چین کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے قدم، امکانات اور چیلنج

اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے دو سال بعد، چین افغانستان میں سب سے بااثرملک کے طور پر ابھرا ہے۔ چین واشنگٹن کے افغانستان سے نکلنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے سفارتی اور سٹریٹجک اثررسوخ کو بڑھا رہا ہے۔ چین خطے میں ایک نجات دہندہ اور علاقائی شراکت دار کے طور پر اپنی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ چین کا موجودہ نقطہ نظر بنیادی طور پر نایاب زمینی معدنیات کی تلاش، یوریشیا کے ساتھ علاقائی روابط کے کوششیں اور سلامتی کے خدشات کے گرد گھومنے والے اس کے معاشی مفادات پر مبنی ہے۔ سفارتی سطح پر بیجنگ اور کابل دونوں نے ایک دوسرے کے ممالک میں اپنے سفیر تعینات کیے ہیں۔ دنیا میں چین پہلا ملک ہے جس نے طالبان کے نامزد سفیر کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ کابل میں اپنا سفیر بھی مقرر کیا ہے۔ تاہم بیجنگ نے احتیاط برتتے ہوئے طالبان کی حکومت کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کیا۔ چین طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اس سطح تک مضبوط کرنے کا سوچ رہا ہے جہاں سب پہلے اقتصادی، معدنی اور قدرتی وسائل تک رسائی کے ساتھ مغربی ممالک کی موجودگی بہت کم ہو۔ 

طالبان کے لیے، چینی پیسہ اہمیت کا عامل ہے اور یہ طالبان کی حکومت کی معیشت کو پائیدار طریقے سے سنبھالنے کی صلاحیت میں عام افغانوں کا اعتماد بحال کرنے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ اقتصادی محاذ پر، چینی کمپنیاں سکیورٹی خدشات کے باوجود خاص طور پر کان کنی کے شعبے میں کاروباری مواقع تلاش کرنے کے لیے افغانستان کا دورہ کرتی رہتی ہیں۔ افغانستان میں چین کے سفیر واگ یو طالبان کے وزرا اور دیگر سرکاری حکام سے باقاعدہ ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ جولائی 2023 میں، طالبان نے اعلان کیا کہ فین چائنا افغان مائننگ پروسیسنگ اینڈ ٹریڈنگ کمپنی بجلی کی پیداوار، سیمنٹ، مینوفیکچرنگ اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبوں میں 350 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اسی طرح، جنوری 2023 میں، طالبان نے شمالی افغانستان میں دریائے آمو کے آس پاس تیل کی تلاش کے لیے سنکیانگ سینٹرل ایشیا پیٹرولیم اینڈ گیس کمپنی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔
اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد یہ طالبان کا پہلا اہم اقتصادی معاہدہ تھا اور اس کا آغاز 150 ملین ڈالر کے سالانہ سرمایہ کاری سے ہوا، جس کا حجم تین سال میں 540 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

آمو دریا وسط ایشیائی ممالک اور افغانستان کے درمیان پھیلا ہوا ہے جو 4.5 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ معاہدے کے مطابق طالبان کو تیل اور گیس کی تلاش کا 20 فیصد حصہ ملے گا، جو مستقبل میں 75 فیصد تک بڑھ جائے گا۔ جولائی 2022 کے بعد سے، چین نے 98 فیصد افغان اشیا پر صفر ٹیرف عائد کیا ہے اور افغان پائن نٹ کی درآمد میں اضافہ کیا ہے۔ ٹیرف میں کمی افغان معیشت کو چین کی معیشت کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔ افغانستان میں لیتھیم، تانبے اور نایاب زمینی معدنیات کے وسیع ذخائر میں بھی چین کو بہت دلچسپی ہے۔ خام مال کے دنیا کے سب سے بڑے خریدار کے طور پر، چین افغانستان کے غیر استعمال شدہ قدرتی وسائل کو اس کی اقتصادی توسیع اور تکنیکی ترقی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ چین سے عالمی سپلائی لائن کو الگ کرنے اور چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی نینو چِپس تک رسائی کو محدود کرنے کی امریکی کوششوں کی وجہ سے یہ قدرتی وسائل تک رسائی چین کی اقتصادی استحکام اور عالمی سطح پر توسیع کے لیے اور بھی اہم ہو گئی ہے۔ یہ نایاب زمینی معدنیات برقی گاڑیوں، سمارٹ فونز اور الیکٹرانک بیٹریوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ، چین کو ترکستان اسلامک پارٹی (ٹی آئی پی) جسے چین مخالف عسکریت پسند گروپوں جسے مشرقی ترکستان اسلامک پارٹی بھی کہا جاتا ہے اور داعش خراسان کی موجودگی سے تشویش ہے۔ طالبان حکومت نے (ٹی آئی پی) کو کنٹرول کرنے اور چین کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے میں چین کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اس کے باوجود اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق، گروپ کی تعداد 300 سے بڑھ کر 1,200 تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح، ٹی آئی پی نے اپنے آپریشنل اڈوں کی تشکیل نو کے ساتھ داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ آپریشنل تعلقات قائم کر کے ہتھیار بھی حاصل کیے ہیں۔ اگرچہ طالبان نے (ٹی آئی پی) عسکریت پسندوں کو شمالی صوبہ بدخشاں سے چین کی سرحد کے قریب منتقل کیا، لیکن وہ واپس بدخشاں چلے گئے ہیں۔ اب، چین طالبان سے کہہ رہا ہے کہ وہ ٹی آئی پی کے عسکریت پسندوں کو گرفتار کر کے ان کے حوالے کریں۔ تاہم طالبان اس مطالبے کو پورا کرنے سے گریزاں ہیں۔ 

