ہم جانتے ہیں کہ ایپل آئی فون کی دسویں سالگرہ پر زبردست فیچرز کے ساتھ آئی فون ایکس یا آئی فون ٹین تیار کیا گیا ہے لیکن اب خود ایپل کارپوریشن کی جانب سے اس کی کم تعداد میں تیاری کی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ایپل آئی فون کےلیے اہم ترین پرزہ جات تیار کرنے والی کمپنیوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ خود ایپل نے انہیں کہا ہے کہ وہ پہلے آرڈر کے مقابلے میں صرف 40 فیصد آرڈر ہی بھیجیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی فون ٹین کےلیے پہلے سے فراہم کردہ آرڈر میں غیرمعمولی اور غیرمتوقع کمی ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ بھی دیگر تجزیہ کاروں نے ایپل آئی فون ٹین میں عدم دلچسپی کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے قبل لندن میں نئے فون کے اجرا پر صرف چند درجن افراد ہی قطاروں میں دیکھے گئے۔ دوسری جانب اسمارٹ فون کا جائزہ لینے والی ویب سائٹ ’ڈجی ٹائمز‘ نے تائیوان کی بعض کمپنیوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایپل نے انہیں فون اور دیگر اہم پرزوں کی فراہمی کے آرڈر میں کمی کا حکم دیا ہے۔
اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے کہا تھا کہ آئی فون ٹین سے قدرے سستے آئی فون 8 کی طلب میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے جب کہ کچھ افواہیں زیرِ گردش رہیں کہ خود ایپل نے بھی آئی فون ایکس کی باقاعدہ تیاری شروع نہیں کی ہے۔
آئی فون کی پیداوار میں کمی کی ان خبروں کا اثر خود ان کئی کمپنیوں پر بھی دیکھا گیا جو آئی فون کےلیے کام کرتی ہیں اور ان کے حصص میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اسی طرح ایپل کمپنی کے حصص میں بھی 0.9 فیصد کمی دیکھی گئی اور ماہرین نے اس کی وجہ ان ہی خبروں کو بتایا ہے جب کہ دیگر تجزیہ نگاروں کے مطابق پوری دنیا میں نئے آئی فون کے پہلے دن کوئی غیرمعمولی قطاریں اور رش نہیں دیکھا گیا۔
الینا ٹرینی کے مطابق سمارٹ فون نے نئی نسل کو تنہائی پسند، خودکش اور نابالغ بنا دیا ہے۔ سائنسی جریدے ’’دی انٹارٹک‘‘ میں شائع ہونے والے مضمون کے حوالے سے الینا ٹرینی نے لکھا ہے کہ ’’ نئی نسل کم گو ہے ، معاشرے سے کٹی ہوئی ہے، الگ رہنا چاہتی ہے، گھل مل کر رہنا اب اس کی زندگی کا مقصد نہیں رہا۔ انسان سماجی جانور ہے، وہ سماج سے ہی کٹتا جا رہا ہے‘‘ ۔
سانڈیگو سٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسرجین ٹوئنج کے مطابق ’’ 25 سالہ جائزے کے مطابق عصر حاضر کا سب سے بڑا ’’دشمن ‘‘سمارٹ فون ہے۔ یہ سماج دشمنی میں پہلے نمبر پر ہے‘‘۔ وہ 1985ء سے 2012ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کو آئی جنریشن (IGen) کہتی ہیں۔ اس عرصے میں پیدا ہونے والے 5 ہزار نوجوانوں میں سے 4 ہزار کے پاس آئی فون پائے گئے۔ ان میں سے 56 فیصد ہائی سکولز میں زیر تعلیم تھے۔ اس نسل کے بچوں میں آئی فون کی وجہ سے شراب نوشی اور ماں باپ کو بتائے بغیر پیسے خرچ کرنے کے رجحانات عام ہیں۔ سمارٹ فون کی وجہ سے اس نسل کا ذہنی ارتقا نہیں ہو سکا، 18 سال کا بچہ 15 سالہ بچے اور 13 سال کا بچہ 11 سالہ بچے کی طرح لگتا ہے۔
یعنی ’’ آئی جنریشن ‘‘ اپنی عمر کے دوسرے بچوں سے تقریباً 2 برس چھوٹی ہے۔ اس کا سوچنے کا انداز دو سال پیچھے چلا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق 2007 سے 2015ء تک آئی جنریشن میں قتل کرنے کے رجحانات میں کمی اور خود کشی میں اضافہ ہوا ہے۔ شاید اس لئے کہ یہ نسل اپنے آپ میں مگن رہتی ہے۔ دوسروں سے ملاقاتیں کم ہی ہوتی ہیں۔ جو دوسروں سے ملتے ہی نہیں وہ ان کی جان کیسے لے سکتے ہیں۔ اس لئے اس نسل سے تعلق رکھنے والوں نے قتل جیسی سنگین وارداتوں میں نسبتاً کم حصہ لیا ہے۔ یہ نوجوان اپنے آپ میں کھویا ہوا ہے اس لیے اس میں ’’اپنے آپ کو مارنے‘‘یعنی خود کشی کے رجحانات فروغ پا رہے ہیں۔ 2015ء وہ پہلا سال ہے جب اس عمر کے نوجوانوں نے قتل کم اور خودکشیاں زیادہ کی ہیں۔ 24 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔
پروفیسر جین ٹوینج نے ایک سروے کیا تو ’’ گزشتہ 5 سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد یعنی 58 فیصد لڑکیوں نے خود کو تنہائی کا شکار محسوس کیا۔ 2010ء میں اتنی لڑکیاں معاشرے سے کٹا ہوا محسوس نہیں کرتی تھیں۔ تنہائی کا شکار لڑکوں کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ اس نسل سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے ڈپریشن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2012ء سے 2015ء کے درمیان لڑکیوں میں ڈپریشن کا مرض 50 فیصد اور لڑکوں میں 21 فیصد زیادہ ہوا ہے۔ یہ ڈپریشن لڑکیوں اور لڑکوں میں خودکشیوں کا سبب بن رہا ہے۔ 2007ء کے مقابلے میں 2015ء میں 12 سے 14 سال کی عمر کی لڑکیوں میں خودکشی کا تناسب 3 گنا ہو گیا۔ پروفیسرٹوئنج نے موبائل فون کے ان منفی رجحانات کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے اس پر قابو پانے کا مشورہ دیا ہے۔