انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے ہرن کیدانا علاقے میں بہنے والے نالے میں آس پاس کے مکانات اور کمپنیوں کا انسانی فضلہ اور فیکٹریوں کا کیمیکل جمع ہوتا ہے۔ قریبی سڑک کی خالی جگہ پر نالے سے کئی روز قبل نکالا گيا گندہ کچرا اب سخت ہوگيا ہے۔ اس سے نکلنے والی تعفن اتنا شدید ہے کہ سانس لینا مشکل ہے۔
اسی نالے کو صاف کرنے کے لیے نیتو اور اجیت اس کے اندر گردن تک ڈوبے ہوئے تھے۔ کئی بار اس کا پانی ان کی ناک تک چلا جاتا، دونوں نے اپنا منہ زور سے بند کر رکھا تھا۔ ایک کے ہاتھوں میں بانس کی لمبی چھڑی تھی تو دوسرے کے ہاتھوں میں لوہے کا کانٹا جس سے وہ نالے کی تہہ میں پھنسے ہوئے کوڑے کچرے کو ہلانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ وہاں سے پانی کے نکلنے کی جگہ بنے۔
نیتو نے اشارہ کیا: ‘کالا پانی گیس کا پانی ہوتا ہے، وہی گیس جو لوگوں کی جان لے لیتی ہے۔’ ‘ہم بانس مار کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہاں کوئی گیس موجود ہے کہ نہیں، اور پھر ہم اس میں داخل ہوتے ہیں۔ بندے اس لیے مر جاتے ہیں کیونکہ وہ بغیر اسے دیکھے ہی اس میں کود پڑتے ہیں۔’ ایک دن میں 300 روپے کمانے کے لیے وہ نالے میں پائے جانے والے سانپوں اور مینڈک جیسے جانوروں کی بھی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ دبلے پتلے جانگیا پہنے ہوئے نیتو نالے سے نکل کر دھوپ میں کھڑے ہوئے تو ان کے بدن سے بہنے والا پسینہ اور جسم پر لگا گندہ کیچڑ ایک عجیب سی بو پیدا کر رہا تھا۔ سیور میں پائے جانے والے کانچ، کنکریٹ یا زنگ آلود لوہے سے نیتو کے پاؤں کئی بار زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کے پیروں میں ایسے کچھ زخم ابھی بھی تازہ تھے کیونکہ ان کو بھرنے کا موقع نہیں مل پایا۔
ایک غیر سرکاری ادارے ‘پریکسس’ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دہلی میں سیور صاف کرنے والے تقریبا 100 خاکروب ہر برس ہلاک ہو جاتے ہیں۔ رواں برس جولائی اور اگست کے محض 35 دنوں میں 10 خاکروب ہلاک ہوئے۔ ایک تنظیم ‘صفائی ملازمین اندولن’ کے مطابق سنہ 1993 سے انڈيا میں تقریبا 1500 خاکروب ہلاک ہوئے ہیں۔ ادارے نے اس کے دستاویزی ثبوت جمع کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ لاکھوں لوگ اب بھی یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کام سے وابستہ بیشتر افراد کا تعلق دلت سماج سے ہے۔ سیور میں زیادہ تر اموات ہائیڈروجن سیلفائید کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
وہ لوگ جو سیور میں کام کرتے ہیں انھیں دمہ، جلد اور پیٹ کی طرح طرح کی بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیتو نے یہ کام 16 برس کی عمر سے شروع کیا تھا۔ دہلی میں وہ اپنے بہنوئی درشن سنگھ کی ایک فاسٹ فوڈ کی دکان میں رہتے ہیں۔ انھیں جُھگیوں میں بہت سارے خاکروب ملازمین رہتے ہیں۔ اس کے آس پاس آبادی اتنی زیادہ ہے کہ یہاں سانس لینے کے لیے بہت زور لگانا پڑتا تھا۔ دروازے پر کوڑے کے ڈھیر کو پار کر کے ہم درشن سنگھ کے ڈھابے پر پہنچے۔
درشن سنگھ نے 12 برس تک صفائی کا کام کیا لیکن پاس کی ایک عمارت میں اسی کام کے دوران ان کے دو ساتھیوں کی موت ہو گئی جس کے بعد انھوں نے یہ کام چھوڑ دیا۔
