ارما : نصف صدی کا طاقتور ترین سمندری طوفان

سمندری طوفان ارما کو بحرا و قیانوس میں آنے والے طاقت ور ترین طوفانوں میں شمار کیا جا رہا ہے ۔ بحر اوقیانوس اور بحرا لکاہل میں آنے والے طوفانوں کی پیمائش کے لئے ایک خاص طریقہ استعمال کیا جاتا ہے جس کی 5 کیٹیگریز ہیں۔ ان کیٹیگریز میں ہوا کی تیز رفتار اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔
سمندری طوفان جو کیٹیگری 1 میں آتا ہے اس میں ہوا کی رفتار 74 سے 95 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اور اس سے لکڑی کے بنے ہوے گھروں کی چھتوں کو تھوڑا نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ درختوں کی شاخوں کے ٹوٹنے اور کمزور درختوں کے گرنے کے واقعات ہو سکتے ہیں۔

جب سمندری طوفان میں 96 کلومیٹر سے 110 میل فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چلنا شروع ہوتی ہیں تو یہ کیٹیگری 2 میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اس میں چلنے والی خطرناک ہواؤں کے ساتھ اڑتا ملبہ آپ کو آپ کے گھر کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہواؤں کی شدت آپ کو باقاعدہ محسوس ہوتی ہے، درخت اپنی جگہ چھوڑتے ہیں اور سڑکوں کو بند کرنے کا باعث بنتے ہیں جبکہ بجلی کے پول اور دیگر کو نقصان پہنچتا ہے ۔

جب طوفان کیٹگری 3 میں داخل ہوتا ہے تو اسے اہم طوفانوں میں شمار کیا جانے لگتا ہے اور اس میں ہواؤں کی رفتار 111 سے 129 میل تک پہنچ جاتی ہے ، اس سے تباہ کن نقصانات ہو سکتے ہیں ۔ اس سے لکڑی کے گھروں کے دروازے ٹوٹ سکتے ہیں اور گھر کی بنیاد یں بھی ہل سکتی ہیں جبکہ مضوط درخت اکھڑ سکتے ہیں ۔ اس کے بعد جب طوفان میں ہواؤں کی رفتار 130 میل سے بڑھتی ہے اور 156 میل فی گھنٹہ تک پہنچتی ہے تو یہ کیٹیگری 4 میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اس سے تباہی کے اثرات شدید ہوتے ہیں، گھروں کی چھتیں اور اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور یہ رہنے کے قابل نہیں رہتے۔ درخت اور پولز اپنی ٹوٹ کر گر جاتے ہیں اور تیز ہواؤں کا حصہ بن جاتے ہیں۔

جب یہ طوفان کیٹیگری 5 میں داخل ہوتا ہے تو اس میں ہواؤں کی رفتار 157 میل فی گھنٹہ سے بڑھ جاتی ہے ۔ جیسا کے طوفان ارما میں 185 میل فی گھنٹہ دیکھی گئی۔ اس میں ایسے گھراور درخت اپنی جگہ سے اکھڑ جاتے ہیں۔ شدید طوفانی ہوائیں اپنے ساتھ ملبے کے بڑے بڑے ٹکٹرے لاتی ہیں۔ گاڑیاں اور دیگر اسٹرکچر تباہ ہو جاتے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جائے کے جا بجا صرف ملبے اور تباہی کی دستان نظر آتی ہے تو غلط نہ ہو گا ۔ یہ تو طوفان کا صرف ایک حصہ ہے اس کے ساتھ طوفانی بارش اور اس کے نتیجے میں آنے والا سیلابی پانی بھی خطرناک حد تک جانی نقصان پہنچا تا ہے ۔

تباہ کن سمندری طوفان ’ارما‘ فلوریڈا کے جزائر پر

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سمندری طوفان ارما امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحلی علاقوں پر پہنچ گیا ہے۔ گذشتہ چند گھنٹوں سے ارما کے جھونکے فلوریڈا کے جزائر سے ٹکرانا شروع ہو گئے تھے اور اب چوتھے درجے کے اس طوفان کا اگلا حصہ فلوریڈا کے زمینی علاقوں پر پہنچ گیا ہے۔ امریکی ریاست کے ساحل پر پانی کی سطح پہلے سے ہی بلند ہونا شروع ہو گئی ہے اور وہاں شدید طوفان کا خدشہ ہے۔ اس سے قبل ریاست سے 63 لاکھ لوگوں کو ساحلی علاقے کو چھوڑ دینے کے لیے کہا جا چکا ہے لیکن فلوریڈا کے گورنر رک سکاٹ کا کہنا ہے کہ اب اتنی تاخیر ہو چکی ہے کہ کسی کے لیے وہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں۔ اس سے قبل یہ طوفان کیریبین جزائر سے ٹکرایا تھا جہاں اس کی زد میں آ کر 24 افراد ہلاک ہو گئے۔

