وزیر اعظم مودی کی نئی کابینہ میں شامل چھپن میں سے بائیس وزراء کے خلاف مختلف مجرمانہ مقدمات درج ہیں جبکہ سولہ وزراء نے اپنے خلاف اقدام قتل اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے جیسے سنگین جرائم کے مقدمات کا اعتراف کیا ہے۔ بھارت میں انتخابی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والی غیر حکومتی تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی نئی کابینہ میں شامل 56 وزیروں کے حلفیہ بیانات کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سے 22 یعنی 39 فیصد وزراء کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے مختلف مقدمات درج ہیں جب کہ 16 یعنی 29 فیصد وزیروں کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ 30 مئی کو وزیر اعظم مودی کے ساتھ ان کی 58 رکنی کابینہ نے بھی حلف اٹھایا تھا۔ اے ڈی آر کے مطابق چونکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور صارفین کے امور کے وزیر رام ولاس پاسوان فی الحال بھارتی پارلیمان کے کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ہیں، اس لیے ان کے حلف ناموں کا تجزیہ نہیں کیا جا سکا۔ اے ڈی آر کے مطابق 2014ء کی مودی کابینہ کے مقابلے میں نئی کابینہ میں شامل مجرمانہ نوعیت کے مقدمات میں ملوث وزیروں کی تعداد میں آٹھ فیصد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ سنگین جرائم کے مقدمات میں ملوث وزراء کی تعداد میں یہ اضافہ 12 فیصد بنتا ہے۔ جن وزیروں کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے مقدمات زیر التواء ہیں، ان میں وزیر اعظم مودی کے بعد سب سے طاقت ور سمجھے جانے والے رہنما اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر اور موجودہ وزیر داخلہ امیت شاہ بھی شامل ہیں۔
ان کے خلاف چار مقدمات درج ہیں۔ امیت شاہ کو گینگسٹر سہراب الدین شیخ اور اس کی اہلیہ کوثر بی اور تلسی رام پرجاپتی کے ماورائے عدالت قتل کے معاملے میں 2010ء میں جیل بھی جانا پڑا تھا۔ البتہ بعد میں انہیں اس مقدمے میں عدالت نے بری کر دیا تھا۔ امیت شاہ کے خلاف قتل، جبراً پیسہ اینٹھنے اور اغوا کے الزامات میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان پر گجرات کے فسادات اور متعدد فرضی تصادم کے معاملات میں ملوث ہونے کے بھی الزامات لگائے گئے تھے۔ عدالت نے امیت شاہ کو 2010ء سے 2012ء تک گجرات میں داخل ہونے سے بھی روک دیا تھا۔ ستمبر 2012ء میں سپریم کورٹ نے انہیں گجرات واپس لوٹنے کی اجازت دے دی تھی، جس کے بعد انہوں نے صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور کامیاب ہوئے اور وزیر اعظم مودی کے دست راست اور سب سے بھروسہ مند ساتھی بن گئے تھے۔
