تین کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی انٹرنیٹ تک رسائی

سینٹرل امریکن انٹیلیجنس یعنی سی آئی اے کی ویب سائٹ ، جو کہ دنیا کے ہر ملک کا اس کی آبادی ، ٹرانسپورٹیشن، کمیونیکیشن سے لے کر عسکری استعداد وغیرہ تک کا ڈیٹا رکھتی ہے اس کےمطابق اس وقت پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تین کروڑ سے زائد ہے۔ جب کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ویب سائٹ پر موجود اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ملک میں 13 کروڑ 99 لاکھ 70 ہزار 7 سو 62 افراد موبائل فون استعمال کر رہے ہیں اور اس کے ذریعے تھری جی اور فور جی استعمال کرنے والوں کی تعداد قریباََ ساڑھے 4 کروڑ ہے۔

براڈ بینڈ سبسکرائبرز کی تعداد تقریباََ پونے 5 کروڑ ہے۔ جس کی وجہ تھری جی اور فور جی کی سہولت اور کم قیمت اسمارٹ فونز کی دستیابی ہے اور ای کامرس اور دیگر ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کے استعمال کی وجہ سے گھر اور بزنس اب ایک جگہ اکٹھے ہو گئے ہیں یعنی ہم گھر بیٹھ کر بزنس بھی کر سکتے ہیں اور خریداری بھی کیونکہ بہت سی آن لائن شاپنگ کی ویب سائٹس ہیں جنھیں بہت سے انٹرنیٹ صارفین استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اب اوبر اور کریم کے ذریعے سفر کی سہولت بغیر اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے حاصل نہیں ہو سکتی جو کہ ضرورت بنتی جا رہی ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کے روز مرہ استعمال میں اضافے کی وجہ سے اس وقت پاکستان انٹرنیٹ استعمال کرنے والی 10 معیشتوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ اس رینکنگ میں پاکستان 9 ویں پوزیشن پر ہے جبکہ ایران 7 اور بنگلہ دیش 10 ویں پوزیشن پر ہے۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی ( یو این سی ٹی اے ڈی) کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2012 ء سے 2015 ء کے دوران 16 ملین سے زائد پاکستانی آن لائن ہوئے جو ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی مجموعی تعداد کا 47 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ ایک سروے کے مطابق اسمارٹ فون رکھنے والے 73 فیصد صارفین موٹر رائیڈ سروس کیلئے معاون ایپلیکیشنز استعمال کر رہے ہیں۔

گوگل کے تحت ایک ہزار سے زائد پاکستانیوں کے سروے کے بعد جاری کی گئی ’’پاکستان ڈیجیٹل کنزیومر اسٹڈی‘‘ نامی رپوٹ کے مطابق پاکستانی ڈیجیٹل صارفین اب انٹرنیٹ سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ منسلک رہتے ہیں۔ سروے میں شامل 70 فیصد افراد روزانہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ 60 فیصد کے مطابق انٹرنیٹ ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ اپنا زیادہ تر ذاتی وقت گزارنا پسند کرتے ہیں۔
پاکستان میں ٹی وی دیکھنے والے افراد 41 فیصد اور اخبار پڑھنے والے افراد 24 فیصد ہیں، جبکہ 2012ء میں یہ تناسب انٹرنیٹ کو ترجیح دینے والوں سے کم تھا۔ پاکستانی صارفین کیلئے انٹرنیٹ استعمال کرنے کیلئے سب سے زیادہ قابل ترجیح جگہ گھرہے، جبکہ صرف موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین بھی گھر کے وائی فائی کنکشن کی مدد سے انٹرنیٹ استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈیسک ٹاپ اور موبائل انٹرنیٹ پر ہونیوالی 3 بنیادی سرگرمیوں میں سوشل میڈیا، ای میل اور عام ریسرچ شامل ہیں، جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ علوم سیکھنے اور سیکھانے کیلئے آج کے ڈیجیٹل پاکستانی اپنے اسمارٹ فونز پر آنے والے علمی مواد کو ترجیح دیتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں اسمارٹ فونز پر آن لائن بینکنگ، مالی خدمات اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ریسرچ اور بلوں کی ادائیگی نے بھی مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہ تو تھی پاکستان کی صورتحال لیکن ابھی بھی دنیا کی آدھی آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے تاہم کچھ ممالک میں اسے استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایک رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ تمام ممالک کی حکومتوں کو اپنی عوام کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ کوئی بھی ڈیجیٹلائزیشن میں پیچھے یا اس سے محروم نہ رہ جائے۔

