نئی نسل پچاس سال پہلے کے مقابلے میں کئی سال پیچھے ہے

وہ تو آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ آج کے دور کی نسل ماضی کے مقابلے میں بہت تیز اور ذہین ہے۔ اور ان میں کام کرنے کی اہلیت اور صلاحیت زیادہ ہے۔ لیکن ایک حالیہ مطالعاتی جائزے نے اس خیال کو باطل قرار دے دیا ہے۔ حال ہی میں آج کے دور کے ٹین ایجرز اور 70 کے عشرے کے ٹین ایجرز کے درمیان موازنے سے یہ پتا چلا ہے کہ ان شعبوں میں، جس میں نوجوانوں کی دلچسپی ہوتی ہے، آج کے نوجوان، ماضی کے نوجوانوں سے کم از کم تین سال پیچھے ہیں۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والے اس جائزے میں ماہرین نے 83 لاکھ سے زیادہ ٹین ایجرز کے طرز عمل ، مشاغل اور مصروفیات سے متعلق اعداد و شمار کی جانچ پرکھ کی۔ ان اعداد و شمار کا تعلق امریکہ میں آباد 7 اہم قوموں سے تھا اور یہ ڈیٹا 1976 سے لے کر 2016 کے عرصے کے دوران اکٹھا کیا گیا تھا۔

نئی نسل سے متعلق ایک جریدے ، چائلڈ ڈیولپمنٹ ، میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے 13 سے 19 سال کے نوجوانوں کی مصروفیات کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ اپنا وقت کیسے گذارتے تھے۔ اس تجزیے میں جن پہلوؤں کو پرکھا گیا وہ تھا ملازمت کرنا، ڈرائیونگ کرنا، مخالف جنس کے ساتھ دوستیاں کرنا، اور شراب نوشی کرنا۔ ان چیزوں کی جانب امریکی ٹین ایجرز کم و بیش ہر دور میں راغب رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 70 کے عشرے اور موجودہ دور میں نوجوانوں کا موازنہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ثقافتی اعتبار سے بڑے پیمانے پر تبدیلی آ چکی ہے۔ 2010 کے عشرے میں ٹین ایجرز میں معاوضے کے لیے کام کرنے، ڈرائیونگ کرنے، ڈیٹ پر جانے، الکحل پینے اور والدین کے بغیر باہر جانے کا رجحان 70 کے عشرے کے مقابلے میں نسبتاً کم تھا۔ یہ تبدیلیاں امریکہ میں رہنے والی کسی ایک نسل یا قوم میں نہیں دیکھی گئی بلکہ اس میں مجموعی طور پر ہر رنگ اور نسل اور جنس سے تعلق رکھنے والے امریکی نوجوان شامل ہیں۔

یہ مطالعاتی جائزہ امریکی ریاست سین ڈیاگو کی سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے تحت کرایا گیا اور اس کی قیادت شعبہ نفسیات کے پروفیسر جین ٹوینگ نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ان دلچسپیوں میں نئی نسل کی دلچسپی کم ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں 18 سال کا نوجوان جن سرگرمیوں کی جانب متوجہ ہوتا ہے ،70 کے عشرے میں وہی کام 15 سال کی عمروں کے نوجوان کیا کرتے تھے۔ اس رجحان میں تبدیلی کی وجوہات کے متعلق نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ ترقی اور نئی ایجادات کی لہر نے آج کے نوجوانوں کے مشاغل تبدیل کر دیے ہیں ۔ اب ان کا زیاد وقت انٹرنیٹ پر گذارتا ہے۔ اور غالباً بلوغت سے منسلک سرگرمیوں کی جانب رغبت میں کمی کا یہ ایک اہم سبب ہے۔
نفسیاتی ماہرین کے ایک اور گروپ کا کہنا ہے کہ اس کلچرل تبدیلی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ آج کے نوجوان پر ، جو اس عمر میں عموماً زیر تعلیم ہوتے ، ہوم ورک اور غیر نصابی سرگرمیوں کا اس قدر بوجھ ہوتا ہے کہ ان کے پاس کچھ اور کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں لیکن یہ طے ہے کہ آج کا نوجوان ماضی کے نوجوان کے مقابلے میں خطرات اور ذمہ داریاں قبول کرنے سے کتراتا ہے۔ نیویارک کے ہنٹنگٹن ہاسپیٹل میں چیف میڈیکل آفیسر اور بچوں کے أمور کے ماہر مائیکل گروسو کہتے ہیں کہ اس وسیع البنیاد مطالعے کے نتائج ہماری اس عمومی سوچ سے مختلف ہیں کہ آج کے جدید اور پیچیدہ عہد کی نئی نسل کو اپنی عمر سے پہلے بڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ زوکر ہل سائیڈ ہاسپیٹل نیویارک کے بچوں کے شعبے کے ڈائریکٹر فارنیری کہتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ وقت انٹرنیٹ پر گذارنا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو بچے ٹیلی وژن یا کسی دوسری الیکٹرانک سکرین پر زیادہ وقت گذارنے سے روکیں، انہیں اپنے ساتھ باہر لے کر جائیں، انہیں کتابیں پڑھنے اور اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے پر راغب کریں ۔