مودی کابینہ میں شامل ایک اورنام پرتاپ چندر سارنگی کا ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر ان کا کافی چرچا ہے۔ حکمران بی جے پی انہیں نہایت ایماندار اور سادگی پسند رہنما کے طور پر پیش کر رہی ہے اور انہیں مشرقی صوبے اوڈیشا کا مودی قرار دیا جاتا ہے۔ سارنگی نے اپنے حلف نامے میں اپنے خلاف سات مجرمانہ مقدمات کا ذکر کیا ہے، جس میں لوگوں کو دھمکانے، مذہب کی بنیاد پر مختلف فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے اور جبراً پیسہ وصول کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ دراصل پرتاپ چندر سارنگی کا نام اس وقت شہ سرخیوں میں آیا تھا، جب 1999ء میں اوڈیشا کے کیونجھر ضلع کے منوہر پور گاؤں میں ایک آسٹریلوی مسیحی مشنری گراہم اسٹینس اور ان کے دو کم عمر بیٹوں کو ایک جیپ میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس واردات کے وقت سارنگی شدت پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل کے صوبائی صدر تھے۔
مسیحی برادری نے قتل کے اس بھیانک واقعے کے لیے بجرنگ دل کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس معاملے میں سارنگی کا رول مشتبہ پایا گیا تھا حالانکہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آنے کی وجہ سے انہیں بری کر دیا گیا تھا۔ مائیکرو، اسمال اور میڈیم سائز صنعتوں اور ماہی پروری کے وزیر پرتاپ چندر سارنگی نے اپنی وزارت کا حلف لینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”میرے خلاف درج تمام مقدمات جھوٹے ہیں۔ پولیس نے یہ مقدمات اس لیے دائر کیے کہ میں بدعنوانی کے خلاف لڑ رہا ہوں۔ میں نے کرپشن کے خلاف سنجیدگی سے مہم چلائی ہے۔ میں نے سماج میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اسی وجہ سے میں بدعنوان افسروں کی نگاہ میں دشمن بن گیا۔ میں کئی کیسز میں بری ہو چکا ہوں اور آنے والے دنوں میں بقیہ تمام کیسوں میں بھی بری کردیا جاؤں گا۔
سارنگی بجرنگ دل کے علاوہ ایک اور شدت پسند ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ وہ 2004ء اور 2009ء میں اوڈیشا اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔ 2014ء میں بھی انہوں نے پارلیمانی الیکشن لڑا تھا لیکن ہار گئے تھے۔ اے ڈی آر کے ایک سروے کے مطابق بھارت میں اٹھانوے فیصد ووٹروں کا کہنا ہے کہ مجرمانہ پس منظر والے افراد کو ملکی پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں میں نہیں آنا چاہیے۔ تاہم سبھی سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی فائدے کے لیے ایسے افراد کو اپنے امیدوار بناتی ہیں۔ اس طرح قانون توڑنے والے مبینہ ملزمان ہی قانون ساز بن جاتے ہیں۔
پاکستان کی تحریک جاری تھی‘ قائداعظم محمد علی جناح ووٹ مانگ رہے تھے‘ یہ کراچی تشریف لائے‘ عوام سے پاکستان کی حمایت کی درخواست کی‘ شرکاء میں موجود کسی شخص نے کہا ’’ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے‘‘ قائداعظم نے مسکرا کر پوچھا ’’کیوں؟‘‘ وہ شخص بولا’’ ہم سنی العقیدہ ہیں اور آپ اہل تشیع ہیں‘ ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے‘‘ قائداعظم مسکرائے اور بولے ’’ہندوستان میں مسلمان محمد علی جناح اور کٹر ہندو موہن داس کرم چند گاندھی کے درمیان مقابلہ ہے‘ آپ اگر مجھے شیعہ سمجھ کر ووٹ نہیں دیں گے تو پھر آپ کا ووٹ گاندھی کے پاس چلا جائے گا‘‘ وہ رکے اور پھر فرمایا ’’آپ مجھے ووٹ نہیں دیں گے تو کیا آپ گاندھی کو دیں گے اور کیا گاندھی سنی ہے‘‘ وہ شخص خاموش ہو گیا۔
