Category Archives: Internet
کیا انٹرنیٹ بھارت میں ایجاد ہوا ؟
قدیم ہندوستان باقی دنیا سے بہت پہلے ٹیکنالوجی کے نئے محاذ پار کر چکا تھا، یہ دعویٰ تو نیا نہیں ہے لیکن پھر بھی ہر نئے ہوشربا ’انکشاف‘ کے بعد سنبھلنے میں تھوڑا وقت تو لگتا ہی ہے۔ اس مرتبہ ٹیکنالوجی کی جنگ میں نیا تیر شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے وزیر اعلیٰ نے چلایا ہے جن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ قدیم ہندوستان کی ایجاد ہے اور ہزاروں سال پہلے براہ راست نشریات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کمپیوٹروں کے استعمال پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہا بھارت کی جنگ کے دوران سنجے نے دھرت راشٹر کو جنگ کا آنکھوں دیکھا احوال سنایا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت انٹرنیٹ بھی تھا اور سیٹلائٹ بھی۔ انڈیا میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے اس طرح کے مضحکہ خیز دعووں میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان، انٹرنیٹ استعمال کرنے والی 10 معیشتوں میں شامل
پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں روز بروز اضافے سے پاکستان انٹرنیٹ استعمال کرنے والی 10 معیشتوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ اس رینکنگ میں پاکستان 9 ویں پوزیشن پر ہے جبکہ ایران 7 سات اور بنگلہ دیش 10ویں پوزیشن پر ہے۔ سن 2012ء سے 2015 ء کے دوران 16 ملین سے زائد پاکستانی آن لائن ہوئے جو ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی مجموعی تعداد کا 47 فیصد بنتا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں تھری جی فور جی ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فون کی تعداد میں اضافے کے بعد پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کے ذریعے تجارت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ دراز، علی ایکسپریس، کیمو، اوبر اور کریم استعمال کرنے والے صارفین بھی انٹرنیٹ کااستعمال کر رہے ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق اسمارٹ فون رکھنے والے 73 فیصد صارفین موٹر رائیڈ سروس کیلئے معاون ایپلی کیشنز استعمال کر رہے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں گوگل کا نام ایک غلطی کے نتیجے میں رکھا گیا
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل (Google) کا نام ایک غلطی کے نتیجے میں رکھا گیا۔ گوگل کب اور کیسے بنا؟ اس بارے میں انٹرنیٹ پر بہت سی معلومات دستیاب ہیں تاہم مستند اور حقیقت پر مبنی معلومات ڈیوڈ کولر نامی صاحب نے اپنی ایک مختصر یادداشت میں بیان کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر گوگل کے نام اور اس ویب سائٹ کے قیام سے متعلق بے بنیاد تحریروں کی بھرمار ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کے بقول ستمبر 1997 میں کیلیفورنیا کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے طالب علموں لیری پیج اور سرگی برن نے ایک نیا سرچ انجن ایجاد کیا تھا جو ایک منفرد طریقے پر کام کرتا تھا۔ وہ اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے ایک کمرے میں دوسرے چند گریجویٹ طالب علموں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ ایک روز وہ اپنے ساتھیوں شون اینڈرسن، تمارا منزنر اور لوکاس پریرا کے ساتھ اس سوچ بچار میں مصروف تھے کہ وہ انٹرنیٹ اپنے اس نئے سرچ انجن کا نام کیا رکھیں۔ اس بارے میں سب ہی دوست سر جوڑ کر بیٹھے تھے۔ ان میں سے لیری ممکنہ ناموں کو شارٹ لسٹ کر رہے تھے جبکہ شون بھی اس عمل میں پیش پیش تھے۔
لیری اور شون، وائٹ بورڈ پر منتخب موزوں ترین ناموں کو درج کر کے ان کے معنی اور مناسبت کے حوالے سے تفصیلات لکھنے میں مصروف تھے۔ اسی دوران شون نے زبانی طور پر ’’googolplex‘‘ لفظ تجویز کیا تو لیری نے فوراً ہی اسے مختصر کر کے ’’googol‘‘ کردیا جو کسی غیرمعمولی طور پر بڑے عدد کو ظاہر کرتا ہے۔ شون سے سننے میں غلطی ہوئی اور اس نے غلطی سے ڈومین نیم تلاش کرتے دوران googol کی جگہ google ٹائپ کر دیا جو لیری برن، دونوں کو بہت پسند آیا۔ خوش قسمتی سے یہ ڈومین نیم دستیاب بھی تھا اس لیے چند روز بعد لیری پیج نے google.com کے نام سے ڈومین نیم حاصل کر لیا اور یوں انٹرنیٹ کا مشہور ترین سرچ انجن ’’گوگل‘‘ وجود میں آیا۔ اس وقت بھی اگر آپ انٹرنیٹ سروس ’’ہو اِز‘‘ (Who Is) استعمال کرتے ہوئے تلاش کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ڈومین نیم google.com کی اوّلین رجسٹریشن 15 ستمبر 1997 کے روز کروائی گئی تھی۔
آج شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں گوگل پر چیزیں سرچ نہ کی جاتی ہوں، یوٹیوب پر ویڈیوز نہ دیکھی جاتی ہوں، جی میل سے ای میل نہ کی جاتی ہو اور اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے اسمارٹ فونز نہ چلائے جاتے ہوں۔ آج 160 ممالک میں گوگل کے 4 ارب 50 کروڑ صارفین موجود ہیں۔ آج گوگل سیکڑوں نہیں تو درجنوں سروسز تو ضرور فراہم کر رہا ہے اور ویب سرچنگ ان میں سے صرف ایک ہے۔
ویب سرچنگ کے بے تاج بادشاہ گوگل نے چند روز پہلے ہی اپنی 19ویں سالگرہ منائی ہے۔ اس دن کی مناسبت سے گوگل نے مختلف گیمز متعارف کرائے ہیں جو بہت دلچسپ اور رنگوں سے بھرپور ہیں۔