جمیل اختر – واشنگٹن

انٹرنیٹ کے ذریعے پاکستان کی جاسوسی ؟

آج کل سوشل میڈیا پر ـ”لوڈو سٹار” گیم کا چرچا ہے جس سے متعلق تبصرے ٹاپ ٹرینڈ بن چکے ہیں۔ حال ہی میں اس گیم کو غیر اسلامی قرار دے دیا گیا ہے ، دوسری طرف ایک اور خبر مشہور ہو گئی کہ بھارتی ایجنسیاں “لوڈو سٹار” کے ذریعے پاکستانیوں کی جاسوسی کر رہی ہیں۔ اس لیے اس گیم کا بائیکاٹ کیا جائے۔ سننے میں یہ مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے کہ ایک گیم کے ذریعے جاسوسی کیونکر ممکن ہے۔ ایک عام شخص کی جاسوسی کر کے ملک دشمن عناصر کیا فوائد حاصل کر سکتے ہیں؟ لیکن یہ حقیقت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے جہا ں ہر شعبہ زندگی میں انقلاب برپا کیا ہے وہیں روایتی جاسوسی کا نظام بھی الیکٹرانک ہو چکا ہے۔

اگر آپ غور کریں تو فیس بک پر سائیڈ بار میں چلنے والے اشہارات آپ کے رجحان اور مزاج کے مطابق ہوتے ہیں ۔ یہی نہیں ،اگر آپ کو کسی ایسے دوست کی فون کال یا میسج موصول ہو جو آپ کے پاس فیس بک پر ایڈ نہیں تو چند دنوں میں ہی آپ اس دوست کی پروفائل کو فیس بک پر ریکمنڈڈ فرینڈز (People you may know) کی فہرست میں پائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک آپ کے موبائل پر ہونے والی تمام کالز اور میسجز کو ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے۔ ہیکنگ کے دیگر آلات میں ونڈوز، اینڈرائیڈ، ایپل آئی او ایس/ او ایس ایکس اور لینکس آپریٹنگ سسٹم والے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ راؤٹرز کو نشانہ بنانے والے سافٹ ویئرز شامل ہیں۔