بین الاقوامی سطح پر 2015ء میں ای کامرس کے ذریعے 25 کھرب کی خرید و فروخت ہوئی اور آئی سی ٹی سروسز کی برآمدات میں 2010ء سے 2015ء کے درمیان 40 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق اس صنعت میں 100 ملین لوگ موجود ہیں۔ 2016ء میں دنیا بھر میں تھری ڈی پرنٹرز کی خرید و فروخت دگنی رہی اور سب سے زیادہ روبوٹس فروخت ہوئے۔ 3 کروڑ 80 لاکھ افراد نے دوسرے ممالک سے انٹرنیٹ کے ذریعے خریدو فروخت کی۔ رپورٹ میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی ہے کہ دنیا میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 2019ء میں 2015ء کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ ہو جائے گی۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی مختلف سروسز کے استعمال کا تناسب مختلف ہے۔ مثلاً دنیا بھر میں صرف 16 فیصد افراد انٹرنیٹ کے ذریعے بل ادا کرتے ہیں اور لاطینی امریکا اور افریقا میں اب بھی تھری ڈی پرنٹرز کا استعمال فقط 4 فیصد ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں انٹرنیٹ کے استعمال کے تناسب میں مردوں اور عورتوں میں بہت فرق ہے۔ اس رپورٹ میں 25 ممالک کی فہرست بنائی گئی ہے اور وہاں سوشل نیٹ ورک اور آن لائن خریدو فروخت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں ایران بھی شامل ہے جہاں آن لائن خرید و فروخت کا تناسب تو 10 فیصد ہے تاہم سوشل نیٹ ورکس پر صارفین کی شمولیت کا تناسب 60 فیصد ہے۔

فاروق احمد انصاری

بشکریہ روزنامہ جنگ

کیا انٹرنیٹ بھارت میں ایجاد ہوا ؟

قدیم ہندوستان باقی دنیا سے بہت پہلے ٹیکنالوجی کے نئے محاذ پار کر چکا تھا، یہ دعویٰ تو نیا نہیں ہے لیکن پھر بھی ہر نئے ہوشربا ’انکشاف‘ کے بعد سنبھلنے میں تھوڑا وقت تو لگتا ہی ہے۔ اس مرتبہ ٹیکنالوجی کی جنگ میں نیا تیر شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے وزیر اعلیٰ نے چلایا ہے جن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ قدیم ہندوستان کی ایجاد ہے اور ہزاروں سال پہلے براہ راست نشریات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کمپیوٹروں کے استعمال پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہا بھارت کی جنگ کے دوران سنجے نے دھرت راشٹر کو جنگ کا آنکھوں دیکھا احوال سنایا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت انٹرنیٹ بھی تھا اور سیٹلائٹ بھی۔ انڈیا میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے اس طرح کے مضحکہ خیز دعووں میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان، انٹرنیٹ استعمال کرنے والی 10 معیشتوں میں شامل

پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں روز بروز اضافے سے پاکستان انٹرنیٹ استعمال کرنے والی 10 معیشتوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ اس رینکنگ میں پاکستان 9 ویں پوزیشن پر ہے جبکہ ایران 7 سات اور بنگلہ دیش 10ویں پوزیشن پر ہے۔ سن 2012ء سے 2015 ء کے دوران 16 ملین سے زائد پاکستانی آن لائن ہوئے جو ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی مجموعی تعداد کا 47 فیصد بنتا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں تھری جی فور جی ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فون کی تعداد میں اضافے کے بعد پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کے ذریعے تجارت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ دراز، علی ایکسپریس، کیمو، اوبر اور کریم استعمال کرنے والے صارفین بھی انٹرنیٹ کااستعمال کر رہے ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق اسمارٹ فون رکھنے والے 73 فیصد صارفین موٹر رائیڈ سروس کیلئے معاون ایپلی کیشنز استعمال کر رہے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں گوگل کا نام ایک غلطی کے نتیجے میں رکھا گیا