قائداعظم محمد علی جناح شروع میں ’’ہندو مسلم بھائی بھائی‘‘ کے قائل تھے‘ یہ 1906 سے 1913 تک آل انڈیا کانگریس میں بھی شامل رہے‘ قائد اعظم مہاتما گاندھی کی طرح ’’ایک ہندوستان‘‘ کے لیے لڑتے رہے‘ یہ بھی سمجھتے تھے خون عقیدے سے گاڑھا ہوتا ہے اور ہندوستان کے تمام لوگوں کو مذہب سے بالاتر ہو کر آزادی کے لیے لڑنا چاہیے‘یہ گاندھی کے سیکولرازم کے حامی بھی تھے لیکن پھر اچانک حقیقت قائداعظم کے سامنے آ گئی‘ یہ جان گئے ہندو اور مسلمان الگ الگ قومیں ہیں‘ دونوں کے درمیان صرف عقائد نہیں بلکہ تہذیب‘ فکر‘ رسم‘ رواج‘ خوراک‘ لباس اور زبان کی دیواریں بھی حائل ہیں‘ مسلمان اور ہندو تیرہ سو سال اکٹھے رہے‘ یہ ان تیرہ سو برسوں میں ایک نہیں ہو سکے‘ یہ مزید ہزار سال بھی یک جان نہیں ہو سکیں گے اور یہ جان گئے ہندوستان کے ہندو آزادی کے بعد مسلمانوں پر دائرہ حیات تنگ کر دیں گے۔
مسلمانوں کا کلچر‘ زبان‘ لباس‘ عقائد حتیٰ کہ عبادت گاہیں تک ہندوؤں کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہیں گی‘ قائداعظم نے یہ جاننے کے بعد دو قومی نظریئے کو حقیقت مان لیا اور یہ 1913 میں کانگریس کو خیرباد کہہ کر مسلم لیگ میں شامل ہو گئے‘ یہ وقت گزرنے کے ساتھ دو قومی نظریئے کے سب سے بڑے داعی بن گئے‘ یہ کانگریس میں مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مسلمان لیڈروں کو بھی سمجھایا کرتے تھے آپ یاد رکھیں آپ اور آپ کی نسلوں کو اس حماقت کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا لیکن وہ نہیں مانتے تھے بہرحال قصہ مختصر 14 اگست 1947ء کو ہندوستان دو قومی نظریہ پر تقسیم ہو گیا‘ مسلمان پاکستان میں اکٹھے ہو گئے اور ہندوؤں نے بھارت کو اپنا ملک بنا لیا‘ تقسیم کے وقت انڈیا میں 68 لاکھ سکھ اور83 لاکھ عیسائی بھی تھے۔
آزادی کے بعد آل انڈیا کانگریس ’’سیکولر انڈیا‘‘ کے منشور کے ساتھ اقتدار میں آ گئی مگر یہ سیکولرازم زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا‘بھارت نے مسلم ریاست جموں اینڈ کشمیر پر بھی قبضہ کر لیا اور حیدرآباد دکن کو بھی زبردستی بھارت کا حصہ بنا لیا اور پنجاب کے سکھوں کو بھی ذلت اور خواری کے علاوہ کچھ نہ مل سکا تاہم ہمیں یہ ماننا ہو گا کانگریس بی جے پی سے نسبتاً بہتر تھی‘ اس نے 1967 میں مسلمان ڈاکٹر ذاکرحسین کو صدر بنا دیا‘ ڈاکٹر عبدالکلام بھی 2002 میں صدر بنے اور کانگریس نے من موہن سنگھ کو بھی دو بار وزیراعظم بنا کر سکھوں کے دل بھی جیت لیے‘ کانگریس نے اے کے انتونی ‘آسکر فرنینڈس اور اگاتھا سنگما جیسے عیسائیوں کو بھی وزیر بنایا اور اس کی کابینہ میں پارسی اور بودھ بھی شامل رہے‘ یہ لوگ خواتین کو بھی نمائندگی دیتے رہے لیکن پھر کانگریس بھارت کی سیاست سے نکل گئی اور شدت پسند جماعت بی جے پی سامنے آتی چلی گئی۔
