے وہ یہ ہے کہ نواز حکومت نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور پر عمل نہیں کیا۔ پاکستان اوورسیز چیمبر کا کہنا ہے کہ یہ اپنے منشور کے صرف ایک نکتہ پر عمل کرلیتے اور ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس لگاتے تو آپ کو ایک سال میں پچیس سو ارب روپے مل جاتے۔ ظاہر بات ہے طاقتور طبقے یہ نہیں چاہتے کہ ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس لگایا جائے۔ تو انہوں نے ایک تیر سے دو شکار اس طرح کیے کہ نجکاری کا پروگرام بنایا اور وال اسٹریٹ جرنل کو انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ’’3جی، 4جی لائسنس سے ہمیں آٹھ ارب ڈالر تک وصول ہوں گے‘‘ اور یہ تاثر پیدا کیا کہ پاکستان کے محفوظ ذخائر بڑھنے والے ہیں۔ حالانکہ میرا تو خیال ہے کہ دو ارب ڈالر بھی مشکل سے آئیں گے۔ اس میں خطرناک بات یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے انٹرویو میں یہ کہا کہ ہم پاکستان پیٹرولیم اور آئل اینڈ گیس کاپوریشن کے شیئرز بھی عالمی مارکیٹ میں فروخت کریں گے، جس میں غیر ملکی بھی شامل ہیں، اور حبیب بینک کے شیئر بھی فروخت کریں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ منفعت بخش اداروں کی فروخت مسلم لیگ (ن) کے منشور کا حصہ نہیں تھی۔ اب کھیل یہ ہوا جس میں عالمی مالیاتی اداروں کی دلچسپی بھی شامل ہے کہ پاکستان کے جو اہم اثاثے ہیں وہ غیر ملکیوں کے قبضے میں چلے جائیں۔ عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ ٹیکسوں کے ضمن میں اپنے منشور پر عمل کرنے کے بجائے قومی اثاثوں کو بیچنے کا پروگرام ان کے منشور سے متصادم ہے، اور ٹیکسوں کی جو وصولی ہے وہ سال کے سال ہوتی ہے، اگر اِس سال ڈھائی ہزار ارب بڑھتے ہیں تو اگلے سال بھی بڑھیں گے اور بعد میں بھی بڑھیں گے۔ لیکن نجکاری کا پیسہ ایک دفعہ آجاتا ہے اور وہ کھا جاتے ہیں تو کیا قوم یہ کرنے کے لیے تیار ہے! ٹیکسوں کے ضمن میں جو منشور ہے اس پر عمل نہ ہو اور نجکاری کے ضمن میں جو منشور ہے اس کے خلاف عمل ہو… ان دونوں چیزوں میں انہوں نے قوم کو مار دیا ہے۔ ابھی ڈالر کی گراوٹ کے پس منظر میں بیرون ملک سے دوست ملک کی حیثیت سے ڈیڑھ ارب ڈالر آگیا ہے۔ اس کی پوری تفصیلات نہیں ہیں۔ امریکہ کا کیا مفاد تھا، ہمارا کیا مفاد ہے، اس رقم کے عوض ہم نے ان سے کیا وعدے کرلیے ہیں، اس کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ آئل اینڈ گیس کارپوریشن اور پاکستان پیٹرولیم کا سالانہ منافع 209 ارب روپے ہے اور یہ منافع بڑھ رہا ہے، لیکن جب آپ ان کے شیئرز بیچ دیں گے تو اگلے سال تو منافع نہیں ملے گا! اور نجکاری کا پیسہ بھی نہیں ملے گا۔ ٹیکس آپ بڑھا نہیں رہے تو اگلے سال تو آپ کا بجٹcollapse ہونے والا ہے اور جو اثاثے آپ نے بیچے ہیں اور بیچ رہے ہیں ان کو اگر دشمن ملک خرید لے تو آپ کی معیشت دشمنوں کے حوالے ہوجائے گی۔ اور اہم بات یہ ہے کہ حبیب بینک وغیرہ کا منافع روپے میں ہوتا ہے، اور جب ان اداروں کے شیئرز آپ بیچیں گے جو اچھا منافع دے رہے ہیں تو آپ کو یہ منافع بھی نہیں ملے گا۔ تو یہ ایک تماشا ہے۔ قوم کو سوچنا ہوگا کہ یہ کیوں ہورہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگلے برسوں میں پاکستان میں ایک معاشی بحران آئے گا جس کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ کیونکہ اِس سال مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں 2600 ارب روپے ٹیکسوں کی وصولی دکھائی ہے۔1500ارب صوبوں کو چلے گئے تو بچے 11 سو ارب… جبکہ 12 سو ارب ان کو ایک سال میں سود دینا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی آمدنی سے سود بھی ادا نہیں کرسکتے تو پورا ملک کہاں سے چلائیں گے! تو بات یہ ہے کہ یہ ایک منظم کھیل ہے۔ انہوں نے ڈالر کو ضرورت سے زیادہ گرایا ہے تاکہ کامیابی کا تاج پہن لیں اور قوم کو اس بحث میں الجھادیا کہ یہ گرا کیسے ؟ اور بڑھا کیسے؟ تو انہوں نے نجکاری کا ڈراما رچانے اور ٹیکسوں کے مسئلے کو پیچھے ڈالنے کے لیے اس بحث میں ہمیں الجھایا ہے۔ یہ گریٹ گیم کا حصہ ہے کہ ہمارے اثاثے غیر ملکیوں کے پاس چلے جائیں۔
……٭……
ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ اس رجحان کے مستقبل میں پاکستان کی معیشت پر کتنے اچھے اور برے اثرات پڑیں گے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن پاکستان کے مفاد پرست طبقہ اشرافیہ کے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے جن خدشات کا اظہار کیا اس پر سیاسی قیادت کو ضرور سوچنا ہوگا اور اس کے سدباب کے لیے سنجدہ عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو خدشہ ہے کہ آج انسانوں کا پیدا کردہ مصنوعی قحط جوآہستہ آہستہ، دبے قدموں، بڑی دھیرج سے وسیع و عریض علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے کر موت سے ہمکنار کررہا ہے وہ مستقبل میں ملک کے کئی علاقوں کو تھر میں تبدیل کردے گا۔
Pakistan Economy : Devaluation of the dollar is fake? By Dr. Shahid Hassan اے۔ اے۔ سیّد