اس کی شدت چار بتائی گئی تھی لیکن کیوبا سے ٹکرانے کے بعد اس کی شدت میں کمی آئی ہے اور اسے تین کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ لیکن نیشنل ہریکین سنٹر (این ایچ ایس) کا کہنا ہے کہ فلوریڈا تک آتے آتے اس کی طغیانی میں اضافہ ہو جائے گا اور وہ پہلے جیسا تند و تیز ہو جائے گا۔ این ایچ ایس نے متنبہ کیا ہے اس طوفان سے ‘جان کا خطرہ ہے’ اور یہ فلوریڈا کے ساحل سے دور جزائر کے سلسلے کو اپنی زد میں لے چکا ہے۔ ہزاروں افراد ہنگامی کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں اور ہزاروں گھروں میں بجلی نہیں ہے۔ ایمرجنسی ایجنسی فیما کے سربراہ بروک لونگ نے سی این این کو بتایا ہے کہ فلوریڈا کے ‘کیز جزائر میں کوئی محفوظ مقام نہیں ہے۔ اور آپ اس جگہ کو خالی نہ کر کے اپنی جان کو خود خطرے میں ڈال رہے ہیں۔’ فلوریڈا کے گورنر نے کہا کہ ‘اگر آپ خالی کرائی جانے والی جگہ پر ہیں جہاں سے آپ پناہ گاہ تک پہنچ سکتے ہیں تو آپ جلد از جلد وہاں پہنچ جائیں کیونکہ اب بہت وقت نہیں بچا ہے۔’ انھوں نے کہا: ‘ہواؤں کے جھونکے آنے شروع ہو گئے ہیں اس لیے اب بہت وقت نہیں ہے کہ آپ وہا‎ں سے ڈرائیو کرکے دور پہنچ جائیں۔’

اطلاعات کے مطابق مغربی خلیجی ساحل کو سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ طوفان کے راستے میں ٹیمپا اور سینٹ پیٹرز برگ جیسے شہر آ رہے ہیں۔
ٹیمپا خلیج میں 30 لاکھ آبادی ہے اور اسے سنہ 1921 کے بعد سے کسی بھی بڑے طوفان کا سامنا نہیں رہا ہے۔ اس سے قبل کریبیئن جزائر میں تباہی پھیلانے کے بعد طوفان ارما تند و تیز ہواؤں اور بارش کی صورت میں کیوبا سے ٹکرانے کے بعد امریکی ریاست کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ درجہ پانچ کا یہ طوفان سب سے پہلے کیوبا کے شمال مشرقی ساحلی علاقے کیمیگوے میں ٹکرایا۔ ارما کی سمت کی تبدیلی کی وجہ سے بہامس بڑی حد تک محفوظ رہا ہے۔

جمعے کو رات گئے ارما میں گذشتہ چند گھنٹوں میں مزید تیزی آئی اور وہ کیمیگوے آرکیپیلیگو سے ٹکرایا جو کہ وہاں کے ساحلی قصبوں اور دیہات کے لیے خطرہ تھا۔ کئی دہائیوں بعد یہ پہلا موقع ہے جب درجہ پانچ کے کسی طوفان نے کیوبا کو نشانہ بنایا ہو۔ امریکہ میں طوفان سے متعلق اطلاع دینے والے قومی مرکز کے مطابق گرینیچ کے معیاری وقت کے مطابق تین بجے ارما کے نتیجے میں 257 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی تھیں۔ یہ طوفان اب جن صوبوں کو نشانہ بنا رہا ہے ان میں کیمیگوے، سیگو ڈے آویلا، سنتی پیریٹوس، ویلا کلارا اور میٹنساس شامل ہیں۔

ہوانا سے بی بی سی کے نامہ نگار وِل گرانٹ نے بتایا کہ بہت سے علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی ہے اور دوردراز کے علاقوں اور قصبوں میں مواصلاتی رابطوں میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ وہاں کے مکین پر امید ہیں کہ یہ طوفان اس جزیرے کو چھو کر فلوریڈا سے میامی کی جانب بڑھ جائے گا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تقریباً 50 ہزار سیاح کیوبا چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق ارما اتوار کو فلوریڈا سے ٹکرائے گا۔ اس سے قبل امریکہ میں ہنگامی امداد کے وفاقی ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا تھا کہ سمندری طوفان ‘ارما’ امریکی ریاست فلوریڈا یا اس کی ہمسایہ ریاستوں کے لیے ‘تباہ کن’ ثابت ہو سکتا ہے۔

کیا مزید طوفان آرہے ہیں؟
شمال میں طوفان ہوزے ارما کے پیچھے اٹلانٹک میں بڑھ رہا ہے اور یہ کیٹیگری فور کا طوفان 240 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آ رہا ہے۔ یہ اسی راستے پر ہے جس پر ارما تھا اور وہاں پہلے ہی امدادی کارروائیاں متاثر ہوئی ہیں۔ بربودہ میں ارما کی وجہ سے 95 فیصد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ اطلاعات کے مطابق آنے والے گھنٹوں میں طوفان کی شدت میں تیزی سے کمی متوقع ہے۔ تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ طوفان بہت سے گنجان آباد علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا کر سکتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو