معاشی ترقی کے دعوے

ملکی معیشت کے حوالے سے حکومت کے بلند بانگ دعوے خواہ کچھ بھی ہوں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عوام مسلسل تنگ دستی اور معاشی تنزلی کا شکار ہیں۔ مدتوں سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ مہنگائی کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے یہ بات کانوں کو تو بھلی لگتی ہے لیکن حقیقت کی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور یہ صرف حکومتی اعداد و شمار کے ہندسوں تک ہی محدود ہے ورنہ ہر آنے والے دن عوام کی قوت خریدان کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے گزشتہ روز معیشت کی بہتری کی خوشخبریاں ضروردی ہیں لیکن انہوں نے بھی اپنے دامن کو بچاتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ میری باتوں کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کیلئے ترقی اور خوشحالی کے راستے کھل گئے ہیں، ایسا صرف اسی وقت ممکن ہو گا جب ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری ہو گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز اپیکس کمیٹی اجلاس میں اس بات کا اعادہ بالخصوص کیا کہ ملک کی معیشت رفتہ رفتہ استحکام کی جانب گامزن ہے، اس کا کریڈٹ انہوں نے وفاق اور صوبوں سمیت سب ہی کی جھولی میں ڈالتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی اور خوشحالی سب سے اہم پہلو ہے، معاشی اور سیاسی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ 

انہوں نے قوم کو ایک بار پھر نوید دی کہ حالیہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگرام ہو گا لیکن یہ کہنے سے نہیں بلکہ محنت دیانت اور خون پسینہ بہانے سے ہی ممکن ہو گا۔ پاکستان میں معاشی استحکام کیلئے پہلے سیاسی استحکام لازمی ہے آج بھی حکومت اور اس کے ماسٹر مائنڈ اس کام میں ناکام ہیں جس کے سبب دیگر امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ جہاں سیاسی استحکام نہ ہو وہاں کوئی ملکی یا بیرونی سرمایہ دار کیوں اپنے سرمائے کو دائو پر لگائے گا۔ اس میں بھی دورائے نہیں کہ مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوئوں کے باوجود اس وقت بھی مہنگائی عروج پر ہے، بیروزگاری کا گراف بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت اور کوٹہ سسٹم کے حمایتیوں نے ملک کی تعمیر و ترقی کی راہ میں ایسی فصیلیں کھڑی کر رکھی ہیں جنہیں گرانا قانون سازوں کے بھی بس کی بات نہیں۔ وزیر خزانہ کا فرمان ہے کہ ان کی حکومت کی کارکردگی پر آئی ایم ایف بھی حیران ہے کہ 14 ماہ میں معیشت کیسے سنبھل گئی، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آ گئی، معیشت کی بہتری کیلئے مقررہ اہداف حاصل کریں گے اور تمام شعبوں میں اصلاحات جاری رکھی جائیں گی لیکن پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ کس طرح نجکاری کی آڑ میں قومی اثاثوں کی نیلامی ہو رہی ہے۔ 

گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں، وزیر اعظم کی طرح وزیر خزانہ کا بھی یہی کہنا تھا کہ معیشت مستحکم ہو رہی ہے، آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی کارکردگی کے معترف ہیں جن کا پاکستان پر اعتماد بڑھ رہا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ان اداروں کا اعتماد حکومت پر کیوں نہ بڑھے کہ حکومت ان کے ہی مشوروں پر تو عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے معیشت کی کامیابی کے جھنڈے لہرا رہی ہے۔ علاوہ ازیں، بہت سے دوست ممالک پاکستان کی قرض کے ذریعے بھی مدد کر رہے ہیں اور سرمایہ کاری کیلئے بھی یقین دہانیاں کرا چکے ہیں۔ اس سب کے باوجود عام آدمی کے مسائل کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے اور حکومت کی جانب سے ایسے کوئی اقدامات بھی دکھائی نہیں دے رہے جن کے زیر اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہو۔ ایک دو بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جاتی ہیں تو اس سے اگلی مرتبہ میڈیا کے ذریعے عوام کو یہ بتانا شروع کر دیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف لیوی بڑھانے اور جی ایس ٹی لگانے کیلئے دبائو ڈال رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا سارا دبائو عام آدمی کو نچوڑنے پر ہی کیوں ہے؟ کیا آئی ایم ایف نے اشرافیہ اور بیورو کریسی کو سرکاری خزانے سے ملنے والی مراعات و سہولیات کا ذکر کبھی نہیں کیا؟۔

