پاکستان کو قرض و سود سے بچانے کی ایک تجویز

پاکستان کو سود اس تیزی سے کھا رہا ہے کہ اب تو ہمارے بجٹ کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ سود کی مد میں مالی سال 2023-2024 میں 7300 ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن کہا جا رہا ہے کہ سود کی ادائیگی اس سال کوئی 8300 ارب روپے سے بھی زیادہ ہو گی جبکہ آئندہ سال سود کی ادائیگی کیلئے مختص تخمینہ کوئی 9500 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ ہمارے قرضے (جن میں بہت بڑا حصہ اندرونی قرضوں کا ہے) اتنے بڑھ چکے ہیں اور بڑھتے جا رہے ہیں کہ اگر کوئی حل نہ نکالا گیا تو پاکستان اپنا بجٹ بھی نہیں بنا سکے گا کہ سارے کا سارا بجٹ ہی سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جائے تو پھر ملک کیسے چل سکتا ہے؟؟ کچھ عرصہ قبل مجھے ایک صاحب ملنے آئے جن کا نام قانت خلیل اللہ ہے۔ وہ ایک چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں اور کچھ اہم اداروں سے منسلک رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندرونی قرضے فوری طور پر ختم ہو سکتے ہیں جس سے سود کا بوجھ ختم ہو جائے گا۔ قانت صاحب نے دی نیوز میں اس سلسلے میں تین آرٹیکل بھی لکھے جبکہ وہ مختلف فورمز پر جا کر اپنی تجویز بھی سب کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

میں نے وزیراعظم شہباز شریف صاحب سے بھی درخواست کی تھی کہ اپنی معاشی ٹیم کو کہیں کہ قانت صاحب کو سنیں اور اگر اُن کی تجویز میں کوئی وزن ہے تو اُس پر سنجیدگی سے غور کر کے پاکستان کو سود کے اس سنگین خطرے اور گناہ کبیرہ سے بچائیں۔ ابھی تک تو قانت صاحب سے حکومت کی طرف سے تو کوئی رابطہ نہیں کیا گیا لیکن میں نے اُن سے درخواست کی کہ مجھے اردو زبان میں قرضوں اور سود کے اس بوجھ کو ختم کرنے کیلئے اپنی تجویز لکھ کر بھیجیں تاکہ میں اُسے اپنے کالم میں شائع کر سکوں۔ ان کی تجویزدرج ذیل ہے: ’’جدید بینکنگ نظام میں دو قسم کی کرنسی یا پیسے ہوتے ہیں: بینک نوٹ (جو مرکزی بینک جاری کرتا ہے) اور بینک ڈپازٹ، جو کمرشل بینکوں کے قرضے ہوتے ہیں۔ عمومی نقطہ نظر سے، بینک ڈپازٹس نقد رقم رکھنے کے برابر ہیں۔ بینک جب قرضے جاری کرتے ہیں، نئے روپے تخلیق کرتے ہیں، کیونکہ اسی وقت بینک اکاؤنٹس میں نمبر (بینک ڈپازٹس) ظاہر ہوتے ہیں۔

