چین اپنی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑ سکتا

چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماسکو میں چینی وزیر دفاع وی فینگی نے اپنے انڈین ہم منصب راج ناتھ سے ملاقات کی ہے جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہمالین سرحد پر تناؤ کو کم کیا جائے جبکہ انہوں نے حالیہ مہینوں میں اںڈیا کو تنازعے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ چینی اخبار ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ نے سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ وی فینگی نے یہ بات ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ دو گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والی ملاقات میں کہی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’سرحد پر موجودہ کشیدگی کی وجہ اور حقیقت بہت واضح ہے، جس کی ذمہ داری پوری طرح سے انڈیا پر عائد ہوتی ہے۔‘

لداخ کے سرحدی علاقے میں گذشتہ چند ماہ میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد چینی اور انڈین سیاسی رہنماؤں کے درمیان پہلی مرتبہ تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین وزارت دفاع کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ چینی اور انڈین وزرا کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سرحد پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ’دونوں ملکوں نے اتفاق کیا ہے کہ کوئی بھی سرحد پر ایسی کارروائی نہیں کرے گا جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو یا تناؤ میں اضافہ ہو۔‘ انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ نے کہا کہ ’چینی فوج کی کارروائیاں، ان کا جارحانہ رویہ اور سرحد پر فوجیوں کی تعداد میں اضافہ اور یک طرفہ طور پر سٹیٹس کو تبدیل کرنا باہمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

چینی وزیر دفاع وی فینگی نے ملاقات میں راج ناتھ سے کہا کہ تنازعے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں لیکن چین اپنی خود مختاری کا دفاع کرنے کے لیے ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’چین اپنی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ چینی فوج پوری طرح اپنی سالمیت کے لیے تیار اور پراعتماد ہے۔‘ چینی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ انڈیا دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے کئی معاہدوں کی پاسداری کرے گا اور ایسی کوئی کارروائی نہیں کرے گا جس سے صورت حال تناؤ کا شکار ہو۔‘ روئٹرز کے مطابق دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چین اور انڈیا کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے مدد کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’صورت حال بہت خراب ہے۔ اور دونوں ممالک کی درمیان کشیدگی عام لوگوں کے خیال سے زیادہ ابتر ہے۔‘ واضح رہے کہ لداخ میں انڈیا اور چین کی فوج کے درمیان کئی ماہ سے کشیدگی جاری ہے۔ جون میں گلوان وادی میں ہونے والی ایک جھڑپ میں انڈیا کے 20 فوجی مارے گئے تھے جبکہ چین کی جانب سے ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا گیا تھا۔

بشکریہ اردو نیوز

کشمیرکی قسمت کا فیصلہ، کشمیریوں کو بولنے کی اجازت نہیں

بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو نیم خود مختار حیثیت دینے والے قانون آرٹیکل 370 کو ختم کر دیے جانے کے بعد خود بھارت میں اس اقدام کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،” جموں اور کشمیر کو یک طرفہ فیصلے سے توڑنا، منتخب نمائندوں کو قید کرنا اور آئین کی خلاف ورزی کرنا قومی انضمام کے خلاف ہے۔ یہ قوم اس کے لوگوں سے بنی ہے نہ کہ زمین کے حصوں سے۔ ایگزیکیٹیو طاقت کا غلط استعمال ہماری قومی سلامتی پر بھاری پڑے گا۔

بھارت کے سابق وزیر خزانہ چدم برم نے بھی بھارتی حکومت کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ”جموں اور کشمیر کے رہنماؤں کی نظر بندی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لیے تمام جمہوری عقائد کے خلاف چلی جائے گی۔ میں نظر بندیوں کی مذمت کرتا ہوں۔‘‘ بھارتی صحافی سدھارتھ بھاٹیہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،”جموں اور کشمیر کے لوگ اتنی بڑی تبدیلی کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں ؟ ہم نہیں جانتے کیوں کہ ان پر خاموشی کی چادر ڈال دی گئی ہے۔ ان کی قسمت کا فیصلہ کیا جا رہا ہے لیکن انہیں بولنے کی اجازت نہیں ہے اور ہم اپنے آپ کو اب بھی جمہوریت کہتے ہیں۔