ٹی آئی پی عسکریت پسند ایک دوراہے پر ہیں انہوں نے طالبان کے ساتھ اس کے بنیادی مقصد ایک خود مختار مشرقی ترکستان ریاست کا قیام کے لیے مدد حاصل کرنے کی امید میں تعاون کیا۔ طالبان نے چین کے کہنے پر ٹی آئی پی پر دباؤ ڈالا ہے۔ تاہم، دو سال کی خاموشی کے بعد ٹی آئی پی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اور اس کے کچھ عسکریت پسند پہلے ہی داعش خراسان میں شامل ہو چکے ہیں اور اگر طالبان نے اپنی آپریشنل سرگرمیوں پر پابندی نہیں ہٹائی تو اسے مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے پہلے ہی اس کے متبادل کے طور پر ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے ساتھ قریبی آپریشنل روابط قائم کر لیے ہیں۔ مختصراً، بڑھتے ہوئے تعلقات کے باوجود اففانستان میں چین کی سلامتی کے لیے خطرات بدستور برقرار ہیں، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات ایک حد سے زیادہ مستحکم نہیں۔ آنے والے برسوں میں طالبان چین کے مستقبل کے تعلقات کا رخ یہی سکیورٹی مسائل متعین کریں گے۔

عبدالباسط خان  

مصنف ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

چین روس تعلقات میں کمان کس کے ہاتھ میں ہے؟

ٹونی بلیئر کے دور سے تعلق رکھنے والے برطانوی خارجہ پالیسی کے آرکائیوز کی ریلیز اس وقت کی یاد دہانی کرواتی ہے جب دنیا کو امید تھی کہ روس کے اس وقت کے نوجوان نئے رہنما ولادی میر پوتن اپنی قوم کو پورے دل سے جمہوریت پسند بین الاقوامی برادری کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ سال 2001 میں ٹونی بلیئر نے دوسرے یورپی رہنماؤں اور واشنگٹن میں جارج ڈبلیو بش کی طرح روس کے ساتھ سفارتی طور پر بہت زیادہ توانائی خرچ کی۔ جارج بش نے اس وقت عوامی طور پر پوتن کے بارے میں کہا تھا کہ ’میں نے اس شخص کی آنکھوں میں دیکھا۔ میں نے انہیں بہت کھرا اور قابل بھروسہ پایا۔ میں نے ان کے اندر کے احساس کو جان لیا تھا۔‘ ادھر ٹونی بلیئر نے صدر پوتن کو چاندی کے کفلنک کا ایک سیٹ سالگرہ کے تحفے کے طور پر بھیجا تھا۔ لیکن اب ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ مغرب کے صلاح کار اس وقت بھی زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دے رہے تھے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جب (یورپ اور امریکہ) ان سے پرامید تھے، اس وقت بھی روس مغربی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے انٹیلی جنس ایجنٹس تعینات کر رہا تھا۔

اب ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ پوتن کی اصلاح پسندانہ جبلت اسی وقت سے حاوی تھی، جب انہیں مشرقی جرمنی کے سویت انٹیلی جنس ’کے جی بی‘ کے سٹیشن سے واپس بلایا گیا تھا۔ یہاں تک کہ 20 سال پہلے انہوں نے سوویت یونین کے زوال اور مشرقی یورپ میں اس پر انحصار کرنے والی ریاستوں کے بلاک کو تاریخی تناسب کے سانحے کے طور پر دیکھا اور اس وقت بھی انہیں یوکرین ایک دکھاوے کا ملک ہی لگتا تھا۔ ایسٹونیا کی طرح کے نقصان سے کہیں زیادہ 1990 میں یوکرین کی آزادی یو ایس ایس آر کے خاتمے کی علامت ہے۔ اگر یوکرین روس کے ساتھ اپنی شراکت داری برقرار رکھتا تو شاید یو ایس ایس آر ٹوٹنے سے بچ جاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا اور پوتن تب سے ہی اس حقیقت سے نالاں تھے اور جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، انہوں نے اسے پلٹنے کی کوشش کی۔ اس وقت ٹونی بلیئر اور جارج بش پوتن کی حقیقی فطرت کے بارے میں بے وقوف بنے رہے کیوں کہ بعد میں انہیں حقیقت سمجھ میں آئی۔

لیکن پوتن کے نئے دوست اور حلیف شی جن پنگ کے ساتھ ایسا نہیں ہے، جنہوں نے ایک ویڈیو کانفرنس میں ان کے ساتھ بات چیت کی۔ جب صدر شی نے گذشتہ سال فروری میں یوکرین پر روسی حملے سے قبل اعلان کیا تھا کہ ماسکو کے ساتھ بیجنگ کی دوستی کی ’کوئی حد‘ نہیں ہے، تو شاید ان کے ذہن میں مغرب کے ساتھ تھرمونیوکلیئر جنگ کا خطرہ نہیں تھا، جو کرہ ارض کو تباہ کر دے گی۔ یہ چین اور صدر شی کو فراموشی میں لے جائے گی۔ اور نہ ہی حقیقت میں صدر شی نے اس بات کا تصور کیا کہ اب یوکرین میں ایک طویل جنگ جاری ہے، جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے، جو عالمی تجارت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے اور اس وجہ سے ہی چین کی صنعتی برآمدات متاثر ہو رہی ہی۔) اور نہ ہی مسٹر پوتن نے اس کا تصور کیا تھا، جنہوں نے اپنی فتح کے بارے میں اسی اعتماد کا ظاہر کیا، جو انہوں نے میدان جنگ میں اپنی افواج کی تذلیل سے پہلے باقی دنیا کے سامنے کیا تھا۔)

اس رشتے میں یہ بہت واضح ہے کہ اب کمان کس کے ہاتھ میں ہے۔ چین دنیا میں روس کا واحد اہم اتحادی ہے اور سخت مغربی پابندیوں کے دور میں اپنی معاشی بقا کے لیے اس پر اور بھی زیادہ انحصار کر چکا ہے۔ چین جو اس وقت کرونا بحران کی گرفت میں ہے، کی معیشت مغرب کی جانب سے سرمایہ کاری ختم کرنے اور اس کی برآمدات پر پابندیاں لگانے سے پہلے بھی، روس کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ درحقیقت تنازع کے دوران روس کے ساتھ چین کی دوستی کی حدیں واضح تھیں اور کچھ کو عوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ چین مغربی پابندیوں کے خوف سے روس کو اس ناامیدی والی جنگ میں کوئی اہم فوجی سازوسامان فروخت نہیں کرے گا، جس میں تبدیلی کا بھی امکان نہیں ہے۔ بیجنگ کو شاید یوکرین کے مستقبل کی زیادہ پرواہ نہ ہو لیکن وہ بلاوجہ امریکہ کو اکسانا نہیں چاہے گا کیوں کہ یوکرین کا تنازع پہلے ہی چین کے لیے غیر مددگار ثابت ہوا ہے۔ مثال کے طور پر تائیوان پر تیزی سے حملہ کرنے کے لیے یوکرین کی نظیر اور خلفشار دونوں کو استعمال کرنے کا اس کا خواب اس وقت تیزی سے دھندلا گیا جب روسی فوج ڈونیتسک کے مشرقی محاذ سے شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئی۔