بینک آف انگلینڈ کے الفاظ میں: ’’جب ایک بینک قرض دیتا ہے، اسی لمحے، نیا پیسہ تخلیق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، کسی کو گھر خریدنے کیلئے قرض دینے والے کو بینک ہزاروں پاؤنڈ مالیت کے نوٹ نہیں دیتا۔ اس کے بجائے، وہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں قرض کے برابر بینک ڈپازٹ کریڈٹ کرتا ہے۔‘‘ (بینک آف انگلینڈ سہ ماہی بلیٹن، 2014 Q1) زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کیلئے، تجارتی بینکس زیادہ قرضے جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فریکشنل ریزرو سسٹم کے تحت صرف 6-5 فیصد مرکزی بینک کی ریزرو کرنسی کے ساتھ، بینک قرضے جاری کر سکتے ہیں اور تقریباً بیس گنا تک بینک ڈپازٹ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان کے پیسہ کی توسیع سے ہونیوالی افراط زر یا مہنگائی کو مرکزی بینک بلند شرح سود کی پالیسی کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ قرض لینے کی سرگرمی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ تاہم جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، پاکستان میں بلند شرح سود پالیسی مؤثر نہیں ہے کیونکہ تجارتی بینکوں کی سب سے بڑی قرض دار حکومت پاکستان خود ہی ہے، جو قرضے واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ پیسے کی تخلیق کے قانونی اختیارات کے باوجود، پاکستان کی ریاست نجی بینکوں سے بڑے پیمانے پہ اور قرضے لے رہی ہے تاکہ پرانے قرضوں پر سود ادا کر سکے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے؛ حکومت سود کی ادائیگی کیلئے قرض لیتی ہے، جس سے حکومت کا قرض بڑھتا ہے، اور سود کی ادائیگی کے نتیجے میں بینک ڈیپازٹس میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہم پیسے کی فراہمی میں اضافے کی وجہ سے افراط زر کا سامنا کر رہے ہیں، اور ہمارے بچوں پر حکومتی قرض کا بوجھ مسلسل بڑھتا چلا جائے گا۔ پاکستان کے سنگین معاشی مسائل کا حل مکمل ریزرو بینکنگ کا نفاذ ہے۔ اس نظام کی تائید بیسویں صدی کے بڑے ماہرین معاشیات ، جن میں ملٹن فریڈ مین اور فشر نمایاں ہیں، نے کی ہے اور اس کے نفاذ کو نہایت ہی قابل عمل اور آسان بتایا ہے۔ یہ منظم مالیاتی نظام بھاری سرکاری قرضوں کے بوجھ اور ان پر سود کے اخراجات کو ختم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے، افراط زر کو کنٹرول کرنے اور اقتصادی خوشحالی کو فروغ دینے کے مقاصد کو حاصل کر سکتا ہے۔ فریکشنل ریزرو سسٹم، جو پیسے کی فراہمی میں اتار چڑھاؤ اور اقتصادی عدم استحکام کا ذمہ دار ہے، اس کو مکمل ریزرو سسٹم سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ نیا تجویز کردہ نظام درج ذیل بنیادی اصولوں پر کام کرے گا:

۱۔ تجارتی بینکس قرض جاری کرنے اور انویسٹمنٹ کرنے کے عمل میں نیا پیسہ /کرنسی تخلیق نہیں کرسکیں گے۔
۲۔ پیسہ تخلیق کرنے کی صلاحیت ایک خود مختار ادارے جیسے اسٹیٹ بینک کو منتقل کی جائے گی جو جی ڈی پی میں اضافے کے برابر نیا پیسہ تخلیق کر یگا تاکہ مہنگائی یا افراط زر نہ ہو۔
۳۔ نیا تخلیق کردہ پیسہ غریب طبقے کی بنیادی ضروریات اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے استعمال کیا جائے گا تاکہ اشیا کی طلب کے ساتھ سپلائی میں بھی موثر اضافہ ہو۔