اس ہولناک حقیقت کاانکشاف 2013 ء میں سی آئی اے کے سابق ٹیکنیکل اسسٹنٹ ایڈورڈ سنوڈن نے کیا۔ انہوں نے برطانوی اخبار “دی گارڈین” کے ذریعے دنیا کو امریکہ کے ڈیجیٹل جاسوسی پروگرام “پرزم”سے آگاہ کیا جس کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیاں سراغ رسانی کی غرض سے انٹرنیٹ کی نو بڑی کمپنیوں فیس بک، یو ٹیوب، سکائپ، ایپل، پال ٹاک، گوگل، مائکروسافٹ اور یاہو کے سرورز سے صارفین کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی، برطانیہ کی گورنمنٹ کمیونیکیشن ہیڈ کوارٹرز اور اسرائیل کی موساعد دنیا میں ڈیجیٹل جاسوسی کا سب سے بڑا منبع ہیں جو سینکڑوں این جی اوز، ٹیکنالوجی کمپنیز اور مختلف فرمز کے ذریعے لوگوں کی ذاتی تصاویر، ویڈیوز، ای میلز اور دیگر معلومات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل جاسوسی کے تین بڑے ذرائع جن میں سب سے اہم انٹرنیٹ ہے۔ مختلف ایپس کے ذریعے موبائل کی گیلری، کیمرہ، مائیک اور دیگر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ جب ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں تو وہ ہمارا ڈیٹا مختلف سرورز کو بھیج رہی ہوتی ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق 53 فیصد ایپس ڈیٹا چوری کرتی ہیں جس کی ایک عام مثال فلیش لائٹ ایپ ہے جس کا مقصد اندھیرے میں موبائل کو ٹارچ بنانا ہے مگر یہ آپ کی کانٹیکٹ لسٹ کو چوری کرتی ہے۔دوسرا بڑا ذریعہ فائبر آپٹک ہے جس کے ذریعے عالمی کمیونیکیشن کی نگرانی کی جاتی ہے۔”گارڈین” کے مطابق برطانیہ کو دو سو فائبر آپٹک کیبلز تک رسائی حاصل ہے جس کے ذریعے وہ یومیہ چھ سو ملین کمیونیکیشنز کی نگرانی کر سکتا ہے۔

فون ٹیپنگ کے علاوہ ہر روز 18 وائرس ( ٹروجن ) بنائے جاتے ہیں جو لوگوں کے ڈیجیٹل ڈیٹا تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی جاسوسی پر اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے پس پردہ عالمی اداروں کے کیا مقاصد ہیں تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ نیوورلڈ آرڈر کے مطابق ہر ملک عالمی سطح پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے جس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ پر موجود ہر شخص کی سوچ، لین دین، رجحانات اور تمام دلچسپیوں کو ڈیٹا بیس میں مسلسل ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ کسی خطے اور قوم سے متعلق بنیادی معلومات اگر آپ کے پاس موجود ہوں تو آپ اس خطے کے لوگوں کا مجموعی نفسیاتی طرزِ عمل آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

صرف نفسیاتی طرزِ عمل ہی نہیں بلکہ قوموں کے مجموعی طرزِ فکر، ایکشن، ری ایکشنز اور متوقع فیصلہ سازی کے بارے میں آپ بڑی آسانی سے ایک زائچہ تیار کر سکتے ہیں۔ یہی وہ معلومات ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی طاقتیں کسی ملک کے حالاتِ زندگی، نفسیات اور معیشت کو کنٹرول کرتی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ”ٹاپ سیکرٹ بجٹ ڈاکومنٹس” بلیک بجٹ کے نام سے ترتیب دی گئیں 178 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں امریکی خفیہ اداروں نے پاکستان میں کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کے ٹھکانوں کے حوالے سے معلومات اکٹھی کرنے کے سلسلے میں جاسوسی نیٹ ورک کو توسیع دی ہے۔

مارچ 2013ء کے انکشافات کے مطابق پاکستان عالمی جاسوسی اداروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں سے ایک ماہ میں ساڑھے تیرہ ارب خفیہ معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ برطانوی خفیہ ادارہ ٹیکنالوجی کمپنی “سسکو” کے رائوٹرز کو ہیک کر کے پاکستان میں مواصلاتی نظام کی جاسوسی کرتا رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو پیچھے دھکیلنے کے لیے تیزی سے جال بننے میں مصروف ہیں۔