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل (Google) کا نام ایک غلطی کے نتیجے میں رکھا گیا۔ گوگل کب اور کیسے بنا؟ اس بارے میں انٹرنیٹ پر بہت سی معلومات دستیاب ہیں تاہم مستند اور حقیقت پر مبنی معلومات ڈیوڈ کولر نامی صاحب نے اپنی ایک مختصر یادداشت میں بیان کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر گوگل کے نام اور اس ویب سائٹ کے قیام سے متعلق بے بنیاد تحریروں کی بھرمار ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

ان کے بقول ستمبر 1997 میں کیلیفورنیا کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے طالب علموں لیری پیج اور سرگی برن نے ایک نیا سرچ انجن ایجاد کیا تھا جو ایک منفرد طریقے پر کام کرتا تھا۔ وہ اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے ایک کمرے میں دوسرے چند گریجویٹ طالب علموں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ ایک روز وہ اپنے ساتھیوں شون اینڈرسن، تمارا منزنر اور لوکاس پریرا کے ساتھ اس سوچ بچار میں مصروف تھے کہ وہ انٹرنیٹ اپنے اس نئے سرچ انجن کا نام کیا رکھیں۔ اس بارے میں سب ہی دوست سر جوڑ کر بیٹھے تھے۔ ان میں سے لیری ممکنہ ناموں کو شارٹ لسٹ کر رہے تھے جبکہ شون بھی اس عمل میں پیش پیش تھے۔

لیری اور شون، وائٹ بورڈ پر منتخب موزوں ترین ناموں کو درج کر کے ان کے معنی اور مناسبت کے حوالے سے تفصیلات لکھنے میں مصروف تھے۔ اسی دوران شون نے زبانی طور پر ’’googolplex‘‘ لفظ تجویز کیا تو لیری نے فوراً ہی اسے مختصر کر کے ’’googol‘‘ کردیا جو کسی غیرمعمولی طور پر بڑے عدد کو ظاہر کرتا ہے۔ شون سے سننے میں غلطی ہوئی اور اس نے غلطی سے ڈومین نیم تلاش کرتے دوران googol کی جگہ google ٹائپ کر دیا جو لیری برن، دونوں کو بہت پسند آیا۔ خوش قسمتی سے یہ ڈومین نیم دستیاب بھی تھا اس لیے چند روز بعد لیری پیج نے google.com کے نام سے ڈومین نیم حاصل کر لیا اور یوں انٹرنیٹ کا مشہور ترین سرچ انجن ’’گوگل‘‘ وجود میں آیا۔ اس وقت بھی اگر آپ انٹرنیٹ سروس ’’ہو اِز‘‘ (Who Is) استعمال کرتے ہوئے تلاش کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ڈومین نیم google.com کی اوّلین رجسٹریشن 15 ستمبر 1997 کے روز کروائی گئی تھی۔

آج شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں گوگل پر چیزیں سرچ نہ کی جاتی ہوں، یوٹیوب پر ویڈیوز نہ دیکھی جاتی ہوں، جی میل سے ای میل نہ کی جاتی ہو اور اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے اسمارٹ فونز نہ چلائے جاتے ہوں۔ آج 160 ممالک میں گوگل کے 4 ارب 50 کروڑ صارفین موجود ہیں۔ آج گوگل سیکڑوں نہیں تو درجنوں سروسز تو ضرور فراہم کر رہا ہے اور ویب سرچنگ ان میں سے صرف ایک ہے۔

ویب سرچنگ کے بے تاج بادشاہ گوگل نے چند روز پہلے ہی اپنی 19ویں سالگرہ منائی ہے۔ اس دن کی مناسبت سے گوگل نے مختلف گیمز متعارف کرائے ہیں جو بہت دلچسپ اور رنگوں سے بھرپور ہیں۔