سو فیصد (100%) ریزرو سسٹم میں، بینکوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے تمام ڈپازٹس کیلئے 5 فیصد کی جگہ 100 فیصد تک مرکزی بینک کی ریزرو کرنسی رکھیں۔ نتیجتاً، بینک کے قرضوں سے نیا پیسہ تخلیق کرنے کا عمل بند ہو جائے گا، اس کے بجائے، بینکوں کو قرضے جاری کرنے کیلئے پہلے سرمایہ حاصل کرنے کی ضرورت ہو گی، اس سے پیسے کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ کو روکا جاسکے گا۔ مزید یہ کہ بینکوں کو مرکزی بینک کی ریزرو کرنسی کو حاصل کرنے کیلئے حکومتی بانڈز اور ٹریژری بلز اسٹیٹ بینک کے حوالے کرنا ہوں گے، اور کیونکہ 100 فیصد ریزرو کرنسی کی مقدار بینکوں کے پاس تقریباً 60 فیصد حکومتی بانڈز سے زیادہ ہے اسلئے اس سے بینکوں کے علاوہ دوسرے اداروں اور لوگوں کے ہاتھوں میں حکومتی بانڈز اور قرضہ بھی ادا کر دیئے جائیں گے اور اس طرح پاکستان کا پورا داخلی قرض ختم ہو سکے گا۔ یہ نیا نظام اسلام کے مقاصد اور مالیاتی اصولوں کے عین مطابق ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ نظام کے مقابلے میں جہاں 90 فیصد سے زیادہ کرنسی، تجارتی بینکس قرض دیتے وقت تخلیق کر رہے ہیں اور کرنسی اور قرض ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، اس نئے نظام میں پیسہ قرض کے بغیر تخلیق کیا جائیگا اور یہ حقیقی اشیا کی پیداوار کے تناسب سے ہو گا۔ مزید یہ کہ موجودہ بینکنگ سسٹم کے برعکس، ڈیپازٹ ہولڈرز کو انویسٹمنٹ اور نفع نقصان میں شرکت کے بغیر کوئی منافع نہیں ملے گا، ان کو اپنی رقم بینکوں کو ٹرانسفر کرنا ہو گی جو اس رقم کو مختلف کاروباری اداروں میں انویسٹ کر کے منافع کمائیں گے اور تقسیم کریں گے۔ روپے کی قدر اس نظام میں مستحکم رہے گی کیونکہ تجارتی بینک قرض کے ساتھ روپے کی سپلائی نہیں بڑھا رہے ہوں گے۔ اس نئے نظام میں حکومت کا 6 ہزار ارب کا سودی خرچ ختم ہو جائے گا اور اسکے پاس ٹیکس کے علاوہ تقریباً 2 ہزار ارب کی نئی تخلیق کردہ کرنسی ہو گی، اسلئے حکومت کو اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے بینکوں سے قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی، جس سے افراط زر کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی ختم ہو جائے گی۔ 

حکومت اپنی مالیاتی پالیسیوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکے گی، اور سود کی ادائیگی کیلئے رکھی گئی رقم، سماجی اور اقتصادی ترقی کے منصوبوں میں استعمال ہو سکے گی۔ مجموعی طور پر، 100%ریزرو بینکنگ ایک جدید اور پائیدار حل پیش کرتی ہے جو پاکستان کے سنگین اقتصادی مسائل کو حل کر سکتی ہے، مالیاتی استحکام کو یقینی بنا سکتی ہے، اور پاکستان اور اس کے عوام کیلئے ایک خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔‘‘

انصار عباسی 

بشکریہ روزنامہ جنگ

ہیکروں کی چند خطرناک کارستانیاں

ہیکروں کی الگ ہی دنیا ہے۔ لوگوں کی نظروں سے چھپ کر کمپیوٹر کے راز چرانے والے یہ لوگ آسمان سے نہیں اترتے۔ اسی زمین پر پرورش پاتے ہیں۔ انہی درسگاہوں میں پڑھتے ہیں اور اسی معاشرے میں عام انسانوں کی طرح رہتے ہیں۔ بہت سوں کو شاید یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ہیکنگ کے بغیر امریکہ اور یورپ میں آئی ٹی کی تعلیم مکمل نہیں ہوتی۔ سو یہ ہیکرز مغربی دنیا کی یونیورسٹیوں میں ہی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب تک دوسرے ممالک کو نشانہ بناتے رہیں۔ جب تک یہ اقوام عالم کے لیے سوہانے روح بنے رہیں اس وقت تک تو سب ٹھیک ہوتا ہے، مگر جونہی یہ اپنے ملک کے کمپیوٹروں میں گھس جائیں اور راز چرانا شروع کر دیں تو پھر سب حرکت میں آجاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پرتائیوان کی آزادی کے نعرے
اسی سال فروری میں ہیکروں نے اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر دھاوا بول دیا، اور ان کے راز چرا لئے۔ انہوں نے اس ویب سائٹ پر ”تائیوان‘‘ کی حمایت میں ایک صفحہ لگا دیا ، مقصد دنیا کو یہ بتانا تھا کہ ہم تائیوانی بھی ہو سکتے ہیں، یا شائد چین کو ڈرانا ان کی ذمہ داری میں شامل تھا، ہیک شدہ صفحے پر تائیوان کا جھنڈا بھی شامل تھا اوران کی آزادی کے نعرے بھی درج تھے۔ قومی ترانہ بھی لگا دیا گیا تھا۔ مئی میں جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد بھی کئی ویب سائٹس کو ہیک کر کے ان پر سیاہ فاموں کی حمایت میں نعرے درج کئے گئے۔ کسی نے مینیا پولیس کی سرکاری ویب سائٹ کو بھی ہیک کر لیا اور لکھا کہ ہم دنیا بھر میں تمہارے جرائم کو بے نقاب کریں گے۔ کسی ہیکر نے اٹلانٹا پولیس کی ویب سائٹ سے بھی کروڑوں فرانک چوری کر لئے اور ان کے بدلے میں تاوان طلب کیا۔ سرکاری ویب سائٹ پر بھی جولیس اسانج کے حق میں نعرے درج کر دیئے گئے۔ 2019ء میں انہوں نے برطانیہ کے نظام صحت کے راز چوری کر لئے اور ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد ان اداروں کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔

اسی سال جون میں ہیکروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں مدد دینے کے لئے ایک ہیکر نے آن گیمز کا ڈیٹا چوری کر لیا۔ تاکہ ووٹروں کے نام جان کر مدد لی جا سکے لیکن انہیں ناکامی ہوئی۔ جولائی میں ٹوئٹر بٹ کوائن کا معاملہ کھڑا ہوا۔ اس سکینڈل کا بھی کئی ہفتوں تک چرچا رہا ۔ اگست میں امریکی بحریہ کی ویب سائٹ سے مواد چوری کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ستمبر میں ”رینسم ویئر‘‘ نامی وائرس سے پہلی موت سامنے آئی۔ کسی نے تاوان مانگا اور نہ دینے پر ہلاک کر دیا۔ یہ ہلاکت جرمنی میں ہوئی۔

امریکی محکمہ دفاع کی ویب سائٹ پر ”حملہ‘‘
ہیکنگ کی تاریخ کا ایک اور خوفناک واقع امریکی محکمہ دفاع کے سسٹم پر فروری 1999ء میں پیش آیا۔ جب ہیکرز نے وزارت دفاع کے ماتحت ایک فوجی سیٹلائٹ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ امریکی افسروں کے نزدیک ہیکرز نے امریکہ کیخلاف مواصلاتی جنگ کا اعلان کیا۔ لیکن باوجود کوشش کے امریکی حکام ہیکرز تک نہ پہنچ سکے۔ شاید ہیکرز کو کمپیوٹر آپریٹر پر ترس آگیا انہوں نے خود ہی اپنا کنٹرول ختم کر کے سسٹم کو ری پروگرام کر دیا۔ ہیکرز کی تلاش کا کھرا برطانیہ تک پہنچا ۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے کمپیوٹر کرائم نیٹ ورک اور امریکی ائیر فورس کی مشترکہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

ناسا کی ویب سائٹ ہیک
ہیکنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ اکتوبر 1989ء میں میری لینڈ میں واقع ناسا کے کمپیوٹر سسٹم پر ہوا۔ جب ہیکرز نے سیارہ مشتری کے گرد بھیجے جانے والے مصنوعی سیارے کو منسوخ کرنے کے بینرز ویب سائٹ پر لگا دئیے۔ ہیکرز شاید مصنوعی سیارے میں استعمال ہونے والے پولوٹونیم کے خلاف تھا۔ اپنے سسٹم کو صاف کرنے اور دوبارہ چالو کرنے میں ناسا کے ایک ارب روپے اور بہت سا وقت ضائع ہوا۔ امریکی حکام آسٹریلیا کے شہر میلبورن تک تو پہنچے لیکن کسی کو پکڑ نہ سکے۔

کریڈٹ کارڈز کے ڈیٹے کی چوری
2000ء میں ہیکرز پھر امریکی ادارے کیخلاف سرگرم ہو گئے۔ مگر اس دفعہ ان کا نشانہ عوام بھی بنے انہوں نے 3 لاکھ کریڈٹ کارڈ کا ڈیٹا چوری کر کے ایک ویب سائٹ پر متعلقہ کمپنی سے ایک لاکھ ڈالر مانگ لیے۔ یہ ہیکرز بھی آج تک پکڑے نہیں گئے۔ تفتیش مشرقی یورپ تک جا کر رک گئی۔ 9/11 سے تھوڑا عرصہ پہلے دسمبر 2000ء میں امریکی نیول ریسرچ لیب اور اس کے ماتحت امریکی میزائل سسٹم ہیکرو ں کا نشانہ بنے۔ انہوں نے وزارت دفاع کے مابین ایکسی جینٹ نامی ادارے کے سافٹ وئیر میں گھس کر او ایس ۔ کومیٹ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اب دو تہائی ڈیٹا پر قبضہ ہو گیا۔ یہ وہی نظام ہے جس کے ذریعے امریکی حکومت اپنے میزائل سسٹم کو کنٹرول کرتی ہے ۔ سیٹلائٹ کو اسی سسٹم سے رہنمائی ملتی ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کے تفتیش کار جرمنی کی یونیورسٹی تک پہنچ گئے لیکن اس سے آگے ہیکرز کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔

امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش
اکتوبر 2003ء میں ہیکرز امریکی صدارتی مہم پر اثر انداز ہو نے لگے۔ ایک صدارتی امیدوار کی مہم کچھ کمزور تھی۔ جس پر ہیکرنے ایک ٹی وی نیوز نیٹ ورک کے ہوم پیج کو انتخابی مہم کے لوگو سے بدل دیا۔ بعد میں اسی پیج پر خود بخود تیس منٹ کی ایک ویڈیو چلنے لگی۔ امیدوار نے کسی قسم کی اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ امریکی حکام اس کیس میں بھی ہیکرز تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ 2008ء کے موسم سرما میں ایک ویب سائٹ لاکھوں طلباء اور افراد کے زیر استعمال تھی۔ اس بار یہ ہیکرز کا نشانہ بھی۔ انہوں نے اپنے کوڈ کے ذریعے ان کے سرور کو کنٹرول کر لیا۔ اور ہزاروں افراد کا ڈیٹا چوری کر لیا۔

اسی طرح فروری 2005ء میں ہیکرز نے 42 لاکھ کریڈٹ کارڈز تک رسائی حاصل کر لی۔ وہ دراصل فلوریڈا اور بعض دوسری امریکی ریاستوں میں واقع سپر مارکیٹ کی دو بڑی چینز کا ڈیٹا چوری کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یاد رہے یہ ہیکرز امریکہ کے بڑے بڑے ہوٹلوں ، یونیورسٹیوں اور کئی سرکاری دفاتر کا ڈیٹا بھی چوری کر چکے ہیں۔ 2015ء میں انہوں نے یو ایس آفس آف پرسنل مینجمنٹ ، دو بڑی انشورنس کمپنیوں، موبائل فون کمپنیوں اور ہوٹلز کا ڈیٹا بھی چوری کر لیا۔ یوں موجودہ امریکی صدر ٹرمپ کے ہوٹل کی ویب سائٹ پر بھی ہیکرز ایک مرتبہ دھاوا بول چکے ہیں۔

سنہ 2015ء میں امریکی انتظامیہ نے کئی خطرناک سائبر گینگز کا سراغ لگایا۔ ان گروپوں سے تعلق رکھنے والے لوگ انٹرنیٹ پر جاری بزنس کی معلومات چوری کر کے لوگوں سے پیسے بٹو رہے ہیں۔ سائبر کرائمز کا یہ نیٹ ورک برطانیہ سمیت بیشتر ممالک میں پھیلا ہوا ہے جس پر قابو پانے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ جن تعلیمی ماہرین نے سائبر کرائم کو روکنے کے طریقے ڈھونڈنے ہیں انہی ماہرین کی یونیورسٹیوں میں علم حاصل کرنے کے بعد کچھ لوگ کریمنل بن گئے۔ اب یہ قانون کی دسترس سے باہر نکل چکے ہیں۔

سروش فاطمہ

بشکریہ دنیا نیوز

کیا گوگل اور فیس بک انسانی حقوق کے لیے خطرہ ہیں ؟

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گوگل اور فیس بک جیسی بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کے ’نگرانی پر مبنی کاروباری ماڈل‘ کو انسانی حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ یورپی یونین سے ان کی بے لگام طاقت کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ساٹھ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں گوگل اور فیس بک کے ”نگرانی پر مبنی بزنس ماڈل‘‘ کو بنیاد بناتے ہوئے، ”انسانی حقوق کی پامالیوں‘‘ کی پشین گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گوگل اور فیس بک کی طرف سے فراہم کردہ سروسز کی اہمیت کے باوجود لوگوں کو انہیں استعمال کرنے کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ ایمنسٹی کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں بے لگام نگرانی اور ڈیٹا چوری کر کے شہریوں کی ذاتی معلومات جمع کرتی ہیں اور یہ صارفین کے حقوق کی پامالی ہے۔ 