نریندر مودی کا تعلق ہندوانتہا پسند جماعت آر ایس ایس سے تھا‘ یہ انتہائی شدت پسند تھے‘ ہندوستان کو صرف اور صرف ہندوؤں کی سرزمین سمجھتے تھے اور دھرتی ماتا سے عیسائیوں‘ مسلمانوں اور سکھوں کو صاف کرنا چاہتے تھے‘ یہ 1971 میں مکتی باہنی کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف لڑتے بھی رہے‘مودی نے7 جون 2015 کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا ’’مکتی باہنی کی حمایت میں ‘میں نے بھی بطور رضاکار شرکت کی ‘‘ یہ 7 اکتوبر 2001 کو گجرات کے چیف منسٹر بن گئے‘ فروری 2002 میں گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے اور ڈیڑھ ہزارمسلمان شہید ہو گئے‘ مسلمانوں کی جائیدادیں‘ دکانیں‘ دفاتر اور گاڑیاں تک جلا دی گئیں‘ سیکڑوں عورتوں کی آبرو ریزی ہوئی ‘ درجنوں بچے سڑکوں پر کچل دیے گئے اور ہزاروں مسلمان نقل مکانی پر مجبور کر دیے گئے‘ بھارت کے اپنے اداروں اور میڈیا نے نریندر مودی کو ان فسادات کا ذمہ دار قرار دیا لیکن اس ظلم اور فلاسفی کے باوجود نریندر مودی 26 مئی 2014 کو وزیراعظم بن گئے۔
مودی سرکار نے اپنے دور حکومت میں بابری مسجد کو مندر بنانے کا کام بھی شروع کر دیا‘ پنجاب میں بھی گڑ بڑ کا آغاز ہو گیا‘ سکھوں کو بھی بلاوجہ تنگ کرنا شروع کر دیا گیا‘ عیسائیوں پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا‘ بھارت عیسائیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیوں میں 10 بدترین ممالک میں بھی شامل ہو گیا‘ 2018 میں مسیحی برادری کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کے 12000 واقعات رونما ہوئے‘ درجنوں چرچ بھی جلا دیے گئے اورسیکڑوں عیسائی قتل بھی کر دیے گئے‘ گائے کا گوشت فروخت کرنے کے ’’جرم‘‘ میں گزشتہ پانچ سالوں میں 104 مسلمان مار دیے گئے‘ مسلمانوں کے قتل کی ویڈیوز بھی جان بوجھ کر وائرل کی گئیں‘ پاکستان پر بھی الزامات کی بوچھاڑ ہو گئی‘ پٹھان کوٹ کا واقعہ ہو یا پھر پلواما کا ایشو ہو‘ نریندر مودی نے آنکھیں بند کر کے پاکستان پر الزام لگا دیے ‘ مقبوضہ کشمیر میں بھی خوفناک کارروائیاں شروع ہو گئیں‘ مودی نے کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370 میں تبدیلی کا اعلان بھی کر دیا۔
کشمیر میں کریک ڈاؤنز کا سلسلہ بھی بڑھا دیا گیا اور پانچ برسوں میں اڑھائی ہزار کشمیری شہری شہید‘ 25 ہزار زخمی اور 15 ہزار جیلوں میں پھینک دیے گئے ‘ چھ ہزار بچے پیلٹ گنز کی وجہ سے بینائی بھی کھو بیٹھے یوں آپ اگر نریندر مودی کے پانچ سال کا جائزہ لیں تو آپ کو یہ پانچ برس بھارت کی اقلیتوں کے لیے سیاہ رات محسوس ہوں گے‘ بھارت 72 برسوں میں پہلی مرتبہ کٹر ہندو ریاست بن کر سامنے آگیا‘ اپریل 2019 میں نریندر مودی کی مدت ختم ہو گئی اور نئے الیکشن شروع ہو گئے‘ تجزیہ نگاروں کا خیال تھا نریندر مودی اپنے شدت پسند خیالات کی وجہ سے دوسری مرتبہ نہیں جیت سکیں گے۔ بھارت کا سیکولر مائینڈ ان کو ووٹ نہیں دے گا لیکن جب الیکشن کے نتائج نکلے تو مودی نے 2014 کے مقابلے میں 21 نشستیں زیادہ حاصل کر لیں.