بھارتی صحافی نیہا ڈکشٹ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،” سوا کروڑ لوگوں کی قسمت کا فیصلہ ان پر کر فیو نافذ کر کے اور ان کے سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر کے کیا گیا۔ ہمیں ابھی بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔‘‘ بھارتی ٹوئٹر صارف رانجونا بینرجی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،”وہ لوگ جو بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان پر خوش ہو رہے ہیں دراصل یہی لوگ بھارت کے لیے اصل خطرہ ہیں۔ نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ انسانیت کے لیے۔‘‘ صحافی سواتی چوتروردی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا،” قانون پر عمل درآمد ایک جمہوری حکومت کا اہم حصہ ہیں مودی کی حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ مودی کو اس کی بالکل فکر نہیں۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

کشمیر سے آخری پیغامات : اگر ہم مر بھی گئے تو یہاں نہ آنا

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون لائنز سمیت تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہیں اور جموں و کشمیر میں کرفیو کی سی کیفیت ہے۔ گذشتہ تین دنوں میں کشمیر میں کیا صورتحال ہے اس بارے میں مقامی و بین الاقوامی ذرائع رپورٹ کرنے سے قاصر ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کشمیر کے حالات سے آگاہ کرنے والے صحافی و عام شہریوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ خاموش ہیں۔ یہاں تک کہ جموں و کشمیر پولیس اور چند دیگر سرکاری اداروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی چار اگست کے بعد کوئی پوسٹ نہیں کی گئی۔ ایسی صورتحال میں کشمیر سے باہر بسنے والے بے شمار کشمیری شہری اپنے خاندان اور بالخصوص والدین کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب کشمیر میں مقیم وہ افراد جو سوشل میڈیا پر سرگرم تھے انہوں نے بھی انٹرنیٹ اور ٹیلی فون لائنز کی بندش سے قبل خدشات کا اظہار کیا تھا۔ حالات سنگین ہونے سے قبل سوشل میڈیا پر موجود کچھ کشمیریوں کی آخری ٹویٹس بھی ان کے ذہنی کرب کا نقشہ کھینچتی ہیں۔ ایک صارف محمد علی نے لکھا تھا ’شاید یہ میری آخری ٹویٹ ہو اس کے بعد یہاں کیا ہونے والا ہے کچھ خبر نہیں ، شاید میں لوٹ سکوں یا نہیں کچھ پتہ نہیں۔‘ ماہ رخ عنایت کا کہنا تھا کہ ’مجھے آج تیسرا دن ہے 72 گھنٹے گزر چکے ہیں ابھی تک میری والدہ سے بات نہیں ہو سکی۔‘ ان کی اس ٹویٹ کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے ان کی اخلاقی حمایت کی۔ صحافی باسط زرگر کی پوسٹ کی گئی آخری ٹویٹ یہ تھی کہ ’بہت سارے صحافی اپنے دفاتر میں رات گزار رہے ہیں۔‘ فوٹو جرنلسٹ عمر غنی نے  پوسٹ کی گئی اپنی آخری ٹویٹ میں انٹرنیٹ کی بندش، رہنماؤں کی نظر بندی اور کیبل ٹی وی کے بند ہونے کے بارے میں بتایا تھا اور اس کے ساتھ یہ شعر لکھا

آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہو گی
آج کا سورج شام سے پہلے ہی ڈوب گیا