انھوں نے بتایا:’ایک اپارٹمنٹ میں ایک پرانا گٹر طویل عرصے سے بند پڑا تھا۔ اس میں بہت گیس تھی۔ ہماری جھگیوں میں رہنے والے دو افراد نے 2000 روپے میں اسے صاف کرنے کا ٹھیکہ لیا تھا۔ پہلے جو بندہ گھسا وہ وہیں رہ گیا کیونکہ گیس بہت بھیانک تھی۔ اس کے بیٹے نے پاپا پاپا کی آواز لگائی۔ پاپا کی تلاش میں وہ بھی اندر گھسا لیکن واپس نہیں آیا۔ دونوں اندر ہی ختم ہو گئے۔ مشکل سے انھیں نکالا گیا۔ تبھی سے ہم نے یہ کام بند کر دیا۔’ قانون کے مطابق ہاتھ سے سیور صاف کرنے کا کام صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے خاکروب ملازمین کی حفاظت کے کئی طرح کا ساز و سامان دینا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں بیشتر ایسے ملازمین ننگے بدن کی حالت میں سیور میں کام کرتے ہیں۔
اس طرح کے کام کے دوران ہلاک ہونے کی صورت میں حکومت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے تک کا معاوضہ دینے کی بھی تجویز ہے۔ لیکن ‘آل انڈیا دلت مہاپنچایت’ کے مور سنگھ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے بہت جد و جہد کرنی پڑتی ہے اور ہر شخص کو ایسی مدد نہیں مل پاتی ہے۔ حال ہی میں ایسے ہی ایک واقعے میں دہلی کے لوک جن نائیک ہسپتال کا گٹر صاف کرنے کے دوران 45 سالہ رشی پال کی بھی موت ہو گئی تھی۔ ‘صفائی ملازمین اندولن’ کے بیزواڑا ولسن کہتے ہیں: ‘اگر ایک مہینے میں دہلی میں 10 گائیں مر جائیں تو ہنگامہ مچ جائے گا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئيں گے۔ اسی شہر میں ایک ماہ میں 10 خاکروب ہلاک ہوئے لیکن ایک آواز نہیں اٹھی۔
ایسی خاموشی روحانی ایذا کا سبب ہے۔’ وہ کہتے ہیں: ‘کوئی بھی شخص دوسرے کا پاخانہ پیشاب صاف نہیں کرنا چاہتا لیکن سماجی ڈھانچے کی وجہ سے دلت یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ جب ہم مریخ پر جانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں تو پھر اس مسئلے سے کیوں نہیں نمٹ پا رہے ہیں۔’ ولسن کے مطابق حکومت لاکھوں نئے بیت الخلا بنانے کی بات تو کرتی ہے لیکن ان کے لیے بنائے جا رہے پٹس یا گڑھوں کو صاف کرنے کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا ہے۔ نیتو کے بہنوئی درشن سنگھ کہتے ہیں: ‘ہم ان پڑھ ہیں۔ ہمارے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ خاندان کو پالنے کے لیے ہمیں یہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم کسی بند گٹر کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو افسر کہتے ہیں، آپ اس میں گھسیں اور ہمیں اپنا پیٹ پالنے کے لیے مجبوراً یہ کام کرنا پڑتا ہے۔’ ‘
کئی بار ہم اپنے بچوں کو نہیں بتاتے کیونکہ یہ گندا کام ہوتا ہے۔ ہم ان سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم مزدوری کرتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے انھیں سچ بتا دیا تو وہ ہم سے نفرت کرنے لگیں گے۔ کچھ لوگ شراب پیتے ہیں۔ مجبوری میں آنکھ بند کر کے کام کرتے ہیں۔’ ‘لوگ ہمیں دور سے پانی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، وہاں رکھا ہے، لے لو۔ نفرت بھی کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ گندا کام ہے۔ ہم اگر نفرت کریں گے تو ہمارا خاندان کیسے چلے گا۔’
دو گھر، ایک بڑے بیٹے کا اور ایک چھوٹے بیٹے کا۔ دونوں کی بغیر پلاسٹر والی دیواروں پر آتشزدگی کے نشانات دو دن گزر جانے کے بعد بھی تازہ نظر آتے ہیں اور دوسری جانب اوم وتي کا ماتم اب بھی جاری ہے۔ کچھ ہی دنوں پہلے اوم وتي کے یہاں شادی ہوئی تھی اور ان کی نئی نویلی بہو اس دن کسی طرح جان بچانے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ اب گھر میں صرف اوم وتی اور صحن میں کھونٹے سے بندھی ایک گائے ہے۔ اوم وتی کی پڑوسن مگگو کہتی ہیں: ‘دونوں بیٹوں کا گھر ایک دوسرے سے ملحق ہے۔ فسادات کرنے والے ایک چھت سے دوسرے گھر میں پہنچ گئے اور دونوں گھروں میں آگ لگا دی۔‘