جنوبی کوریا، جاپان اور آسٹریلیا جیسی علاقائی طاقتوں سمیت مغرب کے اتحاد اور لچک کے مظاہرے نے روس اور چین کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور خطے میں چینی توسیع پسندی کے متوازی خطرات اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو (بی آر آئی) کے ذریعے طاقت کے حصول کے لیے اس کی عالمی رسائی کو اجاگر کیا ہے۔ جرمنی نے اپنی سابقہ نیم امن پسندی کی پالیسی کو تبدیل کر دیا ہے اور جاپان اپنے دفاعی پروگراموں کو تیز کرنے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی پیش رفت چینی مفادات کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔ یہاں تک کہ چین کی اقتصادی مدد، جس کا دونوں رہنماؤں کی بات چیت کے بعد جاری کیے گئے بیان میں پیش رفت کے ایک اہم شعبے کے طور پر حوالہ دیا گیا ہے، کریملن کے لیے دو دھاری تلوار ہے۔ مغربی توانائی کی منڈیوں کے نقصان کے ساتھ چین اب روس کی اہم برآمدی منڈی بن گیا ہے اور صدر شی نے درحقیقت اپنا جوتا روسی معیشت کی ونڈ پائپ پر رکھ دیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ روس آسانی سے چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کر سکتا اور بی آر آئی نیو۔ کالونیل کی طرح کا قبضہ ہے۔ 

یہاں تک کہ ماؤ کے زمانے میں اور ایک مشترکہ مارکسسٹ لیننسٹ نظریے کے تحت، جب چین اور روس عالمی کمیونسٹ انقلاب کی قیادت کے لیے لڑ رہے تھے اور ان کی دشمنی کبھی کبھار سرحدی تشدد میں بدل سکتی تھی، امریکہ سے ان کی باہمی دوری نے انہیں قریب لانے کا سامان پیدا کیا لیکن واضح طور پر دیوار ابھی بھی موجود ہے اور تعلقات یک طرفہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کو روس سے زیادہ مغرب کی ضرورت ہے اور روس کو چین کی ضرورت ہے، چین کو روس کی نہیں۔ ان رہنماؤں کی اگلی ملاقات کے وقت تک جب صدر شی ماسکو کا سرکاری دورہ کریں گے، چین ممکنہ طور پر یوکرین میں جنگ کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت میں استحکام دیکھنے کو ترجیح دے گا۔ اس دوران یوکرین میں جنگ کے خاتمے کا مطلب ولادی میر پوتن کی معزولی اور روسی دارالحکومت میں تقریب کے لیے ایک نئے میزبان کو دیکھنا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ چین کے مفاد میں ہوتا تو صدر شی اسے یکسوئی کے ساتھ قبول کر لیتے کیوں کہ بہترین دوستی کی بھی اپنی حدود ہوتی ہیں۔

بشکریہ دی انڈپینڈنٹ
 

بھارت‘ روس تعلقات میں دراڑ

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا ہے۔ انہوں نے کچھ ایسا کہا ہے جو روس کی بین الاقوامی کونسل برائے سیاست سے خطاب کرتے ہوئے ابھی تک کسی روسی رہنما یا سفارت کار یا سکالر نے نہیں کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا‘ چین اور روس کو محکوم بنانا چاہتا ہے‘ وہ پوری دنیا پر اپنی شان و شوکت قائم کرنا چاہتا ہے‘ وہ عالمی سیاست کو یک طرفہ بنانا چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان کی پیٹھ تھپتھپا رہا ہے اور اس نے ہندوستان‘ جاپان‘ آسٹریلیا اور امریکا کا ایک اتحاد کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے بحر الکاہل کے خطے کا نام ‘ہند بحر الکاہل‘ رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ ہندوستان اور چین کے مقابلوں کا سلسلہ بدستور جاری رہے۔ ان کی کوشش ہے کہ روس کے ساتھ ہندوستان کے روایتی دوستی کے تعلقات بھی تعطل کا شکار ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ بھی ٹرمپ انتظامیہ کی اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے روس کے ایس 400 میزائل کی ہندوستانی خرید کی مخالفت کرے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں چلتے چلتے بھارت کے ساتھ بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ (بیکا) کے نام سے ایک سٹریٹیجک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کریں گے۔ اس حساس ڈیٹا کی مدد سے ہندوستان اس قابل ہو جائے گا کہ وہ میزائلوں‘ ڈرونز اور دیگر اہداف کو درست اور بالکل ٹھیک ٹھیک انداز سے نشانہ بنے سکے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر نے اس معاہدے کے لیے خصوصی طور پر بھارت کا دورہ کیا تھا۔ بہرکیف روسی وزیر خارجہ کے مندرجہ بالا شبہات بے بنیاد نہیں ہیں انہیں اس حقیقت سے بھی تقویت ملی ہے کہ اسرائیل‘ خلیجی ممالک‘ جو ریاست ہائے متحدہ کے کٹر حامی ہیں‘ آج کل بھارت کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارت کے آرمی چیف نے گزشتہ دنوں میں خلیجی ممالک کا دورہ بھی کیا تھا‘ لیکن کیا روسی وزیر خارجہ یہ بھول گئے کہ بھارت نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو کبھی ختم نہیں کیا۔ حال ہی میں‘ ہندوستان کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ ماسکو گئے تھے اور وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان براہِ راست بات چیت ہوئی تھی‘ تاہم یہ ٹھیک ہے کہ اس وقت ہندوستان اور چین کے مابین تنائو ہے اور امریکا کسی حد تک اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