دنیا یہ دیکھ کر بھی حیران رہ گئی عوام ہر الیکشن میں بی جے پی کو پہلے سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں دے رہے ہیں‘بی جے پی نے2009 میں116سیٹیں لیں‘ یہ سیٹیں 2014ء میں بڑھ کر 282 اور 2019 میں 303 ہو گئیں‘ بھارت کی 12 ریاستوں میں اس وقت بھی بی جے پی کی حکومتیں ہیں‘ یہ ٹرینڈ کیا ثابت کرتا ہے‘ یہ ثابت کرتا ہے بھارت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ازم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھارتی عوام سیکولر ازم سے دور ہو کر کٹر اور شدت پسند ہندو بنتے جا رہے ہیں ‘ یہ اب ’’دھرتی ماتا‘‘ پر کسی غیر مذہب کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ ٹرینڈ انتہائی خطرناک ہے‘ بھارت میں اس وقت بھی 20 کروڑ مسلمان‘ اڑھائی کروڑ سکھ‘ تین کروڑ عیسائی اور 93 لاکھ بودھ ہیں‘ بھارت اگر صرف اور صرف ہندوؤں کا ملک ہے تو پھر یہ 26 کروڑ لوگ کہاں جائیں گے‘ کیا یہ قتل ہوتے اور مرتے چلے جائیں گے‘ کیا ان کے گلوں میں مسلسل جلتے ہوئے ٹائر ڈالے جائیں گے یا پھر انھیں مستقل دہشت گرد ڈکلیئر کر دیا جائے گا؟
بھارت کے عوام نے 2019 میں نریندر مودی کو دوسری بار وزیراعظم منتخب کر کے ثابت کر دیا بھارت سیکولر تھا اور نہ ہو گا‘ یہ کٹر ہندوؤں کا ملک ہے‘ ایسے کٹر ہندوؤں کا ملک جو اپنے علاوہ ہر شخص کو ملیچھ اور دھرتی کا بوجھ سمجھتے ہیں اور جن کا خیال ہے ہندوستان میں ہو تو ہندو بن کر رہو یا پھر ہندوستان چھوڑ دو۔ میرے سمیت ملک کے زیادہ تر نیم خواندہ لوگ یہ سمجھتے تھے ہم نے شاید 1947 میں بھارت سے الگ ہو کر غلطی کی‘ ہم بھارت کی ترقی سے بھی جیلس ہوتے تھے اور ہم کبھی کبھی قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کو بھی شک کی نظروں سے دیکھنے لگتے تھے لیکن آج 2019 میں قائداعظم کا وژن سچ ثابت ہو گیا‘ آج قائداعظم کا دو قومی نظریہ جیت گیا اور موہن داس کرم چند گاندھی اور جواہر لال نہرو کا سیکولر ازم ہار گیا‘ آج ثابت ہو گیا قائداعظم سچے تھے‘ وہ کہا کرتے تھے ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔
یہ مزید ہزار سال اکٹھے رہ کر بھی اکٹھے نہیں ہوں گے‘ گائے کو ماں کہنے اور گائے کا گوشت کھانے والے کبھی ایک میز پر نہیں بیٹھ سکیں گے‘ نریندر مودی کی جیت نے ثابت کر دیا قائد اعظم نے پاکستان ٹھیک بنایا تھا اور ہم آج اگر بھارت کے شہری ہوتے تو ہم بھی کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی گزار رہے ہوتے اور ہمیں بھی گائے کا پیشاب پینے اور سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جاتا رہتا‘ ہمیں ہماری مسجدوں میں گھس کر قتل بھی کیا جاتا اور ہم سسک سسک کر بھی مر رہے ہوتے۔ میں آج دل سے سمجھتا ہوں 2019 میں نریندر مودی نہیں جیتے قائداعظم جیتے ہیں‘ آج دو قومی نظریئے کی فتح ہوئی ہے چنانچہ میرا بھارت کی اقلیتوں کو مشورہ ہے آپ آج سے اپنے اپنے گھروں میں قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر لگا لیں‘ آپ آج سے دو قومی نظریئے کی تسبیح شروع کر دیں‘ کیوں؟ کیونکہ بھارت کے لوگوں نے ثابت کر دیا ہندوستان صرف اور صرف ہندوؤں کا ملک ہے‘ اس میں کسی دوسرے کی کوئی گنجائش نہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے نام نہاد سیکولر بھارت کا مسلمانوں سے متعلق اصل چہرہ بے نقاب کردیا۔ امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کو درپیش مسائل سے پردہ اٹھا دیا۔ اخبارکے مطابق بھارت میں انتہا پسند ہندووں نے مسلمانوں کو کاروبار اورعبادت کرنے کے حق سے محروم کرنے کے بعد جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ بھارت میں مودی حکومت آنے کے بعد مسلمانوں کیلئے مسائل میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق گائے کے تحفظ کے نام پر بھی انتہا پسند ہندو بے لگام ہیں، گوشت کا کاروبارمسلمانوں کیلئے ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ دکانیں زبردستی بند کرانا اور گوشت لے جانے کے شبے میں مسلمانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔ اخبار میں مزید لکھا کہ بھارت میں مقیم مسلمان اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں۔ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں نے رواں انتخابی عمل پرگہری نظررکھی ہوئی ہے جبکہ مودی کے دوبارہ اقتدارمیں آنے کی صورت میں مسلمانوں کیلئے انتہا پسند بھارت میں رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