ایک اور ٹوئٹرصارف میر شاہد کا بھی یہی کہنا تھا کہ ’میں نے بھی اپنے دونوں والدین سے ابھی تک بات نہیں کی۔‘ یاد رہے کہ انڈیا کے ایوان بالا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی تجویز پر مشتمل آئینی بل پیش کرنے اور کے اس پر پہلے سے دستخط کرنے پر نہ صرف کشمیر بلکہ انڈیا میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور کشمیری رہنماؤں کو نظربند کیا گیا ہے۔ معظم ظہور کی اب تک کی آخری ٹویٹ یہ تھی ’میرے بھائی نے ہمارے ساتھ عید منانے کے لیے یہاں آنا تھا۔ والدین نے آخری لمحے پر اس کی ٹکٹیں منسوخ کروا دیں۔ ماں کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم مر گئے تو کم از کم تم تو محفوظ رہو گے، لیکن یہاں نہ آنا‘، خوف کی یہ سطح ہے۔

کشمیر کے لیے سفر کرنے والے ایک‌ صارف فہد نے لکھا کہ ’میں اپنے گھر کی جانب سفر کرنے والا ہوں، معلومات کے بلیک ہول کے افق میں داخلے سے قبل یہ میرا آخری ٹویٹ ہو سکتا ہے۔ ایئرپورٹ پر مجھے لینے آنے کے کوئی انتظار نہیں کر رہا ہو گا، اور میں اپنے خاندان کے لیے صرف آج کا اخبار لے کر جانے کا سوچ سکتا ہے۔‘ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ابن بطوطہ سوشل میڈیا پر خاصے سرگرم رہتے ہیں، انہوں نے بھی چار اگست کو چند ٹویٹس کیں اور اس کے بعد سے ان کا اکاؤنٹ خاموش ہے۔ انھوں نے لکھا تھا کہ ’مین سٹریم رہنما کشمیر میں انڈیا کے سب سے وفادار حمایتی رہے ہیں۔ اگر انہیں بھی دیوار کے ساتھ لگایا گیا، نظر بند کیا گیا، حقیر اور برطرف کیا گیا تو عام کشمیریوں کی انڈیا کے لیے کیا اوقات ہو گی؟

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’انٹرنیٹ سروسز بند، جلد کرفیو لگنے والا ہے اور فضا پرخوف بے یقینی سے زہرآلود ہے، کشمیر غیریقینی کی رات جاگ کر گزار رہا ہے۔ آپ جہاں بھی ہیں اپنا خیال رکھیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔‘ جموں سے تعلق رکھنے والی صبا حاجی نے اپنے آخری ٹویٹ میں کہا تھا برہان سپیکس نامی ٹوئٹرز ہینڈل سے کشمیر کے حالات کے بارے میں ’سٹوریز فرام ہوم‘ کے عنوان سے کچھ لوگوں کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’سری نگر میں حالات سنگین ہیں۔ مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ کسی کو باہر جانے کی اجازات نہیں۔ ٹی وی پر نیوز چینلز بلاک ہیں۔ ایمرجنسی نافذ کرنے جیسا ہے۔‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک کاغذ کی تصویر شیئر کی اور کہا کہ سری نگر ایئر پورٹ پر اس شکل میں ہوائی ٹکٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
کہ چلو جی، خدا حافظ۔ توکل۔

بشکریہ اردو نیوز

بی جے پی نے آرٹیکل 370 ختم کر کے بھارتی آئین کو قتل کر دیا ہے، کانگریس

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے کہا ہے کہ بی جے پی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارتی آئین کو قتل کر دیا ہے۔
بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے کا بل پیش کیا۔ اجلاس کے دوران بھارتی اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید احتجاج کیا۔ کانگریس کے رہنما غلام نبی نے حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے آج آئین کا قتل کر دیا ہے۔ جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے 2 ارکان پارلیمنٹ نذیر احمد لاوے اور ایم ایم فیاض نے بھی شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارتی آئین کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے۔ دوسری طرف بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے رہنما اس فیصلے پر خوشی کے شادیانے بجارہے ہیں اور مکمل حمایت کرتے نظر آرہے ہیں۔