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کمپنیاں صارفین کی نجی معلومات کو ‘اشتہاری کاروباری اداروں‘ کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہیں اور یہ رازداری کے حقوق پر ایک بے مثال حملہ ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق یہ کمپنیاں صارفین کو ‘فاؤسٹین بارگین‘‘ پر مجبور کرتی ہیں یعنی گوگل اور فیس بک تک رسائی کے لیے لوگوں کو اپنی نجی معلومات فراہم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس غیر سرکاری تنظیم کے مطابق سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ ان دو بڑی کمپنیوں نے ان تمام پرائمری چینلز پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے، جن کے ذریعے لوگ آن لائن دنیا سے منسلک ہوتے ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں لوگوں کی زندگیوں پر بے مثال طاقت حاصل ہو چکی ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ گوگل اور فیس بک سے انسانی حقوق کو براہ راست خطرہ لاحق ہو چکا ہے اور ان میں اظہار رائے، مساوات اور عدم تفریق جیسے حقوق شامل ہیں۔ 

اس تنظیم نے یورپی یونین اور جرمن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے قوانین وضع کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ایمنسٹی کے مطابق تقریباﹰ تین ارب افراد ہر مہینے فیس بک جبکہ دنیا میں نوے فیصد سے زائد انٹرنیٹ صارفین گوگل سرچ انجن استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے، ”حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کو بڑے اداروں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے تحفظ فراہم کریں۔ رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ گزشتہ تقریبا دو عشروں سے ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے کاروبار سے متعلق خود ہی قوانین بنا رہی ہیں۔ دوسری جانب فیس بک نے ایمنسٹی کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ صارفین خود ان کی سروسز استعمال کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور انہیں واضح طور پر بتایا جاتا ہے کہ ان سے متعلق کونسا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ 

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

 

ایپل نے دھوکا دہی کے الزام میں بھارتی کمپنی کی پندرہ ایپس پر پابندی لگا دی

عالمی شہرت یافتہ کمپنی ایپل نے دھوکا دہی کے الزام میں ایپل موبائل فونز کے لیے تیار کردہ 15 بھارتی ایپس پر پابندی عائد کر دی۔ بھارتی ویب سائٹ کے مطابق ایپل کی سیکیورٹی کمپنی ونڈیرا نے ایپل اسٹور پر اپ لوڈ ہونے والی 17 ایپلی کیشنز کلک ویئر سے متاثرہ پائی گئیں جس کا مقصد اشتہارات کے ذریعے اپنا منافع بنانا تھا۔ ایپل کے مطابق یہ تمام ایپلی کیشنز بھارتی ریاست گجرات میں موجود ایک کمپنی کی جانب سے بنائی گئی تھیں جن میں سے 15 کو ایپ اسٹور سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے جبکہ 2 کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ اپنے ایک بیان میں ایپل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ایپ اسٹور سے ان ایپلی کیشنز کو ڈیلیٹ کر دیا جن میں ایسی کوڈنگ موجود تھی جو اشتہارات پر کلک کروانے میں مدد دیتے ہیں۔

ایپل کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے مستقبل میں ایسی خرابیوں کو جانچنے کے لیے اپنے ٹولز کو بھی اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ ایسی ایپس ہوتی ہیں جن میں ویب پیچ پر جانے کے لیے بیک گراؤنڈ میں لنک موجود ہوتا ہے اور تصویر پر کلک کرتے ہی صارف ویب سائٹ پر پہنچ جاتا ہے۔ ایپل کی سیکیورٹی کمپنی کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ایپس کی کوڈنگ میں کلک کرنے والا وائرس ملا جو صارف کی خواہش کے بغیر ہی خود ہی اس پر کلک کر دیتا ہے یا ویب سائٹ پر چلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی فرم کا کہنا ہے کہ اس بھارتی کمپنی کی گوگل پلے اسٹور پر کمپنی کی متعدد ایپس موجود ہیں لیکن ان میں اس طرح کے وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