گذشتہ ہفتے انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے سہارنپور ضلع کے شبير پور گاؤں میں بھڑکنے والے فسادات میں دلتوں (پسماندہ طبقے کے ہندوؤں) کے گھر جلائے جانے کے بعد علاقے میں اب بھی کشیدگی ہے۔ اس دلت اکثریتی گاؤں میں راجپوت برادری کے لوگ عہد وسطی کے راجا مہارانا پرتاپ کے یوم پیدائش پر شوبھا ياترا نکال رہے تھے اور اسی دوران پرتشدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔ فریقین اپنی اپنی باتیں کہہ رہے ہیں اور ایسے جہاں فساد ہوا، وہاں کے لوگوں کی باتیں ان ہی سے سننا بہتر نظر آتا ہے۔
ہمیں راجپوت یوا شکتی کے جو لوگ ملے انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ آگ خود دلتوں نے لگائی تھی، یہاں تک کہ پولیس کی گاڑی میں بھی انھی لوگوں نے آگ لگائی تھی۔ لیکن نصف جلی روٹی، کمرے میں پھیلے اناج، نوکیلے ہتھیاروں کے نشان والی کھڑکیاں اور صحن میں بندھی وہ گائے کچھ اور ہی کہانی بیان کرتی ہیں۔ دوسری جانب میوزیک سسٹم سے لیس پاس کے گاؤں سملانا جانے والی راجپوتوں کی ٹولی، دلتوں اور راجپوتوں کے درمیان تنازع، سنگ باری اور پھر مبینہ طور پر دوسرے دیہات کے سینکڑوں نوجوانوں کا شبير پور میں جمع ہونا دوسرا رخ پیش کرتے ہیں۔
گاؤں کی گلی کے کنارے آباد دلتوں کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جن پر آگ کے شعلوں کے نشانات نہ ہوں۔ گندم کی کٹائی کے بعد صحن یا گھر کے باہر پڑے اناج جگہ جگہ جلے ہوئے نظر آئے۔ جمعہ کو رونما ہونے والے واقعے میں ایک 35 سالہ راجپوت کی موت ہو گئی تھی۔ اس سلسلے میں قتل کا مقدمہ درج ہوا ہے اور پولیس نے 17 افراد کو گرفتار بھی کیا ہے جن میں آٹھ دلت ہیں۔ سروج کہتی ہیں کہ ان کے شوہر معذور ہیں، لیکن پھر بھی پولس انھیں پکڑ کر لے گئی ہے۔
راجپوت کے محلے کی ایک خاتون وملیش ہمیں گاؤں کے ایک چوراہے پر ملیں۔ بیٹے سمیت ان کے گھر کے بھی تین افراد پولیس کی حراست میں ہیں۔ سویتا بھی وملیش کے ساتھ ہیں اور اسی وقت تقریباً 100 راجپوت عورتوں کے ایک گروہ نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔ سویتا کا بھی کہنا ہے کہ ان کے گھر والے ہنگامے میں شامل نہیں تھے، لیکن پھر بھی وہ پولیس حراست میں ہیں۔ جارحانہ رخ اختیار کرتی بھیڑ کو دیکھ کر وہاں تعینات پولیس دستے کے لوگ ہمیں وہاں سے جانے کے لیے کہتے ہیں۔ پاس کے محلے میں تقریباً سناٹے کا ماحول ہے یا پھر رونے کی آوازیں سنائی پڑتی ہیں۔ مگگو ہمیں بتاتی ہیں: ‘ہم ان کھیتوں میں فصل کی کٹائی کرتے ہیں، ان کا کام کرتے ہیں اور انھوں نے ہمارے ساتھ ایسا کیا۔
اوم وتي کے بیٹے بھی دوسرے دلتوں کی طرح راجپوتوں یا دوسری نام نہاد اونچی ذات کے لوگوں کے کھیتوں یا گھروں پر مزدوری کرتے ہیں۔ کچھ دلتوں کے پاس زمینیں بھی ہیں۔ ان کے گھر کی دیواریں پختہ ہیں اور چھتوں تک باقاعدہ زینے جاتے ہیں۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا پرتشدد واقعہ وہاں پہلے کبھی نہیں ہوا اور شاید اس کی وجہ ایک دوسرے پر زمانے سے جاری انحصار ہے۔ لیکن مہارانا پرتاپ کے یوم پیدائش کی تقریب کے دوران قرب و جوار کے دسیوں دیہات اور دوسرے صوبوں سے سینکڑوں لوگوں کے آنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے وہ قدیمی تانا بانا بکھر گیا۔
دلت انتہائی ناراض ہیں۔ ہندوؤں کو متحد کرنے میں مصروف حکمراں پارٹی کو یہاں دیشراج سنگھ جیسے دلتوں کو سمجھانے کی ضرورت پڑے گی۔ دلت سماج سے تعلق ركھنےوالے دیشراج سنگھ کہتے ہیں: ’ہمیں تو یہ ہندو ہی نہیں سمجھتے۔ ورنہ کیا ہمارے ساتھ وہ ایسا کرتے؟‘