سعودی عرب میں سالانہ چالیس ارب ریال کی خوراک ضائع

سعودی عرب میں سالانہ چالیس ارب ریال مالیت کی خوراک ضائع ہو رہی ہے۔ سب سے زیادہ خوراک کا ضیاع مکہ ریجن میں ہو رہا ہے۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ماتحت خوراک کمپنی ’سالک ‘ نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ مملکت میں سب سے زیادہ جو خوراک ضائع ہو رہی ہے وہ چاول ہے۔ آٹا دوسرے اور مرغی تیسرے نمبر پر ہے۔ سالک کمپنی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ خوراک مکہ مکرمہ ریجن میں ضائع کی جارہی ہے۔ مشرقی ریجن دوسرے اور ریاض تیسرے نمبر پر ہے۔ خوراک کا سب سے کم ضیاع الجوف ریجن میں ہے۔

سالک کے مطابق چاول کے ضیاع کی شرح 31 فیصد، آٹے اور روٹی کے ضیاع کا تناسب 25 فیصد، مچھلیوں کا 14.5 فیصد، مرغیوں کا 16 فیصد اور کھجوروں کا 5.5 فیصد ہے۔ واضح رہے کہ جنوری 2020 میں وزارت بلدیات و دیہی امور نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں تمام ریسٹورنٹ اور شادی ہال کو اضافی خوارک کے تحفظ کے لیے فوڈ بینکوں سے معاہدوں کا پابند بنایا گیا تھا۔

بشکریہ اردو نیوز

کورونا وائرس : بھوک سے ماہانہ دس ہزار بچے لقمہ اجل بن رہے ہیں

اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے خوراک کی سپلائی میں قلت کے سبب اس وبا کے ایک سال مکمل ہونے تک ایک لاکھ 20 ہزار بچوں کی بھوک سے موت ہو جائے گی۔ اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے خوراک کی سپلائی میں قلت کے سبب ہر ماہ تقریباً دس ہزار بچے لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مناسب خوراک نہیں ملنے کے سبب ہر ماہ ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ بچے دیگر جسمانی عارضوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے کہا ہے کہ غذائیت میں اضافے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ورنہ یہ انفرادی سانحے مستقبل میں ایک پوری نسل کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعذیاتی شعبے کے سربراہ فرانسسکو برانکا کا کہنا تھا ”کووڈ بحران کی وجہ سے فوڈ سیکورٹی کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک دکھائی دیں گے۔ اس کے سماجی اثرات مرتب ہونے والے ہیں۔

لاطینی امریکا سے لے کر جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ تک کے ملکوں میں پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ غریب کنبے مستقبل میں خوراک کی قلت سے دوچار ہوں گے۔ اپریل میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ ڈیوڈ بیسلے نے متنبہ کیا تھا کہ کورونا وائرس کے سبب عالمی سطح پرفاقہ کشی کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس عالمی ادارے نے فروری میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ وینیزویلا میں ہر تین میں سے ایک کنبے کو بھوکا رہنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں پہلے ہی افراط زر کی شرح میں اضافے کی وجہ سے تنخواہیں تقریباً بے معنی رہ گئیں اور لاکھوں لوگوں کو دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کرنا پڑا۔ اس کے بعد کوورنا وائر س کی وبا پہنچ گئی۔ وینیزویلا کے سرحدی ریاست تاچیرا میں ایک ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر فرانسسکو نیئتو نے بتایا ”قلت تغذیہ کا شکار کوئی نہ کوئی بچہ ہر روز ان کے پاس پہنچتا ہے۔ مئی میں دو ماہ کے قرنطینہ کے بعد 18 ماہ کے جڑواں بچے ان کے پاس لائے گئے۔ بھوک کی وجہ سے ان کا جسم ڈھانچہ رہ گیا تھا۔ ان کی ماں بے روزگا ر تھی اور خود اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ اس خاتون نے بتایا کہ وہ صرف ابلے ہوئے کیلوں پر گزارا کر رہے تھے۔

ڈاکٹرفرانسسکو کا کہنا تھا کہ بچے جب ہسپتال میں لائے گئے اس وقت تک کافی تاخیر ہو چکی تھی۔ ان میں سے ایک بچہ آٹھ دن بعد چل بسا۔ اقوام متحدہ کی چار ایجنسیوں عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے عالمی سطح پر بھوک کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے فوری طورپر کم از کم 2.4 بلین ڈالر کے امداد کی اپیل کی ہے۔ یونسیف کے تغذیاتی پروگرام کے سربراہ وکٹر اگایو کا کہنا ہے کہ پیسے کی کمی تو اپنی جگہ ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے نقل و حمل پر عائد پابندیوں کے سبب لوگوں کی علاج معالجہ کی سہولت تک رسائی نہیں ہو پارہی ہے۔ وکٹر اگایو کہتے ہیں کہ اسکول بند ہیں، پرائمری ہیلتھ سینٹروں کی خدمات متاثر ہیں، تغذیاتی پروگرام بند ہیں، ہم نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وٹامن اے سپلیمنٹ فراہمی کے عالمی پروگرام تقریباً معطل ہو جانے کی مثا ل دی۔ حالانکہ یہ جسم کے اندر مزاحمتی نظام کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

افغانستان میں نقل و حمل پر پابندیوں کی وجہ سے لوگ قلت تغذیہ کا شکار بچوں کو ہسپتال نہیں لے جا پارہے ہیں حالانکہ انہیں علاج کی سخت ضرورت ہے۔ کابل میں اندرا گاندھی ہسپتال میں ماہر امراض اطفال ڈاکٹر نعمت اللہ امیری کہتے ہیں کہ اب تین سے چار بچے ہی آرہے ہیں جبکہ پچھلے سال ان کی تعداد دس گنا زیادہ تھی۔ چونکہ بچے ہسپتال نہیں آرہے ہیں اس لیے مسئلے کی سنگینی کی نوعیت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ تاہم جان ہاپکنس یونیورسٹی کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق پانچ برس سے کم عمر کے مزید 13000 سے زیادہ بچے موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق افغانستان بھوک کے لحاظ سے ریڈ زون میں ہے۔ قلت تغذیہ کا شکار بچوں کی تعداد جنوری میں چھ لاکھ 90 ہزار سے بڑھ کر سات لاکھ 80 ہزار ہو گئی تھی یعنی 13 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

کرونا وائرس سے تین درجن سے زائد ملکوں میں قحط کا خطرہ ہے

خوراک کے عالمی ادارے کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وائرس کے مزید تکلیف دہ اثرات ظاہر ہونے کے خدشات موجود ہیں جس کے لیے ابھی سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے نیوز چینل سی بی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو آنے والے دنوں میں انسانی ہمدردی کے شدید بحران کا سامنا ہو سکتا ہے اور تین درجن کے لگ بھگ ملکوں میں قحط پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سب سے شدید بحران ہو گا، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بندرگاہیں بند پڑی ہیں اور رسد کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کے اعلیٰ عہدے دار، ڈیوڈ بیسلی نے، جو اس سے قبل ساؤتھ کرولائنا کے گورنر رہ چکے ہیں، بتایا کہ امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتیں ملک کو غربت، خوراک کی قلت اور عدم استحکام سے بچانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ لیکن، ان کا کہنا تھا کہ خوراک کی نقل و حمل جاری رکھنے کے لیے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ معیشت کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سارے عوامل کو پیش نظر رکھ کر احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے اور کرونا وائرس کا پھیلاؤ بھی قابو میں رہے۔ اس وقت افریقہ کے کئی ملکوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں لاکھوں پناہ گزینوں کو بھی خوراک اور زندگی کی بنیادی سہولتوں کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی ادارے ان کی مدد کے لیے دنیا بھر سے اپیلیں کرتے رہتے ہیں، لیکن انہیں ملنے والی امداد ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

کورونا وائرس : 13 کروڑ افراد فاقہ کشی کا شکار ہو سکتے ہیں

عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی  نے کہا ہے کہ آج پوری دنیا میں 821 ملین افراد ہر رات بھوکے سوتے ہیں، مزید 135 ملین افراد “بھوک کی شدت یا بدتر صورتحال” کا سامنا کر رہے ہیں۔ جبکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک نئے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ کوویڈ 19 کے نتیجے میں اضافی 130 ملین افراد 2020 کے آخر تک فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے ویڈیو بریفنگ میں مزید کہا کہ ڈبلیو ایف پی کسی بھی دن تقریباً 100 ملین افراد کو کھانا مہیا کررہی ہے، جس میں تقریباً 30 ملین افراد جو زندہ رہنے کے لئے لفظی طور پر ہم پر انحصار کرتے ہیں۔

عالمی ادارہ خوراک کے سربراہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ لاک ڈاؤن اور معاشی کساد بازاری کے نتیجے میں مزدور اور غریب افراد کو آمدنی میں کمی کا سامنا ہو گا۔
انہوں نے بیرون ملک ترسیلات زر میں تیزی سے کمی کی طرف اشارہ کیا جس سے ہیٹی، نیپال اور صومالیہ جیسے ممالک کو مشکلات درپیش ہونگی۔ مثال کے طور پر ایتھوپیا کو سیاحت کی آمدنی کا نقصان ہو گا، جہاں یہ مجموعی آمدنی کا 47 فیصد ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا جنوبی سوڈان جیسے کم آمدنی والے ممالک میں نمایاں اثر ہو گا جہاں تیل کی برآمدات اسکی آمدنی کا 99 فیصد حصہ ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے سیکیورٹی کونسل کو بتایا کہ کوویڈ -19 کا مسئلہ بننے سے پہلے ہی وہ عالمی رہنماؤں کو بتا رہے تھے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اس قسم کے بدترین انسانی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام، یمن اور دوسری جگہوں پر ہونے والی جنگوں اور افریقہ میں ٹڈی کی پیدا کردہ تباہ کاری نے صورتحال ویسے ہی خراب کر دی ہے۔ لبنان، کانگو، سوڈان اور ایتھوپیا سمیت متعدد ممالک قدرتی آفات اور معاشی بحران کا شکار ہیں۔

رضا چوہدری

بشکریہ روزنامہ جنگ