انڈیا میں قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی ایک بار پھر پانچ سال کے لیے اقتدار میں آ گئے ہیں لیکن اس بار انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ماضی میں کیے جانے والے نوکریوں سے متعلق وعدے کا ذکر نہیں کیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈیا کی ایک ارب 30 کروڑ کی آبادی میں سے تقریباً دو تہائی عوام کام کی نوکری کرنے کی عمر ہے، یعنی 15 سے 64 سال، مگر ان میں سے متعداد افراد کا شمار بے روزگاروں کی فہرست میں ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں نوکریوں جیسی بنیادی ضرورت کے وعدے کا پورا نہ ہونا عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔
دلی کے اٹھارہ سالہ نوجوان اسد احمد بھی انہی افراد میں سے ہیں جو مودی کے دوبارہ حکومت میں آنے پر نوکری ملنے کے معاملے میں قنوطیت کا شکار ہیں۔ انہوں نے دلی میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر کرنے اور ایک اچھی نوکری ملنے کی کوشش میں ایک کمپیوٹر کلاس میں حصہ لیا ہے، جہاں ان کی عمر کے اور بھی افراد اعلی تعلیم کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کمپیوٹر کورس سے متعلق اسد احمد کا کہنا تھا ’میں جانتا ہوں یہ نوکری ملنے کے لیے شاید ناکافی ہو لیکن میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں۔‘ سال 2015 میں مودی نے سکل انڈیا نام کا ایک پروگرام شروع کیا تھا جس کا مقصد 50 کروڑ افراد کو 2022 تک صلاحیتی تعلیم دینا تھا
بےروزگاری سے متعلق انڈیا میں دو سال سے کوئی سرکاری ڈیٹا نہیں جاری ہوا ہے لیکن حال ہی میں لیک ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا میں بے روزگاری کی شرح پچھلے 45 سالوں میں سب سے زیادہ ہے، یعنی 6.1 فیصد۔ سینٹر فار مونیٹرنگ انڈین اکانومی نام کے ایک نجی تحقیقاتی ادارے کے مطابق انڈیا میں بے روزگاری کی شرح اپریل میں 7.6 فیصد تھی۔ اسد احمد کی طرح 19 سالہ ندرت اکرم بھی نوکری حاصل کرنے کے لیے صلاحیتوں کی بہتری کے لیے تعلیم لے رہی ہیں کیونکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے اخراجات نہیں اٹھا سکتیں۔ ’میں چاہتی ہوں کہ مجھے بڑی دکانوں میں نوکری ملے جہاں میں مہینے کے 10000 روپے کما سکوں۔‘
اسی طرح 18 سالہ سحر اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے پریشان ہیں۔ ان کی چار بہنیں ہیں اور ان کے والد، جو ایک ہسپتال میں کام کرتے ہیں، اکیلے پورے گھر کا خرچہ چلاتے ہیں۔ ’میں اپنی بہنوں میں سب سے بڑی ہوں اور اپنے خاندان کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ اس شہر میں گزارا کرنا آسان نہیں۔‘ اس بارے میں سیاسی تجزیہ کار پارسہ وینکاتیشور راؤ کا کہنا تھا، ’حکومت ورک فورس میں آنے والے لاکھوں افراد کے لیے نوکریاں فراہم نہیں کر سکتی۔‘ ’مودی ملک میں ہونے والے کاروبارکے شعبے پر انحصار کریں گے لیکن اس میں بھی ترقی نہیں، اس حساب سے وزیر اعظم کے پاس حل کرنے کے لیے ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔‘ سال 2015 میں مودی نے سکل انڈیا نام کا ایک پروگرام شروع کیا تھا جس کا مقصد 50 کروڑ افراد کو 2022 تک صلاحیتی تعلیم دینا تھا، لیکن اس کا ملا جلا نتیجہ رہا۔ سال 2018 کے ڈیٹا کے مطابق 50 کروڑ میں سے صرف ایک چوتھائی افراد جو پروگرام کا حصہ تھے، نوکری ملنے میں کامیاب رہے۔