آسام کی سرکاری مدرسوں پرٹیڑھی نظر
آسام کے وزیر تعلیم ہمنتا وشوا شرما نے سرکاری مدرسوں کے خلاف جو کارروائی کی ہے وہ ترکی کے رہنما کمال پاشا اتا ترک کی طرح ہی ہے۔ انہوں نے اپنی کابینہ میں اعلان کیا ہے کہ نئے اجلاس سے آسام کے تمام سرکاری مدرسوں کو سرکاری سکولوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ریاست کا مدرسہ تعلیمی بورڈ اگلے سال سے تحلیل کر دیا جائے گا۔ یہ مدرسے اب صرف قرآن شریف‘ حدیث‘ اصول الفقہ‘ تفسیر حدیث اور دعا وغیرہ کی تعلیم نہیں دیں گے‘بلکہ یہاں عربی زبان کے طور پر پڑھائی جائے گی۔ سکول میں تبدیل ہونے والے چھوٹے اور بڑے مدرسوں کی تعداد بالترتیب 189 اور 542 ہے۔ حکومت ہر سال کروڑوں روپے جدید تعلیم پر خرچ کرے گی۔ بظاہر اس اقدام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہب کے مخالف کوئی سازش ہے‘ لیکن حکومت کا ماننا ہے کہ حقیقت میں یہ سوچ صحیح نہیں ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ پہلے‘ مدرسوں کے ساتھ‘ یہ حکومت سنسکرت کے 97 مراکز کو بھی بند کر رہی ہے۔

اب ان میں ثقافتی اور لسانی تعلیم دی جائے گی‘ مذہبی تعلیم نہیں۔ جب میں آج سے تقریباً 70 سال قبل سنسکرت کی کلاس میں جاتا تھا‘ تب مجھے کالی داس‘ بھاس اور بانی بھٹ پڑھایا جاتا تھا‘ وید‘ اپنشد اور گیتا نہیں! دوسری بات یہ کہ غیر سرکاری مدرسوں کو جو چاہیں‘ وہ پڑھانے کی اجازت ہو گی۔ تیسرا‘ ان مدرسوں اور سنسکرت مراکز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی بے روزگاری اب کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ وہ جدید تعلیم کے ذریعے ملازمت اور عزت‘ دونوں حاصل کریں گے۔ چوتھا‘ آسام حکومت کے اس اقدام سے متاثر ہوکر‘ 18 ریاستوں کی مرکزی حکومت‘ جن کے مدرسوں کو کروڑوں روپے کی مدد ملتی ہے‘ کی شکل بھی بدل جائے گی۔ صرف 4 ریاستوں میں 10 ہزار مدرسے ہیں جن میں کم و بیش 20 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان پر پابندی لگانا غیر منصفانہ ہے۔ تمام صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ آسام حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے‘ اس کا پس منظر کیا ہے۔ آسام کے مدرسوں اور سنسکرت مراکز سے ایک بھی استاد کو برخاست نہیں کیا جائے گا۔ ان کی ملازمت برقرار رہے گی۔ اب وہ نئے اور جدید مضامین کی تعلیم دیں گے۔ آسام حکومت کا یہ ترقی پسند اقدام ملک کے غریب‘ ناخواندہ اور اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کے لئے ایک نیا وژن لے کر آ رہا ہے۔
پارلیمانی اجلاس سے کیوں ڈرتے ہیں؟

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اب صرف بجٹ سیشن ہو گا‘ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ حزب اختلاف کے رہنمائوں کی رضا مندی کے بعد لیا ہے‘مگر پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد پٹیل کی یہ دلیل کچھ حد تک وزن دار ہے کہ پارلیمنٹ کے آخری اجلاس میں ممبرانِ پارلیمنٹ کی شرکت بہت کم تھی اور کچھ ارکانِ پارلیمنٹ اور وزرا کی کورونا کی وجہ سے موت بھی ہو گئی ہے۔ اب اگلا اجلاس بجٹ سیشن ہو گا جو چند ہی دنوں بعد‘ جنوری 2021ء سے شروع ہونے والا ہے۔ پٹیل نے کانگریس اور ترنمول کے کچھ ممبران کے اعتراضات پر بھی سوال کیا ہے کہ جو لیڈر بی جے پی پر جمہوری اقدار کی نافرمانی کا الزام لگاتے ہیں‘ وہ کم از کم اپنی پارٹیوں میں خاندانی آمریت کے خلاف جرأت کا مظاہرہ کر کے دکھائیں۔ ان دلائل کے باوجود حکومت اگر چاہتی تو سردیوں کے اجلاس کے لئے پارٹی کے تمام رہنمائوں کو راضی کر سکتی تھی۔

اگر وہ اس سیشن کا بائیکاٹ کرتے تو اس کی ناک کٹ جاتی۔ اگر پارلیمنٹ کا یہ اجلاس بلایا جاتا تو کچھ ایسے معاملات پر شدید بحث ہوتی جو حکومت اور پورے ملک کو حیرت میں ڈال دیتے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس بحث میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ‘ صحیح یا غلط‘ حکومت کی ٹانگیں کھینچنے سے بازنہیں آتے‘ لیکن اس بحث میں کچھ تعمیری تجاویز‘ مستند شکایات اور کارآمد مشورے بھی سامنے آتے ہیں۔ اس وقت کورونا ویکسین کی ملک گیر تقسیم‘ اقتصادی فزیبلٹی‘ بے روزگاری‘ کسانوں کی تحریک‘ بھارت چین تنازع وغیرہ ایسے جلتے ہوئے سوالات ہیں جن پر کھلی بحث ہوتی۔ وہ لوگ‘ جو ہندوستان اور اس کی جمہوریت کے بارے میں فکر مند ہیں‘ وہ چاہیں گے کہ آئندہ ماہ ہونے والا بجٹ اجلاس تھوڑا طویل ہو اور اس میں ایک صحت مند مباحثہ ہونا چاہئے تاکہ ملک کے مسائل کا بروقت حل نکالا جا سکے۔

ڈاکٹرویدپرتاپ ویدک

بشکریہ روزنامہ جنگ

سعودی عرب جی-20 کی صدارت حاصل کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا

سعودی عرب نے جاپان سے جی-20 کی صدارت حاصل کر لی اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا جبکہ مستقبل میں عالمی سطح پر ان کے وسیع کردار کی امید بحال ہو گئی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے جی -20 کی صدارت سنبھال لی اور جاپان صدارت سے سبکدوش ہو گیا اور سعودی عرب اگلے برس ریاض میں عالمی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی عرب نے جی-20 کی صدارت سنبھال لی ہے اور ریاض میں عالمی سربراہی کانفرنس ہو گی، سعودی عرب اپنی صدارت کے دوران جاپان کی جانب سے شروع کیے گئے اقدامات کو جاری رکھنے اور عالمی سطح پر اتفاق رائے کو پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس پیش رفت کو عالمی اتفاق رائے کو ترتیب دینے کے لیے منفرد موقع قرار دیا۔ ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب 100 سے زیادہ پروگراموں اور کانفرنسوں کی میزانی کرے گا جس میں وزرا کے اجلاس بھی شامل ہیں۔ گلوبل سلوشنز انشیٹیو نامی تھنک ٹینک کے صدر ڈینس اسنوور نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ‘جب سعودی عرب جی-20 کی صدارت شروع کرے گا تو وہ پہلا عرب ملک ہو گا جو اس تنظیم کی سربراہی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ‘ یہ صدارت سعودی عرب کے لیے ایک امتحان ہو گا کیونکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی، کم شرح پیدائش، آبادی کے حوالے سے مسائل سمیت دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی قوم پرستی اور مقبولیت پرستی کثیرالجہتی ترقی کو روک رہی ہے۔

بشکریہ ڈان نیوز