سعد الرحمٰن ملک

انٹرنیٹ سے متعلق دلچسپ حقائق جو آپ نہیں جانتے

چائینہ میں انٹر نیٹ کے عادی افراد کے علاج کے لئے کیمپ موجود ہیں۔ روزانہ 30 ہزار سے زائد ویب سائٹس ہیک کی جاتی ہیں۔ زیادہ تر انٹر نیٹ ٹریفک انسانوں کی بجائے گوگل اور مال وئیر جیسے روبوٹس کی جانب سے استعمال کی جاتی ہے۔جب مونٹی نیگرو، یوگوسلاویہ سے آ زاد ہوا تو اس کی انٹر نیٹ ڈومین ’’ yu‘‘ سے تبدیل ہو کر ’’me‘‘ ہو گئی تھی۔ امریکا کے 15 فیصد نوجوان انٹرنیٹ کا استعمال نہیں کرتے۔ آج کل محققین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ انٹر نیٹ کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے والے افراد کا شمار بھی دماغی مریضوں میں کیا جائے یا نہیں۔

دنیا کا پہلا ویب کیم کیمبرج یونیورسٹی میں بنایا گیا تھا۔ تقریباً 1 لاکھ نئی ’’ ڈاٹ کوم‘‘ ڈومینز یومیہ رجسٹرڈ کی جاتی ہیں۔ بر طانیہ میں9 ملین نوجوانوں نے کبھی انٹر نیٹ استعمال نہیں کیا۔ فلپائن، جنوب مشرقی ایشیا میں 3.54 Mbps کے حساب سے سب سے سست انٹر نیت رفتار رکھنے والا ملک ہے۔ انٹر نیٹ یو زرز ایک منٹ میں 204 ملین ای میلز بھیجتے ہیں۔ چائینہ میں موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔

دنیا میں بھیجی جانے والی تمام ای میلز میں سے 70 فیصد ’’ سپیم‘‘ ہوتی ہیں۔ اٹلی کی ایک تہائی آ بادی نے کبھی انٹر نیٹ استعمال نہیں کیا۔ ’’وائی فائی ‘‘ میں ’’ فائی‘‘ کا کوئی مطلب نہیں ہے، ڈویلپرز نے اس کو اس لئے اس لفظ میں شامل کیا کیونکہ اس کی شمولیت سے ’’وائی فائی‘‘ لفظ ’’ہائی فائی‘‘ سے تشبیہ رکھتا ہے۔ 1993ء کے اختتام پر دنیا میں صرف 623 ویب سائٹس تھیں۔ دنیا کی 6 فیصد آبادی خطرناک حد تک انٹر نیٹ کی عادی ہے۔ انٹر نیٹ سے قبل ’’LOL‘‘ کا مطلب ’’Lots of Love‘‘ ہوا کرتا تھا۔ ایک سال میں صرف 37.9 فیصد لوگوں کو انٹر نیٹ تک رسائی حاصل ہو پاتی ہے۔ 2010ء میں فن لینڈ دنیا کا واحد ملک تھا جہاں انٹر نیٹ کی سہولت کو قانونی حق قرار دیا گیا تھا۔ 1971ء میں دنیا میں پہلی بات انٹر نیٹ پر جو چیز خریدی یا بیچی گئی وہ میری جووانا کا ایک بیگ تھا۔ 1996ء میں Alexandria میں ایک لائبریری قائم کی گئی جس میں اب تک کے انٹر نیٹ پیجز کی کاپیا ں موجود ہیں۔

اگر انٹر نیٹ ایک دن کے لئے کام کرنا چھوڑ دے تو 196 بلین ای میلز اور 3 بلین گوگل سرچز کو انتظار کرنا پڑے گا۔ بھارت میں انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد امریکہ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ ناسا کا انٹر نیٹ عام انٹر نیٹ استعمال کرنے والے سے 13 ہزار گنا زیادہ تیز ہے۔ ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ضرورت سے زیادہ انٹر نیٹ استعمال کرنے والے ڈپریشن ، یکسانیت اور دماغی عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق لوگوں کو انٹر نیٹ کی سہولت سے دور رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایلن کی مشہور آ سکر سیلفی کو 3.3 ملین مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا تھا۔ مشہور ویب سائٹ ایمازون نے اپنی پہلی کتاب 1995ء میں فروخت کی تھی۔

 تنزیل الرحمن جیلانی