دوسری جانب حماس سے جنگ میں دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور ہونے کی دعویدار اسرائیلی فوج نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے جنگ بند کرنے کی درخواست کی ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس اور سیکورٹی چیفس نے وزیراعظم نیتن یاہو کو بریفنگ میں بتایا کہ حماس کے پاس موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی حالت نازک ہے اور ان کی رہائی کیلئے اب جنگ بندی کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ اسرائیلی جنرلز نے بتایا کہ بیش تر یرغمالیوں کا وزن خوراک کی کمی کے سبب آدھا رہ گیا، ایسی صورت میں موسم سرما یرغمالیوں کی زندگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اسرائیلی جنرلز بزدلی کا اعتراف تو کر نہیں سکتے تھے اس لیے یرغمالیوں کا سہارا لیا، لیکن انہوں نے یرغمالیوں کا وزن بھی معلوم کر کے بتادیا کہ وہ آدھا رہ گیا ہے، یہ خوب بات کی ہے۔ اوّل تو جتنے یرغمالی رہا ہوئے ہیں سب نے بتایا ہے کہ حماس کے مجاہدین نے خود نہیں کھایا ہمیں اچھا کھلایا ہے اور یہ تجربہ امریکی اور روسی بھی افغانستان میں کرچکے ہیں، ان کو معلوم بھی ہے کہ مسلمانوں کے جنگی اصول ہوتے ہیں وہ اسرائیل کی طرح غیر انسانی طریقے سے جنگ نہیں لڑتے۔ اور یہ کہ اگر خوراک کی کمی ہے تو اس کا ذمے دار بھی نیتن یاہو ہی ہے۔ امداد کے راستے تو اسی نے روک رکھے ہیں، دوائیں اسی نے بند کررکھی ہیں، اسپتالوں پر وہی بمباری کررہا ہے سویلین کو بھی وہی نشانہ بنارہا ہے، یہ مطالبہ تو طاقتور فوج کا اعتراف شکست ہے۔

خلیل احمد نینی تا ل والا

بشکریہ روزنامہ جنگ

یہ سیاست ہمیں لے ڈوبے گی

پاکستان کے حالات دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے۔ جس طرف دیکھیں بدانتظامی ہی نظر آئے گی۔ ہماری کوئی کل سیدھی نہیں۔ خرابیاں اتنی ہیں کہ گننا مشکل ہے اور اگر آپ گننے بیٹھیں گے تو یہ اس لئے بھی ممکن نہیں ہو گا کہ یہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ اگر آپ ان خرابیوں کو ٹھیک کرنے کا سوچیں تو سمجھ نہیں آتا بندہ شروع کہاں سے کرے۔ انتظامی حالات دیکھیں تو ملک گورننس کے قابل نہیں چھوڑا، اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں پر نظر دوڑائیں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ پاکستان قرضوں کے ایسے بوجھ تلے دب چکا ہے کہ قریباً ہماری ساری آمدنی اب صرف سود کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔ بجلی انتہائی مہنگی لیکن پھر بھی گردشی قرضہ 23 سو ارب روپے سے زیادہ، اب تو گیس کا گردشی قرضہ بھی 27 سو ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جسے قابو کرنے کے لئے گیس پچاس فیصد مہنگی کرنے کا فیصلہ متوقع ہے۔ پی آئی اے، ریلوے، پاکستان سٹیل ملز وغیرہ جیسے ادارے بھی سالانہ قوم کا کھربوں روپیہ کھا جاتے ہیں۔ ٹیکس کا نظام ناقص ہے جس کی وجہ سے پاکستان اُن ممالک میں سے ایک ہے جہاں لوگوں کی کم ترین شرح، ٹیکس دیتی ہے۔ 

ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بات کی جاتی ہے لیکن عملاً سارا زور Indirect ٹیکسوں پر ہوتا ہے جس کا سارا بوجھ غریب اور متوسط طبقہ پر پڑتا ہے جس کے لئے جینا ویسے ہی مشکل ہو چکا ہے۔ پاکستان کی ریاست اور عوام دونوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہمارا کل خطرہ میں ہے۔ ان مشکلات سے نکلنے کے لئے بہت بڑے بڑے فیصلے کرنا ہوں گے، جس کے لئے ہمارے سیاست دانوں کو توقع ہے کہ مشکل فیصلے نگراں حکومت کرے تا کہ جب الیکشن کے بعد اُنہیں حکومت ملے تو وہ کوئی ایسا فیصلہ نہ کریں جس سے اُن کے ووٹرز، سپورٹرز اور عوام ناراض ہوں۔ المیہ یہ ہے کہ آئین پاکستان کے تحت حکومتیں تو منتخب نمائندوں کو ہی کرنی ہیں لیکن جب اُن کی حکومت آتی ہے تو وہ مشکل فیصلے اس لئے نہیں کرتے کہ کہیں ووٹر ناراض نہ ہو جائے۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کی پالیسی کا اعلان کیا جائے اور تاجر برادری کو ٹیکس دینے کا کہا جائے تو سیاسی قیادت کی طرف سے حکم آ جاتا ہے کہ تاجروں کو مت چھیڑو۔

انتظامی طور پر عوام کا سالانہ کھربوں روپیہ کھانے والے اداروں کو بند کرنے کی بات کی جائے تو پھر یہی سیاسی قیادت حکومت کے آگے رکاوٹ بن جاتی ہے کہ ایسے اداروں میں کام کرنے والوں کے احتجاج سے حکمرانوں کا ووٹ بینک متاثر ہو جائے گا۔ حکومتی اداروں اور سرکاری عہدوں پر سفارش، اقربا پروری کی بنیاد پر تعیناتیاں کی جاتی ہیں جس کا مقصد گنے چنے افراد کو خوش کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات سے قومی ادارے اور حکومتی پرفارمنس مذید خراب ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مشکل اور غیر مقبول فیصلے نہیں کرنے تو پھر پاکستان کو موجودہ معاشی بحران سے کیسے نکالا جا سکتا ہے؟ ٹیکس نیٹ کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے؟ سالانہ کھربوں کا نقصان کیسے روکا جا سکتا ہے؟ حکومت کی کارکردگی اور پرفارمنس میں کیسے بہتری لائی جا سکتی ہے؟ نگراں سیٹ اپ کو ایک لمبے عرصہ کے لئے چلانا ممکن نہیں۔ 

اسلئے پاکستان کے مستقبل اور عوام کی بہتری کے لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کرمیثاق معیشت کے ساتھ ساتھ میثاق گڈ گورننس پر اتفاق رائے کریں تاکہ جن معاشی اور انتظامی اصلاحات کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے اُن پر جو بھی حکومت ہو من و عن عمل کرے اور اس پر کسی قسم کی سیاست کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو والی پالیسی نہیں چلے گی۔ اگر سیاست اور حکمرانی کا شوق ہے تو پاکستان کومعاشی اور انتظامی دلدل سے نکالنا ہی سب کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ ورنہ آپ کی سیاست ہمیں لے ڈوبے گی۔

انصار عباسی 

بشکریہ روزنامہ جنگ

ہم کہاں کھڑے ہیں

پاکستان کا بنیادی نوعیت کا مسئلہ سیاسی و معاشی استحکام ہے ۔ ایسا استحکام جو لوگوں میں موجود غیر یقینی اور بداعتمادی کے ماحول کو ختم کرنے کا سبب بنے۔ کیونکہ جو بھی ریاست یا اس سے جڑا نظام ہو گا اس کی کامیابی کی بنیادی شرط یا ساکھ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد سازی یا بھروسہ سے جڑی ہوتی ہے۔ جب ریاست اور شہریوں کے درمیان برابری، مساوات، سیاسی، سماجی، قانونی اور معاشی انصاف کے طور پر رشتہ یا تعلقات ہونگے تو لوگ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ عمل محض جذباتیت یا سیاسی شعبدہ بازی یا نعرے بازی کی بنیاد پر کسی بھی صورت ممکن نہیں ہو سکتا۔ لوگ زندہ رہنا چاہتے ہیں اور وہ بھی عزت اور احترام کے ساتھ اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جو ان کے ریاستی سطح پر بنیادی حقوق ہوتے ہیں۔ ان کی ریاستی امور اور حکمرانی کا نظام ضمانت دے۔ وگرنہ دوسری صورت میں لوگ ریاست کے ساتھ کسی بھی طور پر کھڑے نہیں ہوتے بلکہ تواتر کے ساتھ اپنے تحفظات کا سیاسی مقدمہ پیش کرتے ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈولیپمنٹ اکنامکس ) پائیڈ (اسلام آباد معاشی امور سے متعلق ایک اہم ادارہ ہے۔ اس کا کام معاشی امور کی نگرانی وتجزیہ، منصوبہ بندی اور تحقیق کی بنیاد پر اپنا مقدمہ پیش کرنا ہوتا ہے۔ ان کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’پاکستان کے شہری علاقوں میں رہنے والے 40 فیصد افراد جب کہ دیہی علاقوں سے 36 فیصد افراد بیرون ملک یا کسی اچھے ملک میں جانے کے خواہش مند ہیں ۔‘‘ ان میں سے بہت ہی بڑی تعداد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر مشتمل ہے۔ وہ نوجوان جنھوں نے پاکستان میں بیٹھ کر معاشی عمل میں اپنے لیے اور ملک کے لیے بھی نئے معاشی مواقع اور امکانات کو پیدا کرنا تھا وہ اس ملک کے مستقبل سے مایوس نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں تسلسل کے ساتھ سیاسی اور معاشی عدم استحکام اور معاشی تفریق سمیت معاشی ناہمواریاں ہیں۔

نوجوانوں کو لگتا ہے کہ پاکستان میں ہمارا مستقبل غیر محفوظ ہے اور ہمیں ملک سے باہر جا کر کچھ نئے متبادل راستے تلاش کرنے ہیں۔ مسئلہ محض نوجوانوں تک محدود نہیں اس وقت وہ افراد بھی جو کسی نہ کسی طرح سے معاشی سرگرمیوں یا سرکاری یا غیر سرکاری روزگار سے وابستہ ہیں وہ بھی بدحالی کا ماتم کر رہے ہیں۔ جو بڑا سنگین نوعیت کا بحران لوگوں کو درپیش ہے وہ تین سطحوں پر موجود ہے۔ اول ایک طبقہ وہ ہے جو بہتر روزگار کی تلاش میں ہے اور بے روزگاری کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دوئم، وہ طبقہ ہے جو روزگار سے وابستہ تو ہے مگر اس میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔ سوئم، آمدن اور اخراجات میں بڑھتا ہوا بڑا عدم توازن ہے، یعنی آمدن کم اور اخراجات میں اضافے نے اس کی زندگیوں میں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ معاشی بدحالی کی ایک بڑی وجہ جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ اور دوسری جانب نجی شعبہ جات میں ریگولیٹری اتھارٹیوں کی بدعنوانی اور نااہلی کی داستان ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ نجی شعبہ تعلیم، صحت اور دیگر معاملات میں لوگوں کے مزید معاشی استحصال کا سبب بن رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں مجھے کئی 17 سے 20 گریڈ کے سرکاری افسران یا نجی شعبہ میں اچھی بھلی تنخواہ پر کام کرنے والے افراد سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ طبقہ عمومی طور پر ایک خوشحال طبقہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب اس طبقہ نے بھی اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے بقول جائز تنخواہ میں بچوں کی مہنگی تعلیم، صحت، بجلی و گیس کی قیمتیں، پٹرول اور ڈیزل سمیت روزمرہ کی اشیا میں جو اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے ہم بھی پرکشش تنخواہ اور مراعات کے باوجود سنگین بحران کا شکار ہیں۔ بالخصوص چھوٹا کاروباری طبقہ کے بقول اگر ہم نے واقعی کاروبار چلانا ہے تو ان حالات یا پالیسیوں میں ممکن نہیں اور اس کی بہتری کے لیے حکومتی سطح پر غیر معمولی اصلاحات اور مراعات درکار ہیں۔ بڑے کاروباری طبقات حکومت کے سامنے دہائی دے چکے ہیں کہ ان حالات میں معاشی ترقی کے نعرے سوائے جذباتیت کے اور کچھ نہیں۔

سلمان عابد

بشکریہ ایکسپریس نیوز

سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام، توانائی بحران اورمجموعی معاشی بدحالی کی وجہ سے اب کم ازکم دس کروڑشہری پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھا سکتے، لوگ صحت اور تعلیم پر کمپرومائز کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اوراپنے بچوں کو اسکولوں سے نکال کر کام پر لگا رہے ہیں۔ ملک میں نفرت کی سیاست اور قومیت کو ہوا دی جا رہی ہے جس سے سماج تباہ ہورہا ہے اور اقتصادی حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں اور بجلی مسلسل مہنگی کی جا رہی ہے۔ سیاسی محاذآرائی نے ڈیفالٹ کے اندیشے کو مزید بڑھا دیا ہے اور روپے کو ٹشوپیپرکی طرح بے قدر کر دیا ہے۔ حکومت اقتصادی میدان کی طرح سماجی اور تعلیمی شعبوں میں بھی بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکی جو افسوسناک ہے۔ بیسیوں سرکاری ونجی جامعات دیوالیہ ہو رہی ہیں مگرکسی کو تعلیمی نظام کی تباہی کی کوئی فکر نہیں جوملک کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے اور اوپر سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ہمیں سنگین معاشی مسائل کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں برس نومبر 2022 تک دنیا کی آبادی 8 ارب تک پہنچ جائے گی اور موجودہ صدی کے اختتام تک یہ تعداد 10 ارب نفوس سے بھی تجاوز کر جائے گی۔ عالمی آبادی 1950 کے بعد سے سست وری سے بڑھ رہی ہے جو 2020 میں ایک فیصد سے کم ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے تازہ ترین تخمینے بتاتے ہیں کہ دنیا کی آبادی 2030 میں 8 ارب 50 کروڑ اور 2050 میں 9 ارب 70 کروڑ تک ہو سکتی ہے اور 2080 کی دہائی کے دوران آبادی لگ بھگ 10 ارب 40 کروڑ افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ملک کی نازک معاشی صورتحال کی خبریں تواتر کے ساتھ میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں۔ اب اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی کاوشیں رنگ لے آئی ہیں۔ چین اور سعودی عرب نے 13 ارب ڈالر کی امداد کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ دوست ممالک سے ملنے والی اس امداد پر خوشی منائیں یا افسوس کا اظہار کریں۔

اصولی طور پر جوہری قوت کے حامل ملک کو غیر ملکی امداد کی حاجت سے ماورا ہو نا چاہئے۔ لیکن افسوس کہ مانگے تانگے کی رقم سے معیشت کی نبضیں بحال رکھنا ہمارا معمول ہے۔ 70 برس گزرنے کے بعد بھی ہم اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکے۔ سیاسی عدم استحکام اور عدم تسلسل کی وجہ سے ہمارا ملک آج تک ترقی نہیں کر سکا۔ پاکستان کے داخلی سیاسی حالات اس کے معاشی طاقت بننے کی راہ میں ہمیشہ حائل رہے۔ جب بھی ہم ایک قدم آگے بڑھے، دو قدم پیچھے کی جانب لڑھک گئے۔ امدادی رقوم پر انحصار کرنے کی ہماری عادت اس قدر پختہ ہو چکی ہے کہ کسی ملک یا عالمی ادارے سے امداد مل جائے تو خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ غنیمت ہو، اگر امدادی رقم کی وجہ سے معیشت کو کچھ استحکام نصیب ہو جائے۔ لیکن یہ بھی ناممکنات میں سے ہے۔ اس کی وجہ ہمارے سیاسی رویے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ سیاسی بے یقینی اور انتشار جس شے کو سب سے پہلے نگلتا ہے، وہ ملک کی معیشت ہے۔

اندازہ کیجئے کہ کسی ملک کا سیاسی منظرنامہ کچھ یوں ہو کہ کسی اپوزیشن جماعت نے سیاسی احتجاج کی کال دی ہو۔ حکومت گرانے کی کوششیں ہونے لگیں۔ حساس اداروں کو سر عام للکارا جائے۔ الزام تراشی کا ایسا شور اٹھے کہ عوام الناس سچ جھوٹ کی پہچان بھولنے لگیں۔ جلائو گھیرائو کی باتیں ہو رہی ہوں۔ اہم سرکاری عمارتوں پر حملے کئے جائیں۔ ان حالات میں کون سا ملک یا غیر ملکی کمپنی اس ملک میں سرمایہ کاری کرنے یا قرض دینے پر آمادہ ہو گی؟ کوئی ملک یا کمپنی تو دور کی بات، بے یقینی اور ماردھاڑ کی ایسی کیفیت میں کوئی عام شہری کریانے کی نئی دکان کھولنے سے پہلے بھی سو مرتبہ سوچے گا۔ قارئین، آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے گزشتہ ایک ماہ سے جو کشمکش چل رہی تھی بالآخر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نئے آرمی چیف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کے لئے بھیجی گئی وزیر اعظم کی سمری منظور کر لی، جس کے تحت جنرل سید عاصم منیر کو ملک کا نیا سپہ سالار تعینات کر دیا گیا ہے، جب کہ جنرل ساحر شمشاد مرزا چیئر مین جوائنٹ چیفس ہوں گے۔

آرمی چیف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی ایک معمول کا عمل ہوتا ہے اور خوش آئند امر یہ ہے کہ یہ عمل خوش اسلوبی کے ساتھ چند گھنٹوں میں مکمل کر لیا گیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے سمری ارسال کی اور صدر مملکت عارف علوی نے اس کی منظوری دے دی۔ صدر نے تعیناتی سے قبل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے بھی ملاقات کی، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ بھی اس مشاورت میں بالواسطہ حصہ بن گئے، لہٰذا اگر کچھ عناصر کی یہ خواہش تھی کہ وہ آرمی چیف کی اہم تعیناتی کو متنازعہ بنا کر ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کریں گے، تو ان کے ارمانوں پر بھی اوس پڑ گئی۔ جنرل عاصم منیر کی تقرری کا سارے حلقوں نے خیر مقدم کیا ہے، اس کے ساتھ ہی اس بار دونوں تعیناتیاں سنیارٹی کے اصول پر کی گئی ہیں۔ طویل عرصے بعد کسی افسر کو سپر سیڈ نہیں کیا گیا۔

خلیل احمد نینی تا ل والا

بشکریہ روزنامہ جنگ